• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

6؍ دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا۔ اُس نے وہاں امریکی سفارت خانہ کو منتقل کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ امریکا دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اس شیطانی فعل کی داغ بیل ڈالی ہے۔ 1995ء میں امریکی کانگریس نے بل کلنٹن کے دور میں ایک قرارداد پاس کی تھی۔ تسلیم کیا گیا کہ امریکا صدارتی لیول پر یروشلم کو اسرائیلی جاگیر تسلیم کرے گا۔ امریکی صدر کے پاس ایک اتھارٹی ہے کہ وہ چھ ماہ کے لیے کسی بھی قرارداد پر عمل روک سکتا ہے۔ بل کلنٹن نے مسلم دنیا کے سخت ری ایکشن آنے کی بنا پر اسے چھ ماہ موخر کردیا۔ پھر وہ 2000ء تک اپنی صدارت کے اختتام تک یہی فعل دوہراتا رہا۔ جارج بش جیسا خونخوار بھیڑیا بھی اس قرارداد کا وزن نہ اٹھاسکا۔ وہ اور اُس کا جانشین اگلے 16 برس تک اس بھاری پتھر کو اٹھانے سے قاصر رہے۔ 2016ء میں امریکی انتخابات میں ٹرمپ کا ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ وہ منتخب ہوکر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے گا۔ یہودیوں نے اُس کی حمایت کی اور وہ الیکشن جیت گیا۔ یوں اس وقت امریکا اسرائیل اور بھارت تینوں ملکوں میں مسلمانوں کے خون کے پیاسے حکمران تخت پر براجمان ہیں۔ مودی اور نیتن یاہو مسلمانوں کے قتل عام کے ریکارڈ ہولڈرز ہیں۔ ٹرمپ نے اپنا وعدہ پورا کردکھایا اور جہنم کے دروازے واقعی کھول دیے گئے۔ اب مشرق وسطیٰ میں لگی آگ مزید پھیل جائے گی۔ مسلمانوں کو شکروں میں تقسیم دیکھ کر اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے بھانپ کر امریکا نے موقع دیکھا اور وار کردیا۔


اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے اس کارروائی کو مسترد کردیا اور سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یورپی یونین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت بڑے یورپی ملکوں نے ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں کو جن میں زور دیا گیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ حل طلب مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان سب کو امریکا نے بھسم کردیا ہے۔ کیتھولک عیسائیوں کی سب سے بڑی مذہبی شخصیت ویٹی کن کے پوپ نے بھی اسے بلاجواز کہا ہے۔ اُس نے تنازعات میں گھری دنیا میں اسے ایک اور بہت بڑا تنازعہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے کدورتوں اور بے انصافیوں کے احساسات کو مزید مہمیز ملے گی۔ سعودی عرب نے اسے بلاجواز اور لبنان نے اس کی کھلی مذمت کی ہے۔ اردن نے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کہا۔ عرب لیگ اسے ایک نہایت خطرناک قدم اور خطے کے لیے سنگین نتائج کا حامل فعل کہہ رہی ہے۔ ایران نے اسے ایک اشتعال انگیز اور غیردانشمندانہ فیصلہ کہا جس سے سخت پرتشدد نتائج نکلیں گے۔ سب سے بڑھ کر ترکی نے 5؍ دسمبر کو ہی واضح کردیا تھا کہ یروشلم ایک لال لکیر ہے۔ امریکا اسے پار نہ کرے ورنہ ترکی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردے گا۔ پاکستان نے بھی اس دہشت گردی پرزور مذمت کی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے کہ 3 ہزار سال بعد یہ دن آیا ہے۔ یاہو نے کہا کہ یہودی اور یہودی ریاست ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد دنیا بھر کے یہودیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تل ابیب کی سڑکوں پہ لوگ جھومتے اور رقص کرتے رہے۔ ساحلوں پر شراب و کباب کے ساتھ ناچ گانا ہوا۔ اسے اسرائیل کی تاریخ میں ایک یومِ سعید کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ دوسری طرف مسلم دنیا کے لیے ایک مشکل گھڑی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں غم و غصے کی لہر دو ڑ گئی۔ جمعہ 8 ؍ دسمبر کو ساری اسلامی دنیا میں نمازِ جمعہ کے بعد جلوس نکلے جو پتلے جلانے، پرچم بھسم کرنے، نعرے لگانے، پوسٹر چسپاں کرنے اور مذمت کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کرسکے۔

مسلم دنیا کو دیکھا جائے تو او آئی سی اسلامی ملکوں کی سب سے بڑی تنظیم قرار دی جاتی ہے۔ اس کے چار اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ہیں۔ ایک صرف فلسطین پر تمام تر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔

1975ء میں او آئی سی کی چھٹی کانفرنس میں ’’القدس کمیٹی‘‘ بنائی گئی۔ ساتویں کانفرنس میں ’’القدس فنڈ‘‘ قائم کیا گیا۔ جون 1981ء میں آزادی فلسطین کے لیے او آئی سی نے Islamic Office for Military Cooperation With Palestine قائم کیا۔ جب اسرائیل نے تل ابیب سے اپنا دارالحکومت یروشلم منتقل کیا تو او آئی سی نے ساری دنیا کو دھمکی دی کہ جس بھی ملک کا سفارت خانہ یروشلم منتقل ہوا، اُس سے تمام مسلم دنیا اپنے تعلقات توڑ دے گی۔ اسرائیل کا ساتھ دینے والے ہر ملک کا معاشی بائیکاٹ کرنے کی قرارداد بھی پاس کی گئی۔ مندرجہ بالا ساری کارروائیاں درحقیقت صرف کاغذوں کا پیٹ بھرپائیں۔ ان خوابوں کی تعبیریں حقائق کے تمتماتے سورج میں پگھل کر رہ گئیں۔ اگر عرب لیگ کو دیکھا جائے تو اس کا بجٹ او آئی سی سے دس گنا زیادہ ہے، لیکن اس کے سر پر بھی نامرادی اور ناکامی نما کے کانٹوں کا تاج ہے۔ مسلم دنیا جس کے پاس 2200 ملین، ہیکڑ قابلِ کاشت اراضی ہے۔ اس کے پاس قدرتی وسائل دنیا بھر سے زیادہ ہیں۔ اس کے بادشاہوں کے خزانے فرش سے چھت تک بھرے ہوئے ہیں۔ مسلم اُمہ جس کا صرف ایک ملک سوڈان ساری مسلمان قوم کو گندم پیدا کرکے دے سکتا ہے۔ اس امت کی بدنصیبی دیکھیے کہ چھوٹا سا ایک شرپسند ملک اُن کے بھائیوں بہنوں کو سفاکی سے قتل کرتا رہا، لوٹتا رہا اور سوائے مذمت کے ہم کچھ نہ کرپائے۔ ہم نے شاہراہوں پر بینر لگادیے۔ ہم نے بیانات جاری کردیے۔ فلسطینیوں کے لیے دعا فرمادی اور ساری اُمت سمجھ بیٹھی کہ اقوام متحدہ اسرائیل کو اور امریکا کو روک لے گی کہ وہ امن کی غارت گری نہ کرے۔

یو این او کے 10 بڑے ملکوں پر یہودی لابی اثرانداز ہے۔ 22 بڑے شعبوں میں سے 9 یہودیوں کے پاس ہیں۔ یونیسکو کے 11 شعبے مکمل طور پر یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ ایف اے او کی 3 شاخیں یہودیوں کے گھر کی باندیاں ہیں۔ آئی ایل او کے چار شعبے یہودیوں کے غلام ہیں۔ آئی ایم ایف کے 6 سب سے بڑے عہدوں پر یہودی قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ ورلڈ بینک جس نے دنیا کے 176 ملکوں کو قرض کے جال میں پھنسایا ہوا ہے، کے سارے کے سارے بڑے عہدے دار فری میسن یہودی ہیں۔ یوں ان ملکوں پر یہودیوں کا تسلط بہت مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔ امریکا کے 85 سب سے بڑے اداروں میں سے 54 پر یہودی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس طرح امریکا کا 60 فیصد درحقیقت اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ ساری دنیا کے خلائوں پر حکمرانی کرنے والے امریکی ادارے ’’ناسا‘‘ کا سربراہ فری میسن یہودی ہے۔ ’’وال اسٹریٹ‘‘ نیویارک جو دنیا بھر کی معیشت کو کنٹرول کرتی ہے۔ کلی طور پر یہودی تسلط میں ہے۔ ’’مائیکرو سافٹ‘‘ کمپنی جو دنیا بھر کو کمپیوٹرز اور سافٹ ویئرز دیتی ہے، کا سارا بورڈ آف ڈائریکٹرز یہودی ہیں۔ امریکی ایوی ایشن کا 83 فیصد، یونیورسٹیوں کا 90 فیصد، ادویات کا 70 فیصد شعبہ یہودیوں کے پاس ہے۔ امریکا کی 5 سب سے بڑی میڈیا ایمپائرز ٹائم وارنر، والٹ ڈزنی، ویٹا کام، یونیورسل اور روپرٹ ڈاک یہودیوں کی جیب میں ہیں۔ سی این این، فاکس نیوز، ٹائم، نیوز ویک، ریڈرز ڈائجسٹ، نیویارک ٹائمز جیسے نیوز چینل، میگزین اور اخبارات کے مالک یہودی ہیں۔ امریکی بینکاری کے ستون، سارے بڑے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو فری میسن یہودی دجالوں نے اُچک لیا ہے۔ ریکارڈنگ ٹیپس، آڈیو سسٹم، ٹیلی ویژن، پروگراموں، مصنوعی سیارے کے ذریعے نشر کرنے والے آلات، ڈش کمپنیوں اور کیبل پر یہودی تصرف مضبوط سے مضبوط تر ہوئے جارہا ہے۔ دنیا بھر میں بچوں کے لیے کارٹون دکھانے کی صنعت کو یہودیوں نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اب امریکا کے 190 ارب پتیوں میں سے 140 یہودی مذہب سے وابستہ ہیں۔

