• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایک دیرینہ خواب کی تکمیل

اُترپردیش بھارت کا سب سے زیادہ مسلم اکثریت کا صوبہ ہے۔ ہندوستان آزاد ہوا تو یہاں کی سرکاری زبان ہندی قرار دے دی گئی۔ 1951ء میں ایک قانون پاس ہوا جس میں انگریزی کے ساتھ ہندی کو صوبے بھر میں نافذ کردیا گیا۔ صدیوں سے مسلمان اردو بولتے اور لکھتے آرہے تھے۔ انہوں نے فارسی اور اُردو کی روایات کی نسلوں تک آبیاری کی تھی۔ لکھنو میں اردو زبان نے وہ لوچ اور شیرینی حاصل کی جو ضرب المثل بن گئی۔ اس زبان میں گالی تو درکنار ناشائستہ الفاظ بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے۔ ہندی جو دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، اُن کے لیے ایک بالکل نئی چیز تھی۔ یہی رسم الخط اسکولوں میں نافذ کیا گیا اور سارا نصاب ہندی میں پڑھایا جانے لگا۔ اردو زبان سے محبت کرنے والوں نے دہائیوں تک ایک مہم چلائی۔ گلی محلے کی سطح پر لوگوں کو اس زبان کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا۔ آخر 1989ء میں یوپی کی اسمبلی نے انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی صوبے کی سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔ یوں سارے قوانین کی نشر و اشاعت ساری خط و کتابت ان تین زبانوں میں ہونے لگی۔ اسکولوں میں بھی اردو کو اس کے رسم الخط میں پڑھایا جانے لگا۔ یہ تاریخ ساز قدم ہندوئوں کے لیے سوہان روح بن گیا۔ انہوں نے یوپی کی اسمبلی پر دبائو ڈالا۔ مرکزی حکومت کو سرگرم کیا، مگر اُن کو کوئی کامیابی نہ مل پائی۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ یوں یہ کیس نچلی عدالتوں سے سفر کرتا ہوا سپریم کورٹ میں جاپہنچا۔ ستمبر 2014ء میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا کہ اردو ہند اسلامی تمدن کی یادگار ہے۔ یہ مسلمانوں کی ایک پہچان کا درجہ رکھتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انسانی المیے پر عالمی طاقتوں کی پراسرار خاموشی

’’Glass Palace Chronicle‘‘ (شیشے کے محل کی روائیداد) برما کی صدیوں پرانی تاریخ پر سب سے اہم کتاب مانی جاتی ہے۔ انگریز راج میں شائع ہونے والی اس کتاب کا برمائی تمام زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ بدھ مت پر ایمان رکھنے والوں نے اس کتاب کے ورق ورق کی سچائی کا اعتراف کیا۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں روہنگیا مسلمان برما میں سکونت اختیار کرچکے تھے۔ 1799ء میں چھپنے والی ’’سرچارلز بوچانن‘‘ کی تاریخ میں بھی برما کے صوبے اراکان میں مسلم اکثریت کی نشان دہی کی گئی تھی۔ سترہویں صدی میں ہندوستان، چین، بنگال اور عرب سے مزید مسلمان اس سرزمین پہ آکر آباد ہوگئے۔ جب اورنگ زیب عالمگیر کے بھائی شاہ شجاع کو شکست ہوئی تو وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ برما میں آبسا۔ انگریزوں نے 1823ء میں برما کو زیرنگیں کیا اور حکومت کا کلی کنٹرول سنبھال لیا۔ ملک کو چلانے کے لیے افرادی قوت کی سخت ضرورت درکار ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ عام بودھ دنیاداری سے دور اپنے مراقبوں میں غرق زندگی بسر کرتا تھا۔ مہاتما بدھ اور تائو ازم کے زیراثر وہ دنیاوی جھمیلوں سے دور رہتا تھا۔ انگریز نے آکر ریلوے کا نظام بنانا شروع کیا۔ نہریں کھودی جانے لگیں۔ سرکار کے لیے شاہانہ عمارتیں استوار ہونے لگیں۔ برما کی مصنوعات کو یورپ لے جانے کے لیے خاص افرادی قوت درکار ہوئی۔ یوں مزید مسلمان برما آنے لگے۔ انہوں نے ہر شعبہ زندگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ تجارت میں ترقی سے مسلمان آسودہ حال ہوگئے۔ انگریز راج کے آخری سالوں میں مسلمان ملک کا امیر ترین طبقہ بن چکا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشیوں کے سفیر

