• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اتفاق و اتحاد ناگزیر ہوچکا

قدیم یونان اور روم کے اساطیری قصے (Mythologies) بہت مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک خون آشام بلا کا ذکر بار بار آتا ہے۔ اسے ’’ہاسیڈرا‘‘ (Hydra) کہا جاتا تھا۔ اس کو دیکھنے والے کا پِتّہ پانی ہوجاتا تھا۔ اس کے جسم پر نو چہرے تھے۔ ہر چہرا دوسرے سے زیادہ خوفناک تھا۔ آنکھوں سے ہمہ وقت خون ٹپکتا تھا۔ دانت انسانی ہڈیاں مسلسل چبائے جارہے ہوتے تھے۔ چہروں سے قہر و غضب کی بجلیاں برستی تھیں۔ کئی بہادر اس بلا کو مارنے آئے، مگر ناکام رہے۔ کچھ خوف سے ہی مارے گئے۔ کچھ نے ایک آدھ سر کاٹا تو فوراً اس کی جگہ نیا سر اُگ آیا اور بلا غصے میں غضبناک ہوکر شکار پر ٹوٹ پڑی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہائیڈرا انسانی بستیوں میں خوف و دہشت کا ہولناک استعارہ بن گئی۔ اس کی انسانی خون کے لیے پیاس میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے منہ کا نوالا بننے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ آخرکار یونان کے بہادر ترین جرنیل ہرکولیس نے اسے ختم کرنے کی ٹھانی۔ وہ اس وقت تک اپنے ملک کو کئی آفات سے بچاچکا تھا۔ اُس نے اپنے ہمراہ اپنے ایک ساتھی آئیسولیس کو لیا اور ہائیڈرا کے مسکن کے پاس جاپہنچا۔ ہرکولیس کے پاس ایک نہایت لمبی اور بھاری تلوار تھی۔ آئیسولیس کے پاس مٹی کے تیل کے کنستر تھے۔ ہرکولیس نے آئیسولیس کو ٹریننگ دی کہ جیسے ہی تلوار کے وار سے چڑیل کا سر کٹے تو وہ فی الفور مٹی کا تیل چھڑک کر اُس جگہ آگ لگادے تاکہ دوبارہ سر نہ اُگ سکے۔ اگلے سر کے کٹنے پر بھی وہ یہی عمل دوہراتا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عوام اور حکمران

انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینن نے یکم فروری 2017ء کو ایک سروے شائع کیا ہے۔ نواز شریف کو 63 فیصد، عمران خان کو 39 فیصد اور بلاول کو 32 فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے۔ ناپسندیدگی میں الطاف حسین کو 85 فیصد، آصف زردار کو 80 فیصد، طاہر القادری کو 79 فیصد نے رد کیا۔ صوبائی حکومتوں کی پسندیدگی کی شرح میں 79 فیصد، پنجاب نے 73 فیصد، کے پی کے نے 54 فیصد، سندھ نے اور 48 فیصد نے بلوچستان حکومت کو سراہا ہے۔ 59 فیصد پاکستانیوں کو پانامہ لیکس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ 26 فیصد اس کی مکمل تحقیقات چاہتے ہیں۔ 38 فیصد کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ 66 فیصد عوام نے مرکز میں نواز شریف کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جدیدے بلو برگ نے نوید سنائی ہے کہ پاکستان میں غربت آدھی رہ گئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جی ڈی پی 4 سے5 کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زرمبادلہ بھی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فج نے پاکستان کی ریٹنگ بی کردی اور ترقی کی شرح کو 5.3 فیصد کہا ہے۔ زراعت میں بہتری ہوئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر فچ نے کہا ہے کہ حکومت غیرضروری قرضوں، اخراجات اور مالیاتی خسارے میں کمی لارہی ہے۔ اوپر دیے گئے تینوں سروے ہمارے حکومت کے لیے خوشی کا پیغام لائے ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ سب سے زیادہ خوش ہیں۔ ان کی محنت رنگ لے ہی آئی۔ ایک ایک دن میں تین تین سروے آنا شروع ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا کدھر جارہی ہے؟

