• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ٹماٹر پچھلے چند ماہ اسی طرح سبزیوں کا سرتاج بن گیا جیسے آم نے پھلوں کی بادشاہی کا تاج پہن رکھا ہے۔ ٹماٹروں کی چند پیٹیوں کے مالک ضرورت رشتہ میں ترجیحی نمبروں کے حق دار قرار پائے۔ ہمارے ملک کی معیشت اور خصوصاً زراعت کی حالت زار پہ بچپن میں پڑھی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ کسی سنسان بستی میں تین کمہار رہتے تھے۔ ان میں سے دو کبڑے اور تیسرا سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ جو سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، اس نے اپنی ساری زندگی میں تین ہانڈیاں بنائی تھیں۔ دو ہانڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، تیسری کا پیندا غائب تھا۔ جس ہانڈی کا پیندا نہ تھا، اُس میں چاول کے تین دانے پکائے گئے۔ دو دانے سخت رہ گئے، تیسرا نرم نہ ہوسکا۔ جو چاول نرم نہ ہوسکا اُسے کھانے کے لیے تین مہمان تشریف لائے۔ دو بھوکے رہ گئے، تیسرے کا پیٹ نہ بھرسکا۔ جس کا پیٹ نہ بھرا، اُس کے پاس تین گائیں تھیں۔ دو بانجھ تھیں، تیسری دودھ نہ دیتی تھی۔ جو گائے دودھ نہ دیتی تھی اُسے جب بیچا گیا تو تین روپے ملے۔ دو روپے جعلی نکلے، تیسرے کو کوئی لینے کو تیار ہی نہ ہوا۔ جس روپے کو کوئی لینے کو راضی نہ تھا، اُس کی جانچ پڑتال کے لیے تین سنار بلائے گئے۔ ان سناروں میں سے دو اندھے تھے، تیسرے کو کچھ دکھائی نہ دیتا تھا… وغیرہ وغیرہ۔


قحط الرجال اس نگری میں ایسا آیا کہ کوئی نہیں سمجھ رہا کہ زرعی زمین کو رہائشی کالونایاں بنانے کا تیزی سے زور پکڑتا بزنس کیا رنگ لارہا ہے؟ یوں ہر گزرے سال کے ساتھ ہمارے زرعی اثاثے کم سے کم تر ہوئے جارہے ہیں۔ ہم گندم، مکئی، چاول، کماد اور کپاس جیسی بنیادی فصلوں میں مسلسل خسارے کا سامنا کرے جارہے ہیں۔ 1950ء کی دہائی میں ہمارا زراعت کا جی ڈی پی 47.7 فیصد تھا، جو 1960ء کی دہائی میں کم ہوکر 45.8 فیصد رہ گیا۔ 1970ء کی دہائی میں یہ مزید پسپا ہوا اور 38.9 فیصد ہوگیا۔ 1980ء کی دہائی میں یہ اور کم ہوا اور 30.6 کی سطح پر جاپہنچا۔ 1990ء کی دہائی میں یہ مزید سکڑگیا اور25.8 فیصد کی سطح پر آگیا۔ 2000ء سے شروع ہونے والی دہائی میں اس میں اور زیادہ تنزلی آئی اور یہ 22.1 فیصد تک آگیا۔ پچھلے اکنامک سروے کے مطابق ہم اپنے ہی گول سے 30 فیصد نیچے آگئے۔ چاول کی پیداوار میں 2.07 فیصد، مکئی کی فصل میں 0.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گندم کی فصل میں پنجاب نیچے آتا جارہا ہے۔ کے پی کے سالانہ 11 سے 12 لاکھ ٹن گندم پیدا کرتا ہے جو کہ اُس کی ضرورت کے لیے ناکافی رہتی ہے۔ صرف جنوبی وزیرستان جس کا رقبہ 4707 مربع کلومیٹر ہے۔ سالانہ ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم کا گاہک ہوتا ہے۔ تھرپارکر ہی نہیں پاکستان کے طول و عرض میں ایسے علاقے بڑھتے جارہے ہیں جہاں قحط سالی کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔

