• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کون بنے گا صدر؟

امریکا نے اٹھارویں صدی کے آخر میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ نئے ملک کے بہترین دماغ اکھٹے ہوئے اور ایک آئین بنایا۔ 1801ء میں تھامس جیفرسن امریکی صدر بنا تو آئین میں پہلی ترمیم کی گئی۔ مذہب اور سیاست کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی گئی۔ اس ترمیم کی رو سے چرچ پر یہ پابندی لگائی گئی کہ وہ امریکی سیاست میں اپنا کوئی رول نہیں رکھے گا۔ کسی بھی چرچ سے وابستہ شخص کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل نہ ہوگا۔ نہ ہی پادری لوگ کسی بھی امیدوار کی کھلے عام حمایت کا اعلان کرسکیں گے۔ اس کی سیاسی مہم کے لیے کوئی بشپ یا ڈیکن چندہ اکھٹا نہ کرسکیں گے۔ کوئی بھی ایسا اشتہاری مواد جس میں الیکشن کے سلسلے میں مدد مل سکتی ہو کسی بھی پادری کے قبضے سے ملنے پر اُس کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوگی۔ کوئی مذہبی شخصیت نہ کسی کے لیے ووٹ مانگے گی نہ امیدوار کے حق میں تقریر کرے گی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

چار ستون

ہیرلڈ پنٹر ایک انگریز ڈرامہ نگار ہے۔ اُسے ادب کا نوبل پرائز دیا گیا تھا۔ کیئر ٹیکر اور برتھ ڈے پارٹی اُس کے مشہور ڈرامے ہیں۔ ان کی خاص بات پیچیدہ کردار نگاری ہے۔ ایک کردار جو بات کہتا ہے دوسرا اُسے بالکل سمجھ نہیں پاتا۔ کمیونی کیشن کی ایک خلیج ہے جو انسانوں کے درمیان دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے سخت بدگمانی رکھتے ہیں۔ شک شبہ ان کی ساری شخصیت پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اعتماد نام کی کسی شے سے وہ واقف نہیں۔ کیئر ٹیکر میں کرائے دار مکان کا مالک بن بیٹھنے کے نزدیک ہوتا ہے۔ اصل مالکان اُسے بے دخل کردیتے ہیں۔ وہ واویلا مچاتا ہے کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہ رکھتا تھا۔ اُس کو غلط سمجھا گیا، اُس کی بے دخلی کے بعد مک اور ڈیوس نامی بھائی ایک دوسرے کے بارے میں بدگمان ہوجاتے ہیں۔ وہ گھر میں رہتے ہوئے اجنبی بن جاتے ہیں۔ دونوں کے درمیان بول چال ختم ہوجاتی ہے۔ مکان اجڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ دیواروں پر کائی جم جاتی ہے۔ پلستر اُکھڑ کر ویرانی کا نقشہ جمانے لگتا ہے۔ بستی کے چوہوں کے لیے اس کے دیواردر شاندار پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر شے کتر کر گھر کو کچرے کا ڈھیر بنادیتے ہیں۔ نشہ باز پائیں باغ میں ٹھکانہ بنالیتے ہیں۔ وہاں مچانیں لگائے طرح طرح کے نشے کرتے ہیں۔ مکان کا کوئی کیئر ٹیکر نہیں بچتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سرجیکل اسٹرائیک کی حقیقت

