• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کشمیر کی آزادی تک

کشمیر کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونکنے والا ایک بائیس برس کا نوجوان برہان مظفروانی ہے۔ وہ 1994ء کو پلوامہ کے علاقے ترال میں پیدا ہوا۔ اُس نے شیرخوارگی میں کشمیریوں کی آہ و بکا کی لوریاں سنی تھیں۔ وہ ایک ایسے دور میں جوان ہوا جب اُس کے چاروں اطراف جنازوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا قافلہ رواں دواں تھا۔ اُس نے تشدد زدہ لاشیں اور عضو بریدہ زخمیوں کو دیکھا۔ وہ ایک نہایت ذہین طالب علم تھا۔ اُس کی ذہانت و فطانت کا شہرہ ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ اُس کے والد ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ گھر میں پڑھائی لکھائی کا چرچا اور علم و ہنر کا تذکرہ تھا۔ وانی کو کھیل کود سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اُس کی سپورٹس مین شپ کا اعتراف اُس کے مدمقابل بھی کیا کرتے تھے۔ 2010ء میں جب اُس کی عمر بمشکل 16 برس تھی، بھارتی فوج نے اُس کے معصوم بھائی کو بہیمانہ تشدد کے بعد گولیاں مار کر شہید کردیا۔ وانی کو اپنے بڑے بھائی سے بہت محبت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا فقیر منش بھائی کتابوں کی دنیا کا راہی تھا۔ اُس کا آزادی کی تحریک سے براہ راست تعلق نہ تھا۔ بھائی کی شہادت نے دنوں میں برہان مظفروانی کی شخصیت کو بدل کے رکھ دیا۔ وہ غم و الم جو اب تک اُس کے لیے پرایا تھا، اُسے اس کی شدت وحدت کا پوری طرح تجربہ ہوا۔ وانی نے حزب المجاہدین کو جوائن کرلیا۔ اُس کو کمپیوٹر پر کامل عبور نے اس قابل بنادیا کہ وہ تحریک آزادی کا نامور جدید مجاہد بن سکے۔ 2010ء سے 2016ء تک اُس نے سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکیت کو تصویروں اور خبروں کے ساتھ ننگا کرکے رکھ دیا۔ اُس کے ویڈیوز نے دنیا بھر میں ہندوئوں کی سربریت کو ایک اشتہار بنادیا۔ لاکھوں کشمیری اُس کی پوسٹس کے دل و جان سے منتظر رہتے تھے۔ بھارتی ایجنسیوں اور فوج نے اُسے اپنا ٹارگٹ نمبر ایک ڈیکلیئر کردیا۔ بھارتی جاسوس شکاری کتوں کی طرح اُس کی بو سونگھتے پھررہے تھے۔ اُس کی سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کردی گئی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا برطانیہ بکھرنے جارہا ہے؟

برطانیہ میں ریفرنڈم نے دنیا بھر کی مارکیٹو ںپر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بظاہر یہ ایک ملک کے شہریوں کا چوائس تھا۔ یہ سوال عوام کے سامنے رکھا گیا کہ کیا برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے یا اُس کا حصہ رہے۔ اکثریت نے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس خبر کے بریک ہونے کے ساتھ ہی برطانوی پائونڈ کو سخت دھچکا لگا۔ پہلے ہی روز پاکستانی روپے کے مقابلے میں پائونڈ کی قدر میں 6 روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ یورو کی قدر میں ایک روپے کی کمی ہوگئی۔ دوسرے روز تک دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس کریش کرگئیں۔ اب تک سرمایہ کاروں کے 5 ٹریلین ڈالرز ڈوب چکے ہیں۔ ڈوجانز انڈسٹریل ایوریج میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد کمی ریکاڈ کی گئی۔ انڈیکس میں ایک ہی دن میں مجموعی طور پر 610 پوائنٹ کی کمی دیکھنے میں آئی، جو گزشتہ پانچ سالوں میں کسی بھی ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی تھی۔ ناسڈک کمپوزٹ انڈیکس میں 4.1 فیصد کمی ہوئی اور انڈیکس 4707.98 پوائنٹس تک گرگیا۔ ٹوکیو، بیجنگ، شنگھائی، ممبئی جیسے دوردراز شہروں میں بھی اسٹاک مارکیٹس گرگئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی تبدیلیاں نئے چیلنج

