• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

زہر کا پیالہ

فرانس دنیا کی پانچویں بڑی معاشی قوت ہے۔ 2 سو سال قبل یہ یورپ کے انتہائی پسماندہ ملکوں میں شامل تھا۔ نپولین بونا پارٹ نے جب فرانسیسی فتوحات کا دائرہ وسیع کیا تو فرانس کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ نپولین کو 1812ء میں روس پر حملے میں بدترین شکست ہوئی۔ یورپی ملکوں نے مل کر اُسے واٹرلو کے میدان میں شکست دی اور نپولین کو سینیٹ ہیلنا کے مقام پر قید کردیا گیا۔ اُس کی موت کے بعد فرانس کے عیسائی تیزی سے کیتھولک فرقہ چھوڑ کر پروٹسٹنٹ ہونا شروع ہوگئے۔ اس نئے فرقے نے ایشیا اور افریقہ میں فرانسیسیوں کی لشکرکشائی کے حق میں اپنا سارا وزن ڈال دیا۔ فرانس نے چند ایشیائی اور بیشتر افریقی ملکوں کو اپنا غلام بنالیا۔ فرانسیسی کان کنوں نے افریقہ میں سونے اور ہیرے کی بیش بہا کانوں کی کھدائی کی اور فرانس کو یورپ کے امیر ترین ملکوں میں شامل کروادیا۔ بیسویں صدی کے وسط میں فرانسیسی کالونیاں بے پناہ کشت و خون کے بعد آزادی پانے لگیں تو فرانس میں یورپ کی پہلی دہشت گرد تنظیم ’’آرگنائزیشن آف سیکرٹ آرمی‘‘ بنی۔ اس تنظیم میں بدترین پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے بڑے عہدے پائے۔ حکومت کو افریقی ملکوں خصوصاً الجیریا کی آزادی سے روکنے کے لیے ملکی شہریوں اور املاک پر حملے شروع کردیے۔ ان کٹر عیسائیوں کے ایما پر فرانسیسی صدر ڈیگال نے الجیریا میں مسلمانوں پر مظالم شروع کردیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا میں بڑھتی انتہا پسندی

جمعرات 12 نومبر کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی برطانیہ کے دور پر پہنچا۔ وہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا تو روٹ تبدیل کرنا پڑا۔ اُس کی آمد کی خبر کے ساتھ ہی کشمیریوں، سکھوں، دلتوں اور نیپالیوں نے 10ڈائوننگ اسٹریٹ کے اطراف میں جمع ہونا شروع کردیا۔ اُن کے ہاتھوں میں بھارتی حکومت کی مذمت سے بھرے ہوئے پلے کارڈز تھے۔ اُن کی زبانوں پر ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے تھے۔ مودی دوسرے راستے سے منزل پر پہنچا تو مظاہرین کی نعرہ بازی عروج کو پہنچ گئی۔ مودی کی پریس کانفرنس میں اُس کی حکومتی پالیسیوں کے پرخچے اُڑنا شروع ہوگئے۔ صحافیوں نے اُس پر تابڑ توڑ سوالات کے تیر پھینکنا شروع کردیے۔ گجرات کے مسلم کش فسادات سے لے کر حال میں ہونے والے بی جے پی، شیوسینا کی درندگی موضوع بحث آئی۔ ایک برطانوی صحافی نے مودی کو کہا کہ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ ہیں۔ آپ کا کردار کسی بھی قسم کی عذت اور ستائش کے قابل نہیں۔ مودی کے سارے جوابات نہایت پھسپھسے اور نقاہت زدہ تھے۔ یہ پریس کانفرنس بھارتی حکومت کی خفت اور شرمندگی پر ختم ہوئی۔ بھارتی اخبار ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے 13 نومبر کی اشاعت میں لکھا کہ ہم سچ کو جتنا مرضی چھپائیں، وہ دنیا پر عیاں ہوگیا ہے۔ بھارت میں حکومتی آشیرباد پر ہونے والی تنگ نظری اور مذہبی انتہا پسندی نے ساری دنیا میں ہمارے برے کردار کو ننگا کردیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترکی اور پاکستان

