• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

22؍ ستمبر کو دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا گیا۔ اُس دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی۔ پچھلے چند ہفتوں سے بھارتی جارحیت میں نہایت اضافہ ہوچکا ہے۔ شہدا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کا آپس میں رابطہ بھی ہوا ہے۔ پنجاب رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی بھی کی۔ بھارتی چوکیوں کے پرخچے بھی اُڑائے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کیا گیا، شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ چند دن امن کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ ان سطور کے لکھتے وقت بیک گرائونڈ میں دوبارہ بھارتی جارحیت کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ جب ہمارے وزیراعظم سلامتی کونسل میں خطاب کررہے تھے، ان کو بھارتی فوج بارڈر پر سلامی دے رہی تھی، عالمی میڈیا کے نمایندے سرحدوں کا دورہ کرچکے ہیں، مگر یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ دوسرے محاذ پر افغانستان سے ہم پر حملے ہورہے ہیں۔ خیبرایجنسی کے علاقے راجگال سے ہماری چیک پوسٹ کو فائرنگ کا


نشانہ بنایا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ بھارتی اور افغانی دونوں سرحدوں سے حملے اب ایک ساتھ ہونے لگے ہیں۔ پچھلے تین چار سالوں سے افغانستان سے ہونے والے حملوں کی تعداد اور اُن کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ مشرقی سرحدوں پر 2017ء کے ان نو ماہ میں بھارتی فوج نے مسلسل ہم پر حملے کیے ہیں۔ 72 بار وہ باڈر قوانین کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ 2016ء میں بھارت نے سامبا سیکٹر، پانڈو سیکٹر، سیالکوٹ سیکٹر، نکیال سیکٹر، کوٹلی سیکٹر، بٹل سیکٹر اور چڑی کوٹ سیکٹر میں آتش بم مسلسل برسائے رکھے۔ پاکستانی بستیوں پر گولے فائر کیے جاتے رہے۔ سرحدی دیہات میں کھڑی فصلیں، گھر، اسکول، ہسپتال تباہ کردیے گئے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کی طرف سے جوابی فائرنگ پر چند دن خاموشی رہتی، پھر یہ سلسلہ شروع ہوجاتا۔ 2015ء میں سارا سال شکر گڑھ سیکٹر، نکیال سیکٹر، لنجوٹ سیکٹر، شکما سیکٹر، راولا کوٹ سیکٹر اور دیوار ناڑی سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ جاری رہی۔ بھارتیوں کا جنگی جنون خطرناک پاگل پن کی سرحدیں عبور کرگیا۔ 2015ء کا سارا برس ہمارے پریس اور الیکٹرونک میڈیا پر بھارت کا خبثِ باطن حاوی رہا۔

31؍ دسمبر 2014ء کو جب پرانا سال رخصت ہورہا تھا، نئے سال کے لیے دعائیں ہر ہونٹ پر کپکپارہی تھیں، بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) نے دن 11 بجے ایک میٹنگ کال کی۔ پاکستان کی طرف سے 5 رینجرز کے جوان اس سلسلے میں بارڈر ٹریک پر پہنچے۔ کسی اشتعال کے بغیر بھارتی سورمائوں نے اپنے مہمانوں پر فائرنگ شروع کردی۔ یوں ایک فلیگ میٹنگ کے بہانے 2 رینجرز اہلکاروں کو شہید کردیا گیا۔ ان کی لاشیں اُٹھانے کے لیے آنے والوں پر 5 گھنٹوں تک بھارتی سپاہ گولہ بارود پھینکتی رہی۔ یہ کارروائی اگلی ساری رات جاری رہی۔ پنجاب رینجرز کی بھرپور کارروای کے بعد بھارتی بندوقیں خاموش ہوئیں۔ ڈی جی رینجرز نے بھارت کے ساتھ نچلی سطح پر ہر قسم کے مذاکرات بند کرنے کا اعلان کیا۔ یوں نئے سال کے ان ابتدائی دنوں میں پاکستان کی ابیال ڈوگر، ننگل، بھورے چک، سکمال اور لمبڑیال چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزیاعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو خط بھی لکھا تھا۔ سیکریٹری خارجہ نے بھارتی جارحیت کو ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ غیرملکوں کے سفیروں کو اس بارے میں ایک مفصل بریفنگ بھی دی گئی۔ ان سب کے باوجود بھارتی اشتعال انگیزیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ رینجرز کے علاوہ عام شہری بھی بھارتی فائرنگ سے زخمی اور شہید ہونے لگے۔ 5؍ جنوری کو شکر گڑھ اور ظفروال سیکٹرز میں بھارتی گولہ باری سے 4 شہری شہید ہوگئے۔ وسیع پیمانے پر مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ شہری آبادیوں پر سیدھی نشانہ بازی سے مکانات تباہ، مویشی ہلاک اور کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ 2014ء میں بھارت نے 562 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور ورکنگ بائونڈی پر 48 ہزار 688 لائٹ مشین گن رائونڈ چلائے، جبکہ 37 ہزار 285 مارٹر گولے فائر کیے گئے۔ صرف اکتوبر 2014ء میں پاکستان کے 14 شہری بھارتی جنون کی نذر ہوگئے۔