’’دیوان سنگھ مفتون‘‘ تقسیم ہند کے وقت بہت معروف صحافی تھا۔ اُس نے ’’ریاست‘‘ جیسا اخبار نکالا جو ہندوستان کے کثیرالاشاعت اخباروں میں شامل ہو گیا۔ وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی نامور ہوا۔ اُس کے کالموں کے دو مجموعے ’’ناقابلِ فراموش‘‘ اور ’’سیف و قلم‘‘ کے نام سے چھپے اور برصغیر میں بہت پڑھے گئے۔ مفتون نے ان سینکڑوں کالموں میں نامور لوگوں کے کارنامے لکھے۔ اُس کے حلقہ احباب میں مسلمانوں کی کثرت تھی۔ وہ ان ہستیوں کے کارناموں سے ذاتی طور پر واقف تھا۔ اُس نے بیسیوں ایسے مسلمانوں کا ذکر کیا جو مالی طور پر نہایت آسودہ اور درمندی کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان مسلمانوں نے سارے برصغیر میں فلاحی کاموں میں تن من دھن قربان کیا۔ یہ بڑے دیندار اور سخی لوگ تھے۔ ان لوگوں نے یتیموں کے سروں پہ ہاتھ رکھا۔ بیوائوں کی دل کھول کر مدد کی۔ بے سہاروں کا سہارا بنے۔ عذاب کا شکار لوگوں کی اشک شوئی کی۔ انہوں نے یتیم خانوں کا جال ملک بھر میں پھیلادیا۔ عورتوں کی دستکاری کے فلاحی ادارے بنائے۔ ہسپتالوں کے سنگ بنیاد رکھے۔ انہیں جدید سہولیات سے آراستہ کیا۔ اسکولوں کالجوں کی تعمیر کی جہاں سے قوم کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئے۔ زکوٰۃ خیرات کے علاوہ بھی ان کے دروازے بے کسوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے۔ ایک نہایت متمول مسلمان رفیع احمد قدوائی نے اپنی زندگی میں لاکھوں بے آسرا افراد کو آسرا دیا۔ اُن کی وفات کے بعد ایک بار مفتون اُن کے آبائی گائوں سے گزرے۔ قدوائی صاحب صاحب کا گھر بے حد بوسیدہ کھنڈر کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ یہ اُس شخص کی رہائش گاہ تھی جس کی دردمندی کے گن متعصب ہندو اور سکھ بھی گاتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امن کا خواب

’’جولین اسانج‘‘ وکی لیکس کا بانی ہے۔ اُس کے مسلسل انکشافات نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا۔ عالمی طاقتوں کے گھنائونے کردار سے پردہ نوچ لیا۔ وہ سب سازشیں بے نقاب ہوگئیں جنہیں بڑی طاقتوں نے پروان چڑھایا تھا۔ ناقابلِ تردید ثبوت فراہم ہوگئے کہ کس طرح عالمی امن کو تاراج کرنے کے شیطانی منصوبے بنائے گئے؟ اُن کی فنڈنگ کس طرح ہوئی؟ ایجنٹ کس طرح ہائر ہوئے؟ اور یوں ملکوں میں تباہی اور بربادی پھیلادی گئی۔ وکی لیکس کا یہ انکشاف سب سے ہولناک تھا کہ امریکا اور اُس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میں امن کو کس طرح تاراج کرتے ہیں؟ اسرائیل کو مالی اور فوجی مدد کس طرح دی جاتی ہے؟ طاقتور عیسائی ملکوں کی ایجنسیاں کس طرح موساد کی پشت بان بنی ہوئی ہیں؟ نائن الیون کے ڈرامے پر مسلم دنیا کو کس طرح شکار کیا گیا؟ بش اور بلیئر نے یہودیوں کو ملاکر عراق کو بربادی کی طرف کیسے دھکیلا؟ افغانستان کا آگے بڑھتا سفر روک کر اُسے واپس بدامنی کی کھائی میں کیسے دھکیل دیا گیا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

