• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جمعرات 2؍ نومبر کی صبح آٹھ بجکر 20 منٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف پی آئی اے کی فلائٹ نمبر786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے۔ بے نظیر انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اُن کے وزراء اور سپورٹرز کا جمِ غفیر تھا۔ 26؍ اکتوبر کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ نکل چکے تھے، اُن کو گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ 2؍ نومبر کو نیب کی چار رکنی ٹیم کو اُن سے ملنے نہیں دیا گیا۔ کیڈ کے وزیر طارق فضل چودھری نے 10 لاکھ روپے سیکیورٹی بھر کہ نواز شریف 3؍ نومبر کو عدالت میں حاضر ہوں گے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ملزم کی موجودگی کے باوجود نیب ٹیم اُن کے درشن نہ کرپائی اور عدالت کے احکامات اُن تک نہ پہنچاسکی۔ نواز شریف ایرپورٹ سے وی آئی پی پروٹوکول میں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ 40 کے قریب گاڑیاں بھی روانہ ہوئیں۔ یہ اُن کے لیے سیکورٹی نہیں، بلکہ اُن کا پروٹوکول تھا۔ یوں عوام کے کون پسینے کے ٹیکس سے وہ پیٹرول پھونکا گیا جو ایک ملزم کے شان و شوکت کو قائم رکھنے کے لیے اُڑادیا گیا۔ اس سے پہلے لندن میں نواز شریف سے مشاورت کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،

وزیروں کا ایک لشکر ایک اور ملزم اسحاق ڈار کے ہمراہ کروڑوں روپے کے سرکاری خرچ پر لندن گیا اور وہاں جمہوریت کی تجہیز و تکفین کے لیے کوئی پلانگ بناتا رہا۔ اسحاق ڈار سرکاری جہاز پر تشریف لے گئے، کیونکہ انہیں خطرہ تھا انہیں عام فلائٹ سے گرفتار نہ کرلیا جائے۔ اُن کے خلاف کیس ڈرامائی موڑمڑ گیا ہے۔ اُن کے خلاف ریفرنس میں نیشنل بینک کے صدر سعید احمد وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ انکشاف کیا ہے کہ ڈار کمپنی نے اُن کے نام پر5 فارن کرنسی اکائونٹس کھولے جن سے اُن کے بقول وہ لاعلم تھے۔ 2؍ نومبر کو نیب عدالت نے بتایا کہ ڈار نہایت علیل ہیں، چار منٹ نہیں چل سکتے۔ وہ لندن میں انجیوگرافی کروارہے ہیں۔ اُن کے خلاف وارنٹ برقرار ہیں۔ اُن کے فروخت شدہ اثاثے بھی عدالت نے منجمد کردیے ہیں۔ یوں اربوں روپے کے قرضے اس بدنصیب ملک پر لادکر اکانومی کے زرد چہرے پہ مصنوعی سرخی لانے والا ہمارا وزیر بُری طرح پھنستا جارہا ہے۔ قرضوں پہ لی دولت لیڈروں کے اللّے تللوں، ٹپ ٹاپ اور دیمک خوردہ شان و شوکت پہ خرچ ہورہی ہے۔

پاکستانی اکانومی کی زمینی حقیقت اور عوام کی زندگی میں اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہم دنیا کی 25 ویں بڑی اکانومی ہیں۔ جی ڈی پی کے لحاظ سے ہمارا نمبر 38 واں ہے۔ ہم 200 ملین یعنی 20 کروڑ لوگوں کا ملک ہیں جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 6واں بڑا ملک ہے۔ جب ہم فی کس آمدنی کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ 1550 ڈالز بنتی ہے جو دنیا میں 132ویں نمبر پر ہے۔ یعنی اگر ہر پاکستانی کو 1550 ڈالرز کی کمائی ملے تو ہمیں یہ مقام ملتا ہے۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ امیر کی امارات دن بدن اوپر جارہی ہے اور غریب کی غربت اُسی طرح پاتال میں گھسی جارہی ہے۔ پاکستان اگر درست خطوط پر چلے تو ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ ہم 21 ویں صدی میں دنیا کے اُن 11 ملکوں میں شامل ہوجائیں گے جن کی حیران کن ترقی کی پیشین گوئیاں کی جارہی ہیں۔ ہمارا جی ڈی پی 2016ء میں 285 بلین ڈالرز تھا۔ جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 4.71 فیصد ہے۔

