• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اسموگ (Smog) ایک نہایت زہریلا مرکب ہے۔ اس میں دھویں، مٹی، ریت، آبی بخارات اور دوسری زہریلی گیسوں کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ پچھلے دو تین ہفتوں سے یہ خطرناک دھند پنجاب کے تمام میدانی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ حدِنگاہ دن میں بھی زیرو ہوگئی ہے۔ سڑکوں پہ حادثات خوفناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ٹرینیں کئی کئی دن لیٹ پہنچ رہی ہیں۔ ایرپورٹ بند ہوچکے ہیں۔ فلائٹیں کینسل کی جاچکی ہیں۔ 17 بجلی گھر کلوز کردیے گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاکر 12 گھنٹے تک کردیا گیا ہے۔ اسموگ کی وجہ سے ایٹمی اور پن بجلی کی پیداوار میں بڑی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارا بجلی کا شارٹ فال اس ناگہانی آفت کی وجہ سے 6700 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ تیل سے بجلی پیدا کرنے والے 13 پاور اسٹیشنوں کے بند ہونے سے 5500 میگاواٹ اور گیس کی بندش سے 1205 میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی۔ چشتمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹرپنگ کی وجہ سے عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ 4؍ نومبر کو اچانک ڈیزل اور فرنس آئل سے چلنے والے سب بجلی گھر بند کرنے کا آرڈر آگیا۔ پاکستان کی تمام ریفائنریز جلد بند ہوجائیں گی۔ اس طرح پی ایس او کو یومیہ 10 ہزار ڈالرز کے نقصان کا احتمال ہے۔ حکومت کے 400؍ ارب روپے پاور ودہولڈنگ کمپنیوں اور 400؍ ارب ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذمے ہیں۔ یوں حکومت پہ معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ہم نے 276؍ ارب روپے پاور جنریشن کمپنیوں سے تاحال وصول کرنے ہیں۔


دوسری طرف لاکھوں لوگ اسموگ کی پیداکردہ ماحولیاتی آلودگی کے ہاتھوں گلے سانس پھیپھڑوں اور آنکھوں کی بیماریوں کے شکار ہوچکے ہیں۔ دم گھٹنے کا مرض عام ہے، فضا سے آکسیجن غائب ہوتی جارہی ہے۔ بے یقینی کی اس دھند میں راستے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ ہم نے بحیثیت معاشرہ گندگی، غلاظت، کوڑے کرکٹ سے جو پیار پالا اُس نے اپنے ثمرات کو چہارسو پھیلادیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی ہمارے بڑے شہروں کی برکات ہیں۔ مسلم لیگ ن حکومت کے ان ساڑھے چار سالوں میں ہم انفرا اسٹرکچر کے علاوہ کچھ نہیں سنتے رہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ سڑکیں، پل، فلائی اوور ہی ترقی ہوتے ہیں۔ عقل کے یہ اندھے ہمیں یہی باور کرواتے رہے کہ انہی چیزوں سے غربت کم ہوتی ہے، روزگار مہیا ہوتا ہے، بھوک اور خوراک کی کمی کا تدارک ہوتا ہے۔ انہی سے بچے اسکول جائیں گے، عورتوں کا کردار ملکی ترقی میں مزید بڑھے گا۔

ہم نے اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈالنا شروع کردیے۔ ہماری زراعت گرنے لگی۔ ہمارا کسان مزدور بن کر بڑے شہروں کا رخ کرتا رہا۔

ان دہائیوں میں چند بڑے شہروں میں اتنے افراد اور آئے کہ وہاں صفائی ستھرائی، آب و ہوا کی پاکیزگی خواب و خیال کی باتیں بن گئیں۔ اس وقت نومبر 2017ء میں پاکستان شہری آبادی کے لحاظ سے اپنے سارے اردگرد کے ملکوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ہماری 38 فیصد آبادی شہروں میں ہے۔ چین کی 53 فیصد، مالدیپ کی 43 فیصد، بھوٹان کی 37 فیصد، بنگلہ دیش کی 33 فیصد، بھارت کی 32 فیصد، افغانستان کی 26 فیصد جبکہ سری لنکا اور نیپال کی اٹھارہ اٹھارہ فیصدل آبادی شہروں میں رہائش پذید ہے۔ ہمارے شہر گاڑیوں، ملوں اور فیکٹریوں کے زہریلے دھویں سے بھرچکے ہیں۔

ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حالات قابو سے باہر ہوگئے ہیں۔ سینیٹری کا سسٹم ختم ہوچکا۔ غلاظت کے ڈھیر گلی محلے میں نظر آتے ہیں۔ حکومت ان معاملات سے ہاتھ اٹھاچکی ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گندگی اٹھارہے ہیں۔ شہر کا میئر ہر وقت اپنی بے دست و پائی کا مرثیہ پڑھتا ہے۔ ڈپٹی میئر پارٹی تبدیل کرگیا ہے۔ یوں ایک کھینچا تانی ہے جس میں شہر جراثیموں کی جاگیر بن گیا ہے۔ خطرناک بیماریوں کی کثرت آدمی کو ششد کردیتی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان غرض ہر بڑے شہر میں ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جس سے اسموگ اور دوسری زہریلی گیسوں کو فضا میں شامل کرکے ماحول کو مکمل طور پر برباد کردیا گیا ہے۔ لیڈروں کے ساتھ ساتھ ہمارے عوام بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں غلاظت پھیلانے والا سماجی بائیکاٹ کی تلوار کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اُس پر نفرین کی نظر ڈالی جاتی ہے۔ وہ اپنے جرم کی فوراً تلافی کرتا ہے۔ یوں ان ملکوں میں آپ کو شہر، قصبے اجلے دکھائی دیں گے۔ یہی اجلا پن لوگوں کے لباسوں اور چہروں پر نظر آئے گا۔ جو لوگ اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھتے ہیں وہ اپنے لباس، اپنے گھر، دفتر سب کو اُجال دیتے ہیں۔ یہی اجلا پن ان کی سوچ میں گھل مل کر انہیں تہذیب یافتہ بنادیتا ہے۔

بدقسمتی سے ہم ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کا زبان سے اقرار کرتے ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ ہم اپنا کوڑا کرکٹ گلیوں میں ڈھیر کردیتے ہیں۔ بازاروں میں کھاتے پیتے ہوئے لفافے اور شاپنگ بیگ پھینک دیتے ہیں۔ ہم گلیوں میں تھوکتے رہتے ہیں۔ پان کی پیکوں سے دیواروں پر نقش و نگار بناتے رہتے ہیں۔ یوں ہمارے بڑے شہر غلاظت کا ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں بیماریاں پروان چڑھتی ہیں اور وبائیں سر اٹھاتی رہتی ہیں۔ ہمارے بچے ہماری دیکھا دیکھی یہی طرزِ عمل اپنالیتے ہیں۔ یوں ایک سماجی سرکل چلتا رہتا ہے جس میں سے وقت کے ساتھ ساتھ مزید گندگی، غلاظت، بیماری اور اسموگ نکلتی رہتی ہے۔ ہم لوگ اپنے پارکوں کو دیکھیں تو وہاں بھی لوگ اسی بدفطرتی کے مرتکب نظر آئیں گے۔ ہمارے سرکاری دفتروں میں مجموعی طور پر گندگی دکھائی دے گی۔ بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر بھی یہی نحوست منڈلاتی نظر آتی ہے۔ ہماری پبلک ٹرانسپورٹ بدبو کی سرانڈ سے بھری ہوتی ہے۔ لوگ ٹرینوں میں قرے کرتے نظر آئیں گے۔ یوں پورے کا پورا معاشرہ مجموعی طور پر نصف ایمان سے تہی دست نظر آئے گا۔