86 کروڑ 36 لاکھ انتہائی غریب ترین لوگوں کے ملک بھارت نے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پاکستان کے اندر تین کلومیٹر آگے آکر بھارتی فوج نے ایک بڑا حملہ کیا۔ جیسے ہی انڈین آرمی چیف کا یہ دعویٰ ٹیلی ویژن اسکرینوں سے نشر ہوا، جنونی ہندوئوں پر ہیجانی کیفیت طاری ہوگئی۔ ایک نیوز چینل پر کام کرنے والے صحافی دوست کے ذمے بین الاقوامی میڈیا کوریج کی ذمہ داری ہے۔ ہم لوگ ہندوستانی نیوز چینلوں پر چلنے والی سفید جھوٹ پر مبنی کہانیاں سننے وہاں گئے۔ زعفرانی رنگ کے چوغوں، لمبے کھلے بالوں والے آر ایس ایس کے کارکن سڑکوں پر ناچ رہے تھے۔ نیوز اینکروں اور مہمانوں کا انداز گل افشانیِ گفتار مقام عبرت تھا۔ لوگ دیوانہ وار ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے جیسے انہوں نے ایک بہت بڑی جنگ فتح حاصل کرلی ہو۔ بھارتی وزیراعظم کے اجلاس میں بیٹھے سرکردہ لیڈروں کے سپاٹ چہرے کچھ اور کہانی سنارہے تھے۔ اگر یہ کوئی فتح ہوتی تو اُن کے چہروں سے بھی عیاں ہوتی۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ویب سائٹ بتارہی تھی کہ جمعرات کو بھارتی اسٹاک مارکیٹ پچھلے 3 ماہ میں سب سے نیچے آگئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھارت کا پاگل پن

جمعہ 23؍ ستمبر کی سہ پہر تک لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی نقل و حرکت میں حیرت انگیز تیزی آگئی۔ جنگی ہتھیار اور بھاری توپ خانہ نصب کیا جانے لگا۔ بھارتی سپاہ کے لیے اسلحے اور ایمونیشن سے بھرے ٹرک اگلے مورچوں پر بیچنا شروع ہوگئے۔ مودی کو جنگی حکمتِ عملی سے متعلق فوجی قیادت پر بریفنگ دی۔ بھارتی خفیہ بیورو سے آنے والی اطلاعات جنگی جنون کے بخار میں مبتلا مودی سرکار کی ساری علامات کو ظاہر کیا۔ بوفرز اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو مقبوضہ کشمیر بارڈر تک پہنچانے لگا۔ آزاد کشمیر میں پاک فوج کی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی پلاننگ افواہوں کی طرح گردش کرنے لگیں۔ بھارتی فوج نے دہلی میں آپریشنل وار روم کو فعال کردیا۔ جنگ کی صورت میں وار اسٹرٹیجی یہاں سے کنٹرول کی جائے گی۔ پرائم منسٹر دو دو گھنٹے وار روم میں بند ہوکر جنگی حکمتِ عملی بنائے جانے لگی۔ پاکستانی دریائوں میں آنے والے پانی کے منبع کو مقبوضہ کشمیر سے بند کرنے کے لیے پلان بنائے جانے لگے۔ واٹر وار کے لیے بھارتی بحریہ کو الرٹ ہوجانے کے احکامات دہلی سے جاری کردیے گئے۔ بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہذیانی کیفیت کا شکار ہوگیا۔ ہندو لیڈر ہمارے وزیراعظم کے سر کی قیمت ایک ڈیڑھ کروڑ روپیہ لگادیے۔ ایسا پاگل پن دنیا میں اور کہاں ملے گا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

