• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

بیسیویں صدی میں انسان نے وہ ایجادات کیں کہ پرانی نسلیں ان کا یقین کرسکتی تھیں۔ بجلی کا بلب ایجاد ہوا اور اُس کی روشنی نے رات میں دن کا سماں پیدا کردیا۔ لائوڈ اسپیکر نے انسانی آوا زکو میلوں دور تک پہنچانا شروع کردیا۔ ریڈیو ٹی وی بنائے گئے اور معلومات سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رسائی پانے لگی۔ موٹر سائیکل، گاڑیاں، ٹرینیں ایجاد ہوئیں اور انسان نے فاصلوں کو قربتوں میں بدل دیا۔ ہوائی جہاز بناکر اُڑائے گئے اور مہینوں سالوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر کا سفر شروع ہوا۔ دنیا انٹرنیٹ، فیس بک، یوٹیوب، آئی پیڈ کی وساطت سے سکڑ کر ایک ہی نقطے میں آگئی۔ وی سی آر سے ڈش انٹینا اور پھر کیبل تک تیزی سے پہنچاگیا اور انسان کے پاس معلومات کا خزانہ جمع ہونا شروع ہوگیا۔ ریفریجریٹرز اور مائیکرو ویو اوون نے گرم کو ٹھنڈا اور ٹھنڈے کو گرم کرنے کے کمالات دکھائے۔ انسان زندگی میں جوسر، بلینڈر، مکسچر، واشنگ مشین، ڈش واشر، ٹوسٹر مکر اور ہاٹ پاٹ آگئے۔ زندگی سہل ہوتی گئی۔ انسان اے سی سے گرمی میں ٹھنڈ اور ہیٹر سے سردی میں گرمی کے مزے لوٹنے لگا۔ جنریٹر اور یو پی ایس تک بجلی کی مسلسل فراہمی کو بہم پہنچایا جانے لگا۔ انسانی دور بینوں نے سیاروں اور ستاروں کا مطالعہ کیا

۔ خلائی گاڑی سے انسان چاند پر جا اُترا اور وہاں اپنے جھنڈے گاڑ آیا۔ انسان سینکڑوں منزلا عمارتیں بنانے لگا۔ وہ فلائی اوور، برج اور سمندروں میں شہر بسانے کی منزل پر آن پہنچا۔ انسانی علم کا پھیلائو اتنا تیز ہوا کہ ماحولیات، جینیات، شماریات، تکونیات، حیاتیات، نسیاعات، خلائیات کے بڑے بڑے تحقیقی ادارے وجود میں آگئے۔ انسان نے ایکس رے، الٹراسائونڈ، تھرمامیٹر، سرجری کے آلے بنائے اور شعائوں سے علاج شروع کردیا۔ وبائوں کا خاتمہ ہونے لگا اور بے شمار بیماریوں کا کارگر علاج ہونے لگا۔ انسانی اعضا تبدیل ہونے لگے۔ پیوندکاریوں میں ترقی ہونے لگی۔

بیسیویں صدی کے ہی وسط میں محکومِ دنیا انگڑائی لے کر اٹھی۔ تین چوتھائی ملک یورپی استعمار سے نکل آئے۔ کوئی محکومت اور مقہور ممالک آج دنیا کی سپرپاورز تک جاپہنچے ہیں۔ بین الاقوامی فورمز میں اُن کی بات ہمہ تن گوش سنی جاتی ہے۔ کچھ ہم جیسے ہیں جن کا تمام سفر ایک دائرے میں گھومنا ہے۔ مارشل لا ہو یا جمہوریت یہی وہ کرتب ہیں جو ہمارے ملک کی مقتدر قوتیں دکھاتی رہتی ہیں۔ دنیا بجلی، گیس اور صاف ستھرے پانی کی ترسیل کے مسائل بہت پہلے حل کرچکی ہے۔ ہم جیسے ملکوں میں ان مسئلوں کا کوئی حل دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی آلودگی سے سب سے زیادہ امراض پیدا ہورہے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں پینے کا پانی سرے سے مہیا ہی نہیں اور جہاں کہیں یہ مہیا ہے۔ اُس میں اتنی کثافتیں ہیں کہ اُن سے پیدا ہونے والی بیماریاں قطار و شمار سے باہر ہیں۔ ہم متوازن نہیں، کبھی ہم اپنی معدنیات کی دریافت پر وہ شور مچاتے ہیں کہ ہم جیسا کوئی خوش نصیب دنیا میں نہیں ہوتا۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ہم سخت شرمسار ہوجاتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا منظرنامہ یہ ہے کہ چند سال پہلے ایک بہروپیے نے پانی سے گاڑی چلانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ملک کے تین چار چوٹی کے سائنس دانوں نے دلی مبارکبادیں دیں۔ یہ تک نہ سوچا کہ یہ اول جلول دعویٰ فزکس کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

