• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

28؍ جولائی کے بعد یہ پانچ ماہ سخت بے یقینی کا عرصہ تھا۔ مسلم لیگ ن اپنا نیا وزیراعظم لے آئی۔ پارٹی مستحکم رہی، اس کی ٹوٹ پھوٹ کی خبریں بے بنیاد نکلیں۔ پھر ہر ہفتے عشرے بعد ایک نیا بحران سمندری طوفان کی طرح امنڈتا رہا۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی بنائے رکھا۔ ہر سطح پر کوشش ہوئی کہ مارچ کے سینیٹ الیکشن سے پہلے اسمبلیاں ٹوٹ جائیں۔ مسلم لیگ نون کو کوئی فائدہ نہ ہوجائے۔ یہ عمل پہلے ڈھکا چھپا رہا، پھر عریاں ہوگیا کہ اب ساری کارروائیاں مارچ کو آنے سے روکنے کے لیے ہیں۔ نواز شریف نیب کورٹ آتے اور نکلتے دکھائی دیئے۔ انہیں بے شمار رسوائیاں اور ہمدردیاں بھی ملیں۔

 

وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ چھ ماہ کے عرصے میں نیب نواز شریف کی گردن کی پیمائش کے عین مطابق پھندہ بنا پائے گی یا عرفان منگی کی خدمات دوبارہ درکار ہوں گی جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک عزت مآب جج نے کہا کہ ہم نے اس کی کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے والے تھے، اُسے عدالتی فیصلے میں ہیرو بنادیا گیا۔ 2009ء کے بعد 184(3) کے بے محابہ استعمال کے سخت زہریلے اثرات ہمارے قومی جسم پر ظاہر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ یہ آبلے اور پھوڑے بتارہے ہیں کہ اتنی سخت دوا مانگنے والوں کو خود پہلے یہ تھوڑی مقدار میں کھانی چاہیے تھی۔ وہ لیڈر جو پانامہ فیصلے پر ناچ رہے تھے، اب سپریم کورٹ پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ ایک دریدہ دہن نے اسے بیلیسنگ ایکٹ کہا۔ یہی شہ سرخی سب سے کثیرالاشاعت انگریزی اخبار نے سجائی۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو اقامے کی بجائے کسی اور جرم پر نکالتے، جہانگیر ترین بچ جاتا۔ عمران کے بقول جہانگیر ترین کی قربانی ناحق ہوئی ہے۔

چار فیصلے آئے، چاروں میں اطراف مشرق، مغرب، شمال، جنوب ہیں۔ نواز شریف کے خلاف پانامہ میں سپریم کورٹ کچھ بھی قابل سزا نہ ڈھونڈپائی۔ سو وہ اقامے کی سوئی کے ناکے سے گزارے گئے۔ کمپنی بند ہوگئی۔ تنخواہ نہ لی گئی پھر بھی وزیراعظم فارغ ہوا۔ عمران خان بذات خود کہتے رہے میں نے ایک آف شور کمپنی بنائی۔ اُس کمپنی کے اکائونٹس میں پیسے آئے اور گئے، فلیٹ خریدے گئے۔ عدالت نے انہیں چھوڑ دیا۔ یہ آف شور کمپنی شاید 1997ء کے انتخابات کے فارم میں درج نہیں تھی۔ عدالت نے ریکارڈ نہیں منگوایا۔ الیکشن کمیشن کو 5 سالہ جانچ پڑتال کا پابند بنایا۔ واضح طور پر عمران خان کو وہ فیصلہ دیا گیا جو ایک ایسی عدالت ہی دے سکتی تھی جو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جہانگیر ترین انسائٹرر ٹریڈنگ کرتا رہا، جو ایک سنگین جرم ہے۔ یہاں اُس نے شوکت عزیز سابق وزیراعظم کے بھائی کا رول ادا کیا۔ دونوں اسٹاک ایکسچینج کے اندر گھسے مناسب وقت کے انتظار میں رہتے تھے۔ شب خون مارکر کمپنیاں ہڑپ لیتے تھے۔ جہانگیر ترین کو ان جرائم میں سزا نہ ملی۔ وہ ایس ای سی پی کے ساتھ غیرقانونی ڈیل کرتا رہا۔ اُس کو سزا ایک وقف پراپرٹی میں مس مینجمنٹ پر ملی۔ حدیبیہ کیس میں بینچ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھا۔ وکیل کو بار بار جھاڑ پلائی۔ پانامہ اور ادھر اُدھر کی ہانکنے سے روکا۔ مردہ گھوڑے کو چابک مارنے سے خود کو قاصر قرار دیا۔ ایک ہی دن میں یہ تین فیصلے آنے کے بعد ملک بھر میں عوام واضح طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔ ملک کے چند منجھے ہوئے سپریم کورٹ لائرز نے ان فیصلوں پر سخت تنقید کی۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی تقریر نے ادھ کھلے دروازے کی چولیں اکھاڑ دیں۔ ہر طرف بگٹٹ لشکر دندنانے لگے۔ وہ گرد اٹھی کہ سپریم کورٹ کے ترازو نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ نے محسوس کیا کہ کہیں گیم ہاتھ سے مکمل نہ جائے۔ کچھ اہم فیصلے ہوئے۔ قول و قرار ہوئے اور وقتی طور پر معاملات میں عارضی ٹھہرائو دکھائی دے رہا ہے۔