پچھلے برس 30 مارچ کو ترکی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان میں چار بڑی پارٹیوں نے حصہ لیا۔ طیب اردگان کی ’’جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی‘‘ کے خلاف اپوزیشن نے ایک بھرپور مہم چلائی۔ اردگان کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ امریکا نے فتح اللہ گولن کو اپنے مہرے کی طرح چلایا اور ترکی میں طیب اردگان کی شکست کے لیے اپنے سارے ہتھکنڈے بھرپور طریقے سے میدان میں لے نہ آیا۔ ترکی میں اسلام پسندوں کی شکست کے لیے ساری مغربی طاقتیں اکٹھی ہوگئیں۔ مغربی میڈیا دکھارہا تھا کہ کس طرح سیکولروں نے طاقت پکڑلی ہے اور وہ ملک کی تاریخ میں دوبارہ اقتدار تک پہنچنے ہی والے ہیں۔ انتخابات ہوئے تو اردگان کی پارٹی 45.56 فیصد دونوں سے سب سے آگے رہی۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی، پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کو 27.91، 15.16 اور 4.01 ووٹ مل پائے۔ اردگان نے مخالفین سے کئی ایسے شہر بھی چھین لیے جہاں وہ لوگ خاصی طاقت میں تھے۔ جب اس ساری صورت حال کا غیرجانبدار تجزیہ ہوا تو معلوم ہوا کہ مخالفوں کے دور میں ہر ترک کی فی کس آمدنی ڈھائی ہزار ڈالر تھی، جو 2014ء تک ساڑے 10 ہزار ڈالرز تک جاپہنچی۔ حکومت نے 2002ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ترکی میں ایسے ترقیاتی کام کروائے کہ ان کی مثال جدید ترکی میں نہیں ملتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آزمائش کے دن

مئی 1935ء میں کوئٹہ اور گردونواح میں ایک ہولناک زلزلہ آیا۔ لوگ گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ انہیں اُٹھ کر بھاگنے کا موقع ہی نہ مل پایا۔ یہ متحدہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے دہشت ناک زلزلہ تھا۔ سارے کا سارا شہر مکمل طور پر کھنڈر بن گیا۔ 25 ہزار سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے۔ ذرائع وسائل و رسائل محدود تھے۔ کئی دنوں بعد یہ خبر سارے ملک میں پہنچ پائی کہ کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ 8؍ اکتوبر 2005ء کا زلزلہ ہمارے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے۔ ہم اُس وقت ’’سوپر سانک اسپیڈ‘‘ والے عہد میں رہ رہے تھے۔ اس زلزلے کے بعد شیخ رشید اس وقت کے وزیر اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس کی اور کہا اسلام آباد میں ایک دو عمارتیں گرگئی ہیں۔ مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر نقصان نہیں ہوا۔‘‘

8؍ اکتوبر کی رات کو امریکیوں نے اپنے خلائی سیارے کے ذریعے حاصل ہونے والی تصویروں سے ہمیں اس زلزلہ کی ہولناکیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہمیں پوری طرح دوسرے تیسرے دن علم ہوا کہ بالاکوٹ شہر سارے کا سارا مسمار ہوچکا ہے۔ سرحدی صوبے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گریٹ گیم

پاکستان کے ساتھ مغربی طاقتوں اور مغربی میڈیا کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے۔ وزیر اعظم کے حالیہ دورئہ امریکا ہی کو لے لیجیے۔ اس سے پہلے ہی ہمارے ایٹمی پروگرام پر ایک بار پھر شکوک و شبہات کے گہرے بادل چھاگئے۔ ہم اپنے پروگرام کی شفافیت پر بیانات دینے لگے۔ بھارت ہم سے دہائیوں پہلے ایٹم بم بنا چکا تھا۔ اس کے خلاف آج تک عالمی سطح پر کسی قسم کی فکرمندی نہیں دکھائی گئی۔ صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے طول و عرض میں دنیا کے متمول ملک اپنی صنعتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل اور کئی اسلامی ملک بھی وہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ بھارت انہیں ارزاں افرادی قوت مہیا کررہا ہے۔ ٹیکس میں حیرت انگیز چھوٹ دے رہا ہے۔ انہیں سستی زمینیں، بجلی، گیس اور اعلیٰ معیار کی سڑکیں دی جارہی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے چین کے ساتھ اکنامک کاریڈور کے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے ایک بہت بڑی سازش بُنی جارہی ہے۔ چین دنیا بھر کو مصنوعات درآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس کے پاس عالمی طاقتوں میں سے سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ بیرون ملک سرمایہ کاری 114، ارب ڈالرز سے تجاوز کرگئی ہے۔ اکنامک راہداری کی تعمیر سے نہ صرف چین کے 140 کروڑ باشندوں بلکہ 20 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی میں بھی ایک بڑا انقلاب برپا ہونے جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لہو لہو فلسطین اور عالم اسلام کی خاموشی