آپ ستمبر اکتوبر 2017ء میں ٹماٹر، دوسری سبزیوں، باورچی خانے کو رواں رکھنے والی اشیاء اور ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ان اجناس کو بازاروں اور مارکیٹوں تک لے کر آنے والے فیول کی شرح دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ زندگی کس قدر مشکل ہوئے جارہی ہے۔ اکتوبر 2016ء میں ٹماٹر 54 روپے، جبکہ 2017ء میں 105 روپے فی کلو ملا۔ یوں یہ91 فیصد تک مہنگا ہوا۔ پیاز 2016ء میں 30 روپے، جبکہ اس برس 80 روپے میں بکا۔ یوں 172 فیصد مہنگا ہوا۔ آلو 37 سے40 روپے، چاول باسمتی ٹوٹا 62 سے 70 روپے، چائے کی پتی فی پیکٹ 158 سے 180 روپے، بڑا گوشت 324 سے 343 روپے، چھوٹا گوشت 653 سے 717 روپے، کوکنگ آئل اڑھائی لیٹر 445 سے 468 روپے، انڈے جو 2016ء اکتوبر میں 99 روپے فی درجن تھے وہ 107 روپے میں بک رہے ہیں۔ پیٹرول65 سے 74 روپے، ڈیزل 73 روپے سے 80 روپے ہوکر ان اشیاء کی قیمتوں کو بڑھائے جارہا ہے۔ یوں ہماری زراعت مہنگی ہورہی ہے۔ بیج اور کھاد کے بڑھتے نرخوں، موسمی آفات سے تباہ ہونے والی فصلوں، اناج کی تیزی سے بڑھتی قلت اور ہمارے سارے زرعی نظام پر سودخور سرمایہ داروں کی آہنی گرفت نے عام آدمی کے لیے سستی ترین خوراک کا خواب پریشان کردیا ہے۔

نیا پاکستان بنانے والے عمران خان کے دستِ راست جہانگیر ترین کی ہزاروں ایکڑ زمین کے بارے میں انکشاف ہوا ہے۔ وہ سوائے اس زمین سے سونا حاصل کرنے کے اور کچھ نہیں کررہے، ہمارا مجبور و مفلس دہقان جان توڑ کوششوں کے بعد بھی اپنے خاندان کی ضروریات پوری نہیں کرپارہا۔ اس کا خسارہ اُسے شہر کی ملوں یا بیرون ملک مزدوری پر مجبور کردیا ہے۔ یوں زراعت تیزی سے گررہی ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلپمنٹ پروگرام نے متعدد بار ہمیں بتایا ہے کہ پاکستان میں بہت تیزی سے زیرکاشت رقبے میں کمی ہورہی ہے۔ ہم اس تنزلی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستان میں زیرکاشت رقبہ ہمارے مجموعی رقبے کا 30 فیصد ہے۔ دنیا میں آبادی کے حساب سے اشیائے خورونوش مہیا کی جاتی ہیں اور عموماً آبادی اور زیرکاشت رقبے کو برابر رکھا جاتا ہے تاکہ ملک میں قلت نہ ہو اور غیرضروری طور پر دوسرے ملکوں کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ درست ہے کہ دنیا کے امیرترین ملکوں میں ایسے ملک بھی ہیں جہاں کی زرعی زمین اتنی بارآور نہیں یا بنیادی انسانی خوراک کے لیے سازگار نہیں، مگر پاکستان کے پاس تو زرخیز ترین زمینیں ہیں اور نہری نظام دنیا میں سب سے اعلیٰ ہے۔ پھر بھی ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہوئے جارہی ہے۔ امریکا کا صرف 8 فیصد رقبہ زیرکاشت ہے، اس کے باوجود اُس کی زمین 22 کروڑ امریکیوں کے لیے خوراک بڑی سہولت سے مہیا کیے جارہی ہے۔ یورپ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کم زیرکاشت زمینوں کے ساتھ بھی وہ ملک پیداوار میں کمی نہیں آنے دے رہے۔