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ایک حیران کن تبدیلی آئی، چونکہ بھارت نے ایک مسلمان ملک پر حملہ کیا تھا، اسلامی دنیا پاکستان کے کھڑی ہوگئی تھی۔ ہمیں عرب دنیا کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ انڈونیشیا نے پاکستان دوستی کی خوش کن مثالیں قائم کردیں۔ ترکی اور قبرص کے تنازعے میں بھارت نے قبرص کے آرچ بشپ میکاریوس کا ساتھ دیا تھا۔ ترک حکومت سیکولرازم کی سرخیل ہوتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی۔ ایران نے پاکستان کے حق میں دنیا کے ایوانوں میں آواز اُٹھائی۔ افغانستان عبدالغفار خان تنازعے کے باوجود بھارت کی کھلے عام حمایت نہ کرپایا اور مسلم دنیا کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اُن سالوں میں بھارت اسرائیل ایک دوسرے کے قریبی حلیف تھے۔ بمبئی میں اسرائیلی قونصلیٹ قائم ہوچکا تھا۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے اسلحہ اور اٹامک انرجی کے معاملات میں تعاون کررہے تھے۔ جنگ ستمبر کے دوران عرب دنیا میں بھارت کے خلاف سخت غم و غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔ چین کی افواج بھارت چین بارڈر تک آگئی تھیں۔ ہندوستان کو روس کے علاوہ کسی بھی بڑی طاقت کی کھلم کھلا حمایت حاصل نہ تھی۔ ہندوئوں نے سخت بوکھلاہٹ میں ایسی ایسی فاش جنگی غلطیاں کیں کہ اُس کو شکست فاش ہوئی۔ بھارت نے اسلحہ ٹینک، گولہ بارود اور انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان اُٹھایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بجٹ: اعدادو شمار کا گورکھ دھندا

بجٹ تقریر سنتے ہوئے ذہن میں گزشتہ سالوں کے نقشے گردش کرنا شروع ہوگئے۔ مجھے اسکول کا آخری دن یاد آگیا۔ مشفق استاذ نے ایک نصیحت کی تھی۔ زندگی میں کبھی مایوس نہ ہونا۔ انہوں نے ہر طالب علم کو سیرت النبیؐ دی۔ اُن کے آخری الفاظ تھے: ’’کبھی مایوس ہو تو اس کتاب کی ورق گردانی کرلینا، مایوسی دور ہوجائے گی۔‘‘ ایسا ہی ہوا۔ ہر بار مایوسی امید میں بدل گئی۔ زندگی امید کا دوسرا نام ہی تو ہے۔ کسان بارش کی امید پر بیج بوتا ہے۔ طالب علم علم کی پیاس بجھانے یا ڈگری کے ذریعے ملازمت کی امید پر دن رات پڑھتا ہے۔ مریض مرض سے صحت یاب ہونے کے لیے دوائیں کھاتا اور نامور طبیبوں کے کلینک میں گھنٹوں انتظار کرتا ہے۔ ماں باپ اولاد کو اُن کے بہتر مستقبل کی امید پر پروان چڑھاتے ہیں۔ میدان جنگ میں اترنے والا مجاہد بھی خدا کی قربت کی امید پر بہادری کے جوہر دکھاتا ہے۔ ہم آج کی تکلیفوں کو اس آس پر سہتے ہیں کہ کل بہتری کی امید فروزاں ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر زندگی سے اُمید کو مکمل طور پر نکال دیا جائے تو زندگی کی کشتی مایوسی کی چٹان سے ٹکراکر پاش پاش ہوجائے گی۔ امید وہ خوش الحان پرندہ ہے جو مسلسل روح میں اپنا اثر آفریں نغمہ گاتا رہتا ہے۔ انسانی زندگی میں حرکت اس کے دم سے ہے۔ انسانی کوششوں، کامیابیوں کے ہر ورق پر امید ہی شہ سرخی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