اس میں زراعت کا حصہ 25.1، صنعت کا 21.3 اور سروسز کا 53.6 فیصد ہے۔افراط زر ہمارے ہاں 1.8 فیصد ہے،

ہماری لیبر فورس 57.60 ملین ہے۔ اس لیبر میں 43 فیصد زراعت، 15.2 پیداوار، 9.2 ہول سیل اور 9.2 ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن سے منسلک ہے۔ ہماری 6.5 فیصد آبادی بے روزگار ہے۔ ہمارا ایکسپورٹ کا شعبہ 30 بلین ڈالرز ہماری اکانومی کے لیے لاتا ہے جس میں ٹیکسٹائل کے 13.653 ملین، ویجیٹیبل پروڈکٹس کے 3.094 ملین ڈالرز، معدنیات سے 1.698 ملین ڈالرز، چمڑے سے 1237 ملین ڈالرز، خوراک اور مشروبات سے 956 ملین ڈالرز، جانوروں کی فارمنگ سے 756 ملین ڈالرز، تیار شدہ مصنوعات سے 571 ملین ڈالرز، دھاتوں سے 531 ملین ڈالرز پلاسٹک سے 505 ملین ڈالرز اور کیمیکل سے 489 ملین ڈالرز حاصل ہوتے ہیں۔ ہم درآمدات کی مد میں 50.123 بلین ڈالرز صرف کرتے ہیں۔ ہم 41.230 بلین روپے کی مصنوعات اور 8.843 بلین ڈالرز کی سروسز حاصل کرتے ہیں۔ ہم خوراک کی مصنوعات پر 4.15 بلین ڈالرز، مشینری پر 5.05 بلین ڈالرز، ٹرانسپورٹ پر 1.66 بلین ڈالرز، کھادوں اور کیمیکلز پر 6.86 بلین ڈالرز، خام دھاتوں پر 2.7 بلین ڈالرز، ریفانڈ پیٹرولیم پر 9.02 بلین ڈالرز اور خام پیٹرولیم پر 5.75 بلین ڈالرز صرف کرتے ہیں۔ یوں صورت حال یہ ہے کہ ہمارے مالی معاملات بعض شعبوں میں نہایت حوصلہ افزا ہیں، مگر دوسرے شعبوں میں یہ اس درجہ زوال پذیر ہیں کہ ہم خاطرخواہ ترقی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ہم دنیا کی بڑی اکانومیوں میں ہونے کے باوجود عوام کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاپارہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا وہ بالادست طبقہ ہے جس نے امارت کے درخت کے بیشتر پھل اپنی جھولی میں بھرلیے ہیں۔ عوام کے ذمے اس درخت کو پانی دینا اور دیکھ بھال کرنا ہے۔ بین الاقوامی معاشی ماہرین حیران ہیں کہ ایک ایسا ملک جس کی زرخیز زمینیں دنیا میں مشہور ہیں، جس کے جفاکش محنت کشوں کا زور بازو ایک مثال ہے اُس کا نظامِ زندگی بیرونی اداروں کی بھیک پر رواں دواں ہے۔ ہمیں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے چنگل میں پھنسا رکھا ہے۔ یہ کمپنیاں دوائیوں اور دودھ میں ملاوٹیں کرکے اس ملک سے کھربوں روپے سمیٹ رہے ہیں۔ ہماری حکومتوں کے سرکردہ لیڈر ان لوگوں کے پے رول پر ہیں۔ دوائیوں کی قیمتوں میں من چاہے اضافے کے وقت ہمارے محکمہ صحت نے جان بوجھ کر ایسی غفلت کی کہ کمپنیاں دوائیوں میں کئی گنا اضافہ کروانے میں کامیاب ہوگئیں۔ ہمارے لیڈروں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضوں کے لیے اس ملک کی نسلوں کو سود خوروں کے ہاں بیچ دیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہم سب کچھ رکھتے ہوئے بھی کنگھال ہیں۔ ہمارے ملک کی 50 فیصدسے زیادہ آبادی نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمارا بالادست طبقہ زیادہ تر چور اور زیریں فقیر ہے۔ آپ دنیا بھر پر نظر دوڑائیں۔ آپ ان ملکوں کو دیکھیں جو ترقی کرچکے ہیں یا تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ آپ ایک ہی اصول کو وہاں رواں دواں دیکھیں گے۔ صدر سے لے کر ایک ادنیٰ کان کن اپنے کام کے ساتھ انتہائی مخلص نظر آئے گا۔ ہر شعبۂ زندگی کو چلانے کے لیے بہترین دماغ میسر کردیے گئے ہیں۔ ہر نظامِ زندگی ایک مربوط سسٹم سے جڑا ہوا ہے۔ صدر، وزیراعظم، وزیر، سفیر، مشیر نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک لوگ ہیں۔ جج، وکیل، پولیس، ایجنسیاں، فوج اپنا اپنا کام کیے جارہی ہیں۔ ہر بستی، ہر آبادی میں ترقی کا پہیہ گھوم رہا ہے۔ ہر فرد ایک ستارہ ہے جو ملکی کہکشاں کو اور خوبصورت بنائے جارہا ہے۔ لوگ اپنے فرائض ادا کیے جارہے ہیں اور ریاست دن بدن اُن کے حقوق کا دائرہ وسیع کیے جارہی ہے۔ ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جارہی ہیں۔ خوشحال ہوتے ملکوں میں خوشحالی کا شیریں جام ہر کسی کے ہونٹوں کو میسر آرہا ہے۔ معاشروں کے کمزور طبقوں کی زبانیں بھی سیراب ہورہی ہیں۔ یہ ملک آگے بھی جارہے ہیں اور دارے میں بھی گھوم رہے ہیں۔ یہ ترقی خوشحالی میں آگے بڑھے جارہے ہیں۔ یہی ترقی اور خوشحالی عوام کی زندگیوں میں ایک دائرہ بھی بنارہی ہے۔ اُن کی محنت، کاوش، ہنر، عرق ریزی کا صلہ معاشرہ انہیں ثمر کی صورت لوٹا بھی رہا ہے۔ لوگ ٹیکس ادا کرکے اُس کا بہترین نعم البدل پارہے ہیں۔ وہ اپنی ریاضتوں کا صلہ بہتر معیارِ زندگی کی صورت حاصل کررہے ہیں۔ ان ملکوں میں یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوئے جارہا ہے۔ تعلیم مفت ہے۔ علاج معالجہ حکومت اپنے خرچ پر مہیا کررہی ہے۔ روزگار کے نت نئے دروازے کھولے جارہے ہیں۔ ضروریاتِ زندگی کا حصول نہایت آسان ہے۔ مزدور اپنی گاڑی پر کام کو آرہا ہے اور واپس لوٹ رہا ہے۔ اُس کا لباس اپنی تراش خراش میں ملکی صدر جیسا ہے۔ اُس کے چہرے پر آسودگی کا غازہ ہے۔ ریاست اُس کی مکمل محافظ ہے۔ اُسے تحفظ کا سائبان میسر ہے۔ اُس کے بیوی، بچوں، والدین کے سروں پر بھی ٹھنڈا سایا موجود ہے۔ ایسا شخص پوری رغبت سے اپنا کام کررہا ہے۔ وہ ملک کو آگے لے کر جارہا ہے، بدلے میں ریاست اُس کو نہال کیے جارہی ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں لیاقت اور محنت کا بیج بنجر زمینوں میں تلف نہیں ہورہا۔