’’چینوا ایچ بی‘‘ کا تعلق نائیجیریا سے تھا۔ وہ بیسیویں صدی کا سب سے بڑا افریقی قلم کار تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 16 نومبر 1930ء کو پیدا ہوا اور 21 مارچ 2013ء کو فوت ہوگیا۔ اس کی تحریروں کو عالمگیر شہرت ملی۔ اسے بے شمار ایوارڈز یے گئے۔ بیشتر افریقی ملکوں میں اُسے ایک ہیرو کا درجہ ملا۔ اس کے ناولوں اور کہانیوں پر فلمیں اور ڈاکیومنٹریاں بنائی گئیں۔ اس نے سفید فام یورپیوں اور امریکیوں کے صدیوں کے مظالم کی تصویر کشی کی تھی۔ کس طرح کالوں کو غلام بنایا گیا؟ کس طرح بحری جہازوں پر لاد کر انہیں چاکری کے لیے جانوروں کی طرح ڈھویا گیا؟ کس طرح انہیں نسل درنسل اذیتوں کی چکیوں میں پیسا گیا؟ ایچ بی کہتا ہے کہ اس کے دادا کا مذہب اسلام تھا۔ عیسائی پادریوں نے قحط زدہ علاقوں میں چندہ نوابوں کے بدلے مسلمانوں کو عیسائی بنانا شروع کردیا۔ پہلے سفید فام وحشی انہیں دانے دانے کا محتاج بناتے اور پھر پادریوں کے ذریعے ان کی مذہبی نسل بند کرتے تھے۔ بیشتر افریقی ملکوں میں فرانسیسی، اٹالین اور برطانویوں نے حکومتیں بنائیں۔ انہوں نے سونے اور ہیروں کی کانوں کو اپنے قبضے میں کرلیا۔ ہاتھی دانت کے لیے لاکھوں ہاتھیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ کیسے لوگ؟

مغربی دنیا میں صدیوں سے یوٹوپیا (Utopia) کا تصور گردش کررہا ہے۔ یہ ایک خیالی اور مثالی دنیا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی انسان جب دنیا کے عذابوں سے تنگ آیا تو فلاسفروں نے ایک تصوراتی دنیا تخلیق کی۔ افلاطون، ارسطو، تھامس مور، روسو، فرانسس، بیکن نے کتابیں لکھیں۔ افلاطون اپنی ’’ری پبلک‘‘ میں تربیت یافتہ فلسفیوں کی حکومت قائم کرتا نظر آتا ہے۔ انصاف کی ضرورت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سات سال کی عمر کے تمام بچوں کو والدین اور رشتہ داروں سے جدا کردیا گیا۔ سرکاری اداروں میں ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت ہوئی۔ یہ ساری تگ و دو اس لیے تھی کہ وہ بلاتفریق یکساں انصاف دینے کے قابل ہوجائیں۔ افلاطون سسلی کے بادشاہ ڈائیوینس کا مشیر بنا اور بالآخر بادشاہ افلاطون کے فلسفے سے بہت تنگ آگیا۔ وہ اس کے قتل کے درپے ہوا۔ ہمارا فلاسفر بڑی مشکل سے اپنی جان بچاکر دوڑا۔ ارسطو بہت کائیاں تھا۔ سائنس اور فلسفے کا بھی دم بھرتا رہا اور سکندر اعظم کی چاکری میں بھی پیش پیش رہا۔ وہ بادشاہوں سے ہمیشہ بناکر رکھتا تھا اور ان کے موڈ کے مطابق فلسفے کا رخ موڑلیا کرتا تھا۔ روسو نے سوشل کنٹریکٹ جیسی شہرئہ آفاق کتاب لکھی اور انسانی یوٹوپیا کو حقیقت کے قریب لے آیا، مگر جب سفاک بادشاہ نے اسے کارسیکا کے جزیرے پر بلاکر وہاں کے لیے ایک آئیڈیل حکومت بنانے کے لیے کہا تو اس نے اپنے فلسفیانہ خیالات کے بالکل برعکس بادشاہت قائم کرنے کی تجویز پیش کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم اسلام