قرض کی دلدل

مشہور مزاحیہ کہانی کار ’’مارک ٹوبن‘‘ نے کہا تھا کہ جھوٹ کے تین درجے ہوتے ہیں: جھوٹ، سفید جھوٹ اور سرکاری اعدادو شمار۔ بنگلہ دیش میں گرامین بینک کے ذریعے غربت کی شرح کو کم کرنے والے ماہر معاشیات ڈاکٹر یونس نے ایک انٹرویو دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کسی بھی گھر کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے آپ اُس کے باورچی خانے کو دیکھیں۔ اُس کے ڈرائنگ روم کی نفاست سے دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ اسی طرح کسی ملک کی معیشت کے اندازے کے لیے آپ اُس کے بازاروں کا رُخ کیجیے۔ ضروریاتِ زندگی کی لازم ترین اشیاء کے نرخ چیک کریں اور عوام کی قوت خرید سے اُس ملک کی خوشحالی یا بدحالی کے بارے میں رائے قائم کیجیے۔ اُس ملک کا جی ڈی پی کیا ہے؟ اُس کی معیشت کی رگوں میں کتنا سرمایہ دوڑ رہا ہے؟ اُس ملک میں صنعتوں کا پھیلائو کتنا ہے؟ یہ سب آپ کو غلط منظر دکھائیں گے۔ آپ ان چیزوں سے جو اندازہ قائم کریں گے وہ غلطی، بلکہ فاش غلطی پر مبنی ہوگا۔ ڈاکٹر یونس کی باتیں حرف بحرف درست ہیں۔