بدی کی مثلث

’’جارج آرویل‘‘ مشہور برطانوی ناول نگار تھا۔ اُس کے دو ناولوں کو عالمگیر شہرت ملی۔ پہلا ناول ’’اینیمل فارم‘‘ روسی کمیونزم کا پوسٹ مارٹم ہے۔ اس میں فارم کے سارے جانور مالک کے رویے سے تنگ آکر بغاوت کردیتے ہیں۔ مالک جان بچاکر فارم سے بھاگ جاتا ہے۔ نپولین اور سونابل (یعنی لینن اور اسٹالن) نامی دو سوّر بادشاہ بن جاتے ہیں۔ وہ جانوروں پر ایسا ظلم و ستم ڈھاتے ہیں کہ یہ بے زبان مخلوق اپنے پرانے مالک کو یاد کرنا شروع کردیتی ہے۔ آخر میں مالک بزور واپس آجاتا ہے اور یوں اشتراکیت ختم ہوجاتی ہے۔ آرویل کا یہ ناول دنیا کی 52 زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اس پر متعد دفلمیں بھی بنیں۔ آج کل آرویل کے ایک دوسرے ناول ’’Nineteen Eighty-Four‘‘ (1984) کا بہت غلغلہ ہے۔ اس کی کہانی امریکیوں کے غیرانسانی رویے اور پالیسیاں ہیں۔ امریکی حکومت نے اس ناول کو ناپسند کیا تھا۔ اس کے باوجود اسے عالمگیر شہرت ملی۔ آج کل یہ ناول کئی پاکستانی یونیورسٹیوں میں انگریزی ادب کے طالب علموں کو پڑھایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آئیے! عید کے دن عہد کریں

اشتیاق احمد مرحوم (اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے) ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ عید قربان پر ان کے والد نے ایک پیالہ پکایا ہوا گوشت اُن کے ہاتھ میں دیا اور کسی غریب ہمسائے کے گھر بھیجا۔ اشتیاق صاحب نوعمر تھے۔ سخت حیران ہوئے کہ آج کے دن ہر طرف گوشت کی فراوانی ہے۔ ہر کوئی گوشت کھارہا ہے، پھر مجھے یہ سالن دے کر کیوں بھیجا گیا ہے۔ ہمسائے کے بیوی بچے نہیں تھے۔ وہ عید کے دن بیٹھا دال پکارہا تھا۔ اس کے گھر نہ کسی نے گوشت بھیجا تھا، نہ اُس کی کسی نے خبر لی تھی۔ لوگ حصے بخرے کرنے، کباب تکے بنانے، دعوتیں اُڑانے اور قہقہے لگانے میں مشغول تھے۔ اشتیاق صاحب گھر سے مزید گوشت لاکر اُس غریب ہمسائے کو دے گئے۔ وہ کہتے تھے بچپن کی یہ یاد 60 سال بعد تک ہر دم اُن کے ساتھ رہی۔ وہ خوشی کے تہوارو ںپر ایسے لوگوں کو خوشیوں میں شریک کرنا نہیں بھولے جنہیں سب بھلاچکے تھے۔ ہر عیدقربان پر وہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کی جستجو میں رہتے تھے جو لوگ گوشت پکاسکتے، انہیں کچا گوشت اور جو ایسی تاب و تواں نہ رکھتے، انہیں گوشت کے سالن سے بھرے پیالے دیے جاتے تھے۔ اشتیاق صاحب اس واقعے کے اختتام میں کہتے تھے۔ بچپن سے بڑھاپے تک ہزاروں لاکھوں واقعات کا نقش تک ذہن سے مٹ چکا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم متحد ہیں

چند سال قبل پاکستان کے ایک حکمران نے ایک پریس کانفرنس کی۔ ایک اخباری نمایندے نے سوال کیا: ’’آپ نے فلاں اہم قومی معاملے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔ چھ ماہ گزر گئے، اُس کی کوئی فائنڈنگ منظرعام پر نہیں آئی؟‘‘ حکمران نے فوراً ریڈی میڈ جواب دیا: ’’اُس کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے ایک کمیٹی بنادی ہے جس کا سربراہ سابقہ کمیٹی کا فلاں ممبر ہے، وہ جلد بتائے گا کہ صورت حال کیا ہے؟‘‘ یہی معاملہ پاکستان کے ہر سنگین قومی چیلنج کے ساتھ ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد ہم نے ایک 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا۔ اُس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی تھی۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ملی نغموں کی دھنوں کے ساتھ ہمارے لیڈروں کی تصاویر دکھائی گئی تھیں جنہوں نے وقت کی اس اہم ضرورت سے احسن طریقے سے نمٹا تھا۔ پھر جب بھی کبھی دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوا تو اچانک اس نیشنل ایکشن پلان کے تن مردہ میں یک دم جان پڑتے دیکھی۔ سوموار 8؍ اگست کے المناک سانحے کے بعد جس نے کوئٹہ اور باقی ملک کو لرزا کے رکھ دیا، ہم نے دوبارہ ایکشن پلان کا غلغلہ سنا۔ 11؍ اگست کو وزیراعظم کی سربراہ میں ایک اجلاس ہوا جس میں اس کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔ نوٹ کیا گیا کہ اس کے 8 نکات پر عملدرآمد نہایت سست روی کا شکار ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دم توڑتی سازشیں