ڈونلڈ ٹرمپ نے 45 ویں امریکی صدر کا حلف اٹھالیا ہے۔ 20 جنوری کی صبح وائٹ ہائوس میں باراک اوبامہ صد کی حیثیت سے نیند سے بیدار ہوا۔ اسی رات ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہائوس کا مالک بن چکا تھا۔ 20 جنوری کو دن بارہ بجے تک اوبامہ وہاٹ ہائوس کا اونر تھا۔ ٹرمپ وہاں جا بھی نہیں سکتا تھا۔ دن ساڑھے دس بجے دو بڑے بڑے ٹرک وائٹ ہائوس آئے اور اوبامہ کا سارا سامان ایک سو ملازمین نے منٹوں میں ایک ٹرک میں لاد دیا، جبکہ دوسرے ٹرک میں سے ٹرمپ کا سامان فوراً گھر کے اندر منتقل کرکے اسے فی الفور سجادیا گیا۔ ٹرمپ نے صدارت کے حلف کے بعد تقریر کی، پھر پریڈ کا معاینہ کیا اور Inagural Ball نامی ہلکے ناچ گانے والی ایک تقریب میں شریک ہوا۔ شام کو وائٹ ہائوس کے باورچی نے اپنی پسند کا ایک ہلکا پھلکا کھانا تیار کر رکھا تھا۔ ہر نئے صدر کے آنے کے دن پہلی رات کا کھانا وائٹ ہائوس کے باورچی کی مرضی کا ہوتا ہے۔ اٹھارویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں امریکی صدر چننے کے لیے ایک نظام وضع کیا گیا۔ آج تک وہ اسی طرح جاری و ساری ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترقی کے زینے

شعبۂ صحت ہمارے ملک کا طرئہ امتیاز کبھی نہیں رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا زوال اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ملک میں 12 سال کے تقریباً 6 کروڑ بچوں کے لیے ہمارے سرکاری اسپتالوں میں80 سرجن دستیاب ہیں۔ یوں ہر 7 لاکھ 50 ہزار بچوں کے لیے ایک سرجن مہیا ہے۔ کشمیر گلگت، بلتستان اور راولپنڈی میں بچوں کا کوئی بھی سرجن موجود نہیں۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز اسلام آباد میں صرف 4 سرجن ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتالوں جیسے پولی کلینک اور سی ڈی اے میں بچوں کا کوئی بھی سرجن دستیاب نہیں۔ پنجاب میں 40 سرجن ہیں۔ صرف لاہور کے میو اور چلڈرن ہسپتال اور ملتان کے نشتر ہسپتال میں سرجری کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر، بے نظیر جنرل اور ہولی فیملی جن کا شمار شمالی پنجاب کے برے ہسپتالوں میں ہوتا ہے وہاں علاج کی کوئی ایسی سہولت سرے سے مہیا نہیں۔ سندھ میں کراچی حیدرآباد اور کے پی کے میں پشاور اور مردان کے علاوہ سرجری کی اسیٹ آف دی آرٹ سہولیات عنقا ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

الوداع الوداع

جنرل راحیل شریف آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے ہیں۔ وہ ان 20 سالوں میں واحد سپہ سالار ہیں جو مقررہ وقت پر اپنا عہدہ چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنے الوداعی دوروں کا آغاز لاہور گیریژن سے کیا۔ گوجرانوالہ اور منگلا کے کورہیڈ کوارٹرز بھی تشریف لے گئے۔ انہوں نے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت، افسروں اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے کارہائے نمایاں اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے تشکر سے ہر آنکھ اشک بار ہے۔ اُن کا تصور ہمیشہ ہر پاکستانی کے خیالات کو چمکاتا رہے گا۔ بہت سے لوگوں نے ان سالوں میں پورا زور لگایا کہ ان کو سیاست کے جوہڑ میں اتاردیا جائے، ان کو سخت ناکامی ہوئی۔ انہوں نے اپنے خاندان کے شہدا کی آبرو کی لاج رکھی اور پاکستان کو ان تین برسوں میں ایک بدلہ ہوا پاکستان بناکر جارہے ہیں۔ چند سال پہلے آپریشن ضرب عضب کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسے ناقابل عمل قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے اس پر کام شروع کیا اور چند ہی ماہ میں دہشت گردی کی جڑوں کو بڑی حد تک کاٹ دیا گیا۔ چند اکا دُکا واقعات کے علاوہ آج پاکستان اُس عذاب سے محفوظ ہوگیا ہے جو مشرف دور کی ابتدا سے ایک دہشت ناک خواب بن کر قوم کے اعصاب پر سوار ہوگیا تھا۔ قوم نے فوج کے لیے جو کچھ تھا حاضر کیا۔ ہم نے آپریشن ضرب عضب میں وہ کامیابیاں حاصل کیں کہ اب انہیں اندرون اور بیرون ملک سراہا جارہا ہے۔ جنرل راحیل شریف کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت دنیا بھر کے رسائل و جرائد کی ٹاپ اسٹوری بن کر شائع ہوئی اور انہیں عالمی رینکنگ میں آج کا بہترین جرنیل قرار دیا گیا۔ فوج نے کراچی اور سندھ کے دوسرے حساس حصوں میں وہ آپریشن کیا کہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور قبضہ مافیا سے ان شہروں کو رہائی مل گئی۔ اس سرطان کی ایسی سرجری کی کہ اب مدتوں اس کے دوبارہ فعال ہونے کا کوئی خدشہ باقی نہیں۔ عسکری قیادت نے رینجرز کے ساتھ مل کر ان ٹھکانوں کو صاف کیا جن کی طرف کوئی آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کراچی جیسا شہر جو ہمارا معاشی ہب ہے آج ایک پرامن شہر بن چکا ہے۔ بیرون ملک سے اس پر کنٹرول کرنے والے ہاتھوں کو اپاہج بنادیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میڈیا کے سیاہ کرتوت/ زرد صحافت کے علمبردار!