سابق وزیراعظم کی اپنی فیملی قریب قریب سیاست سے باہر ہوگئی ہے۔ مریم نواز پہ نظریں جمی تھیں۔ وہ بینی فشل اونر کی بندوق کے سامنے آگئیں۔ یہ وہی بندوق ہے جسے عمران خان کی کنپٹی سے ہٹایا گیا ہے۔ اگر اگلے چند ماہ دونوں باپ بیٹی اچھے بچوں کی طرح رہے تو مریم نواز سیاست میں واپس آبھی سکتی ہیں۔ ان کی ہتھکڑیاں کھل سکتی ہیں۔ اگر وہ تُند رہیں تو ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر ہوجائیں گی۔ دونوں بیٹے ملک سے بھی باہر ہیں اور عقل و شعور کی سرحدوں سے بھی بہت باہر گزارا کرتے ہیں۔ یہی کام پاکستان میں رہ کر کیپٹن صفدر فرماتے ہیں۔ وہ حسین نواز اور حسن نواز جب بھی منہ کھولتے ہیں انسان کا مقدر پر ایمان اور مضبوط ہوجاتا ہے۔ اگر مقدر نہ ہوتا تو یہ ذہنی قلاش بھوکے مرجاتے۔ شہباز شریف کے سر سے تلوار ہٹالی گئی، مگر پنجاب میں طاہر القادری کو لاکر بلی چوہے کا کھیل شاید جاری رہے گا۔ شہباز شریف کو ذرا مزید ٹائٹ کیا جائے گا۔ اس بات سے عمران خان کو خوش کیا جائے گا۔ اگر عمران خان اپنے چھوڑے ہوئے دھویں کے بادلوں سے باہر آئے اور اگلی محلے میں اُڑنے والے جہازوں کی بجائے رن وے پہ اُڑنے والا جہاز بننے کی کوشش کی تو شہباز شریف اُسے واپس حسن بن صباح کی حشیشی جنت میں ھکیل دے گا۔

آنے والے چند ماہ میں عمران خان بے مہار رہیں گے اور مزید قوت پکڑیں گے۔ شہباز شریف کی قوت نواز شریف اور مریم نواز کے رویے پر منحصر ہوگی۔ آیندہ الیکشن میں عمران خان کے پاس نعروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کے پی میں پی ٹی آئی نے چند کاسٹیک کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ شہباز شریف کے پنجاب کی ترقی کے لیے چند ایسے کام کیے ہیں جو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے جسے ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات کی زینت بنایا جارہا ہے۔ شہباز شریف کو نواز شریف کے مظلومیت بھرے لب و لہجے سے بھی کافی ووٹ ملے گا۔ ابھی بھی بھلے وہ درجنوں گاڑیوں میں نیب کورٹ آتے ہوں، یہ بات ہر پڑھنے لکھنے اور سوچنے والے پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ جمہوریت ہی یہاں ایک ایسا سسٹم ہے جو آمریت کے مقابلے میں ہر گردن کو قانون کے سامنے ختم کرتا ہے۔ بھٹو کے عدالتی قتل نے اسے تین دہائیوں تک زندہ رکھا۔ زرداری نے اُس کی تدفین کی۔ اگر نیب نواز شریف پر واضح جرم ثابت نہ کرسکا تو ن لیگ کی پاپولیرٹی مزید بڑھ جائے گی۔ اگر ن لیگی لیڈر شپ غریب پاکستانی عوام کی گہری درد مندی اپنے اندر سمولیتی تو عمران خان پنپ نہ سکتے۔ ایسا بدقسمتی سے ہو نہ پایا۔ پھر بھی ہمارے ہاں ایسے لوگ بہت زیادہ ہیں جو نواز شریف کی شریفانہ گفتگو اور مشرقی رکھ رکھائو کو عزیز رکھتے ہیں۔ وہ عمران خان کی بدگفتاری اور اُس کے گرد جمع اوباش نوجوانوں کی سوشل میڈیا پہ گالی گلوچ کی روش کو دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔ عمران خان کی تعلیمات نے نوجوانوں میں عقابی کی بجائے شیطانی روح بیدار کی ہے۔ مخلوط جلسے، ڈانس، بھنگڑے، میوزک، چرس کے اجزائے ترکیبی سے یہ انقلاب ممکن ہوا۔ چند تہذیب یافتہ لیڈر ناکام ہوکر پارٹی چھوڑگئے۔ کرپٹ اور بدقماش لوگ اس لانڈری سے دھل دھلاکر نکل رہے ہیں۔ عمران خان پاکستان کا نمبر ایک لیڈر بن سکتا تھا۔ جنرل پاشا نے یہی سوچ کر اُس کے سر پہ دستِ شفقت رکھا تھا۔ 2014ء میں اسٹیبلشمنٹ اُس کے ایمپائرز کی انگلی والے افشائے راز کو بھلا نہ سکی۔ اب عمران اور شہباز دونوں کی طاقت برابر رکھی جائے گی۔