ہماری حکومت نے 2016-17ء کے دوران آئی ایم ایف سے قرض لینے کے عوض ملک میں 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کروادی ہے۔ اس ضمن میں آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ حکومت دسمبر تک اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی نجکاری مکمل کردے گی۔ شہریوں کو ریلیف کے لیے دی جانے والی 120 ارب کی سبسڈی واپس لے لی جائے گی۔ حکومت نئے مالی سال میں 3600 ارب روپے کے ٹیکسز حاصل کرے گی۔ حکومت کی ان یقین دہانیوں کے بعد آئی ایم ایف نے جون میں 51 کروڑ ڈالرز کی قسط پاکستان کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ دبئی سے واپسی کے بعد وزیر خزانہ نے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو 10 سے 12 ارب روپے کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ ادارہ شماریاتِ پاکستان نے 12 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں رمضان المبارک کی آمد سے ایک ماہ قبل کچن کی 14 بنیادی اشیاء کے نرخوں میں حیرت انگیز اضافہ نوٹ کیا ہے۔ چاول، چینی، دالیں، دودھ، دہی مہنگے ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ بجٹ اور رمضان سے قبل کی گئی بڑے پیمانے کی ذخیرہ اندوزی بتائی گئی ہے۔ حکومتی پارٹی سے قریبی تعلق رکھنے والے بزنس مینوں نے بجٹ سے قبل ہی اپنی حساس قوتِ شامہ سے ہوا کا رُخ سونگھ لیا ہے اور چور بازاری شروع کردی ہے۔ خدشہ ہے کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ضروریاتِ زندگی کے دام مزید کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں قیامت خیزگرمی کے دنوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ بجلی کی طویل بندش سے پانی کے بحران کا مسئلہ پیدا ہوتا جارہا ہے۔ اُدھر مودی نے دریائے چناب کا رُخ موڑنے اور پاکستان کو بنجر کرنے کی سازش تیار کرلی ہے۔ دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں ڈال دیا جائے گا جو سندھ طاس معاہدے کے بعد پہلے ہی بھارت کے تصرف میں ہے۔ انڈیا جسپا ڈیم تیزی سے تعمیر کررہا ہے۔ بھارتیوں کا وار ہی ہمارے کسانوں کے لیے کافی نہ تھا۔ پنجاب حکومت نے پچھلے چند سالوں سے گندم کو غیرسرکاری طور پر بیچنے پر پابندی لگارکھی ہے۔ ایسے کسان کو جو خلاف ورزی کرے، قید اور جرمانے کی سزا ہے۔ حکومت اپنے سینٹروں پر باردانہ تقسیم کرتی ہے اور مقررہ نرخوں پر گندم خریدتی ہے۔ پچھلے سالوں کی طرح اب بھی اپریل کے اوائل میں گندم پکنے کے بعد بھی سب کسانوں کو باردانہ نہیں دیا جاسکا۔ کسان بھکاریوں کی طرح ان سینٹروں کے چکر لگارہے ہیں۔ بدنام زمانہ دلال ان کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھاکر انتہائی کم نرخوں پر ان کی خون پسینے کی کمائی ہتھیارہے ہیں۔ یہ دلال دھڑا دھڑ ساڑھے گیارہ سو روپے من گندم خرید کر محکمے کو بھاری منافع کے ساتھ بیچے جارہے ہیں۔ کسان اگر فی الفور گندم نہیں بیچتے تو بارشوں سے یہ ضائع ہوجائے گی۔ ناچار آدھے سال کی دن رات مشقت، پانی کے جان لیوا حصول، بیج اور کھاد کے مہنگے نرخوں میں خریداری اور شدید گرمی میں گندم کی کٹائی کے بعد یہ مجبور مخلوق طاقت ور آجروں کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی مٹانے پر مجبور ہوگئی ہے۔ پنجاب حکومت نے لیہ کے ہسپتال میں معدہ واش کرنے والی مشین کے نہ ہونے سے 35 افراد کو کفن سونپے تھے۔ وہ ان کسانوں کو باردانہ سونپنے کو تیار نہیں۔ اسی حکومت کی فعال پولیس کے اہلکاروں کو چھوٹو گینگ کے ڈاکوئوں نے اغوا کرلیا تھا۔ فوج نہ آتی تو دہشت گردوں کے بعد پنجاب ڈاکوئوں کے ہاتھوں یرغمال ہوجاتا۔ ان ظاہری ڈاکوئوں کے علاوہ پاکستان میں ڈھکے چھپے ڈاکوئوں کی تعداد بھی اعدادو شمار سے باہر ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اضافی غذا میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ شروع کر رکھی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق فارمی مرغیوں کو اسٹیرائیڈز کھلائے جارہے ہیں جو گوشت کھانے والوں کو کئی ناقابل علاج بیماریوں کا شکار بنارہے ہیں۔ تربوز میں ٹیکوں کے ذریعے مضر صحت سرخ رنگ کی پچکاری ماری جارہی ہے۔ ڈبوں میں بند دودھ کی تیاری کا نسخہ ہی آدمی کے ہوش اُڑانے کے لیے کافی ہے۔ سبزیوں کی کاشت میں، مرچ مصالحوں میں، ادویات میں، بچوں کی ٹافیوں چاکلیٹوں میں ملاوٹ وسیع پیمانے پر ہورہی ہے۔
(باقی صفحہ5پر)