وہ صحافت جس کے راہبر کبھی مولانا محمد علی جوہر یا مولانا ظفر علی خان ہوا کرتے تھے، آج اُس کی مہار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن میں سے بیشتر صحافت سے سوائے پیسے کمانے کے اور کوئی بھی مقصد نہیں رکھتے۔ کئی اخبار انتہائی جانبدار ہیں۔ اکثر کالم نگار تھالی کے بینگن کی طرح لڑھکتے پھرتے ہیں۔ اکثر اخباروں میں زرد صحافت کا شرمناک راج ہے۔ اکثر اخبار عریانی و فحاشی کے چلتے پھرتے سمبل ہیں۔ اکثر اخبارات میں خبریں بہت کم اور اشتہارات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اکثر اخبارات میں اصل خبر پر مبالغے کا اتنا ملمع ہوتا ہے کہ وہ بے دھڑک کی جھوٹ کی سرحد میں چلی جاتی ہے۔ بعض نام نہاد صحافیوں کا دھندہ ہی بلیک میلنگ ہے، من چاہے مفادات حاصل ہوں تو خبر دبادی جاتی ہے۔ بعض اخباروں میں صفحہ اول پر خبروں کی جگہ پر اُن صحافیوں کے تجزیے شائع کیے جاتے ہیں، جن کا کام الزام تراشیوں اور رائی کو پہاڑ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں ہمارے ہاں ایسے صحافیوں کی خاصی تعداد تھی جو بکنے والے نہ تھے۔ آج صورت حال یہ ہے اشتہارات، فروختگی صرف اخبارات کی زینت نہیں بنتے، یہ ہمارے نامی گرامی صحافیوں کے ماتھے پر بھی سجے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ وقت کے ساتھ صحافت اور تجارت اس برے طریقے سے گڈمڈ ہوئی کہ اب دونوں کی پہچان بہت مشکل ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کیسے جیتا؟

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ 20 جنوری 2017ء کو صدارت کا حلف لیں گے۔ ٹرمپ 14؍ جون 1946ء کو نیویارک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے1968ء میں اکنامکس کی ڈگری کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی۔ پینسلوانیا یونیورسٹی کے اساتذہ کے مطابق وہ ایک اوسط درجے کے طالب علم تھے۔ وہ بزنس مین بنے اور سالوں میں بہت ترقی کی۔ ریالٹی ٹی وی چینل خریدا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن بنائی۔ رئیل اسٹیٹ بزنس میں جھنڈے گاڑے۔ بڑی امریکی ریاستوں میں ٹرمپ ٹاور تعمیر کروائے۔ ہوٹلوں، جواخانوں، گالف کلبوں کا ایک جال بچھایا۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں اپنا پیسہ انویسٹ کیا اور بہت دولت اکھٹی کی۔ 2014ء میں فاربس میگزین نے انہیں ساری دنیا کا 324 واں امیر ترین شخص قرار دیا، جبکہ امریکا میں ان کا نمبر 156 واں ہے۔ اکتوبر 2016ء کے اثاثوں کے مطابق ان کی دولت 3.7 بلین ڈالر ہے۔ ان پر 3500 مقدمات بنے جن میں سے زیادہ تر ان کے جواخانوں کے مسائل کی پیداوار ہیں۔ صرف 2015ء میں انہوں نے ایک مد میں 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کمائے۔ ٹرمپ نے کئی بار پارٹی بدلی۔ کبھی وہ ڈیموکریٹ اور کبھی ریپبلکن بنتے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جاسوسی چال بے نقاب

