• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

9؍ جنوری کی صبح ننھی زینب کی لاش کچرے کے ڈھیرے سے ملی۔ اُسے 4؍ جنوری کی شام اغوا کیا گیا تھا۔ سارا قصور شہر سڑکوں پہ نکل آیا۔ 2 کلومیٹر کے علاقے میں چند ماہ میں یہ بارہواں واقعہ تھا۔ بچیوں کو اٹھایا جاتا، ان سے کئی روز تک زیادتی کی جاتی اور لاشیں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دی جاتیں۔ والدین کو تھانے سے تعاون نہ ملا۔ وہ پاگلوں کی طرح گلیوں میں ڈھونڈتے پھرے۔ قانون خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ ایک بچی کائنات نومبر میں ادھ موئی حالت میں ملی۔ اُس کا علاج ابھی تک قصور کے سرکاری ہسپتال میں جاری ہے۔ باپ زندہ سے زیادہ مردہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے دو ماہ میں کوئی انصاف نہ ملا۔ یہ زیادہ تر تنگ و تاریک محلوں کے باسی تھے۔ ان کی آہ و بکا قانون کے رویے ایوانوں تک نہ پہنچ پائی۔ زینب کے واقعے کی ٹائمنگ سازگار رہی۔ پنجاب حکومت بحران کا شکار ہے۔ زینب کے والدین کا بیک گرائونڈ کام آیا۔ لوگ گھروں سے نکل آئے۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں توڑ پھوڑ کی۔ پتھرائو کیا۔ ڈی سی او کے وسیع و عریض دفتر پر حملہ آور ہوئے۔ پولیس کے سورمائوں نے لوگوں پر سیدھے فائر کیے۔ لاشیں گریں، لوگ زخمی ہوئے۔ لائیو کوریج نے اسے چند گھنٹوں میں ملک کا سب سے برننگ ایشو بنادیا۔ یہ فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام، سماجی رابطے کے سب چینلوں پر چھاگیا۔ ٹی وی پر ہر اینکر نے اس موضوع پر پروگرام کیے۔


اداکار اور اداکارائیں (سیاسی اور غیرسیاسی) ماہرین بن کر آئیں۔ تجاویز پیش کی گئیں۔ دھواں دھار تقریریں ہوئیں، لال چہرے اور آنکھیں دکھائی دیں۔ ’’جسٹس فار زینب‘‘ ہر گلی ہر کوچے سے نعرے کی طرح بلند ہوا۔ ہر جگہ ٹائر جلائے گئے، ماتم کیے گئے، آہ و بکا ہوئی۔ شمعیں روشن کی گئیں۔ سلیبس میں تبدیلیوں پر زور دیا گیا۔ مدرسوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی تجاویز دی گئیں۔ ہر چھوٹا بڑا سیاسی لیڈر گاڑی کو موڑ کر قصور پہنچا۔ حکومت پر لعنت برسائی۔ جنازے کی امامت کے لیے لاہور سے 17 جنوری کے ممکنہ ہیرو کو اسپیشل بلوایا گیا۔ جنہوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور حکومت کے خاتمے کے لیے جواز پیش کردیا۔ تاحال یہ سب کارروائیاں جاری ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ صبح چار بجے بچی کے گھر گئے، تسلیاں دیں، ڈی پی او تبدیل کردیا گیا۔ فائرنگ کرنے والے پولیس ملازمین کو معطل کیا گیا۔ والدین سے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی درخواستیں کیں۔ عوام کا غم و غصہ ہے کہ بار بار اُبلاجارہا ہے۔ مجرم کی نشان دہی پر ایک کروڑ روپے انعام رکھا گیا ہے۔ جہاں چند لوگ اکھٹے ہوتے ہیں، زینب پر ہونے والے ظلم کو موضوع گفتگو بناتے ہیں۔ پچھلے تین دنوں سے یہ بلاشبہ پاکستان کا سب سے زیادہ ڈسکس ہونے والا ٹاپک تھا۔ ٹھیک اسی دوران زینب کی بڑی بہن لبنیٰ نے انگریزی اخبار کے نمایندے سے ایک عجیب سوال کیا جو یوں تھا: ’’How long will it be till you forget Zainab?‘‘ (زینب کو فراموش کرنے میں آپ کو کتنا وقت لگے گا؟)