کرپشن بے نقاب

کچھ بھنگی کہیں بیٹھے بھنگ گھوٹ رہے تھے۔ بھنگ تیاری کے آخری مراحل میں پہنچ چکی تھی۔ ایک چوہا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا اور دھڑام سے بھنگ میں جاگرا۔ یہ لوگ اس مسئلے کا حل پوچھنے ایک عالم دین کے پاس جاپہنچے۔ عالم اُن کی باتیں سن کر سخت غصے میں بولے: ’’حرام خورو! بھنگ ویسے ہی حرام ہوتی ہے، چہ جائیکہ اُس میں چوہا بھی گرا ہوا ہو۔‘‘ پانامہ لیکس کے منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں تجزیہ نگاروں کا ایک طبقہ بڑے مدلل انداز میں ان کے اندر سے ایک بڑی عالمی سازش دریافت کررہا ہے۔ ان صاحبان علم کے دلائل ہمیں وقتی طور پر قائل بھی کرلیتے ہیں۔ ہم مان بھی لیتے ہیں کہ اس جال کے پیچھے کچھ ملکوں یا کچھ لوگوں کے مفادات ہیں۔ سوال پھر بھی اُسی طرح کھڑا ہے کہ پاکستان کی حد تک کیا کرپشن نہیں ہوئی؟ ملک کا کھرب ہا روپیہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے غیرقانونی طور پر بیرون ملک نہیں گیا؟ صاحبان اقتدار کی اولاد کے پاس جو بھاری سرمایہ پہنچا اُس کا سورس کیا تھا؟ کیا اندرون ملک چند سو روپے ٹیکس دینے والے ایام میں کھربوں روپیہ ہماری سرحدوں سے پار نہیں جارہا تھا؟ کیا پانامہ لیکس کی دوسری قسط میں 259 جن پاکستانیوں کے نام آئے ہیں اُن کی دستاویزات انٹرنیٹ پر نہیں دیکھی جاسکتیں؟

مزید پڑھیے۔۔۔

شام پر قیامت کے سائے

’’مائیکل مونتین‘‘ 1533ء میں پیدا ہوا۔ اُس نے بچپن میں لاطینی زبان سیکھی۔ یونانی و رومن ادب اور فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔ اُسے شاہی خاندان کی قربت حاصل ہوئی۔ فرانسیسی بادشاہ نے اُسے دنیا کے کئی حصوں میں سفارت اور سیاحت کے لیے بھیجا۔ 38 برس کی عمر میں اُس نے ریٹائرمنٹ اختیار کرلی اور فرانس کے ایک دور افتادہ قصبے میں اپنا گھر بنالیا۔ یہ گھر ایک اونچی پہاڑی پر واقع تھا۔ یہاں اُس نے اپنے لیے ایک دارالمطالعہ بنایا۔ جہاں وہ اپنے شب و روز گزارتا تھا۔ اُسے دوبار قصبے کا میئر بنایا گیا۔ اُس نے بادل نخواستہ یہ ذمہ داری نباہی۔ نئے فرانسیسی بادشاہ نے اُسے دربار میں ایک اعلیٰ پوسٹ دی تو اُس نے خرابی صحت کا بہانہ بنایا اور گوشہ نشین ہوگیا۔ سولہویں صدی کی آخری دہائیوں میں فرانس کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے لیے ایک میدان جنگ بن گیا۔ بہت بڑے پیمانے پر کشت و خون ہوا۔ مونتین طبعاً نہایت حساس اور رحم دل واقع ہوا تھا، اُس پر انسانی سربریت اور بے رحمی کا بہت اَثر ہوا۔ اُس کے بے مثال ذہن نے انسانی گراوٹ پر بہت غور و غوض کیا۔ 1580ء میں اُس نے اپنے شہرئہ آفاق ایسے Essays لکھنا شروع کیے اگلے دو سالوں میں اس نادر کتاب کے دو حصے شائع ہوئے۔ 1585ء میں اس کا تیسرا حصہ شائع ہوا۔ 1592 ء تک مونتین برابر ان مضامین کی کانٹ چھانٹ کرتا رہا۔ اُس نے اپنے مطالعے، غور و فکر اور وجدانی بصیرت سے اُن کو شاہکار بنادیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی کے اشارے