کراچی پر قیامت کے سائے

’’ڈس کام‘‘ (DISCOM) دہلی شہر کو بجلی سپلائی کرنے والی ایک بین الاقوامی کمپنی ہے۔ اسے کانگریس دور میں ٹھیکہ دیا گیا۔ بی جے پی نے آکر معاہدے کی توثیق کردی۔ یہ کمپنی پچھلے 3 سالوں میں شہر کی صنعتوں، دفتروں، دکانوں اور گھروں کو بجلی فراہم کررہی ہے۔ کمپنی کی بدانتظامی کے باعث شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے لگا۔ موسم گرما میں عوام بجلی کی بندش سے بے حال ہونے لگے۔ قیامت کی گرمی میں یہ عذاب ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا اور بالا دست طبقہ جنریٹروں سے اس مسئلے کا حل نکال لیتا تھا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبروں کے گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع نہ ہوتی تھی۔ اسمبلیاں اس انتہائی سنجیدہ مسئلے کو چٹکلوں اور لطیفوں میں اُڑا دیتی تھیں۔ ڈس کام کے خلاف احتجاج 2013ء میں سنگین نوعیت اختیار کرگیا۔ اُس برس دہلی شہر میں درجہ حرارت جون کے مہینے میں مستقل 47، 48 رہا۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سرکاری طور پر پانی کی ترسیل میں فراہمی سخت متاثر ہوئی۔ گرمی، حبس، پسینہ، مچھر کے ستائے لوگ سڑکوں پہ نکل آئے۔ انہوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ ڈس کام کے دفتر میں گھس کر انہیں تباہ کردیا۔ لوک سبھا کے سامنے پہنچنے سے پہلے پولیس نے سخت لاٹھی چارج کیا۔ ربڑ کی گولیاں برسائیں۔ ہجوم تتربتر ہوگیا۔ حکومت نے ڈس کام کو مسئلہ حل کرنے کی تاکید کی۔ چند روز کے لیے بجلی کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ ہوا۔ پھر معاملات واپس اپنی ڈگر پہ آگئے اور عوام کی زندگیاں دوبارہ جہنم بنادی گئیں۔ ڈس کام دوبارہ ڈس کمفرٹ بن گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خبردار