جمعہ 17؍ نومبر کو یہ خبر بجلی بن کر گری کہ درآمدی ایل این جی کے ٹینڈر منسوخ کردیے گئے ہیں۔ اس سال بھی گیس کی قلت جاری رہے گی اور اس کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہے گی۔ اس ٹینڈر منسوخی سے اضافی 600 ایم ایم بی ٹی یو گیس سسٹم میں شامل نہیں ہوپائے گی۔ قطر جس سے ہم نے ایل این جی کا تاریخی معاہدہ کیا ہے، اُس نے بھی اتنی مقدار میں اضافی کوٹہ دینے سے انکار کردیا ہے۔ پچھلے برس کی طرح اس سال بھی شارٹ فال 1 سے 1.2؍ ارب مکعب فٹ رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ ہمارے وزیراعظم جن کے نام کے ساتھ ایل این جی تخلص کی طرح آن لگا ہے، اُس وقت وزیر پیٹرولیم تھے جب قطر سے ہم نے معاہدہ کیا تھا۔

اب حکومت کے پیٹرولیم ڈویژن نے ٹرمینل کے آپریشنل نہ ہونے کی بنا پر 8 ایل این جی کارگوز کے ٹینڈر منسوخ کردیے ہیں۔ اگر ان کو ٹینڈر دیے جاتے تو ایل این جی قطر سے درآمد کردہ قیمت سے بھی مہنگی پڑنی تھی۔ دسمبر میں چار کمپنیوں نے ایل این جی کی قیمت خام تیل کی قیمت کے بالترتیب 15 فیصد، 14.69 فیصد، 14.87 فیصد اور 13.98 فیصد پر فراہم کرے کی بولی دی تھی، جبکہ جنوری میں قیمت بالترتیب 16.25 فیصد، 16.48 فیصد، 16.89 فیصد اور 16.12 فیصد دی گئی تھی۔ دوسری طرف نوازشریف کے منظرعام سے ہٹنے پر بجلی کا بحران بھی شدید ہوگیا ہے۔ لوڈشیڈنگ جس کا دورانیہ حکومت کی تگ و دو سے خاصا کم ہوگیا تھا۔ اب اُس کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ کئی الیکٹرانک جنریشن کمپنیوں سے ہمارے مالی معاملات خراب ہوچکے ہیں۔ ہمارے چند ریٹائرڈ ججوں کو بین الاقوامی قانون کے بارے میں اتنی ہی معلومات تھی جتنی پرویز مشرف کو آئین اور قانون کی تھی۔ ان ججوں نے ریکوڈیک اور بجلی کمپنیوں سے ٹھوس بین الاقوامی معاہدے منسوخ کردیے۔ اب عالمی آربٹریشن کورٹس نے ہمیں کروڑوں ڈالرز کے جرمانے کیے ہیں۔ ہم باہر بہت روئے کہ ہمارے ملک میں یہ فیصلے وقت کے بہترین قاضی القضاۃ نے کیے۔ اس کے باوجود وہ ناہنجار ہم پر ہنستے ہیں۔ فقرے کہتے ہیں کہ انصاف کی مسند پر عقل والوں کو بھٹائو۔