مجموعی طور پر 24 افراد شہید اور 150 سے زاد زخمی ہوگئے۔ 2013ء میں بھات نے 347 بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی۔ اُس نے سامبا سیکٹر، پانڈو سیکٹر، سیالکوٹ سیکٹر، نکیال سیکٹر، کوٹلی آزاد کشمیر، بٹل سیکٹر، چڑی کوٹ سیکٹر، شکر گڑھ سیکٹر، لنجوٹ سیکٹر، شکما سیکٹر، راولاکوٹ سیکٹر اور دیوار ناڑی سیکٹر میں اندھا دھند فائرنگ کی۔ عام شہریوں کے مکانات، املاک اور کھڑی فصلوں کو بتاہ کردیا گیا۔ 2012ء میں 114 بار بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کی حدود کو پامال کیا۔ 2011ء میں 62 مرتبہ بھارتی فوج کی جانب سے اس رقص ابلیس کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ 2010ء میں 44 بار بھارتی جارحیت کا یہ ننگا ناچ دیکھنے میں آیا۔ 2009ء میں 28 بار بھارتی ازلی دشمنی کے یہ بھیانک ثبوت دیے گئے۔ 2008ء میں 77 بار بھارتی درندوں نے اپنی بدخصلتی کا مظاہرہ کیا۔ 2007ء میں 21 بار سے ایسے دل فگار واقعات ہوئے۔ 2006ء میں 3 بار لائن آف کنٹرول کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ 2003ء میں ایک ایل اور سیز معاہدہ عمل میں آیا تھا جس میں دونوں ملکوں نے سرحدوں کو ہر ممکن طور پر پُرامن رکھنے کا اقرار کیا تھا۔ 2001ء سے 2003ء مک بھارت جنگی جنون آپریشن پر اکرام کی صورت سرحدوں پر نٹو لاتا رہا تھا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر گزرتے سال بھارتی جنگی پاگل پن کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔ مشرقی سرحدوں پر امن کے ہر پنچھی کے بال و پر اُکھاڑکر پھینک دیے گئے ہیں۔ پاکستان کے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو سپاہ مسلسل حرکت میں ہے۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اکتوبر 2014ء سے ہم ایک ایسے فیز میں داخل ہوگئے ہیں جہاں بارڈر پر سکون نام کی چیز ڈھونڈنے میں نہیں ملتی۔ بھارت نے اکتوبر 2014ء سے اپنے توپ خانے کو سرگرم رکھا ہوا ہے۔ 20 ہزار دیہاتیوں کو اپنے گھربار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی ہے۔ 164 دیہات کو آبادی سے خالی کروانا پڑا ہے۔ سول آبادی اسکول ہسپتال چن چن کر نشانہ بنائے گئے۔ بارڈر سے فوج شمالی وزیرستان منتقل کرنے پر ہندوئوں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور بلااشتعال فائرنگ کو اپنا وطیرہ بنالیا تھا۔ اندرون ملک بھارتی میڈیا ایک جنونی ہیجان میں مبتلا ہوگیا ہے۔ ہر طرف سے پکڑو مارو کی صدائیں آرہی ہیں۔ 26؍ جنوری 2015ء کو جب صدر اوبامہ بھارت کے یوم جمہوریہ پر دورے پر آرہا تھا، اس کی آمد سے قبل بھارت ماحول کو گرماکر خود کو بے گناہ قرار دینے کے حربوں پر عمل پیرا تھا۔ اوبامہ بھارت سے کئی نئے معاہدوں پر دستخط کرنے آرہا تھا۔ پہلے بھی اُس کی خواہش پر بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے استثنیٰ ملا اور بھارت نے دنیا بھر میں اپنی جوہری برآمات سے نہ صرف مال سمیٹا، بلکہ بلکوں سے گہرے تعلقات بھی استوار کرلیے۔ روپے کی اس ریل پیل نے ہندو زینت کو مزید عریاں کردیا۔ خباثتیں مکمل طور پر ننگا ہوگئیں۔