’’را‘‘ (RAW) بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ہے۔ یہ Research & Analysis Wing کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا قیام 21 ستمبر 1968ء کو عمل میں آیا۔ پہلے یہ انوسٹی گیشن بیورو کہلاتی تھی۔ 1962ء کی چین بھارت جنگ میں بھارتی چین کے بارے میں نہایت غلط اندازے لگاتے رہے۔ آئی بی کی رپورٹوں کے مطابق چینی 3 دنوں تک بھارتی گولہ باری کا سامنا کرنے کے قابل نہ تھے۔ جواہر لال نہرو اُس وقت بھارتی وزیر اعظم تھا۔ اُس نے اس جنگ میں بھارتی شکست کو شدت سے محسوس کیا۔ ’’را‘‘ کے نام سے ایک بڑی خفیہ ایجنسی بنانے کی منظوری دی۔ 1964ء میں نہرو کی موت کے بعد لال بہادر شاستر ہندوستانی وزیراعظم بنا۔ 1965ء میں بھارت کے تمام اندازے دوبارہ غلط ثابت ہوئے اور اُسے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شاستری تاشقند معاہدے کے دنوں میں چل بسا۔ اندرا گاندھی نے آکر ’’را‘‘ کے لیے 20 ملین ڈالرز فنڈز کی منظوری دی۔ ایوی ایشن ریسرچ سینٹر کو ’’را‘‘ کا حصہ بنایا جس نے چین اور پاکستان کی خفیہ فلائی نگرانی شروع کردی۔ 1971ء میں ’’را‘‘ کا بجٹ بڑھاکر 300 ملین ڈالرز کردیا گیا۔ یوں بظاہر دنیا کی نظر میں یہ تحقیق کا یہ ادارہ ہے جو حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نتائج اخذ کرتا ہے۔ درحقیقت یہ پڑوسی ملکوں کے لیے ایک دلدل ہے۔ ایک ایسا ہولناک گردبار ہے جس کے جھکڑوں نے جنوبی ایشیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا بجٹ بڑھایا جاتا رہا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اس کے تمام فنڈز کو آڈٹ سے مبرا قرار دے دیا گیا۔ یوں ارب یہ اربوں ڈالرز صرف کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ اس کے ڈیپارٹمنٹس کتنے ہیں؟ اور اس کے عملے کی تعداد کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں بتاسکتا۔ نئی دہلی میں اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ بھارت کے طول و عرض میں اس کے خفیہ دفاتر واقع ہیں۔ ضلع گوڑ گائوں میں جاسوسوں کو بیرونی زبانیں سکھانے کا ایک جدید ترین سینٹر بنایا گیا ہے۔ یہ جاسوس فر فر بولنا سیکھتے ہیں تو انہیں متعلقہ ملکوں میں جاسوسی کے لیے بھجوادیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اعدادو شمارکی ہیرا پھیری

بجٹ تقریر ختم ہوئی تو میں نے مختلف چینلوں پر تبصرے سننا شروع کردیے۔ حکومتی سیاست دانوں کی داد و تحسین سیلابی پانیوں کے دھاروں کی صورت بہہ رہی تھی۔ بجٹ کی شان میں قصیدوں کی طرح کا کلام سننے کو مل رہا تھا۔ اپوزیشن اس بجٹ میں دنیا جہان کی خامیاں تلاش کرنے کی کوششوں میں تھی۔ تیز نوکیلے پنجوں سے اس کا تار تار بکھیرا جارہا تھا۔ سب سے زیادہ منفرد کام ایک چینل نے یہ کیا کہ بوجھ اُٹھانے والے مزدوروں، کوئلہ کی کانوں میں کان کنی کرنے والے محنت کشوں اور بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کرنے والے کارکنوں کے حالات زندگی اور بجٹ پر ان کا ردّعمل دکھایا۔ تین نمایندے ملک کے مختلف حصوں سے یہ پروگرام کررہے تھے۔

پروگرام کے پہلے حصے میں بتایا گیا کہ کراچی کی آبادی 2 کروڑ 20 لاکھ افراد سے زیادہ ہے۔ جمشید ٹائون سے متصل مزدوروں کی آبادی ’’بانو کالونی‘‘ کہلاتی ہے۔ یہاں تنگ و تاریک گلیاں ہیں۔ ایک ایک دو دو کمروں کے کچے پکے بے ہنگم مکانات ہیں۔ یہاں کے مکین ڈرائیور، بوجھ ڈھونے والے، گاڑیاں دھونے والے، چوکیدار، دکانوں پر کام کرنے والے، تندور چلانے والے، گھروں میں کام کرنے والے، قہوہ خانوں پر لوگوں کو چائے قہوہ دینے والے لوگ ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا معاشرہ اور جعل سازی

