• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟

قدیم زمانے سے چین میں تین مذاہب پروان چڑھے۔ یہ تائوازم، بدھ ازم اور کنفیوشس ازم کہلاتے ہیں۔ تائو ازم اور بدھ ازم میں ترکِ دنیا کو روحانی سکون و قرار کا سرچشمہ قرار دیا جاتا تھا۔ اُن کے بعد چین نے اپنا سب سے بڑا مذہبی راہنما کنفیوشس پیدا کیا۔ اُس نے اپنی تعلیمات میں تائوازم اور بدھ ازم کی روح شامل کرتے ہوئے انہیں دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کے اصولوں میں ڈال لیا۔ ڈھائی ہزار سال بعد بھی چین میں کنفیوشس کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سونگ خاندان کی حکومت سے لے کر آج تک چینی بچوں کو جو پہلے اسباق پڑھائے جاتے ہیں، وہ کنفیوشس کے ان خیالات سے شروع ہوتے ہیں: ’’قومی زندگی کی تنظیم کرنے والے سب سے پہلے اپنی گھریلو زندگی کو باقاعدہ بنائیں۔ جو لوگ گھریلو زندگی کو منظم بنانا چاہتے ہیں، وہ سب سے پہلے ذاتی زندگی کی ترتیب و تہذیب کریں۔ وہ سب سے پہلے اپنے دلوں کو پاک صاف کریں۔ دلوں کو پاک صاف کرنے والے سب سے پہلے نیتو ںکو مضبوط بنائیں۔ نیتوں کو مخلص بنانے والے سب سے پہلے سمجھ بوجھ پیدا کریں۔ سمجھ بوجھ اشیاء کے علم کی چھان بین سے پید اہوتی ہے۔ سمجھ بیدار ہوجائے تو نیت اور ارادہ مخلص ہوجاتا ہے۔ جب نیت صاف اور ارادہ مخلص ہوجائے تو دل صاف و پاک ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چین سے سیکھو

’’ماوزے تنگ‘‘ چین کا عظیم ترین راہنما تھا۔ 1949ء میں چین آزاد ہوا تو عوام عجیب کیفیت کا شکار تھی۔ 84 فیصد چینی افیون کے نشے کے عادی تھے۔ انہیں برطانیہ نے اس بیماری میں مبتلا کیا تھا۔ ماوزے تنگ جب راہنما بنا تو اس نے قوم کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اُس نے اپنا لانگ مارچ شروع کیا تو اسے ہزاروں میل پیدل چل کر سارے چینی نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کا امتحان درپیش ہوا۔ لاکھوں چینی چنے اور گرم پانی لے کر اس سفر پر چل پڑے۔ راستے میں ہزاروں اموات ہوئیں۔ یہ قافلہ حبس کرب سے گزرا۔ اُس کی تفصیلات ایک کتاب Glances of the Fateful Years میں لکھی گئی ہیں۔ اس لانگ مارچ کے شروع کرنے سے پہلے ماوزے تنگ دنیا بھر کی مذہبی کتابیں پڑھتا رہا۔ اُس پر قرآن پاک پڑھتے ہوئے سورۃ الفیل نے عجیب اثر کیا۔ ان مقدس آیات نے اُس کے دل کی دنیا بدل کے رکھ دی۔ اس نے انسانوں کے ایک لشکر کی قیادت کی اور چینی انقلاب کا موجب بن گیا۔ اُس نے کہا اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو گندم بوئو۔ اگر 10 سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو ساتھ درخت بھی لگائو۔ اگر صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کی تربیت بھی کرو اور انہیں تعلیم بھی دو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنی حفاظت کی خاطر

’’ڈانا اباچر‘‘ اور ’’لوئی گومیرٹ‘‘ امریکی کانگریس کے دو اراکین ہیں۔ اباچر ریاست کیلیفورنیا اور گومیرٹ ٹیکساس سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دونوں نے امریکا میں ایک تحریک چلارکھی ہے۔ یہ بلوچستان کی پاکستان سے مکمل علیحدگی کے سرخیل ہیں۔ یہ کانگریس میں تقریریں کرتے ہیں۔ قراردادیں پاس کرواتے ہیں۔ اخبارات اور میڈیا میں ان دونوں نے ایک حلقہ پیدا کرلیا ہے۔ اس مہم میں استاذ، سماجی کارکن اور دانشور شامل ہوگئے ہیں۔ یہ ہر وقت اس پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں کہ بلوچستان میں ہماری ایجنسیوں نے 12 ہزار بلوچوں کو اغوا کر رکھا ہے۔ دراصل ان لوگوں کی نظریں معدنیات کے ان ذخائر پر ہیں جن کا دنیا میں بہت شور و غلغلہ ہے۔

