• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اب کیا ہوگا؟؟

’’نزادسی چودھری‘‘ ایک بنگالی ہندو تھا۔ جب 1925ء میں راشٹر یہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ناگپور میں قیام عمل میں آیا تو اس نے بنگال میںاس کے دفتر آنا جانا شروع کردیا۔ وہ اس تنظیم کے جلسے جلوسوں میں شریک ہوتا رہا۔ لیڈروں کی قیام گاہوں پر جاتا اور ان کی گفتگو سنتا۔ اس نے متعصب ہندووں کی ذہنیت پر 40 سال ریسرچ کی۔ یہ عرق ریزی اس نے ایک کتاب کی صورت 1965ء میں شائع کر دی۔ ’’The Continent of Circe ‘‘(جادوگرنی کا دیس) کے عنوان سے اس کتاب نے ہندوستان میں تہلکہ مچادیا۔ سارے ملک میں ’’نزادسی چودھری‘‘ کے خلاف جلوس نکلے۔ اس کے پتلے جلائے گئے۔ اس کے گھر پر پتھرائو ہوا۔ اسے ملازمت سے بے دخل کردیا گیا۔ وہ کلکتہ چھوڑ کر مستقل برطانیہ چلاگیا۔ حکومت نے کتاب پر پابندی لگا دی۔
نزادسی چودھری نے جادوگرنی کے دیس میں ہندو نفسیات کا گہرا تجزیہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا راشٹریہ سیوک سنگھ ملک کو مشہور مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کردے گی۔ یہ مسلمانوں کو شودروں سے بھی کم سماجی درجے پر پہنچا دے گی۔ یہ ان کا کاروبار اور زمینیں ہتھیا لے گی۔ یہ تعلیمی نصاب میں ہندو مت کے ننگے پروپیگنڈے کو اوّلیت دے گی۔ یہ اخبارات رسائل و جرائد کو کنٹرول کر کے ہندو توا کے تصور کو عوام کی سائیکی کا حصہ بنائے گی۔ فلم اور ٹی وی کے کرتا دھرتا افراد کی مکمل ذہنی کایا کلپ کرے گی۔ انتہائی پسماندہ علاقوں کے

مزید پڑھیے۔۔۔

شہادتوں کا سفر / ان کا جرم کیا ہے؟

’’علاء الاسوانی‘‘ ہم عصر مصری ادب کا سب سے بڑا نام ہے۔ ان کی تحریروں کے ترجمے اَن گنت زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مصر کی سیاسی اور سماجی حقیقتوں پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ ان کا ایک مشہور ناول ہے۔ اس میں’’ فریڈ رک‘‘ نامی ایک جرمن انجینئرمصر کے طول و عرض میں سفر کرتا ہے۔ وہ شہر میں مصریوں کے ساتھ دوستیاں لگاتا ہے۔ معصوم بچے کے تجسس سے ہر ایک سے سوالات پوچھتا ہے۔ اپنے دورے کے آخر میں وہ یہ رائے دیتا ہے: ’’اس نے دنیا کے بے شمار ملک دیکھے۔ اسے مصر کے سوا کوئی ایسا ملک نہیں ملا۔ جہاں خداداد صلاحیتوں کے مالک لوگ اتنی تعداد میں رہتے ہوں۔‘‘ وہ بڑے تاسف سے کہتا ہے: ’’خدا جانے اتنے اعلیٰ جوہر رکھنے والے مصریوں کو اتنی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟‘‘.
آپ مصر کی تاریخ کے جھروکے میں جھانکیے! مصریوں نے پہیہ ایجاد کیا جس کی گردش پر اب دنیا کی تمام ترقی سفر کر رہی ہے۔ انہوں نے بادل لانے اور برسانے والی ٹیکنالوجی کو قبل مسیح میں ہی دریافت کر لیا تھا۔ انہوں نے دریائے نیل کے پانیوں سے بکثرت اناج اُگایا اور ساری ریاعا خوشحال ہو گئی۔ دریائوں کی موجوں کا رخ موڑا۔ سارا مصر لہلہا اٹھا۔ اسکندریہ میں دنیا کی سب سے پرانی دانش گاہ بنائی جہاں فلسفی، دانشور، سائنس دان تعلیم حاصل کرنے دور دراز ملکوں سے آتے تھے۔ ستارہ شناسی کے لیے دور بینیں ایجاد کیں۔ کائنات کی وسعتوں کا پہلی بار احاطہ کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یوکرائن کے مسئلے پر روس امریکا تنازع