بدنام زمانہ بھارتی جاسوس رویندر کوشک راجستھان کے شہر گنگانگر میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے ہی اداکاری کا بہت شوق تھا۔ وہ ڈرامے کے کلب کا ممبر بن گیا اور شہر شہر اداکاری کے جوہر دکھانے لگا۔ اس کا ایک مشہور رول چین کی تباہ کاری کے لیے معروف بھارتی جاسوس کا تھا۔ وہ ’’را‘‘ کی نظر میں آگیا۔ ’’را‘‘ کے ریکروٹنگ ایجنٹس نے اُسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اُس کے باپ نے ایم کوشک کو انڈین ایرفورس میں نوکری دے دی گئی۔ بھائی آر این کوشک کو بھی ایک نہایت پرکشش جاب آفر کی گئی۔ خاندان غربت سے امارت کا سفر طے کرنے لگا۔ رویندر کوشک کو دو مال دہلی اور ڈیرہ دون میں را کے ٹریننگ سینٹروں میں سخت تربیت کے مرحلوں سے گزارا گیا۔ اُس کے ختنے کیے گئے، اُسے اردو سکھائی گئی، پاکستانی نقشے ازبر کروائے گئے، قرآن و حدیث کی مبادیات حفظ کروائی گئیں۔ اسلامی تاریخ کے اہم واقعات سے روشناس کروایا گیا۔ اسے ایک خاص کوڈ ورڈز کی زبان پڑھائی گئی۔ فوجی ٹریننگ، جوڈو کراٹے کے دائو پیچ سکھائے گئے۔ جاسوسی میں معاون ہر طرح کے ذریعہ ابلاغ کا ماسٹر بنایا گیا۔ میک اپ کے ذریعے مختلف روپ دھارنے کے گُر بتائے گئے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دھرنا سیاست

عمران خان کا کہنا ہے: ’’آسمان بھی گرے تو دھرنا نہیں رُکے گا۔ تادم تحریر (29؍ اکتوبر 2016ئ) اسلام آباد کو 9 مقامات سے بالکل بند کردیا جائے گا۔ شہباز شریف کے مبینہ فرنٹ مین کی کرپشن بے نقاب کرتے ہوئے عمران کہتے ہیں کہ وہ ملتان سکھر موٹر وے پر 16 ارب روپے کمیشن کھاگیا ہے۔ 26 ارب 55 کروڑ روپے صرف 4 منصوبوں میں ہتھیائے گئے۔ نیواسلام آباد ایرپورٹ کا کنٹریکٹ بھی جاوید صدیق کو ہی ملا۔ وہ طوفان جو پانامہ لیکس کی صورت ملک میں آیا تھا اُس نے اپنی حتمی شکل اختیار کرلی ہے۔ حکومت نے اس معاملے پر کوئی سنجیدگی نہ دکھائی۔ گفت و شنید اور نیم دلانہ کارروائیاں کی گئیں۔ تحریک انصاف کی ٹاپ لیڈ رشپ کی کرپشن بیک گرائونڈ میں چلی گئی۔ پچھلے ماہ عمران خان اور طاہر القادری دونوں دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ چند دنوں کے لیے وہ منظرعام سے غائب ہونے کے بعد نومبر کی ابتدائی تاریخوں کو انتہائی سازگار پاتے ہوئے دوبارہ اکھٹے ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن کی دوسری جماعتیں عمران خان کو جمہوری نظام کے سر پر منڈلاتے خطرات سے آگاہ کررہی ہیں۔ وہ خورشید شاہ کو ڈبل شاہ قرار دے رہے ہیں۔ ہر اپوزیشن راہنما جو اُن کے ساتھ چل کر اس نظام کو لپیٹنے کے لیے تیار نہیں ان کی نظر میں ن لیگی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