ساٹھ کی دہائی میں امریکی سائنس دان بورلاگ نے ایک بیج ایجاد کیا جو عام بیج کی نسبت دوگنی فصل دیتا تھا۔ یہ بیج ہم نے بہت ذوق و شوق سے درآمد کیا۔ ایوب خان کے مصاحب بہت خوش تھے، عش عش کرتے تھے۔ اگلے برس بمپر فصل ہوئی۔ اُس سے اگلے برس ہمیں اُس بیج کے علاوہ کھاد بھی امریکا سے منگوانی پڑی، کیونکہ ہماری کھاد بیج کے لیے سازگار نہ تھی۔ اُس سے اگلے برس ہمیں کیڑے ماردوائیاں بھی امریکا سے منگوانی پڑی، کیونکہ ہماری کھاد بیج کے لیے سازگار نہ تھی، اُس سے اگلے برس ہمیں کیڑے ماردوائیاں بھی امریکا سے منگوانی پڑیں، کیونکہ ہماری دوائیاں ’’سفید فام‘‘ کیڑوں کو مار نہ پائیں۔ امریکی کمپنیاں پاکستان میں فیکٹریاں لگانے لگیں۔ ہماری زمینیں نشیٔ ہوگئیں۔ اس بیج کے علاوہ کسی دوسرے بیج سے اُن کی دودستی نہ پائی۔ یہ بیج پانی کی خوفناک مقدار کا طالب تھا۔ امریکی کمپنیوں کے ٹیوب ویل بھی لگنا شروع ہوگئے۔ سارا منسلکہ سامان بھیا مریکا سے آنا شروع ہوگیا۔ کراچی سے شائع ہونے والا ملک کا شہرہ آفاق انگریزی اخبار پچاس سال قبل آج کے دن کی خبر شائع کرتا ہے۔ 21؍ اکتوبر 2017ء کو اخبار نے 21؍ اکتوبر 1967ء کی ایک خبر شائع کی۔ پاکستان نے امریکا سے امریکی کھاد خریدنے کے لیے 25 ملین ڈالرز کا قرضہ حاصل کیا تھا۔ امریکا نے یہ وعدہ کیا کہ جلد یہ قرضہ 80 ملین ڈالرز تک کردیا جائے گا۔ اس طرح ملک دوسرے ملکوں کے زرخرید غلام بن جاتے ہیں۔

27؍ اکتوبر 2017ء کو پاکستان کے چھ بڑے زرعی ماہرین نے مل جل کر ہمارے زرعی مسائل کا ایک حل تجویز کیا۔ انہوں نے کارپوریٹ و کوآپریٹو فارمنگ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ کچن گارڈ ننگ کے ذریعے سستی، معیاری اور صاف سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں۔ ہر صاحبِ استطاعت اپنے باورچی خانے کے لیے کم از کم سبزیوں کو خود کاشت کرلے۔ یہ ایک ہابی (مشغلہ) بھی ہوگا اور بھارت کے ہارڈر بند ہونے کے بعد ہم وہاں سے سبزیوں کی راہ نہیں دیکھیں گے۔ یہی خوراک کی وجہ سے ہمارے ہاں 45 فیصد بچے 5 سال سے کم عمر میں وفات پاجاتے ہیں۔ اسی دنیا میں 2؍ ارب افراد بسیارخوری کی وجہ سے موٹاپے کا شکار ہیں۔ 60 فیصد خواتین بھوک سے متاثر ہورہی ہیں۔ مجموعی طور پر 8 سو ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔ 7593 ملین افراد دنیا میں اپنے ہی ملک کے اندر آئی ڈی پی بن جاتے ہیں۔ یہ ماہرین زراعت زور دیتے ہیں کہ ہمارا کسان تربیت چاہتا ہے۔ وہ روایتی فصلوں کے علاوہ کوئی اور تجزبہ نہیں کرتا۔ غیرروایتی فصلوں کی کاشت سے اُن کی آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ ہوسکتا ہے۔ مثلاً کلونجی جیسی مقدس فصل میں فی ایکڑ پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اسپرے کے اخراجات اور مارکیٹنگ کے مسائل بھی نہیں ہوتے۔ ہم کلونجی کو ایک مکمل غذا کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اس میں کاربوہائیڈریٹ (نشاستہ) کی مقدار 37.94 ہے جو انسانی جسم کی زبردست توانائی مہیا کرسکتی ہے۔ کلونجی کے علاوہ ہمارا کسان دوسری غیرروایتی فصلوں جیسے سونف، اسپغول، السی، تلسی، اجوائن، ریحان، چقندر، کنولہ، تل، کالی زیری کاشت کرے تو اسے زیادہ مالی فائدہ ہوگا۔ ہمارے کسان کو زمین کا پی ایچ لیول بھی آنا چاہیے۔ اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کی بار آوری کے لیے فصلوں کو بدل بدل کر کاشت کیا جانا کتنا ضروری ہے۔