’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ کھرب پتی امریکی بزنس مین ہے۔ اس کے خاندان کے کئی بڑی امریکی ریاستوں میں ہوٹلز ہیں۔ ٹرمپ نے سیاست میں آنے کے بعد مشہور امریکی اخبارات، رسائل اور چینل خریدلیے۔ 16 مئی کے انتخابات کے لیے اُسے بھرپور تشہیر ملی۔ اُس نے پیسے کے دریا بہائے اور سرمائے کے ریلے سے ہر رکاوٹ کو توڑتا چلا گیا۔ اگر آپ امریکی اخبارات فاکس نیوز اور سی این ین ملاحظہ کریں تو آپ کو ٹرمپ کی دولت کی پرچھائیاں ہر جگہ نظر آئیں گی۔ پچھلے منگل کو اُس نے 5 میں سے 5 ریاستوں میں ہونے والی پرائمرئیاں جیت لیں۔ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ تیزی سے دوسرے امیدواران کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ ہیلری کلنٹن چونکہ اوبامہ حکومت کے پہلے چار سالوں میں سیکریٹری آف اسٹیٹ رہی ہے، اُس سے اوبامہ حکومت کی ناکامیاں سنبھالے نہیں سنبھل رہیں۔ اُس کے کیریئر کے نازک ترین لمحات وہ تھے جب اُس نے لیبیا میں یورش کے دوران غلط فیصلہ کیا جس کے ردّعمل کے طور پر امریکی سفارت خانہ اور سفارت کار آگ کے شعلوں میں بھسم ہوگئے تھے۔ ہیلری نے اس واقعے کے عواقب سے بچنے کی بہت کوشش کی، مگر اُس کی ایک نہایت متنازعہ ای میل منظر عام پر آگئی۔ مخالفین اُسے کرائسس میں ہاتھ پائوں چھوڑ بیٹھنے کی بناء پر امریکی صدارت کے لیے سخت نااہل قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پانامہ لیکس کے بعد

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ان دنوں اپنے اقتدار کی چوٹی سے پھیلے جارہا ہے۔ حالات کی باگ اُس کے ہاتھ سے نکلے جارہی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے ایک نہایت شاطر اور چرب زبان انسان ہے۔ انہی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اُس نے چند برسوں میں کئی مشکل سنگِ میل عبور کیے۔ وہ ملک کی سب سے بڑی انتظامی نشست پر براجمان ہوگیا۔ پانامہ اسکینڈل سے قبل وہ اپوزیشن کے ہاتھ سے مچھلی کی طرح پھسل جاتا تھا۔ اقتدار کے ایوانوں میں اُسے سب پر مکمل برتری حاصل تھی۔ اس کی رکاوٹ اور معاملہ فہمی پر مخالفین بھی اُس کے دل سے قائل تھے۔ پچھلے دنوں برطانوی چینل اسکائی نیوز نے ہائوس آف کامنز کی ساری کارروائی دکھائی۔ دو دن مسلسل اُس پر ہر طرف سے حملے ہوتے رہے۔ مذمت کے تیر اُس پر بڑھتے رہے۔ اُسے مہذب زبان میں جو گالیاں دی جاسکتی تھیں، وہ دی گئیں۔ اُن کے جواب میں اُس کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں تھا۔ لفظ زخمی پرندوں کی طرح اُس کے ہونٹوں پر پھڑپھڑا رہے تھے۔ اُس کے جوابات بے معنی اور بے روح تھے۔ صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اُس کے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اُس کی بے بسی دیدنی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دُشمن سن لے