یہ 1907 ء کا ذکر ہے۔ لکھنؤ کی ڈسٹرک کوسٹ میں قتل کے ایک مشہور مقدمے کا فیصلہ ہونا تھا۔ انگریز جج نے گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں ملزم ہنو مان سنگھ کو مجرم پایا۔ اس پر قتل کا جرم ثابت ہوگیا۔ دفعہ 302 اس پر عائد ہوجانی تھی۔ ہنومان سنگھ بہت امیر آدمی تھا۔ اس نے جج تک 10 ہزار روپے پہنچائے۔ بڑی بڑی سفارشیں کر وائی گئیں، لیکن جج ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس نے سزائے موت کے فیصلے کو قلم بند کیا اور اس پر اپنے دستخط ثبت کردیے۔ دو روز بعد کھلی عدالت میں فیصلہ سنایا جانا تھا۔ کورٹ روم کھچا کھچ بھر ہوا تھا۔ سارا لکھنؤ احاطۂ عدالت میں آگیا تھا۔ وقت مقررہ پر انگریز جج اپنی روایتی آن بان کے ساتھ کورٹ میں داخل ہوا۔ سب لوگ تعظیم میں کھڑے ہوگئے۔ چپراسی نے جج کا آفس باکس لاکر میز پر رکھا۔ جج نے کوٹ کی جیب سے چابی نکالی اور باکس کھولا۔ اس نے فیصلہ پڑھنے سے پہلے اس پر طائرانہ نگاہ ڈالی تو ہکا بکا رہ گیا۔ فیصلہ راتوں رات تبدیل ہوچکا تھا۔ وہ گھبرا کر فیصلہ باآواز بلند پڑھنے لگا: ’’ملزم ہنومان سنگھ باعزت طور پر رہا کیا جاتا ہے۔‘‘ فوراً بعد جج نہایت سراسیمگی کے عالم میں عدالت سے اٹھ گیا۔ اس نے بار بار دیکھا کہ لکھائی ہو بہو اس کی ہے۔ دستخط بھی اسی کے ہیں، مگر اصل فیصلہ غائب ہوچکا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

انقلاب بذریعہ تعلیم

’’ابونصر محمد فارابی‘‘ کو مسلمانوں کا ارسطو کہا جاتا ہے۔ وہ 259 ہجری میں پیدا ہوئے۔ 339 ہجری میں وفات پائی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے سب سے مشہور استادوں سے تعلیم حاصل کی۔ فارابی فلسفہ، منطق، فقہ، ادب اور طب میں دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ وہ دنیا کی 70 زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی ذہانت ضرب المثل کا درجہ پاگئی تھی۔ عربی، فارسی، ترکی، سریانی اور یونانی زبانوں میں انہوں نے کتابیں لکھیں۔ اپنی زندگی میں ان کی 113 تصانیف منصہ شہود پر آئیں۔ یونان کے بڑے عالموں نے انہیں ارسطو کا ہم پلہ اور افلاطون اور سقراط سے بہتر ماہر تعلیم قرار دیا۔ وہ بلاشبہ ایک بلند پایہ مفکر حیات تھے۔ زندگی کا کوئی بھی گوشہ ان کی باریک بین نگاہ سے اوجھل نہیں ہوتا۔ فارابی نے زندگی بھر یا تو کتابیں لکھیں یا درس و تدریس کے ذریعے اسلامی دنیا کو روشنی اور حرارت بخشی۔ ان کے شاگردوں سے مسلم سلطنت کا کوئی کو نہ بھی خالی نہ رہاتھا۔ ایک بلند مینارہ نور کی طرح ان کے اجالے کئی زمانوں تک گئے اور تاریکیوں میں علم کے چراغ ضوفشاں کیے۔

فارابی نے فلسفۂ تعلیم میں وجودیات (ontology) اور قدریات (Ariology) پر سیر حاصل بحث کی۔ وہ وجودیات میں انسان، کائنات او راللہ تعالی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ قدریات میں اخلاقی اقدار کی معاشرتی اہمیت کو نہایاں کرتے ہیں۔ ان کا قول تھا: ’’علم و حکمت کے جو مسلمان کو پاکباز، سچا او راعلی ترین اخلاق کا پیکر ہونا چاہیے۔‘‘ وہ خیانت، فریب اور مکر و حیلہ کو علم کے بڑے دشمنوں میں سے گردانتے تھے۔ وہ سرے سے ایسے علم کے مخالف تھے جو دنیا میں اصلاح اخلاق اور آخرت میں حصول سعادت کا باعث نہ ہو۔ وہ حصول سعادت کے لیے عمدہ اخلاق کو بنیاد قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب چاغی گونج اُٹھا