امریکا میں ہندوستانی لابی بہت مضبوط ہے۔ اس کے ایما پر کانگریس اور سینیٹ کے اراکین کو راغب کیا جارہا ہے کہ وہ امریکی حکومت پر دبائو بڑھائے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے بلوچستان کو الگ کرلیا جائے۔ امریکی یہودی اور ہندو لابیوں نے اَٹھ کرلیا ہے کہ چین کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کو روکا جائے۔ چینیوں کو مضبوط سے مضبوط تر ہوتا دیکھ کر یہ سارے دُشمن باہم شیر و شکر ہوگئے ہیں۔ پاکستانی سرحد سے متصل ایرانی علاقے میں آباد بلوچوں نے بلوچستان لبریشن فرنٹ سے اتحاد مضبوط کرلیا ہے۔ یوں مختلف راستوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور کرنسی آرہی ہے۔ علیحدگی پسند طاقت پکڑتے جارہے ہیں۔ بلوچستان حکومت ان دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکتی جارہی ہے۔ لا اینڈ ارڈر کی صورت حال دن بدن مخدوش ہوتی جارہی ہے۔ غیربلوچیوں کے قتل عام کاایک سلسلہ ہے جو اَب لامتناہی ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قانون کی حکمرانی

کنیا لال گابا (کے ایل گابا) تقسیم ہند سے قبل قانون دانی میں ایک بہت بڑا نام تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد وہ خالد لطیف گابا کی حیثیت سے جانے گئے۔ انہوں نے برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ لاہور میں پریکٹس کا آغاز کیا۔ خدا نے انہیں زمینِ رساء عطا کیا ہوا تھا۔ سیرت النبی پر اُن کی کتاب بہت مشہور ہوئی۔ کئی زبانوں میں اُس کا ترجمہ ہوا۔ کے ایل گابا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدس کا قانون دان کی حیثیت سے بڑا مبسوط مطالعہ پیش کیا۔ اُن کی کئی تصانیف میں برٹس اور اسلامک لا کا موازنہ ملتا ہے۔ اُن کی ایک کتاب نہایت درجہ دلچسپ ہے۔ یہ تقسیم ہند سے پہلے شائع ہوئی تھی۔ اب بھی اسے بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ یہ ’’Famous Trials for Love and Murder‘‘ ہے۔ اس میں ہندوستانی تاریخ کے مشہور مقدمات کی رُوداد ہے۔ ہر مقدمہ ایک ہوش رُبا داستان ہے۔ سب مقدمات میں مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور ان سزائوں پر ہوبہو عمل ہوا۔ کئی مقدموں میں جرم کرنے والے انگریز تھے۔ انہیں اپنی اعلیٰ سماجی حیثیت کا زعم تھا، مگر قانون نے انہیں بھی پابند سلاسل کیا۔ اُن کی سزائوں میں کسی قسم کی کوئی تخفیف نہ ہوپائی۔ ایک مقدمے میں انگریز مرد اور عورت کو سزائے موت ہوئی۔ دونوں نے مل کر عورت کے خاوند کو قتل کیا تھا۔ سزا دینے والے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج ہندوستانی تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ میں اس سزا پر عملدرآمد رُک جائے گا۔ سپریم کورٹ کے انگریز ججوں نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کی توثیق کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حرم کی پاسبانی کے لیے

سلطنت عثمانیہ ٹوٹ کر بکھری تو مسلمان ملک الگ الگ ہوگئے۔ سعودی عرب نے تمام مسلم دنیا کے لیے مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مقدس سرزمین کی طرف راہنمائی کے لیے دیکھنے لگے۔ سعودی عرب میں آلِ سعود نے مسلمان ملکوں کی اُن کے کڑے وقتوں میں بھرپور مدد کی۔ لبنان کی خانہ جنگی کا 1969ء میں خاتمہ ہوا۔ اس میں مرکزی رول سعودی عرب نے ادا کیا۔ متحارب گروپوں کو قائل کیا اور اُن میں اتحاد قائم ہوگیا۔ عراق کے کویت پر حملے کے کڑے وقت میں سعودی عرب نے کویت کا ہر ممکن ساتھ دیا۔ اُس کی آزادی کے لیے راہ ہموار کی۔ افغانستان میں روسی جارحیت ہوئی تو سعودیہ نے افغان جہاد میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس ملک کو روسی استعمار سے نجات دلوائی۔ افریقی مسلمان ملکوں میں قحط آیا تو سعودی عرب نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ خوراک، اجناس وافر مہیا کیں اور یوں مصیبت کا شکار مسلمانوں کی اَشک شوئی کے لیے نہایت درجہ درد مندی دکھائی۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے سعودیہ کے ہم پر احسانات ان گنت رہے۔ مہاجرین کی آبادکاری میں سعودی بھائیوں نے کھلے دل سے امداد کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دُشمن دیکھ لے