23؍ مارچ کے دن پاکستانی افواج نے اسلام آباد میں روح پرور نظارے پیش کیے۔ ہماری بری، بحری اور فضائی افواج کے کمالات قوم کے لیے نہایت تسکین بخش تھے۔ ہر پاکستانی دل سے قائل ہوا کہ ہماری سرحدیں چٹانوں کی طرح مضبوط ہوگئی ہیں۔ بدقسمتی سے 23؍ مارچ کے بعد کا ہفتہ ملکی تاریخ میں نہایت المناک ثابت ہوا۔ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں چھٹی کے دن معصوم بچوں کا ہجوم تھا۔ وہ جھولے جھولنے کے لیے بے تاب تھے اور اپنی باری کے انتظار میں نہایت بے چین تھے۔ اُن کی مائیں اُن کے ہمراہ تھیں۔ اچانک ایک ہولناک دھماکے نے اس خوش نظارے کو وحشت ناک خواب میں بدل دیا۔ کالے سیاہ دھویں کے بادل آسمان پر بلند ہوئے۔ 80 کے قریب بچے اور عورتیں اس دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کی کوریج کرتے ہوئے میڈیا اور اخبارات میں ایسی سوز خبریں آئیں کہ اُن کے بیان کرنے کی ہمت قلم میں نہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سیر کے لیے آئے ہوئے ایک قاری صاحب کی ڈاڑھی دیکھ کر انہیں دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ اُن کا شناختی کارڈ ہر ٹی وی چینل اور اخبار نے دکھایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یورپ میں امن… مگر کیسے؟

بلجیم کو یورپ کی کاک پٹ کہا جاتا ہے۔ اس سرزمین پر ان گنت جنگیں لڑی گئیں۔ بیسویں صدی سے قبل یہاں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے لشکروں کے درمیان بدھ ہوا کرتا تھا۔ لاکھوں عیسائی ان جنگوں میں مارے گئے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اس کے میدانوں میں جدید جنگی اسلحے سے لڑائیاں ہوئیں۔ بیسویں صدی کا سب سے مشہور برطانوی جنگی شاعر ولفریڈا وین یہیں مارا گیا تھا۔ مرنے سے پہلے اُس نے اپنی شہرئہ آفاق نظم ’’حیرت انگیز ملاقات‘‘ یہیں لکھی تھی۔ وہ کہتا ہے یورپ کا سارا بہترین بیج اسی زمین میں تلف ہوگیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بلجیم سوویت یونین کے بلاک میں چلاگیا۔ کمیونسٹ گوریلوں نے ملک کو دوبارہ ایک میدان جنگ میں تبدیل کردیا۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں یہاں سی آئی اے اور کے جی بی کے درمیان سخت رسہ کشی ہوئی۔ بلجیم کی سرزمین پولینڈ اور مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ مخالفین کے لیے استعمال ہوئی۔ یہاں سوویت یونین نے اپنے اسلحہ کے ڈپو بنائے، جاسوسوں کو تیار کرنے والی اکیڈمیاں بنائیں، جنگی ٹریننگ کے کیمپ لگائے گئے۔ 1976ء میں برطانیہ نے آئرلینڈ میں آئرش ری پبلکن آرمی کے کئی کمانڈر گرفتار کیے جنہوں نے اعتراف کیا کہ روسیوں نے انہیں بلجیم میں ہتھیار، ٹریننگ اور جنگی حکمت عملی کے اسرار و رموز سکھائے تھے۔ اسی دوران آرمینیا جو صدیوں سے ترکوں کے خلاف شدید نفرت کے جذبات رکھتا ہے، اُس کے ایجنٹوں نے بلجیم میں ترکی سفارت خانے، بینکوں اور ایرلائن کے دفتروں پر حملے کیے۔ متعدد ترک باشندے شہید ہوئے۔ بم دھماکوں سے بلجیم متعدد بار لرزا ہے۔ 27 جولائی 1980ء کو اینٹریپ نامی شہر کے درودیوار دھماکوں سے تھرتھرا اُٹھے۔ یہاں واقع ایک یہودی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔ 13 جولائی1983ء کو ترک اتاشی کو اُن کی کار پر فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