بھارت کرئہ ارض کا سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ عددی اعتبار سے یہ سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس کی آبادی 220 بلین افراد پر مشتمل ہے۔ یہ 35 صوبوں اور ریاستوں پر مشتمل ہے۔ ملک کی 86 کروڑ آبادی شدید ترین غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ 50 کروڑ نفوس شدید کمی خوراک کے عفریت کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہندوستان دنیا بھر میں بے روزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ہر 100 میں سے 22 افراد کے پاس کوئی روزگار نہیں۔ ملک کا بجٹ خسارہ 100 بلین ڈالرز ہے۔ تجارتی خسارہ 190 بلین ڈالرز ہے، جبکہ عوامی قرضہ جی ڈی پی کا 27 فیصد ہے۔ راجیہ سبھا، لوک سبھا اور صوبائی اسمبلیوں کے کل اراکین 9290 ہیں۔ ان میں سے بیشتر بی جے پی کے نعرے ’’ہنو توا‘‘ کو دل میں جگہ دیے ہوئے ہیں۔

بھارتی میڈیا پر ان دنوں ان زہریلے سانپوں نے جی بھر ک پاکستان کے خلاف زہر اُگلا ہے۔ بی بی سی نے سشما سوراج کا ایک انٹرویو نشر کیا جس میں اُس نے سرحدی کشیدگی کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ حیرت ہے کہ غریب غربا کی 86 کروڑ فوج رکھنے کے باوجود بھارت اپنے دفاع پر سالانہ 42 بلین ڈالرز کیونکر لگارہا ہے؟ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کے ثمرات میں سے ایک وہ اسلحے اور گولہ بارود کے ڈھیر ہیں جن کو دنیا بھر کی بلیک مارکیٹوں سے اکھٹا کیا گیا ہے۔ امریکی پشت پناہی پر بھارت کے لیے ٹینک، بکتربند گاڑیوں، میزائلوں، مشین گنوں، راکٹوں کا حصول نہایت درجہ آسان بنادیا گیا ہے۔ ہندو اس طاقت کو پاکستان پر چاند ماری کے لیے مسلسل استعمال کررہا ہے۔

اس ساری صورت حال کی سنگینی بیرونی دنیا کو سمجھانا ہوگی۔ مسکراہٹوں اور گرم جوش مصافحوں کے تبادلوں، پرتعیش ظہرانوں کے انعقاد کے علاوہ یہ نہایت سنگین مسئلہ ہر فورم پر اٹھانا ہوگا۔ پاکستان تمام سرحدی ملکوں کو صورت حال سے آگاہ کرے۔ اقوام متحدہ کے ہر فورم پر مسئلے کو پوری طرح واضح کیا جائے۔ سارک کی ہنگامی کانفرنس بلاکر بھارتی جنون ان ملکوں پر عیاں کیا جانا چاہیے۔ ہمیں دی ہیگ ہالینڈ میں بین الاقوامی عدالت انصا میں اس مسئلے کو لے کر جانا ہوگا۔ اُن اسلامی ملکوں کو جن کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہیں، انہیں فعال کرنا ہوگا۔ ہر طرف سے دبائو آنا چاہیے تاکہ بھارتی حکومت اور فوج کا نشہ ہرن ہو۔ ہمیں پہلے ہر طور پر اس مسئلے کو صلح جوئی سے حل کرنا چاہیے۔ اگر بھارت کا پاگل پن ختم نہیں ہوتا اور وہ شرانگیزیاں جاری رکھتا ہے تو ساری دنیا کی نظروں کے سامنے اُسے اپنی آہنی ہاتھ سے روکنا ہوگا۔ ہماری جنگی کارروائیاں بھارتی فوج کو براہ راست نشانہ بنائیں۔ ہمیں اسلام کے زیریں اصولوں کی روشنی میں عام آبادیوں کو بچانا ہوگا۔ ہم ہندوئوں کی پست زینت پر کبھی نہیں اترسکتے۔ ہماری ہر کارروائی اپنے دفاع کے لیے ہوگی۔ ہماری بہادر افواج کسی بھی ایسے چیلنج کا مقابلہ سرفروشی سے کرسکتی ہیں۔ امن کی ہر خواہش کو دشمن ہماری بزدلی نہ سمجھ لے، اس لیے ہمیں سیلف ڈیفنس کے سارے ضابطوں کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ آہنی لاٹھی کا ایک ہی وار سیواجی مرہٹے کے ان پیروکاروں کے لیے کافی ہوگا۔ لومڑی مکاری میں کتنی ہی کیوں نہ بڑھ جائے وہ بہادری اور دلیری میں شیر کی ہم پلہ کبھی نہیں ہوسکتی۔