ہر دو تین ماہ بعد ملک میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ سارا ملک اسے سب سے بڑا مسئلہ بنالیتا ہے۔ لگتا ہے کہ اب اس جیسا کوئی واقعہ یہاں ہونے نہیں دیا جائے گا۔ آہستہ آہستہ وہ موضوع دھندلاتا ہے۔ پھر یادداشت کے کباڑخانے میں گم ہوجاتا ہے۔ اے پی ایس واقعے کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان بنایا، آسمان سر پر اٹھایا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ ہمیں دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے کے بعد یاد آتا ہے کہ این اے پی نام کی بھی کوئی شے تھی۔ کراچی میں سرفراز نامی نوجوان کو ڈھٹائی سے گولیاں مارنے والے وردی پوشوں کی جان بخشی کی درخواست صدر مملکت کی ٹیبل پر پڑی ہے۔ شاہ زیب قتل کیس میں افتخار چودھری صاحب نے دہشت گردی کی دفعات شامل کروائی تھیں۔ ہائی کورٹ کا ڈبل بینچ سزائے موت کی توثیق کرچکا تھا۔ دیت دے کر ایک دوسرے ڈبل بینچ ے ملکی تاریخ کے ایک نرالے فیصلے میں دہشت گردی کی دفعات خارج کرکے شاہ زیب کے قاتلوں کو رہائی دے دی ہے۔ سیالکوٹ میں دو نوجوانو ںکو ایک ہجوم نے ڈنڈے، گھونسے مار مار کر مار ڈالا تھا۔ ایک طوفان آیا جس نے ہفتہ بھر ملک کو جکڑے رکھا۔ پھر قاتل رہا ہوگئے۔ دور مت جائیے، اسی قصور میں سینکڑوں بچوں سے بدفعلی کرنے اور ویڈیوز بناکر ڈالروں میں بیچنے والے گروہ کے خلاف دو سالوں میں کچھ بھی نہ ہوسکا۔ آواز اٹھانے والے والدین خوار پھرتے ہیں۔ یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی نمایاں رہا تھا، اب ختم ہوچکا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس پکڑا گیا تو ’’لینا پکڑنا جانے نہ پائے‘‘ کی صدا میں چند روز ملک بھر میں اٹھی تھیں۔ یوں لگا کہ پاکستان آزاد ہونے لگا ہے۔ امریکی غلامی کا جوا ہمیشہ کے لیے اُتار پھینکنے لگا ہے۔ پھر مقدس اسلامی قانون دیت کے ساتھ جو فحش مذاق کیا گیا کہ وہ اب کتابوں میں چھپتا ہے اور اسے نظروں سے چھپایا جاتا ہے۔ لاہور میں سو سے زائد بچوں کا قاتل جاوید اقبال پکڑا گیا تھا۔ وہ بچوں کو مینارِ پاکستان کے اطراف سے بہلا پھسلا کر لے جاتا، زیادتی کا نشانہ بناتا اور تیزاب کے ڈرم میں ان کی ہڈیاں تک پگھلادیتا تھا۔ اس واقعے نے بھی چند روز اخبارات اور ٹی وی پر شور مچائے رکھا۔ بلدیہ ٹائون سانحہ ہوا تو قیامت صغریٰ مچی۔ سب جانتے تھے یہ کن لوگوں کی کارستانی ہے۔ لوگ اشارے کنائے میں بتاتے تھے کہ یہ سب بھتے کا معاملہ ہے۔ پھر نام بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔ آئل ٹینکروں کے حادثے میں سینکڑوں لوگ جل مرتے ہیں۔ ہم سیفٹی لاز نکالتے ہیں اور ٹینکروں کو جدید ترین حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ چند ہفتوں بعد جاہل اور اجڈ عوام برتن لیے کسی اور ٹینکر سے پیٹرول اکھٹا کررہے ہوتے ہیں۔ ہم شارٹ کٹ والی قوم ہیں۔ ہم اُن حکیموں کو پسند کرتے ہیں جن کا چورن ہمیں چند منٹوں میں بھلا چنگا کردے۔ ہمارے قومی مفکر سرجیکل اسٹرٹیک کے حامی ہیں۔ بس کوئی کرشمہ ہو اور ہم صبح سو کر اٹھیں تو سب نظام ٹھیک ہوچکا ہو۔