1857ء کی جنگ آزادی کو انگریزوں نے میونٹی (بغاوت) قرار دیا تھا۔ ایک فرنگی ایل وی فریزر کی کتاب ’’The Sepoy Mutiny‘‘ بہت مشہور ہوئی۔ اُس نے یہ جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ 11؍ مئی 1857ء کو اُس نے انبالہ سے تمام چھائونیوں کو ایک تار بھیجا جس میں مسلمان سپاہ کی فتوحات اور انگریزوں کی شکست کی روئیداد تھی۔ فریزر کہتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس آرٹلری (توپ خانہ) ہوتا تو وہ ایک ماہ کے اندر اندر ہندوستان سے سارے انگریزوں کا صفایا کردیتے۔ 90 برس بعد 1947ء میں 40 ہزار مسلمان انگریز فوج کا حصہ تھے۔ ہندوئوں، سکھوں، گورکھوں اور مرہٹو ںکی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار سے زیادہ تھی۔ اس تفاوت کے باوجود مسلمان فوجیوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انگریزوں کو ایسی فتوحات بخشیں جو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ پوٹھوہار کے علاقے میں آنے والے وکٹوریہ کراس اعزازات کی تعداد سارے ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔ 1947ء کے فسادات میں مسلمان فوجیوں نے جس بے جگری سے فسادیوں کا مقابلہ کیا اُس نے مورخین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ایسے ہی دو بھائی بریگیڈیئر عطا محمد اور میجر محمد شریف تھے۔ ان کا تعلق ہوشیار پور کے گائوں ککرالی سے تھا۔ سکھوں کے لشکروں نے بھاری اسلحہ کے ساتھ مسلمانوں کے گائوں پر حملہ کردیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

شاد باد پاکستان

’’ریوڈی جنیریو‘‘ برازیل کا ایک بڑا ساحلی شہر ہے۔ ان دنوں یہاں عالمی اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہورہا ہے۔ سارے لاطینی امریکا میں ان دنوں خوب غلغلہ ہے۔ دنیا بھر سے کھیلوں کے شائقین اس شہر میں جمع ہورہے ہیں۔ سالوں سے یہاں انتظامات کیے جارہے ہیں۔ بڑے بڑے اسٹیڈیم بنائے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے ہوٹل سجائے گئے ہیں۔ پولیس اور فوج کے لاکھوں جوان امن عامہ کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہاں جیب تراشوں، چوروں، ڈاکوئوں کے گروہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ موقع ملتے ہی لوگو ںکو لوٹ لیتے اور جان سے مار دیتے ہیں۔ برازیل کی ساری حکومتی مشنری دارالحکومت برازیلیا سے عارضی طور پر یہاں منتقل ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود وہ حالات پر کنٹرول نہیں پاسکی۔ پڑوسی لاطینی ملکوں یعنی میکسیکو، چلی، یوراگوئے، پیراگوئے، کولمبیا، ہنڈوراس، پیرو، ارجنٹائن وغیرہ سے منظم لٹیروں کے گروہوں نے ریوڈی جنیریو پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے۔ اس شہر میں جرائم کا ریٹ پہلے کی نسبت 10 گنا بڑھ گیا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