دوسری طرف افغانستان میں امن ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات تمام خطے پر پڑیں گے۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین وطن واپس لوٹ سکیں گے۔ یوں پاکستانی معیشت پر یہ اضافی بوجھ کم ہوجائے گا۔ افغان طالبان کے حکومت میں حصے دار بننے سے پاکستانی طالبان بھی امن کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ یوں ہم آپریشن پر پورے ایک کھرب 30 ارب روپے صرف کرنے سے بچ جائیں گے۔ یہ اضافی بوجھ دور ہوجانے سے معیشت اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ افغان بارڈر پر شورشوں کے خاتمے سے ہندوستانی جارحیت کم ہوگی اور ہم دشمن کو یکسوئی سے جواب دینے کے قابل ہوجائیں گے۔ امن مذاکرات اور پاکستان کے اس میں مثبت رول سے ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ہتھیاروں کے زور پر مزید اشتعال پھیل سکتا ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے ذریعے ہم کئی دہکتے محاذوں کو خاموش کرسکتے ہیں۔ چین افغانستان کی تعمیر و ترقی میں پہلے مثبت رول ادا کرتا رہا ہے۔ امن کے بعد اس کی رفتار بڑھ جائے گی۔ امریکی سپاہ کی شکست ہمیں باور کراتی ہے، امن کا راستہ ہی خوشحالی کا واحد راستہ ہے۔ آیندہ بھی ہماری حکومتوں کو اپنی بداعمالیوں سے سبق لینا چاہیے۔ ہمیں امن کے ہر دشمن کو پاکستان کا دشمن سمجھنا ہوگا۔ امریکا اور دوسری بدیسی قوتوں کی بندوقیں اٹھاکر گھومنا کوئی جواں مردی نہیں۔ ہر ذی ہوش کے لیے افغانستان میں امریکی شکست ایک بہت بڑا سبق رکھتی ہے۔ خدا کرے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں مکمل طور پر پُرامن ہوجائیں۔

ہماری افواج نہایت تربیت یافتہ ہے، ان کے پاس دنیا کا اعلیٰ اسلحہ موجود ہے۔ ہم بحیثیت قوم خوشحال نہیں ہیں۔ ہماری معیشت نہایت درجہ کمزور ہے۔ ہم بیرونی امداد کے سہارے ملک چلارہے ہیں۔ ہم سود پر بھاری قرضے لیتے ہیں۔ ہمارے بجٹ کا 66 فیصد سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے۔ سال بہ سال یہ بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ جب ہم جی ڈی پی کے 34 فیصد سے اپنا سارا بجٹ بنائیں گے تو ملکی ترقی میں بڑی بہتری کی امید رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ملک میں سولہ سترہ سالوں سے کوئی مردم شماری نہیں ہوپائی تھی، اس لیے ہمیں کتنے اسکول اور ہسپتال چاہییں، ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ بلدیاتی انتخابات سال ہا سال سے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہمارے شہر کوڑا دان بن کر رہ گئے ہیں۔ ڈینگی اور دوسری وبائیں پھیلتی جارہی ہیں۔ جمہوری قیادت نعروں، خطابوں اور خوابوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ سنگین مسائل ہیں کہ آندھیوں کی طرح یورش کیے جارہے ہیں۔ ان کا بوجھ کم ہونے کی بجائے دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ سیاسی لیڈر ہر محاذ پر پسپا ہوئے جارہے ہیں۔

ان حالات میں پاکستانی فوج نے جو اقدام اُٹھائے ہیں، وہ سب درست سمت میں ہیں۔ فوج کو چاہیے کہ وہ اندرون اور بیرون دونوں کڑی نظر رکھے۔ خود کو سیاست میں مت الجھائے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ فوج نے جب بھی ملکی قیادت سنبھالی ہے اس کا نتیجہ انجام کار اچھا نہیں نکلا۔ پرویز مشرف کے دور میں فوجی مورال بہت نیچے چلاگیا تھا۔ مشرف اپنے اقتدار کو تادیر قائم رکھنے کے لیے اس جانب غفلت برتتا رہا۔ فوجی وردی تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بننے لگی۔ پچھلے چند برسوں میں فوج سیاست سے دور رہی تو اُس کا وقار پھر بلند ہونا شروع ہوگیا۔ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے اسلامی فورسز کی کمان سنبھالی۔ انہوں نے اسلامی فوج کو بلند مورال عطا کیا۔ ہماری فوج اندرون اور بیرون ملک اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر ناموری کماچکی ہے۔ ساری اسلامی دنیا میں ہماری فوج بہترین حربی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہمارے اسلحے اور جوہری ہتھیاروں کو مسلم ملکوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمیں فوج کے اس شفاف امیج کی بہت حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ ٭٭٭