11 اور 12 مئی 2015ء کو بھارتی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس منعقد ہوئے۔ 11 مئی کو نہایت دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ ایجنڈا پاکستان پر سخت آہنی ہاتھ ڈالنا تھا۔ کشمیریوں کے لیے اُٹھائی گئی ہمارے دفتر خارجہ کی آواز موضوع بحث آئی۔ آر کے سنگھ اور کیرتی آزاد جیسے ہارڈ لائنز سے آگ کے الائو نکال رہے تھے۔ زہر کی پچکاریاں اُن کی زبانوں سے چھوٹ رہی تھیں۔ 12 مئی کو نریندر مودی نے ایک فقرہ بولا تو سب مکمل طور پر خاموش ہوگئے۔ اُن پر سکتہ ہوگیا۔ زبانیں گنگ رہ ہوگئیں۔ چنگاریاں اُڑاتی زبانیں راکھ کے ڈھیر بن گئیں۔ نریندر مودی نے بس اتنا کہا: ’’نہ بھولو کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔‘‘ اس کے بعد مودی نے پاک بھارت کرکٹ سیریز دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دیدی۔ کرکٹ کو دونوں ملکوں کے تعلقات ہموار کرنے کے لیے ایک مرکزی پالیسی بنانے کا اعلان کردیا۔ یوں یہ اجلاس جو پاکستان دُشمنی کے واشگاف نعروں سے شروع ہوا، پاکستان دوستی کی دستاویز پر دستخط پر تمام ہوگیا۔

ایٹمی طاقت بننے کے عظیم ثمرات محسوس کرنے کے لیے ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں۔ 1974ء میں بھارتی صوبے راجستھان میں پوکھران کے مقام پر بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

را کی سازشوں کا جال

22 اپریل کی صبح راجستھان سے آئے کسانوں نے دہلی پہ دھاوا بول دیا۔ ہر طرف سے لوگوں کا ہجوم آیا۔ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے جمع ہوگیا۔ ان لوگوں کے لباس پھٹے پرانے اور میل کچیل سے لتھڑے ہوئے تھے۔ ان کے پائوں میں گرد آلود ٹوٹے ہوئے جوتے تھے۔ ان کے چہروں پہ غموں نے ڈھیرے ڈال رکھے تھے۔ بے موسمی بارشوں نے ان کی فصلیں مکمل طور پر تباہ کردی تھیں۔ وہ قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح دبے ہوئے تھے۔ اچانک گجندر سنگھ نامی ایک کسان نے ایک پیڑ کے ساتھ لٹک کر خودکشی کرلی۔ ہجوم ناقابل بیان حد تک جذبات سے بپھرگیا۔ پولیس اور پیرا ملٹری فورس نے ان پر چڑھائی کردی۔ آنسو گیس کے گولوں نے فضا میں زہر گھول دیا۔ یہ بھوکے مجبور کسان تتر بتر ہوگئے۔ پارلیمنٹ کے اندر بھارتی لیڈر شپ ان زندہ لاشوں سے لاتعلق دفاعی بجٹ بڑھانے اور کشمیر میں ہندو آبادکاری کے عمل کو تیز کرنے پر بحث کرتی رہی۔

دولت اور غربت پر تحقیق کرنے والی تنظیم Oxfom کے مطابق بھارت دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں ارب پتی سرمایہ داروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کہا گیا ہے کہ اگلے 20 سالوں میں ان کی تعداد تمام دنیا میں پہلے نمبر پر آجائے گی۔ اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پچھلے 20 سالوں یعنی 1995ء سے 2014ء کے درمیان 3 لاکھ بھارتی کسان غربت اور تنگ دستی سے مجبور ہوکر خودکشی کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