معاشرے اعلیٰ ترین درجے کی اخلاقی قدروں سے تعمیر ہوتے ہیں۔ تعلیم و تربیت کی روشنیوں سے اُجلے ہوتے ہیں۔ ایک آدھ مجرم کی کھال کھینچنے سے دیرپا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2016-17ء کے کچھ چشم کشا حقائق پریس میں آئے ہیں۔ ہماری تعلیم میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 60 فیصد سے 58 فیصد پر آگئی ہے۔ اس میں دو فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ قومی و صوبائی پرائمری تعلیم میں بچوں کا داخلہ 3 فیصد کم ہوا ہے۔ پہلے جو 57 فیصد تھا، اب 54 فیصد ہوگیا ہے۔ سندھ میں یہ پہلے بھی اور اب 48 فیصد ہے۔ پنجاب میں 64 فیصد سے 54 فیصد پر آگیا ہے۔ کے پی میں 54 فیصد سے 53 فیصد ہوگیا ہے۔ بلوچستان میں یہ شرح 39 فیصد سے 33 فیصد ہوگئی ہے۔ شہری علاقوں میں شرح خواندگی 74 فیصد، دیہی علاقوں میں 49 فیصد رہی۔ شہری علاقوں میں 81 فیصد مرد اور 68 فیصد خواتین میں خواندگی کا رجحان ہے۔ پنجاب میں 62 فیصد، سندھ میں 55 فیصد، کے پی میں 55 فیصد، بلوچستان میں 62 فیصد، سندھ میں 55 فیصد، کے پی میں 55 فیصد بلوچستان 41 فیصد شرح خواندگی رہی۔ یاد رہے کہ ہم خط پڑھ لکھ لینے والوں کو بھی پڑھا لکھا تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے پچھلے بجٹ میں 2.3 فیصد مجموعی قومی پیداوار میں سے تعلیم کے لیے رکھا جو ہمارے اطراف کے کسی بھی ملک سے کم ہے۔ اس برس ہم نے 663.36 بلین روپے تعلیم کے لیے رکھے ہیں۔ ہم 22 کروڑ کے اس ملک کے لیے یہ رقم استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے طالب علموں کی امداد کے لیے بھی اسی مد سے پیسے دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیمی سال کے دوران 46.223 ملین داخلے ہوئے۔ کل تعلیمی ادارے 25280 رہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق خواندہ حضرات و خواتین میں سے صرف 10 فیصد درست معنوں میں تعلیم یافتہ قرار پائے۔ فنی اور ہنری تعلیم والے اور بھی کم ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں مدرسوں کے طلبہ میں خاصے زیادہ طالب علم تعلیم اور اخلاقی قدروں میں بہتر پائے گئے۔ مدرسوں کے طالب علموں میں نشے اور بے راہروی اسکولوں کالجوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر رہی۔

زینب زیادتی اور قتل کیس ہائی لائٹ ہوگیا۔ ایسے واقعات ہر روز ملک میں درجنوں ہورہے ہیں۔ بچیوں اور بچوں سے زیادتی عام خبر بن گئی ہے۔ اگر ہجوم ڈی سی اور قصور کے دفتر کا گھیرائو نہ کرتا اور میڈیا یہ سب کچھ لائیو نہ دکھاتا تو یہ خبر اخباروں کے اندر کے صفحات کی زینت بنتی۔ آپ چار پانچ چھ سات آٹھ اور نو جنوری کے نیشنل روزنامے دیکھ لیں۔

تین بڑے اخبارات نے گمشدگی کو رپورٹ بھی نہیں کیا تھا۔ زینب کے بعد جیسے ہی بچوں کا معاملہ میڈیا میں اٹھا تو اُسی روز فیصل آباد، اگلے روز پتوکی، اس سے اگلے روز کراچی میں ایسے واقعات نمایاں ہوکر سامنے آئے۔ ہم لوگ گونگلوں پر سے مٹی جھاڑنے والے لوگ ہیں۔ چند روز بعد ہم کسی اور طرح کے ظلم کی خبر کے پیچھے ہوں گے۔ دو تین ہفتے بعد ایک نہ ایک ایشو اٹھتا ہے اور پھر گم ہوجاتا ہے۔ زینب کیس 17؍ جنوری سے پہلے اٹھ کر چھاگیا۔ بے رحم سیاست نے اسے اٹھالیا۔ پولیس کا وحشیانہ ظلم بے نقاب ہوگیا۔ وزیر قانون کی سپاٹ بے رحم گفتگو نے لوگوں کو ششدر کردیا۔ یوں وہ بچی جس کے عزیزوں کی بات پولیس سننے کی روادار نہ تھی، اُس کے قاتل کے سر کی قیمت ایک کروڑ مقرر ہوگئی۔ وہ بدنصیب جو تنہائیوں سے مرگئے، تمام شہر اُن کے جنازوں میں پہنچ گیا۔ ہم طوفان کے بعد جاگنے والی قوم ہیں۔ ہم اپنے معاشرتی عذابوں کا پائیدار حل نہیں سوچتے۔ ہم اُن برائیوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔ بچوں سے زیادتی پر ہم نے 7 دہائیوں سے کچھ نہیں کیا۔ آج بھی بے رحم سیاست اپنے صوبوں میں اس خوفناک سماجی برائی سے صرف نظر کرکے ایک صوبے کی حکمرانی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ آپ قصور شہر پر جمع ہونے والی سیاسی چیلوں اور گِدھوں کو دیکھیے، شاید ہی کوئی ہو جو سیاسی جوار بھاٹے میں مچھلیاں پکڑنے نہ آیا ہو۔ دو دو کروڑ کی گاڑیوں میں سے سیاہ چشمہ لگائے سوٹڈ بوٹڈ اداکار انسانی خون کی بو سونگھ کر آگئے۔