’’شکرپڑیاں‘‘ اسلام آباد کا ایک پرفضا مقام ہے۔ سطح سمندر سے بلند ہونے کی وجہ سے یہاں کا ماحول نہایت دلکش ہے۔ درختوں اور پودوں کی حد نگاہ تک پھیلی ہوئی ان گنت قطاریں ہیں۔ چہار سو بچھی ہوئی ہریالی آنکھوں کو بہت بھاتی ہے۔ شکرپڑیاں کی بلندی سے نیچے اسلام آباد کا نظارہ ایک راحت افروز تجربہ ہے۔ اس مقام پر افواج پاکستان کے لیے ایک بڑا پریڈ گرائونڈ بھی بنا ہوا ہے۔ 23 مارچ کی صبح یہاں ایک ہجوم جمع ہوچکا تھا۔ پاکستان میں 7 سال بعد فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سخت سیکورٹی کی وجہ سے اسپیشل پاس کے حامل افراد ہی پریڈ دیکھ پائے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بڑی بڑی اسکرینوں کے ذریعے ہزاروں افراد نے اس سے لطف لیا۔ ٹی وی کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں نے پریڈ کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی کا نظارہ کیا۔ صدرِ مملکت اور دوسرے معزز مہمانوں کی آمد کا اعلان بگل بجاکر کیا گیا۔ پھر قومی ترانہ بجایا گیا اور پریڈ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ تینوں مسلح افواج کے دستوں کی قیادت بریگیڈیئر خرم سرفراز خان نے کی۔ فضا نعرئہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد سے گونج اُٹھی۔ پریڈ میں بری، بحری، ہوائی فوج کے علاوہ خواتین، رینجرز اور ایف سی کے دستوں نے بھی حصہ لیا۔ باری باری یہ دستے اسٹیج کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے سماں باندھ دیا۔ ایس ایس جی کمانڈوز اور ملٹری بینڈ نے بھی مارچ پاسٹ کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے ایف 16 طیارہ فضا میں اُڑاکر اپنا فنی کمال دکھایا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟

’’جیمز روبنسن‘‘ اور ’’ڈیرک ایسی ایسی موگلیو‘‘ دو نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات ہیں۔ انہوں نے 15 سال غریب اور امیر ملکوں پر تحقیق کی۔ اُن کی محنت کا ثمر ’’Why Nations Fail?‘‘ (قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟) کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ دونوں مصنفین نے دنیا کے طول و عرض میں سفر کیا۔ انہوں نے انسانی تاریخ کی گہرائیوں میں جاکر اُسے کھنگالا۔ وہ تباہ حال ملکوں میں گئے اور وہاں اپنے مشاہدات اور مطالعے کو وسعت دی۔ انہوں نے یونانی، رومن اور مایا تہذیب سے مثالیں اکھٹی کیں۔ لاطینی امریکا، سوویت یونین، برطانیہ، دوسرے یورپی ملکوں اور افریقی ملکوں کی معیشت پر عرق ریزی کی۔ یوں ایک ایسی کتاب وجود میں آئی جو تمام دنیا میں پذیرائی پاچکی ہے۔ کتاب کے آغاز میں مصر اور امریکا کا موازنہ دیا گیا ہے۔ مصر کا زرعی نظام بہت زیادہ مضبوط ہے۔ وہ ٹور ازم سے ڈھیروں ریونیو اکھٹا کرتا ہے۔ عوام پڑھے لکھے ہیں۔ اس کے باوجود ملک بہت غریب ہے۔ مصر میں سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے بصیرت اور لٹیرے حکمرانوں اور افسر شاہی نے ملک کو زوال کی کھائی کی طرف دھکیل دیا۔