12؍ اکتوبر 2015ء کو سہ پہر 4 بجے بھارتی صدر پرناب مکرجی فلسطین کے دورے پر پہنچے۔ صدر محمود عباس اور اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔ دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے۔ مسکراہٹوں کے تبادلے ہوئے۔ دونوں ملکوں کے روابط بہتر بنانے کے لیے تبادلہ خیال ہوا۔ پرناب مکرجی نے فلسطین کو 50 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔ بند دروازوں کے اندر اس کارروائی کے دوران باہر فلسطین کے یونیورسٹی طالب علموں کے جلوس نکل رہے تھے۔ ان طالب علموں نے بھارت اور اسرائیل کے پرچم نذرآتش کیے۔ نیتن یاہو اور نریندر مودی کے پتلوں کو آگ لگائی اور اُن پر جوتوں کی بارش کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں استعمال شدہ بھارتی اسلحہ اُٹھا رکھا تھا جسے یہودی فوجیوں نے فلسطینی مسلمانوں پر استعمال کیا تھا۔ یہ نوجوان بھارت کی 50 لاکھ امداد کو ایک مذاق قرار دے رہے تھے۔ ہندوستانی اسلحے سے لگنے والے زخموں کو میڈیا کے سامنے دکھارہے تھے۔

ان کا کہنا تھا پچھلے برس اگست اور ستمبر میں 2000 سے زائد مسلمان ہندوستانی ساختہ گولیوں کا نشانہ نے۔ ہزارہا افراد زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوگئے۔ بموں نے مکانوں، فلیٹوں اور دفتروں کو زمیں بوس کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گھر کی گواہی

افغانستان کی صورت حال پر حال ہی میں دو نہایت چشم کشا کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ پہلی ایک امریکی نے جبکہ دوسری ایک برطانوی صحافی نے سالوں کی محنت کے بعد شائع کی ہے۔ پہلی کتاب: ’’The Good War why we couldn't win the war or the Peace in Afghanistan‘‘ (ایک اچھی جنگ: ہم افغانستان میں جنگ جیتنے یا امن پانے میں کیوں ناکام ہوئے؟) دوسری کتاب: ’’Inventment in Blood: The True Cost of Britain's Afghan War‘‘ (لہو کا خراج: برطانیہ کی افغان وار میں حقیقی لاگت) ہے۔ امریکی کتاب ’’جیک فیرٔویدر‘‘ نے اور برطانوی کتاب ’’فرینک لیڈ ویج‘‘ نے لکھی ہے۔ ان صحافیوں نے امریکی اور برطانوی وزارت دفاع کا تعاقب سالوں تک کیا۔ اُن سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کیں، پر وہ حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔ اُن کے فون ریسیو نہ کیے جاتے۔ انہیں ملاقات کا وقت نہ دی اجاتا۔ انہوں نے امریکی کانگریس اور برطانوی ہائوس آف کامنز کے ممبروں سے رابطہ کیا۔ انہیں اپنے سوالات ایوانوں میں اُٹھانے کے لیے مجبور کیا۔ ان سوالات کے جوابات قابلِ تشفی نہ تھے۔ یہ دونوں افغانستان گئے اور وہاں امریکا اور نیٹو کو پہنچنے والے نقصانات کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے بگرام میں کئی ماہ قیام کیا۔ فوجیوں کے انٹرویو کیے۔ افغانستان کے طول و عرض میں فوج کے ہمراہ پھرے۔افغان حکومت کے عہدے داروں سے ملاقاتیں کیں۔ زخمی فوجیوں کے تاثرات جانے۔ اس جنگ پر آنے والی لاگت کا تخمینہ لگایا۔ مرنے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کے انٹرویوز لیے۔ان دونوں صحافیوں نے تقریباً ایک جیسے نتیجے نکالے اور اس جنگ میں امریکی لشکر کی شکست کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلم دنیا کے لیے روڈ میپ