پاکستان کو زینب کیس ایک ٹیسٹ کیس بنانا چاہیے۔ مجرم کو مثالی سزا دی جانی چاہیے۔ اس ضلع سے 12 ایسے واقعات آئے جن کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ ہر روز پاکستان میں اوسطاً 11 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ کم از کم دوگنے واقعات رپورٹ نہیں ہوپاتے۔ 2016ء میں بچوں سے زیادتی اغوا گمشدگی کے 4139 واقعات رجسٹر ہوئے تھے۔ یہ تعداد 2015ء کے مقابلے میں 10 فیصد بڑھ گئی تھی۔ 2015ء میں بچوں کے اغوا کے 1455 کیس سامنے آئے، جنسی زیادتی کے 955 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 کیس اور زیادتی کی کوشش کے 362 کیس رجسٹر ہوئے تھے۔ زینب کیس کو جو اہمیت ملی کاش وہ اُن ہزاروں بے گناہوں کو بھی ملتی جو قبروں میں جاسوئے۔ پانامہ اور اقامہ کے ہنگامے، عمران، جہانگیر ترین اور حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ہمارا جرنلزم آدھے آدھے اخبار کو روزانہ فضولیات سے بھردیتے تھے۔ ہم نے اُن دنوں معلوم نہیں کتنے بے گناہوں کے خون کو اخباروںمیں مشتہر نہیں کیا۔ ہمارا میڈیا بوتل سے نکلا ہوا جن ہے۔ کبھی کسی اوباش لیڈر کی شادی یا طلاق پر تمام دن بے سروپا بکواس کو اپنا شعاربنالیتا ہے۔ کبھی نیویارک میں ہندو اداکاروں کے ساتھ عریاں لباس میں موجود پاکستانی اداکارہ کو گھنٹہ گھنٹہ بھر ٹی وی پر بٹھاکر پوچھتا ہے کہ چھوٹی بچیوں کی عصمت کیسے بچائی جائے؟

ہمارا مذہب وہ ہے جس نے عالم کے قلم کی سیاہی کو شہید کے خون سے بڑا درجہ دیا۔ اخبار معاشرے کو اخلاقی قدروں میں اوپر لے کر جاسکتا ہے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا کیا کیا اچھی باتیں نہیں سکھا سکتا۔ ہمیں بچوں کی تربیت کرنا ہے۔ انہیں اچھائی اور برائی کا بتانا ہے۔ ہمیں قانون کی حکمرانی کے لیے تھانہ کچہری کے نظام کو درست کرنا ہے۔ عدلیہ تقریروں سے لوگوں کو احترام پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اسے ڈی لیور کرنا ہوگا۔ یہ معاشرہ منافقت کو اپنا انتخابی نشان بنائے ہوئے ہے۔ زینب قتل کیس ہمارے قومی چہروں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ ملک میں پھولوں کو دیکھ کر نیک جذبات کی بجائے سفاک اور درندہ صفت منصوبے بنانے والے تعداد میں بڑھتے جارہے ہیں۔ حیوانیت کا ایک مہیب طوفان ہماری طرف بڑھ رہا ہے، اس کے اندر خوفناک تباہی ہے۔ ہمیں مذہبی اقدار کا بادبان بچاسکتا ہے۔ ہم نے اُس کا سہارا نہ لیا تو غرق ہوجائیں گے۔