ایک مثال سے اندازہ لگائیے۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے مصر میں ایک سافٹ ڈرنک لانچ کرنا تھی۔ حسنی مبارک نے اُس میں اپنا کمیشن فکس کرلیا۔ یوں مصر میں سرکاری دفتروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں صرف اس سافٹ ڈرنک کو بیچنے کی اجازت دے دی گئی۔ مصر کی نجی کمپنیاں بھاری نقصان کے ساتھ بند ہونا شروع ہوگئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب زوال آتا ہے تو…

’’ٹیسیٹس‘‘ (Tacitus) رومن سلطنت کا سب سے بڑا تاریخ دان مانا جاتا ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے یہ ایمپائر یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصے کی مالک بن چکی تھی۔ اس میں برطانیہ، جرمنی، اسپین، اٹلی، آرمینیا، شام، سعودی عرب، مصر، فلسطین جیسے ملک شامل کرلیے گئے تھے۔ یہ دنیا کی عظیم ترین تہذیبوں میں جگہ بناچکی تھی۔ ’’ٹیسیٹس‘‘ نے ایک کتاب ’’On Imferial Rome‘‘ میں اس چکاچوند تہذیب کی کہانی لکھی ہے۔ یہ کتاب صرف یورپ میں 393 مرتبہ ترجمہ ہوچکی ہے۔ اس کے صفحات ایک الف لیلوی داستان کی طرح ہمارے سامنے ایک نگارخانہ سجادیتے ہیں۔ دولت رومن سلطنت پر ہن کی طرح برس رہی تھی۔ ہر رومن ہمہ وقت زرق برق لباس پہنتا اور دنیا کی لذیذ ترین غذائیں کھاتا تھا۔ جدھر نگا اُٹھتی اُدھر محلات کی قطاری دکھائی دیتیں۔ رومن بادشاہوں کے خزانے قطار و شمار سے باہر تھے۔ سونا چاندی، ہیرے، یاقوت، الماس، زمرد چھتوں تک مالی خانوں میں بھرے رہتے تھے۔ امرا کی جاگیریں، جائیدادیں اور زمینیں ان گنت تھیں۔ رومن بادشاہوں کے شاہی اصطبل دنیا کے بہترین گھوڑوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ بجلی کی رفتار سے بھاگتے اور زمینیں اُن کے دوڑنے سے تھرتھراتی تھیں۔ اس کے ساحلوں پر دنیا بھر سے پکڑے ہوئے غلاموں کی منڈیاں قائم تھیں۔ لونڈیوں کو لاکھوں کی تعداد میں بیچا اور خریدا جاتا تھا۔ دنیا کے دوردراز کونوں سے بہترین باورچی روم میں قسمت آزمانے آتے اور اپنے جوہر کے فراواں دام پاتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

موت کا سفر

چند روز قبل ملک میں ایک سنگین ٹریفک حادثہ ہوا۔ اس میں 67 ہلاکتیں ہوئیں۔ 42 مرد، 11 بچے اور 9 خواتین جاں بحق ہوگئیں۔ 10 اور 11 جنوری کی درمیانی رات کراچی کے میمن گوٹھ تھانہ کی حدود میں لنک روڈ پر ایک آئل ٹینکر اور مسافر بس کے درمیان خوفناک تصادم ہوا۔ آئل ٹینکر غلط راستے پر آرہا تھا۔ رات کے 2 بج رہے تھے۔ بسوں کے متعدد مسافر سوئے ہوئے تھے۔ اس ٹکرائو کے بعد بس میں فوراً آگ پھیل گئی۔ باہر کے راستے میں بھی سیٹیں لگاکر مسافر بٹھائے گئے تھے۔ یوں اس الائو کے بھڑکنے کے بعد مسافر بس سے نہ نکل سکے۔ چھت پر بیٹھے مسافروں نے کود کر اپنی جانیں بچائیں۔ سی این جی سلنڈروں کے پھٹنے کے بعد قیامت کا منظر تھا۔ یوں لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہو گئیں۔ فائر بریگیڈ کے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے۔ اس وقت تک تباہی اپنے نقطۂ عروج سے گزر چکی تھی۔ پھر قانون نافذ کرنے والے سوئے ہوئے ادارے حرکت میں آگئے۔ ملک بھر میں ہر طرف سے اظہار افسوس ہونے لگا۔ بس اڈّے کا ریکارڈ ضبط کرلیاگیا۔ بسوں کے لیے نئے نئے قانون بنانے کا مطالبہ زور پکڑگیا۔ آئل ٹینکر کے مالک اور ڈرائیور کی تلاش میں چھاپے مارے جانے لگے۔ 3 ماہ پہلے 11 نومبر کو خیرپور میں پشاور سے کراچی جانے والی مسافر بس اور آئل ٹینکر کے درمیان تصادم میں 60 افراد جل گئے تھے۔ چند روز بعد اس خوفناک واقعہ کو بھلادیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دوستی کا سفر