ہمارے شہروں کے پوش علاقوں میں صورت حال بہتر نظر آتی ہے۔ ان میں بڑے لوگ اقامت رہتے ہیں۔ ان کا حکومتوں پر اثر و رسوخ ہے۔ یوں وہاں سلیقے کی فضائی نظر آتی۔ فٹ پاتھوں پر گھاس وقتاً فوقتاً کاٹی جاتی ہے۔ سیوریج کا نظام مکمل طور پر انڈر گرائونڈ ہے اس لیے بدبو اور سرانڈ نہیں پھیلتی۔ کو ڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ٹرک رواں دواں رہتے ہیں۔ یوں اس علاقوں میں آپ کو یورپی بودوباش دکھائی دیتی ہے۔ درمیانے، متوسط طبقے کی سکونت گاہوں میں معاملات دگرگوں رہتے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کی آواز اقتدار کے نقارخانے میں سنی نہیں جاتی۔ فضائی کے محکمے عدم توجہی برتتے ہیں۔ کوڑے کے ڈھیرے مہینوں پڑے رہتے ہیں۔ سیوریج انڈر گرائونڈ نہ ہونے کی وجہ سے نالیاں چھوٹی موٹی رکاوٹ پر اُبل آتی ہیں۔ غلیظ پانی سے گلیاں بدبودار ہوجاتی ہیں۔ مچھر، مکھیاں اور بیماریوں کے جراثیم پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ غریب غربا کی بستیوں میں صورت حال حددرجہ ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے ان میں سے بیشتر آبادیاں ہمارے بڑے شہروں کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ لوگ علیل، بیمار اور بے کس ہیں۔ یہاں مزدور، محنت کش اور دیہاڑی دار طبقہ رہائش رکھتا ہے۔ ان لوگوں کا وجود الیکشن کمیشن کے ریکارڈ شناختی کارڈ کے محکمے کی فائلوں کے علاوہ کہیں نہیں ہوتا۔ یہ طبقہ مردم شماری یا جمہوریت کے لیے ووٹنگ کے وقت اس ظالم سماج کو دکھائی دیتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ آبادیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے جارہی ہیں۔ یہ غربت کے بیجوں سے پروان چڑھ رہی ہیں۔ آکاس بیلوں کی طرح پھل پھول رہی ہیں، سارے معاشرے کو اسموگ کی طرح چاٹ رہی ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹThe Economic Impact of Inadequats Sanitation in Pakistan میں بتایا گیا ہے کہ سینی ٹیشن کی ابتری کا نقصان ہمیں 343.7 بلین سالانہ اٹھانا پڑتا ہے جو کہ ہمارے جی ڈی پی کا 3.9 فیصد ہے۔ گندگی اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر سالانہ 299.55 بلین لاگت آتی ہے جو کہ غریب لوگوں کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ Nas Media سائوتھ ایشیا کے صحافیوں کی ایک تنظیم ہے جس میں پاکستان، نیپال، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا کے 100 سے زیادہ صحافیوں نے ڈیٹا جمع کرکے بتایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان سینی ٹیشن میں سب سے کم سرمایہ لگارہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 57 ملکوں میں شامل ہے۔ جہا ںآلودہ پانی کی وجہ سے بیماریاں سب سے زیادہ ہیں۔ اگر آپ کراچی کی صورت حال دیکھیں تو یہاں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا عملہ اکثر ہڑتال کردیتا ہے۔ ان کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں۔ اگر وہ ڈیوٹی پر ہوں تب بھی ان گنت علاقوں میں ابلتے گٹر اور بازاروں میں کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ دوسرے بڑے شہروں میں معاملات اور زیادہ ناگفتہ بہ ہیں۔ ہر سال گندگی کی وجہ سے بیمار ہونے والوں کی تعداد 4 ملین سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ غریبوں کو روزی روٹی کے علاوہ، علاج معالجے پر بھاری اخراجات اٹھانا پڑرہے ہیں۔ پانی کی لائنیں اور گٹر سارے ملک میں باہم شیر و شکر ہورہے ہیں۔ اس وجہ سے بھی بیماریاں وبائوں کی صورت پھوٹ رہی ہیں۔

اسموگ اور دوسری زہریلی ماحولیاتی تباہیوں کو روکنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کی سطح پر انقلابی قدم اٹھانے کی اَشد ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی تمام تر نوازشات ملک کے پوش علاقوں پر نچھاور نہیں کرنی چاہییں۔ انہیں متوسط اور غریبوں کی بستیوں پر بھی نظر کرم ڈالنی چاہیے۔ محض ’’ہفتہ صفائی‘‘ منالینے سے اس پیچیدہ مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وزیروں اور مشیروں کو خود مثال بننا چاہیے۔ یہ اگر گلیوں سے کاغذ، شاپنگ بیگ اٹھاتے ہوئے دکھائی دیں گے تو سارا معاشرہ شرم محسوس کرے گا۔ ہر فرد کا ضمیر جاگے گا۔ وہ اپنا سماجی فریضہ سرانجام دینے میں سکون و راحت محسوس کرے گا۔ میونسپلٹی کو فی الفور فعال بنایا جائے۔ سارے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرواکر کونسلروں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ انہیں پابندی بنایا جائے کہ اپنے اپنے حلقوں میں صفائی کا بلند معیار قائم کریں۔ غلاظت تلف کریں۔ انڈر گرائونڈ سیوریج سارے بڑے چھوٹے شہروں میں مہیا کیا جائے۔ ہر میونسپلٹی کے پاس کوڑا اٹھانے والے ٹرک و عملہ وافر ہو۔ ہر گلی محلے سے اسے بروقت اٹھاکر تلف کردیا جائے۔ شاپنگ بیگ نالیوں اور گٹروں کو بند کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تلف بھی نہیں ہوسکتے، ان کی بجائے کاغذی لفافوں کو عام کیا جائے۔ ٹی وی ریڈیو پر حکومتی قصیدوں کے بجائے مسلسل ایسے پروگرام نشر ہوں جن میں صفائی اور ستھرائی کے محاسن بیان ہوں۔ لوگوں کی کایا پلٹ ہو۔ وہ اپنے گھروں کے علاوہ گلی، محلوں، پارکوں، بس اسٹینڈوں، ویگنوں کے اڈوں، ریلوے پلیٹ فارموں کو صاف ستھرا رکھیں۔ ہر سفری سہولت سے استفادہ کرنے والے مسافر کو احساس دلایا جائے کہ اس پر کتنی بڑی سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر حکمران کوئی مثال قائم کریں گے، اقدام اٹھائیں گے تو عوام بھی ان کے نقش قدم پر چل پڑیں گے۔ یوں ہم اسموگ کے زہریلے دھویں سے باہر نکل آئیں گے۔