اسرائیلی مظالم کے خلاف اب تک 500 سے زیادہ قراردادیں سلامتی کونسل نے پاس کیں۔ 60 منظور ہوئیں۔ پر کسی پر بھی عمل نہ ہوپایا۔ 45 بار اسرائیل کے خلاف ایکشن لینے کی قراردادیں امریکا نے ویٹو کردیں۔ 1917ء میں یعنی ٹھیک ایک صدی پہلے برطانوی لارڈ بالفور نے یہودی آبادکاروں کو ’’مالکانہ‘‘ حقوق دیے۔ 1948ء میں یہودیوں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا۔ 1956ئ، 1967ئ، 1973-74ء میں جنگیں ہوئیں۔ اسرائیل نے ایک لاکھ 9 ہزار 93 مربع میل کا عرب علاقہ ہڑپ کرلیا۔ 1982ء میں صابرہ اور شطیلہ کیمپوں میں یہودی درندگی کی مثال ملنا مشکل ہے۔ 2009ء 2 ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔ دہائیوں سے امریکا کی پشت پناہی سے یہودیوں کا رقص ابلیس جاری ہے۔ اب ٹرمپ نے حالات کو سازگار پایا ہے۔ سارے مشرق وسطیٰ میں امت لہولہان ہے۔ ملک برباد ہیں، معیشت زبوں حال ہے۔ مہاجر ملکوں بھٹکے پھرتے ہیں۔ 70 برس پہلے جو اسرائیل دنیا بھر کی منت سماجت کرکے اقوام متحدہ میں گھسا تھا آج اُس نے وہ سارے معاہدے پھاڑ کر پھینک دیے ہیں۔ خیمے میں سر ڈالنے والا اونٹ سارے خیمے کا مالک بن گیا ہے۔

29؍ نومبر 1947ء کو اسرائیل کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کے لیے اسرائیل نے مجوزہ تین شرائط مانیں اور دستخط کیے۔ یہ شرائط یہ تھیں۔ اسرائیل یروشلم کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔ وہ عربوں کو ان کی زمینوں پر واپس آنے دے گا اور وہ اقوام متحدہ کی وضع کردہ سرحدوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی اب جو پالیسی ہے وہ یہودی لیڈر بن گوریان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ’’اسرائیل 29؍ نومبر 1947ء کی اقوام متحدہ کی اس قرارداد اور اس کی تینوں شرائط کو مکمل طو رپر ساقط اور کالعدم تصور کرتی ہے۔‘‘ موجودہ ارائیلی لیڈر شپ اسرائیل فلسطین مسئلے پر 1978ء میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے، 1993ء کے معاہدہ اوسلو، 1994ء کے معاہدہ قاہرہ، 1995ء کے معاہدہ طبا، 1998ء میں ہونے والے دریائے وائی کے معاہدے، 1998ء کے معاہدہ شرم الشیخ سے اپنے آپ کو کلی طور پر آزاد تصور کرتی ہے۔ گریٹر اسرائیل کی ڈاکٹرئن اب یہودی پالیسی سازوں کی مرکز نگاہ بن گئی ہے۔ اسرائیل، امریکا، بھارت اور اسلام دشمن ساری قوتیں ایک صفحے پر اکھٹی ہوگئی ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کے پاس مزید کھونے کو کچھ نہیں بچا۔ فوری اتحاد اور مسلسل مزاحمت سے ہی یہودیوں کے مقابلے میں ہم دوبارہ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جرمِ ضعیفی جاری رہا تو مرگ مفاجات سے بچنا مشکل ہوگا۔