بے یقینی کی دھند راستوں کو گم کردیتی ہے۔ ایک کمزور حکومت، فیض آباد دھرنے اور ریاستی بے بسی نے ملک میں انوسٹمنٹ کو نہ ہونے کے برابر کردیا۔ ڈالر کی شرح راکٹ کی طرح اوپر جارہی ہے۔ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف بیرون ملک تینوں کیس ہار چکا ہے۔ کروڑوں ڈالر جرمانہ ہم ہر ماہ ادا کریں گے۔ کے پی اور بلوچستان دونوں صوبے دہشت گردانہ کارروائیوں سے گونجتے رہتے ہیں۔ ہر کارروائی کے بعد ایک انتہائی پرسکون ترجمان خدا کے شکر سے بات کا آغاز کرتا ہے کہ 10 افراد مرے زیادہ بھی مرسکتے تھے۔ انسانی جان، مال، جائیداد کسی کی عزت ہمارے ہاں سلامت نہیں رہی۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی قسطیں بھاری سے بھاری ہورہی ہیں۔ وزیراعظم عباسی کی حکومت ہر دن کے خاتمے پر کائونٹ ڈائون مکمل کرتی ہے۔ فاٹا انضمام بل پر یہ ضرورت سے زیادہ تساہل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ حکومت محض دن گننے، مارچ میں سینٹ الیکشن کرانے، حلقہ بندیاں بنانے اور انتخابات کی کال دینے کا نام نہیں۔ جولائی کے بعد سے ہمارا ملک مرکز میں قوت کھوبیٹھا ہے۔

آج ہمارے ہاں ہر آدمی اپنے کام کے علاوہ دوسرے ہر کام کا ماہر ہے۔ ہمارے ہاں کے لنگڑے بریک ڈانس سیکھا سکتے ہیں۔ اندھے سی گرین اور یلیو گرین رنگوں کے فرق پر اتھارٹی رکھتے ہیں۔ قانون کا محافظ وکیل ایک غنڈے کا روپ دھار چکا۔ ملتان میں نئی کچہری میں مطلوبہ سہولتیں نہ ہونے پر 2007ء کے ان ہیروں کا ایکشن دیکھنے کے قابل تھا۔ انہوں نے شیشے، کھڑکیاں توڑ دیں ہر شے مسمار کردی۔ یہ لوگ سائلین کو پیٹتے ہیں۔ پولیس والوں پر حملہ کرتے ہیں، ججوں پر لپکتے ہیں۔ 36 سال بعد فرشتہ سیرت جج جسٹس شوکت صدیقی نے ایک مکان پر وکیل کا قبضہ چھڑایا اور چابیاں مالک مکان کو دیں تو یہ وکیل اور اُس کا عدالتی وکیل معزز جج صاحب سے بدکلامی پر اُتر آئے۔ اس برس جنوری میں 5 بلاگرز اٹھالیے گئے تھے۔ اُن پر توہین رسالت کا الزام عائد کردیا گیا۔ ٹی وی، سوشل میڈیا اور اخبارات میں اُن کے قتل کی اپیلیں آنا شروع ہوگئیں۔

اُن کے گھر والے جان بچاکر بھاگ گئے ۔ 4؍ افراد چند ماہ بعد لوٹ آئے۔ تمام خاندان ملک سے جان بچاکر نقل مکانی کرگئے۔ آج خبر آئی کہ اُن پر یہ الزام ثابت نہ ہوپایا۔ کوئی ثبوت ایف آئی اے نہ دے پائی۔ یوں وہ لوگ بے گناہ قرار پائے۔ ہم اس معاشرے کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جیسے بڑے عالم نے بے گناہوں کی جان و مال اُن کے اہلِ خانہ کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ہمارے ہاں قانون کو پارلیمنٹ کے اختیارات ہتھیانے کے بجائے ان مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن جس رکن اسمبلی کو چاہیے ڈی سیٹ کردے۔ وہ چاہے تو 1997ء کے گوشواروں میں عمران خان کی مبینہ کرپشن کو پکڑے۔ نیب اگر آج سابق وزیراعظم کے خلاف کیس کی سماعت کررہا ہے تو پہلے بھی کرسکتا تھا۔ کوئی بھی بڑا اُس کی نگرانی کرسکتا تھا۔ وہ بدطینت ٹرمپ پاکستان کو ننگی دھمکیاں دے رہا ہے۔ فوج اپنے آپ کو سرحدوں کی حفاظت کے لیے مختص کردے۔ وہ اس بات سے غرض نہ رکھے کہ پارٹیوں کے دو دھڑے ہوتے ہیں یا چار؟ پارلیمنٹ میں بیٹھے عاقبت نااندیشوں کو چاہیے کہ اس ملک کی درست سمت لے کر جائیں۔ کسی بھی ریاستی ادارے کو موقع نہ دیں کہ وہ انتظامی امور پر آنکھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ آرمی چیف نے بجا کہا کہ پارلیمنٹ خارجہ اور دفاعی پالیسی بنائے، فوج اُس پر عمل کروائے گی۔