پاکستان کا شمار اس لیے غریب ملکوں میں ہوتا ہے۔یہاں بے رحم سسٹم کے نام پر ہر ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے جمہوری چہروں کے پیچھے نہایت دہشت ناک چہرے ہیں۔ ہر بڑی سیاسی پارٹی کی پشت پر مسلح جھتے ہیں۔ جمہوری چہرہ فصاعت و بلاغت کے موتی بکھیرتا ہے۔ شیطانی چہرہ مال دولت ہڑپنے اور مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے فرمان جاری کرتا ہے۔ ہماری جمہوریت اول تا آخر جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کی گیم ہے۔ اس میں عام پاکستانی کے لیے کوئی فلاح کی خبر نہیں آتی۔ جہاں ہم غریب لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچانے والوں کے قول و فعل کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ بھی جاگیرداروں کی سی ذہنیت کے مالک ہیں۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں حرام خوری اور بھتہ خوری ایک صنعت کا درجہ پاگی ہے۔ اغوا برائے تاوان کی پوری انڈسٹری قائم ہوگئی ہے۔ آپ رشوت اور سفارش سے یہاں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارے اقتدار کے سب ایوانوں میں اندھی طاقت کی پوجا کی جاتی ہے۔ قانون ظالم کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے۔ پولیس کا نظام غریب لوگوں کو پیس کر سرمہ بنادیتا ہے، امیروں کو سیلوٹ کرتا ہے۔ ہمارے کورٹ کچہریوں میں غریب غربا انصاف کے لیے مدتوں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ انہیں دھول کے علاو کچھ نہیں ملتا۔ بڑے شہروں میں قتل و غارت گری ہے۔ زمینوں پر ناجائز قبضے ہیں، انڈسٹریوں نے فضائوں میں زہر گھول دیا ہے۔ تازہ ہوا اور پانی ندارد ہے۔ ہماری غذائوں میں بدترین ملاوٹ کی جاتی ہے۔ دوائیوں کی شکل میں پائوڈر بکتا ہے۔ کسان کو اُس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ مزدور کے ہاتھ چند سکوں کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ غریبوں کے لیے مہنگائی سے جنگ بدترین شکست بنتی جارہی ہے۔ بے روزگاری کا گراف ہر گزرتے ماہ و سال کے سال بڑھتا جارہا ہے۔ شرح غربت کے اعدادو شمار نہایت درجہ سنگین صورت حال اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ہمارے اربوں کھربوں پتی نہایت قلیل ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حکومتیں غریبوں پر ٹیکس عائد کرکرکے اُن کی زندگیوں کو مزید وحشت ناک بنائے جارہی ہیں۔ جی ڈی پی کے ثمرات اپرکلاس سمیٹ لیتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے حکمرانوں کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ قرضوں کی سود سمیت ادائیگی کے لیے غریب اور متوسط طبقوں کو مزید نچوڑا جاتا ہے۔ میگا پراجیکٹس دولت کی کانیں بن گئی ہیں جہاں سے اربوں روپیہ اِدھر اُدھر کرلیا جاتا ہے۔ ہر کام کا کمیشن مقرر ہے۔ ملازمت سے لے کر کسی بھی جائز حق کے حصول کے لیے رشوت کو ایک اخلاقی فریضہ مان لیا گیا ہے۔