پاکستان نے قطر سے سالانہ ایک کھرب روپے کی ایل این جی کی خریداری کا 15 سالہ معاہدہ کیا۔ تعلیم، صحت، ریڈیو، ٹی وی اور دفاعی شعبے میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ ہر ایل این جی کارگو کی قیمت 13.37 فیصد پر نیٹ مقرر کی گئی۔ طے پایا پی ایس اور ہماری بندرگاہوں پر مال اترنے کے 15 دن کے اندر اندر ادائیگی کیا کرے گا۔ سالانہ 3.75 ملین ٹن گیس سے ہماری 20 فیصد ضروریات پوری ہوں گی۔ یوں ہم سالانہ 37.50 لاکھ ٹن ایل این جی حاصل کیا کریں گے۔ ایل این جی کی قیمت خام تیل کی بین الاقوامی قیمت سے متعین ہوا کرے گی۔ پاکستان قطر کو ایک لاکھ مزدور فراہم کرے گا، جن کے ہنر سے ہمارا زرمبادلہ بڑھے گا۔ پاک قطر معاہدے سے ہماری بجلی کی پیداوار میں مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے۔ قطر سے آنے والی گیس ہمیں 5.35 ڈالر فی ایم ایم برٹش تھرمل یونٹ میں پڑے گی۔ یوں یہ نرخ پاک ایران پائپ لائن کے مقابلے میں 0.35 اور تاپی گیس پائپ لائن کے مقابلے میں 0.55 ڈالرز فی یونٹ کم ہیں۔ اس معاہدے سے ہمارے صنعتی، زرعی کاروباری اور گھریلو صارفین کو بہت سہولت فراہم ہوگی۔ ہم کم قیمت پر کھاد پیدا کرکے اپنے کسانوں کے لیے ایک بڑی راحت پیدا کریں گے۔ توانائی بحران کی وجہ سے شدید متاثر ہونے والی صنعتوں کی پیداوار بڑھے گی اور ملکی ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی۔ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بند سی این جی اسٹیشن دوبارہ فعال ہوں گے۔ عوام کے لیے سفر کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بجلی کی بلاتعطل فراہمی سے ہم اُس وحشت ناک خواب سے نکل آئیں گے جس نے ہمیں کئی سالوں سے جکڑ رکھا ہے۔ لوڈشیڈنگ گرمیوں کے موسم میں ایک وبال جان رہی۔ اس نے عام پاکستان کو ذہنی خلجان میں مبتلا کر رکھا تھا۔ آدمی اگر رات کو پرسکون سو نہ سکے تو دوسرے دن اُس کی کارکردگی اور ذہنی حالت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی بندش کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ اگر کھانا ہی نہ پک سکے تو آدمی کی زندگی میں کیا مسرت باقی رہتی ہے۔ چھوٹے بچے ناشتہ کیسے کریں گے اور اسکول میں کیا تعلیم حاصل کریں گے۔ دفاتر اور فیکٹریوں کو جانے والے بھوکے پیٹ جاکر کیا کارکردگی دکھا پائیں گے۔ گرم پانی کے حصول میں ناکام لوگ ٹھنڈے ٹھار موسم میں طہارت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان سے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر ملک کا شمالی حصہ دسمبر اور جنوری میں شدید سردی کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ ان ایام میں گیس کی عدم دستیابی موسم کے لطف کو چاٹ لیتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ قطر سے آنے والی گیس کے لیے ٹرمینل آپریشنل کرے اور سستے ٹینڈر منظور کرے، تاکہ صارفین کے لیے گیس مزید سستی ہوسکے۔ اگر حکومت ملک کی سوئی گیس عوام کی ضرورتوں کے لیے فراہم کردے اور قطر سے آنے والی گیس صنعتوں اور کاروباری حلقوں کو دی جائے تو یہ بڑا احسن قدم ہوگا۔ این ایل جی کے مہنگا ہونے کی صورت میں بھی ہمارا متمول صنعت کار اور تاجر اسے خرید پائے گا۔ اگر یہ گیس عام صارف کے لیے مہنگی ہوگی تو وہ اپنی محدود قوت خرید سے اسے حاصل نہیں کرپائے گا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایل این جی، گیس، بجلی اور دوسری ضروریات زندگی جیسے صاف پانی کی دستیابی کو ممکن بنائیں۔ ہم بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کریں۔ ملک سے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو۔ اگر ہماری عوام کی زندگی سستی بجلی، گیس اور پانی کی ترسیل سے سہل ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات ہمارے ملک کی ترقی پر بھی ہوں گے۔ ہم دنیا سے قدم سے قدم ملاکر چل پائیں گے۔ سچ بات ہے کہ وہ دنیا جس کی سائنسی ترقی نے انسانی عقل کو دنگ کر رکھا ہے، ہم اُس ترقی میں کسی قسم کا کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں کرپائے۔ ہم لوگ اگر مجموعی انسانی ترقی میں کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دے پائے تو کم از کم ہم اس قابل تو ہوجائیں کہ جدید سائنسی ترقی کے شجر سے سیڑھی لگاکر پھل اُتارسکیں۔