’’وکٹریا نو کووچ‘‘ یوکرائن کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے نومبر 2013ء میں یورپی یونین کے ساتھ ایک Arsociation Agreement کرنا تھا۔ ان کی ساری پالیسیاں رُوس نوازرہی تھیں۔ جیسے ہی انہوں نے روس کے دبائو پر یہ معاہدہ مؤخر کیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ ملک دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک گروہ روس کی بجائے یورپین یونین کا حامی تھا۔ دوسرا روس کی طرف واضح جھکائو رکھتا تھا۔ اس خانہ جنگی نے زور پکڑا۔سرکاری عمارتوں کو آگ لگائی جانے لگی۔ مظاہرین پر سیدھی گولیاں ماری جانے لگیں۔ ’’وکٹریا نو کووچ‘‘ یوکرائن سے فرار ہو کر روس چلے گئے۔ روس نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ مشرقی یوکرائن کے ایک صوبے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔ اس نے 16 مارچ کو وہاں ریفرنڈم کروایا۔ اپنے حق میں ووٹ کاسٹ کروائے۔ صوبے کا کلی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
امریکا اور یورپ حرکت میں آئے۔ انہوں نے روس کو G-8 ممالک سے نکال دیا۔ فوجی تعاون کو منقطع کردیا گیا۔ تجارتی منصوبے کٹھائی میں پڑگئے۔ روس نے ہر دبائو کا بھرپورجواب دیا۔ سارے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ جنیوا میں ہونے والی گفت و شنید سے بھی کوئی مثبت پیش رفت ہونے کی اُمید کم ہے۔ اوباما نے باور کر وایا ہے: ’’چھوٹی قوموں کی قسمت کا فیصلہ بڑے ملکوں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ ٹونی بلیر دُور کی کوڑی لایا ہے۔ اس نے یوکرائن کے مسئلے پر خاک ڈالنے اور مسلمان ’’دہشت گردوں‘‘ کی گو شمالی کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ روس مگرمچھ کی طرح ایک خود مختار ملک کے ایک بڑے حصے کو ہضم کر گیا ہے۔ کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکا۔ روس یوکرائن تنازعے اور یورپ امریکا کے اس بارے میں ردّعمل کے لیے ہمیں روس کی تاریخ کے جھروکے میں جھانکنا ہو گا۔ یہ گمنام ملک کس طرح دنیا کی ایک سپر پاور بنا۔ اس کے عروج، زوال اور پھر عروج کے پیچھے کون کون سے عوامل کار فرما ہیں؟