امامِ کعبہ مسلم دنیا کی چند مرکزی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ لاکھوں مسلمان حج کے دوران اُن کا خطبہ سنتے ہیں۔ کروڑوں افراد میڈیا کے ذریعے ہر سال ان کے ارشادات کو ذہن و دل میں بساتے ہیں۔ اُن کی کہی ہر بات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امام کعبہ ساری اُمت کے لیے نہایت دردمندی سے مشورے دیتے ہیں۔ وہ اسلامی دنیا کے مسائل اور ان کے حل تجویز کرتے ہیں۔ اِس برس بھی انہوں نے ایک تاریخی خطبہ ارشاد کیا۔ یہ مسلمانوں کو درپیش تمام چیلنجوں کا علاج ہے۔ انہوں نے فرمایا اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ کچھ لوگ اُمت کی وحد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ مسلمان تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کریں۔ اسلام کی تعلیمات پر پوری دل جمعی سے عمل پیرا ہوں۔ اللہ کا کرم اور رحمت ہے کہ مسلمانوں کا جمِ غفیر آج میدانِ عرفات میں موجود ہے۔ اللہ نے ہمیں پستیوں سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کیا۔ اسلام کے سوا کوئی دینِ حق نہیں، اسلام کو ساری دنیا کے مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔ اسلام کی ہدایات ہی ہم کو سیدھے راستے پر گامزن کرتی ہیں۔ مکہ اور مدینہ دنیا بھر کے سب سے متبرک شہر ہیں۔ دین کی تعلیمات میں حق اور باطل کی واضح نشاندہی کردی گئی ہے۔ مسلمان اللہ کے دین کی طرف نرمی سے لوگوں کو دعوت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس سرزمین سے اُٹھنے والے پیغام کو دنیا بھر کے انسانوں تک پہنچائیں۔ مسلمان خدا سے ڈریں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف جہاد کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی نسل کو تباہ کرنے والے

’’فیثا غورث‘‘ یونان کا ایک نامور فلسفی اور ریاضی دان تھا۔ یونانی فلسفہ میں دو مرکزی اسکول آف تھاٹ مشہور ہوئے: ایک مادّیت پسند جبکہ دوسرا مثالیت پسند کہلاتا تھا۔ مادیت پسندوں کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ دنیا کی ہر شے مادہ ہے اور انسانی روح بھی مادے کی ایک صورت ہے۔ دوسری طرف مثالیت پسندوں کا کہنا تھا کہ انسانی روح نے مادّے کی تخلیق کی ہے۔ اگر روح نہ ہو تو مادہ غائب ہوجاتا ہے۔ فیثا غورث کا تعلق دوسرے اسکول سے تھا۔ اُس نے انسانی روح کے ضمن میں ’’آواگون‘‘ (Transmigration) کا آئیڈیا متعارف کروایا۔ وہ کہتا ہے کہ انسانی روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ایک روح جسم کے تحلیل ہونے کے بعد دنیا میں کہیں بھی نئے آنے والے بچے میں حلول کرجاتی ہے۔ فیثا غورث کے اس نظریے کو یونان اور رومن فلسفے میں بہت مشہوری ملی۔ زیادہ تر فلسفیوں نے اُس کے عقیدے کو رد کردیا۔ یونانیوں اور رومیوں کا کوئی مذہب نہیں تھا۔ حیرت اُس وقت ہوتی ہے جب ہم دنیا کے مشہور مذاہب کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں سوائے ہندوئوں کے یہ عقیدہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں مانا جاتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بچوں کا استحصال، ایک عالمگیر مسئلہ

