• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اٹھارویں صدی کے برطانیہ کی تاریخ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے گرد گھومتی تھی۔ برطانیہ کی تاریخ میں یہ ’’وگ‘‘ اور ٹوری کے ناموں سے مشہور رہیں۔ ان کی باہمی نفرتوں کی خلیج نہایت درجہ وسیع تھی۔ گہری کدورت نے برطانوی معاشرے کو دو واضح گروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ’’ٹوری‘‘ قدامت پسند نظریات کی وجہ سے دیہی علاقوں میں مقبولِ عام تھی۔ وگ جدید نظریہ زندگی کی بنا پر تاجروں اور شہریوں میں خاصی مشہور تھی۔ جب ان میں سے ایک پارٹی حکومت میں آتی تو دوسری پارٹی والوں پر مصائب کا آسمان ٹوٹ پڑتا تھا۔ لیڈر شپ ملک سے فرار ہوجاتی۔ عہدے دار مفرور ہوجاتے۔ ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاتیں۔ مخالف پارٹی کے اوپر سے لے کر نیچے تک کے سرکاری ملازموں کو برخاست کردیا جاتا۔ ان کے گھروں کے محاصرے کرلیے جاتے۔ اہلِ خانہ خوراک کے ایک ایک لقمے اور پانی کے ایک ایک گھونٹ کے لیے ترس جاتے۔ معتوب پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھنڈی ٹھار ہوکر رہ جاتیں۔ اُس کے دفاتر مستقل طور پر بند کردیے جاتے۔ یوں اگر ’’وگ‘‘ پاور میں آتے تو سارا دیہی انگلستان ہر قسم کی حکومتی نوازشات سے محروم ہوکر رہ جاتا۔ لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ جاتیں۔ انہیں نہ کوئی ملازمت ملتی نہ اُن کے علاقوں میں کوئی بھی ترقیاتی کام ہوتا۔ جب حکومت ٹوری پارٹی کو ملتی تو تاجروں اور بڑے شہروں کے رہائشی مسلسل عذاب کی گرفت میں آجاتے۔ حکومت درآمدات اور برآمدات روک دیتی۔ بڑے شہروں کے فلاحی منصوبے ختم ہوجاتے اور ہر قسم کی خوشحالی گاؤں دیہات کا رُخ کرلیتی۔ یوں صدیوں تک ان دونوں پارٹیوں کے مابین نفرت کی آہنی دیوار کھڑی رہی۔ برطانیہ بدحال رہا۔


اس دیوار کو گرانے کے لیے دو افراد آگے آئے۔ ان کے نام ’’رچرڈ اسٹیل‘‘ اور ’’جوزف ایڈیسن‘‘ تھے۔ انہوں نے J Re Spectator کے نام سے ایک اخبار نکالا۔ دنوں میں س کی اشاعت لاکھوں تک جاپہنچی۔ یہ اخبار ’’وگ‘‘ اور ’’ٹوری‘‘ دونوں پارٹیوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب لے آیا۔ اس نے نفرتوں کا زہر ختم کرکے محبت کی جوت جگادی۔ منافرتوں کے کانٹے چن چن کر راستوں کو پھولوں سے سجادیا۔ کدورت کی کالک کو جذبۂ ایثار سے دھودیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سارے کا سارا انگریز معاشرہ منقلب ہوگیا۔ عداوتوں کی دیواریں مسمار ہوگئیں۔ محاذ آرائی کی خلیجیں پاٹ دی گئیں۔ رواداری کے پل تعمیر کردیے گئے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ اگر ’’وگ‘‘ حکومت میں آئے تو انہوں نے ’’ٹوری‘‘ علاقوں میں فلاح و بہبود پر زیادہ خرچ کیا۔ ملازمتوں کا کوٹہ بڑھایا۔ ’’ٹوری‘‘ بچوں کے لیے نئے اسکول کھولے۔ جب ’’ٹوری پارٹی‘‘ کو پاور ملی تو اُس نے دیہات کے ساتھ ساتھ شہروں اور شہریوں کو بھی لطف و عنایت سے محروم نہیں رکھا۔ اُن پر بھی نوازشات کی بارش پیہم برستی رہی۔ ان دونوں پارٹیوں کی ساری سیاسی کشمکش ہاؤس آف کامنز کی چاردیواری کے اندر محدود ہوکر رہ گئی۔ اس ایوان سے باہر نہ اُن کی کوئی دشمنی تھی، نہ کوئی مخاصمت، نہ کوئی چپقلش تھی، نہ کوئی محاذ آرائی۔ حکومت خواہ کسی کی بھی ہو فلاحی منصوبوں کو کبھی کٹھائی میں نہیں ڈالا گیا۔ یوں برطانیہ جس کے دو حصوں میں تقسیم ہوجانے کی پیشین گوئیاں سارا یورپ کررہا تھا۔ وہ نہ صرف ایک ہوگیا بلکہ دنیا بھر میں اقوام عالم کو غلام بنانے کے لیے نکل پڑا۔ ’’وگ‘‘ اور ’’ٹوری‘‘ پارٹیوں نے ملک میں تعمیر و ترقی ہر برطانوی شہری کا حق تسلیم کرلیا،

وہ فلاحی منصوبوں کے گراف کو سارے ملک میں اوپر گئیں۔ عوامی سہولتوں کا جام ہر کس و ناکس کو تھمادیا گیا، نہایت مضبوط سسٹم بنالیا گیا۔

ایک اور مثال دیکھیے۔ امریکا اور میکسیکو سرحدیں ملتی ہیں۔ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں گلی کے ایک طرف امریکا اور دوسری طرف میکسیکو والے بستے ہیں۔ یہ لوگ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے علاقوں کی آب و ہوا یکساں ہے۔ پھر بھی امریکی علاقے میں خوشحالی اور میکسیکن علاقے میں بدحالی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں کے ہاں اس تفاوت کی وجہ وہ سسٹم ہے جو امریکا میں واضح کام کرتا دکھائی دیتا ہے، لیکن میکسیکو میں مافیاز مرکزی حکومت کی کرپشن اور ڈرگز کے دھندوں میں حکومتی اہلکاروں کے ملوث ہونے کی وجہ سے یہ ملک تیزی سے روبہ زوال ہے۔ ارجنٹائن کا سب سے بڑا شہر بیونس آئرس سمندر کے کنارے آباد ہے۔ یہاں کی آب و ہوا ہمارے کراچی سے ملتی جلتی ہے۔ بیونس آئرس کا مطلب ہی معطر اور عطر بیز ہوا ہے۔ اس شہر میں دنیا کے امیر ترین افراد بستے ہیں۔ یہاں غربت بھی اس قدر ہے کہ سارے لاطینی امریکا کے ملکوں میں نہ ہوگی۔ یہاں کے بزنس مینوں کو حکومتی نوازشات نے قارون کے خزانے بخشے۔ ان میں سے ایک کھرب پتی نے اپنے بزنس کو امریکا میں پھیلانے کے لیے تگ و دو کی۔ وہاں وہ بُری طرح ناکام رہا، اس کی وجہ یہ تھی کہ بیونس آئرس میں وہ حکومتی عہدے داروں کو رشوتیں دے دے کر اپنے بزنس کو ترقی دیتا رہتا تھا۔ امریکا میں یہ سب دروازے بند دیکھ کر اُسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بل گیٹس امریکی سسٹم میں رہتے ہوئے دولت کماتا رہا، لیکن وہ اس دس ڈالرز بھی ادھر ادھر نہ کرے گا۔ امریکا یہ سب کچھ ایک طاقت ور سسٹم میں رہتے ہوئے کررہے ہیں۔ وہ ٹیکس چوری نہیں کرسکتے۔ وہ رشوت اور سفارش سے اپنے کام نہیں نکال سکتے۔ وہ جائز منافع کے علاوہ کچھ نہیں سمیٹ سکتے۔ اعلیٰ حکومتی عہدے دار بھی اُن کو کوئی ناجائز فیور نہیں دے سکتے۔ ان ملکوں کا جوڈیشل سسٹم اس قدر فعال ہے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی کو بھی جرم پر چھوٹا بنادیتا ہے۔حکومتی اپنا بزنس نہیں چلاتیں۔ افریقی ملکوں جیسے بوٹسوانہ اور روانڈا میں سسٹم ٹھیک ہونے کی وجہ سے شرح غربت میں حیرت انگیز کمی آتی جارہی ہے۔ انہی ملکوں کے ہمسایوں میں کانگو، زمبابوے اور سری لیون واقع ہیں جہاں آمریتی کالا سورج اندھیرے برسارہا ہے۔ سسٹم مفقود ہوچکا ہے۔ پاکستان میں سسٹم کی ناکامی کی ایک بڑی مثال دیکھیے۔ چند ماہ قبل ایف بی آر نے ایک ٹیکس ڈائریکٹری شائع کی تھی۔ اُس میں ہمارے قومی، صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اراکین، حکمرانوں، سیاست دانوں کے انکم ٹیکس کی روداد بیان کی گئی تھی۔ بتایا گیا کہ اس دولت مند کلاس نے کتنا کم اور مضحکہ خیز ٹیکس ادا کیا ہے۔ ان کے علاوہ ہمارے سرمایہ داروں اور بڑے تاجروں کا رویہ بھی سخت غیرتسلی بخش ہے۔ اس کلاس نے مسلم لیگ (ن) کی الیکشن کمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ دونوں کے آپس میں وعدے وعید ہوئے تھے۔ حکومت نے آنے کے بعد ٹیکس جی ڈی پی 15 فیصد تک لے جانے کے دعوے کیے۔ سرمایہ داروں کے مفادات پر زد پڑی۔ انہوں نے شٹرڈاؤن کی دھمکی دی۔ ہمارے سرمایہ دار وزیر خزانہ نے ان کے مطالبات مان لیے۔ وزیر اعظم نے ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی۔ کئی ماہ کی ترغیب کے بعد صرف 3000 تاجروں نے اُس میں 88 ملین روپے جمع کروائے۔ اب اس اسکیم کا دورانیہ ہر سہ ماہی، شش ماہی کے بعد بڑھادیا جاتا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق قومی خزانے میں ہمارے تاجروں اور سرمایہ داروں کا جمع کردہ ٹیکس 0.5 فیصد رہتا ہے۔ یوں صورت حال یہ بنی کہ ہمارا جاگیردار ٹیکس سے مبرا ایک مخلوق ہے۔ ہمارے زیادہ سیاست دان ٹیکس چور ہیں۔ ہمارا سرمایہ دار قلیل ترین ٹیکس دینے والا طبقہ ہے۔ حکومت کھانے پینے کی اشیا، بجلی، گیس، پیٹرول، ڈیزل، مہنگا کرکے اپنا خزانہ بھرتی اور آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے سود ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے سربراہ جیفری فرینکس نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور مجبور پاکستانیوں کو مزید شکنجوں میں کس کر اُن کے لہو کی آخری بوندیں نچوڑ لینے کا اعلیٰ فریضہ حکومت کو سونپ دیا۔ آئی ایم ایف اپنے غیرملکی مشیر پاکستان میں مقرر کرتا رہتا ہے، جو اعلیٰ مراعات اور بھاری تنخواہیں قومی خزانے سے لیتے اور مسلسل نئی اسکیمیں حکومت کو بتاتے رہتے ہیں۔ یہ وہ جلاد ہیں جن کے ہاتھوں میں ننگی تلواری ہیں۔ جن کے دل میں عام مفلوک الحال پاکستانیوں کے لیے کئی ہمدردی نہیں۔ انہوں نے یہاں مافیاز جنم دیے ہیں، سیاست دانوں کا مافیا، جائیدادیں غصب کرنے والا مافیا، عوام کا خون نچوڑنے والا مافیا، قومی خزانہ لوٹنے والا مافیا، ذخیرہ اندوزوں کا مافیا، من چاہے ریٹ لگانے والوں کا مافیا، میگا پراجیکٹس سے اربوں کمانے والا مافیا، بیوروکریٹوں کا مافیا، پولیس گردی کرنے والا کا مافیا، قانون کی سوداگری کرنے والوں کا مافیا، سود کھانے والوں کا مافیا۔

کچھ عرصہ قبل ایک کتاب ’’پاکستان کے سیاسی خانوادے‘‘ منظرعام پر آئی تھی۔ اس میں ہمارے سیاسی افق پر چھائے ہوئے کئی خاندانوں کی مفصل کہانیاں لکھی ہوئی تھیں۔ ہمارے کئی بڑے سیاسی خاندان 1857ء میں انگریزوں کے دست راست بن گئے تھے۔ انہوں نے حریت پسندوں کو مارا، اُن کے گھر جلائے اور انعام میں جاگیریں پائیں۔ پاکستان بنا تو یہی طبقہ وقت کے ساتھ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گیا۔ انہی میں سے بے شمار بہت بڑے سرمایہ دار بن گئے۔ انہوں نے جائیدادیں، فیکٹریاں، ملیں، کارخانے، فارم ہاؤس، پلازے اور مارکیٹیں بنالیں۔ دولت کی اس ریل پیل نے انہیں سیاست کی ٹکسال کا راستہ دکھایا۔ یوں ہماری ادھوری جمہوریت وجود میں آئی۔ سرمایہ سرمائے کو کھینچنا شروع ہوگیا۔ انجام یہ کہ ملک مافیاز کی جاگیر بن کر رہ گیا۔ آج ملک میں سب سے کم ٹیکس ہمارے جمہوری نمایندے دیتے ہیں۔ یہ ڈیوٹی فری گاڑیوں میں شاہانہ سفر کرتے ہیں۔ ان کے پروٹوکول پر اربوں سالانہ لاگت آتی ہے۔ ان کا علاج اور بچوں کی تعلیم بیرون ملک ہوتی ہے یوں عوام کے ٹیکسوں سے یہ بھرپور عراق کشید کرتے رہتے ہیں۔ پاکستانی دہائیوں سے ان بے رحم اور سفاک لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ عوام کے پاس بس آنسو ہیں، آہیں ہیں، دُکھ، مصیبتیں اور بے بسیاں ہیں۔ میرجمہوری خواب کی تعبیر الٹ ہی نکلتی ہے۔ یوں ہماری حکومت 160؍ ارب روپے سے لاہور میں اورنج میٹرو ٹرینیں چلارہی ہے۔ ہوسکتا ہے بجٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل پر سفر کرنے والی عوام کی جیب میں کرائے کے لیے کوئی سکے ہی باقی نہ ہو ں گے۔ خدا ہمیں ان غیرمتوازن لیڈروں کے وژن سے بچائے۔ سینیٹ کے انتخابات میں بلامبالغہ اربوں روپے اِدھر اُدھر ہوگئے ہیں۔ ہمارے قومی الیکشن کھربوں روپے کی لاگت کے بعد اختتام کو پہنچتے ہیں۔ دھن، دولت، دھونس اس کی شریانوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پچھلے 2013ء کے الیکشن میں ایک ہزار 333 پولنگ بوتھوں پر غیرقانونی بیلٹ باکس بھرے گئے تھے۔ قومی اسمبلی کے 263 حلقوں میں 71 ہزار 397 بے قاعدگیاں کی گئیں۔ مسترد شدہ ووٹ 15 لاکھ 2 ہزار 717 رہے۔ 35 حلقوں میں مسترد ووٹوں کی تعداد جیتنے والے امیدواروں کی فتح کے فرق سے زیادہ رہی یعنی الیکشن جعل سازی اور فراڈ سے جیتاگیا۔ ہمارے 38 ہزار 2 سو 74 پولنگ اسٹیشنوں میں طاقت کی حکمرانی رہی۔ ایک ہزار 3 سو 3 پولنگ بوتھوں پر غیرقانونی طریقے سے بیلٹ باکس بھرنے جبکہ 2 ہزار 4 سو 35 پولنگ بوتھوں پر بولنگ عملے اور ووٹ کاسٹ کرنے والوں کو خطرناک نتائج کی دھمکی دے کر ووٹ لوٹ لیے گئے۔ 17 ہزار 3 سو 58 کیس پریس میں رپورٹ ہوپائے، باقی منظرعام پر آنے سے پہلے ہی دبالیے گئے۔ مسترد ہونے والے ووٹوں میں 2002ء اور 2008ء کے انتخابات کے مقابلے میں 54 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ آپ دیکھیے کہ این اے 53 میں کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا، جبکہ این اے 266 میں 25 ہزار 5 سو 62 ووٹ ریجیکٹ ہوگئے۔ الیکشن 2018ء میں دیکھیے بحر کی تہہ سے کیا اچھلتا ہے۔

جب تک ہم برطانیہ اور امریکا کی طرح ایک نہایت مضبوط سسٹم نہیں بناتے، ہم جمہوریت کے شجر کو بے ثمر ہی پائیں گے۔ جب تک پولیٹیکل لیڈر شپ اس ملک کو Own نہیں کرتی، وہ ٹیکس ادا نہیں کرتی، دھن، دولت سے ووٹ خریدنا بند نہیں کرتی، ملک کے امیر و خوشحال طبقے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لاتی، مافیاز کے گٹھ جوڑ کو Cartels کو ختم نہیں کرتی، ہمیں ڈیموکریسی کچھ نہیں دے گی۔ یہ نظام لیڈر کے خون پسینے سے بارآور ہوتا ہے وگرنہ ثمر نہیں ہوتا