مزید پڑھیے۔۔۔

غریب عوام، عیاش حکمران

کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نیوزی لینڈ گئے۔ وہاں لارڈ میئر آف آک لینڈ نے ان کے اعزاز میں ایک بڑا عشائیہ دیا۔ اس میں نیوزی لینڈ کی معروف شخصیات اور اہلِ دل پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈلینگ بھی شرکا میں شریک تھے۔ کھانے کا آغاز ہوا تو حاضرین آپس میں گھل مل گئے۔ نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم نے اس کو بتایا ان کے ملک کی اسٹیل مل صنعت میں پاکستانی حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے 50 فیصد انوسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ اس سرمائے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی اس صنعت نے بہت ترقی پائی ہے۔ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ ملک کے جی ڈی پی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ یہ شخصیت اس انکشاف پر ششد رہ گئی۔ وہاں موجود ایک پاکستانی نے انہیں بتایا سوئٹزرلینڈ کے 13 بینکوں میں ایک سو ارب ڈالر پاکستانیوں نے انویسٹ کر رکھے ہیں۔ اس محفل میں موجود پاکستانی تارکینِ وطن نے انکشافات کا ڈھیر لگانا شروع کردیا۔ اس نے نہایت دلگیری سے لکھا ہے کہ پاکستان کا حکمران اور سرمایہ دار طبقہ کس درجہ بے حس ہے۔ وہ اپنے ملک کے غریبوں اور مسکینوں کا مال ہتھیا کر غیرملکیوں کی رَگوں میں دوڑا رہا ہے۔ انہیں طاقت ور اور توانا بنا رہا ہے۔ خود یہ طبقہ ہمیں جمہوریت کے ثمرات پر کس کس طرح قائل کرتے ہوئے نہیں تھکتا؟ یہ عوام سے قربا نیاں مانگتا اور خود دولت کی زنبیل بھر کر بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرتا پھرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جنوبی ایشیا میں سیاست کے مہروں کی تبدیلی

’’احمد آباد‘‘ بھارتی صوبہ گجرات کا صدر مقام ہے۔ یہ شہر ایک مسلمان حکمران نے آباد کیا تھا۔ اس نے یہاں نہایت دیدہ زیب مسجدیں تعمیر کروائی تھیں۔ صدیوں تک یہ ایک مسلم اکثریت کا شہر رہا۔ تقسیم ہندکے وقت احمدآباد گجرات کے دوسرے شہروںمیں مسلمانوں نے صنعتی یونٹ قائم کرنے شروع کردیے۔ یوں مسلم آباد ی بھارت کے دوسرے صوبوں کی صوبوں کی نسبت زیادہ سے زیادہ خوشحال ہوتی چلی گئی۔ فی کس آمدنی کی شرح نہایت درجہ بلند ہو گئی۔ 1960ء کی دہائی میں بھارتی جنتا پارٹی کی ماں راشٹر یہ سیوک سنگھ نے یہاں اپنا علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ ہندو تعصب کی بدبو کے بھپکے چاروں طرف پھیلنے لگے۔ ملک بھر سے متشدد اور جرائم پیشہ ہندوئوں کے غول پرواز کرتے ہوئے احمد آباد کا رُخ کرنے لگے۔ انہوں نے شہر کا کنٹرول اپنے قصبے میں لے لیا۔ مسلمانوں کی زمنیوں پر قبضے ہونے لگے۔ دکانوں پر جعلی کلیم دھڑا دھڑ مندروں سے نہایت درجہ فسادی فرمان جاری ہونے لگے۔ احمد آباد جو کبھی روح پرور مسجدوں کا شہر تھا وہاں لاوڈ سپیکر پر اذانیں دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔
1969ء میں یہ شہر ہندوستان کی تاریخ کے ایک بدترین مسلم کش فسادات کے سیلاب میں بہہ گیا۔ مسلمانوں کے گھر، دکانیں، ملیں تک جلادی گئیں۔ انہیں زندہ آگ میں پھینکا گیا۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ بچوں کو تیز دھار چھروں سے ذبح کردیا گیا۔ مسجدوں اور مدرسوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ فسادات کا یہ دھارا احمد آباد سے نکل کر گجرات کے دوسرے بڑے شہروں اور قصبوں میں بھی پھیل گیا۔ ایک انداز ے کے مطابق 80 ہزار مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید کردیے گئے۔ اندرا گاندھی اس وقت وزیراعظم تھی۔ اس نے شہر کا دورہ ایسے وقت کیا جب رام کے بالکے مسلمانوں کے خون سے جی بھرکے ہولی کھیل چکے تھے۔ لہو چراغوں میں ڈال کر دیوالی منا چکے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