یہ دسمبر 1999ء کی بات ہے۔ ایک صبح جاوید اقبال نامی ایک شخص لاہور کے رادی روڈ کے تھانے میں آیا۔ اُس نے اقبالِ جرم کیا۔ وہ 100 سے زیادہ بچوں کو قتل کرچکا ہے۔ تھانے کے عملے نے اُسے کوئی پاگل قرار دے کر تھانے سے باہر نکال دیا۔ چند گھنٹوں بعد وہ آیا تو اُس کے ہاتھوں میں انسانی ہڈیاں تھیں۔ پولیس نے فوری طور پر اُس کا بیان قلم بند کرنا شروع کردیا۔ اُس نے بتایا کہ وہ مینارِ پاکستان کے اردگرد گھومتا رہتا تھا۔ وہاں مختلف شہروں سے فرار ہونے والے بچے اُترتے ہیں اور وہ اُن کو تاڑتا رہتا تھا۔ وہ انہیں اپنا دوست بناتا، اُن سے ان کی کہانیاں سنتا جو زیادہ تر غربت، گھریلو گھٹن، مارپیٹ کے گردگھومتی تھیں۔ بچے فرار ہوکر لاہور آتے اور اُس کے ہاتھ لگ جاتے۔ وہ انہیں خوب کھلاتا پلاتا، انہیں سیریں کراتا اور پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنادیتا تھا۔ اُس نے گھر میں تیزاب سے بھرے ہوئے ڈرم رکھے ہوئے تھے۔ جو بچے شور مچاتے، احتجاج کرتے وہ اُن کا گلا گھونٹ کر انہیں تیزاب کے ڈرموں میں پھینک دیتا۔ ایسے بچے جو اُس کے دوست بن جاتے، انہیں وہ چند روز تک برداشت کرتا، پھر مار کر نئے شکار کی تلاش میں نکل پڑتا۔ لاہور جو انسانوں کا جنگل ہے، وہاں اُسے نت نیا شکار دستیاب ہوجاتا۔ کم عمر بچے جن کو اس معاشرے کے گھنائونے چہرے سے آشنائی نہ تھی، اُس کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے۔ یوں وہ کئی سالوں تک انسانی شکار کھیلتا رہا۔ جب اُس سے اس خوفناک ترین عمل کی وجوہات پوچھی گئیں تو معلوم ہوا اُسے بچپن میں جنسی تشدد کا سامنا کرناپڑا تھا۔ ایک بار پولیس نے اسے بے گناہ کسی میں پکڑ کر بہت مارا تھا۔ نوجوانی میں ہی وہ نیم دیوانہ ہوگیا اور اُس نے معاشرتی جبر کا انتقام معصوم بچوں سے لینا شروع کردیا۔ جاوید اقبال کے اقرارِ جرم کے بعد اُس کے گھر کی تلاشی لی گئی تو ڈرموں سے انسانی کھوپڑیاں کثرت سے ملیں۔ گھر میں مارے جانے والے بچوں کے کپڑے اور کھلونے ملے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا یہ وہی پاکستان ہے

14؍ اگست 2015ء کو پاکستان بنے 68 سال پورے ہوجائیں گے۔ 1947ء میں یہ ملک جب دنیا کے نقشے پر اُبھرا تو پسِ منظر میں خون کے دریا بہہ رہے تھے۔ بچوں، عورتوں، مردوں کی بے گور و کفن لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ لاکھوں معصوم لڑکیوں کی عصمت و عفت داغدار ہوچکی تھی۔ ہندوستان سے پاکستان کی طرف چلنے والوں میں سے بیشتر اپنی جانیں گنواچکے تھے۔ سکھوں اور ہندوئوں نے مسلمانوں کی بستیوں کا گھیرائو کرلیا تھا۔ اُن کو تلواروں، بلوں، بھالوں، نیزوں سے قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ اُن جائیدادیں، دکانیں لوٹی جارہی تھیں۔ مسلم آبادیوں کو ایسا نذر آتش کیا گیا کہ ہفتوں اُن میں سے دھواں نکلتا رہا۔ انگریز سرکار اور ہندو پولیس نے بدترین انسانیت سوز مظالم سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ کئی شہروں اور قصبوں میں مہاسبھائی بھیڑیوں کی ڈھال بن گئی۔ اُن کے ایما پر قتل و غارت گری مسلسل ہوتی رہی۔ ہندوستان کے طول و عرض میں بلوائیوں کے لشکر اپنے دانت تیز کیے شکار کی تلاش میں گھومتے پھرتے تھے۔ اُن کے پاس نقشے، ووٹر لسٹیں اور مسلمانوں کی املاک کی پوری جانکاری تھی۔ انہوں نے بجلی، پانی کی فراہمی بند کردی۔ راشن کا حصول ناممکن بنادیا۔ بھوکے پیاسے مسلمان ناچار باہر نکلتے تو تاک میں بیٹھے شکاریوں کا شکار بن جاتے۔ شہروں اور قصبوں میں جو مسلمان مسجدوں اور مدرسوں میں پناہ گزین ہوئے وہ زندہ جلادیے گئے۔ مہاجر کیمپوں میں قیامت کے مناظر تھے۔ ان کی حفاظت سے سرکار نے ہاتھ اُٹھالیے تھے۔ رمضان کے مہینے میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے یہ فرزندانِ توحید منزل کی طرف گامزن ہوئے تو فسادیوں کے حملوں کا نشانہ بن گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