خدا کا خوف کریں

نوجوانی میں مجھے مذاہب کے تقابلی جائزے کا بہت شوق تھا۔ میں نے تقریباً دنیا کے ہر مذہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اُن کے راہبروں کی زندگیو ںکو کھنگالا۔ میں نے انجیل، تورات، زبور کو پڑھا۔ ہندوئوں کی گیتا، پارسیوں کی ژند اوستا کا مطالعہ کیا۔ میں نے چین مت کے مہادیر، پارسیوں کے زرتشت، بدھ مت کے مہاتما بدھ کی زندگی اور تعلیمات کو بغور دیکھا۔ کلام پاک کے ترجموں اور تفسیروں کا مطالعہ کیا۔ کلام پاک اور دوسری مذہبی کتابوں میں بے شمار باتو ںپر اختلاف تھا۔ ایک چیز کو میں نے نوٹ کیا کہ دنیا کی کسی بھی مذہبی کتاب میں بچوں اور خصوصاً یتیم بچوں سے حسن سلوک پر اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا کلام پاک میں دیا گیا ہے۔ بلاخوفِ تردید کہتا ہوں کہ دنیا کے ساری مذہبی کتابوں میں اس موضوع پر جو کچھ کہا گیا ہے، وہ مجموعی طور پر کلامِ پاک کا عشرِ عشیر بھی نہیں، چونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پیدائشی یتیم تھے اور اُن سے قریبی سہارے بھی عمر کے ابتدائی حصے میں چھن گئے تھے، اس لیے خدا تعالیٰ نے بار بار بچوں سے حسن سلوک کو کلام پاک کا ایک مرکزی موضوع بنائے رکھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی، اُن کی تعلیمات اور اُن کی سیرت میں بچوں سے حسنِ سلوک ایک ایسا موضوع رہا جسے کبھی بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا گیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کیسے ملی؟ ترکی سے سیکھیے

مصطفی کمال نے خلافت کو ختم کیا اور ترکی کو ایک یورپی ملک کے سانچے میں ڈھالنا شروع کردیا۔ اُس نے داڑھی اور پردے پر پابندی لگائی اور نصاب تعلیم سے اسلام کو خارج کردیا۔ اُس کی وفات تک ترکی نام کی حد تک ایک اسلامی ملک تھا، اصل میں ساری قوم کی کایا کلپ ہوچکی تھی۔ مصطفی کمال دنیا سے رخصت ہوا تو ترکی میں اسلام پسندوں نے ترکی میں مذہبی اقدار کے لیے ایک خاموش جنگ لڑنا شروع کردی۔ اُس وقت کی ترک فوج لادینیت میں مغربی یورپ کی قوموں سے بھی آگے نکل چکی تھی۔ یورپ میں فوجیوں کی کیتھولک یا پروٹسٹنٹ ہونے پر کوئی قدغن نہیں تھی۔ ترکی میں کسی فوجی کا مسجد جانا، نماز پڑھنا، روزے رکھنا یا قرآن کی تلاوت کرنا ایک ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ سیاست دان بھی اس رنگ میں رنگے گئے تھے۔ ترکی کے ایک ہر دل عزیز وزیراعظم عدنان میندرس اپنے دورِ حکومت میں چند ایسے اقدامات اُٹھائے جو فوج کو ناگوار گزرے۔ مئی 1960ء میں عدنان میندرس اور حکمران ڈیموکریٹ پارٹی کی سرکردہ قیادت کے خلاف پہلی فوجی بغاوت ہوئی۔ پارٹی پر پابندی لگی اور لیڈروں کو جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ ترکی کی عدلیہ جو عرصۂ دراز سے فوجیوں کی رکھیل بن چکی تھی، اُس نے فوج کے ایما پر عدنان میندرس، اُس کے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کو پھانسیوں کی سزائیں سنائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