اسموگ ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھی جارہی ہے۔ لاہور میں اورنج ٹرین کے لیے ہزاروں درختوں کا قتل عام کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں چند سالوں کے دوران لاکھوں درختوں کے سرقلم کیے گئے۔ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار نے چند دن پہلے اس پر ایک لرزہ خیز فیچر لکھا۔ شاہد خاقان عباسی نے ٹمبر مافیا کے حق میں ایک پالیسی کا اجرا کیا ہے۔ شمالی علاقوں میں لینڈ سلائڈنگ کی ایک بڑی وجہ یہی Deforestation ہے۔ ہمارے شہروں میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ موسموں میں نہایت غیرمعمولی تغیر آگیا ہے۔ سردیوں میں گرمیاں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ ہریالی، سبزہ، درخت، پیڑ، پودے، پنچھی انسان کو غیرمعمولی خوشی دیتے ہیں۔ قدرت نے ان کی ضرورت محسوس کی تو یہ پروان چڑھے۔ انسان نے کنکریٹ، بجری کے ڈیروں سے جو کچھ بنایا وہ مصنوعی ہی رہا۔ ہمارے بڑے شہروں میں کوسوں چلو تو کئی سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے دریا ڈیم سوکھتے جارہے ہیں۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اگر دسمبر میں بارشیں نہ ہوئیں تو ملک میں پانی کا بحران بڑھ جائے گا اور اسموگ جو بارش سے دھل جاتا ہے، اُس میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس وقت تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد صرف 27 ہزار 700 کیوسک ہے، جبکہ یہاں سے اخراج 45 ہزار کیوسک ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد صرف 7 ہزار 200 کیوسک ہے اور اخراج 30 ہزار کیوسک یوں دونوں ڈیموں میں 30 فیصد پانی کی قلت ہے، جبکہ دریائوں میں پانی کی کمی 20 فیصد ہے۔ موسم سرما میں پیدا ہونے والی فصلوں کے لیے ہمارے پاس بہت کم پانی ہے۔ اگر بارشیں نہیں ہوتیں تو مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔ خدا ہمیں بچائے ہم نے تباہی کے سبھی اجزائے ترکیبی اکھٹے کرلیے ہیں۔ شہروں میں آبادی کا نہایت زبردست اکٹھ، ملوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں سے خوفناک میگنیز والا دھواں، ملک بھر میں درختوں کا قتل عام، قدرت کے بنائے ایکوسسٹم کی تباہی، کئی علاقوں میں قحط، کئی میں سیلابوں کی سی کیفیت، موسموں کی شدت وحدت میں ہولناک اضافہ، زراعت کی ہر گزرتے سال بڑھتی زبوں حالی، اسموگ میں شامل زہریلی گیسوں جیسے کاربن مانو آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ، میتھن آرگینگ کمپائونڈ کے زہریلے اثرات مل جل کر بیماریوں کا ایک ایسا چکر چلارہے ہیں جنہوں نے پاکستانیوں کے اندر سے زندگی اور صحت کا ولولہ چھین لیا ہے۔ حکومت کو ہنگامی پیمانے پر ان سارے مسائل کی جڑ کو تلف کرنا ہوگا۔ صاف ستھری ہوا کا حق روٹی، کپڑے اور مکان سے بھی نمبر لے گیا ہے۔