بیس بائیس کروڑ کے ملک میں ٹیکس فائلرز 5 لاکھ ہیں۔ اشرافیہ تمام کی تمام ٹیکس چور ہے۔ 2017ء میں آنے والی پارلیمنٹ ارکان کی اکثریت کوئی ٹیکس نہیں دیتی۔ پاکستان میں تبدیلی کی سب سے بڑی علامت عمران خان نے ایک لاکھ 60 ہزار ٹیکس دیا۔ وہ سینکڑوں کنال کے گھر میں اسلام آباد کے ایک سیاحتی مرکز میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے گھر میں درجنوں ملازمین ہیں۔ ان کے گھر میں کتوں کا ایک لشکر ہے۔ اگر اُن کے راتب کا اندازہ لگایا جائے تو وہ ایک بلاشبہ ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ہوگا۔ اُن کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں۔ ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسلامی دنیا کی اتنی بڑی شخصیت نے اُس وقت شہر کے ساتھ میں آسمان کو چھولیا جب انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد اُن کی سابقہ بیوی نے انہیں لندن سے رقم بھجوائی جس سے انہوں نے بنی گالا کی جاگیر خریدی۔

مسلم لیگ ن ہو، پیپلز پارٹی ہو یا تحریک انصاف ہو ان سب کی لیڈر شپ نے اس جنت نظیر ملک کو کھا کھاکر کھوکھلا کردیا ہے۔ ہم خوشحال بھی ہوسکتے ہیں، ہم قرض کے بوجھ سے بھی نکل سکتے ہیں۔ ہماری اکانومی بھی نئے نئے ریکارڈ بناسکتی ہے۔ ہماری برآمدات ہماری درآمدات سے بڑھ سکتی ہیں، اگر ہم شرجیل میمنوں، اسحاق ڈاروں اور جہانگیر ترینوں سے نجات حاصل کرلیں۔ ہم آج سزا یافتہ لیڈروں کے پروٹوکول پر پچاس پچاس جہازی سائز کی گاڑیوں کا خرچ اٹھارہے ہیں۔ پھونکے جانے والے اس پیٹرول سے سموگ پیدا ہورہا ہے جس نے سارے پنجاب کی فضا کو سخت زہریلا کردیا ہے۔ پنجاب سے سموگ بھی اٹھ رہا ہے اور یہ اسموک بھی کہ اگر بڑا بھائی جائے گا تو کیا چھوٹا مرکز میں آئے گا؟ اگر چھوٹا مرکز میں آئے گا تو کیا اُس کا بیٹا پنجاب سنبھالے گا یا بڑے کی بیٹی؟ بڑے کے بیٹوں کو لگتا ہے برطانیہ ہی سنبھالے گا؟