’’رابرٹ گرنیئر‘‘ 2001ء میں سی آئی اے کا پاکستان میں اسٹیشن کمانڈر تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے دوران اُس نے اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دیں۔ حال ہی میں اُس کی ایک کتاب ’’88 Days to Kandahar‘‘ شائع ہوئی ہے۔ کتاب کا آغاز اُن امریکی سازشوں سے ہوتا ہے جن سے طالبان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ امریکی ان سازشوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کتاب کے آخر میں گرنیئر ان نتیجے پر پہنچتا ہے کہ افغانستان پر عسکری حملہ ناکام ہوچکا ہے۔ امریکا من چاہے رزلٹ حاصل نہیں کرپایا۔ اب اُسے میدانِ جنگ میں ناکامی کو مذاکرات کے ذریعے کامیابی میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ یوں امریکا نے جون 2013ء میں دوحہ قطر میں طالبان سے مذاکرات کا براہِ راست آغاز کیا۔ کرزئی اس طرح کی ہر بات چیت کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ اُس نے اس بیل کو منڈھے چڑھنے نہیں دیا۔ یوں یہ مذاکرات ناکام رہے۔ 2014ء میں امریکی افواج کی تعداد افغانستان میں کم ہوکر 10 ہزار رہ گئی۔ 2015ء میں اس میں مزید کمی ہوگی اور یہ 5500 رہ جائے گی۔ 2016ء میں اوباما کی رخصتی کے وقت ایک ہزار امریکی فوجی افغانستان میں مقیم ہوں گے۔ 2014ء میں امریکی فوجی دستوں اور افغان سیکورٹی فورسز پر طالبان حملوں میں 22 گنا اضافہ ہوگیا ہے، اس لیے افغان صدر اشرف غنی نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا قیام بڑھائے ورنہ اس کا اقتدار سمٹ جائے گا۔ نئے امریکی وزیر دفاع اور پنٹاگون چیف ایش کارٹر نے بغیر پیشگی اعلان کے افغانستان کا دورہ کیا ہے۔ اُس نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے طویل ملاقاتیں کی ہیں۔ اسی دوران دوحہ قطر میں طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور 19 اور 20 فروری کو 5 رکنی طالبان وفد کے ساتھ ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا واقعی ملک و قوم کی قسمت بدل جائے گی

11 فروری 2015ء کا دن پاکستانی تاریخ میں یاد گار رہے گا۔ اُس دن قوم کو یہ نوید ملی کہ ملک میں سونا، چاندی، لوہا اور تانبا کے وسیع ذخائر مل گئے ہیں۔ چینوٹ کے علاقے ’’رجوعد‘‘ میں واقع یہ ذخیرے ریکوڈیک سے 25 گنا زیادہ ہیں۔ چینی اور جرمن ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کا یہ علاقہ معدنی دولت سے بے انتہا مالا مال ہے۔ سب سے پہلے جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے اس علاقے میں معدنیات کی خبر دی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت نے اس کا ٹھیکا ارشد وحید نامی ایک پاکستانی نژاد امریکن کو30 سال کے لیے دے دیا۔ یوں اُسے یہ حق مل گیا کہ وہ جتنی چاہے معدنی دولت سمیٹ لے اور حکومت پنجاب کو اس کا 2 فیصد ادا کرتا رہے۔

اس ملک دُشمن معاہدے کو شہباز شریف حکومت نے عدالت میں چیلنج کردیا۔ کورٹ نے اس معاہدے کو منسوخ کردیا اور یوں پنجاب حکومت نے علاقے میں کان کنی کا آغاز کردیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند جو پہلے ریکوڈیک اور تھر میں معدنیات دریافت کرچکے ہیں، انہیں یہ فریضہ سونپا گیا۔ اس ضمن میں ایک انٹرنیشنل ٹینڈر پاس ہوا اور شفاف انداز میں ایکسپلوریشن کا عمل شروع کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