زراعت کے بارے میں ہماری وفاقی اور صوبائی وزارتوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں حالات کی سنگینی کا کچھ بھی احساس نہیں۔ ماحولیاتی تغیر سے ہم سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سے ہیں۔ کراچی میں اس سال اکتوبر کے مہینے میں شدید ترین گرمی پڑی جس نے ماحولیاتی انقلاب کی دہشت مزید پھیلادی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان سے باہر تحقیق ہورہی ہے کہ ہم لوگوں کو ماحولیاتی تغیر اور ندامت پر اس کے تباہ کن اثرات سے کیسے بچایا جائے۔ ورلڈ بینک، انٹرنیشنل سینٹر فار ٹراپیکل ایگریکلچر، ریسرچ پروگرام فار کلائی سیٹ چینج ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکورٹی جیسی تنظیموں نے برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک پورا پلان، ایک روڈ میپ دیا ہے جس پر عمل کرکے ہم کلائی سیٹ اسمارٹ ایگریکلچر کو فروغ دے سکتے ہیں تاکہ ہماری زراعت ماحولیاتی تباہی سے بچ جائے۔ ان بین الاقوامی اداروں کا بھلا ہو کہ انہوں نے ہماری وزارتوں میں بیٹھے بلکہ سوئے ہوئے افسروں کو قائل کیا کہ وہ غافل اگر اپنے دفتر میں کوئی عمل رکھتے ہیں تو پیش کریں۔ یوں پاکستان نے 2017ء میں کلائی سیٹ چینج ایکٹ کا اجراء کیا جس کی رو سے پاکستان کلائی سیٹ چینج اتھارٹی اور پاکستان کلائی سیٹ چینج فنڈ کا اجرا کیا جائے گا۔ ہم لوگوں نے تھرپارکر کے 20 ہزار مربع میل علاقے میں جو تباہی دیکھی خدانخواستہ کہیں ہم اسے سارے ملک میں نہ پھیلالیں۔ بھارت ہمارے آبی ذخائر پر بڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی ہماری زارعت پر 1960ء سے قابض ہیں۔ آئی ایم ایف ہماری معاشی شہ رگ کو جکڑے ہوئے ہے۔ ہم جو مدتوں دنیا بھر میں گھی پیدا کرنے میں پہلے نمبر پر، چنے کی فصل میں دوسرے نمبر پر، چاول اور کپاس کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، دودھ کی پیداوار میں پانچویں نمبر پر، گندم اور کھجور کی پیداوار میں چھٹے نمبر پر، آم کی پیداوار میں ساتویں نمبر پر کینو کی پیداوریں آٹھویں نمبر پر اور حلال گوشت کی پیداواریں 16 ویں نمبر پر رہے۔ اب بدلتے حالات میں اپنے ریکارڈ برقرار رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ خلائی سیارے نے 2010ء اور 2017ء میں ملتان کی تصویریں دی ہیں۔ 2017ء میں آم کے باغات کٹ کر لاکھوں ایکڑ کالونیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ پاکستان آج دنیا کا چوتھا ملک ہے جس میں سب سے زیادہ درخت کاٹے جاتے ہیں۔ وہ پھل دار درخت جس کے حالتِ جنگ میں کاٹنے کی بھی اسلام ممانعت کرتا ہے، ہم اُسے امن میں بھی کاٹے جارہے ہیں۔ جو بدنصیب سائے کے دشمن بن جائیں اُن کا خون سرمایہ دار دھوپ پانی بناکر اُڑا دیتی ہے۔