• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

2017ء کے ان ایام میں اسلامی دنیا کا منظرنامہ بہت وحشت ناک ہے۔ ایران نے سعودی عرب کو تباہ و برباد کردینے کی کھلی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ ایرانی جرنیل نے اپنی حکومت کے ایما پر پاکستان کے بارے میں سخت رویہ اپنایا۔ افغانوں کا کہیں اور بس نہ چلا تو ہمارے اوپر برق بن کر آگے۔ سرحدوں پر آگ اور خون کا کھیل شروع کردیا۔ دندان شکن جواب کے بعد افغان حکومت ’’امن، امن‘‘ پکارنے لگی۔ بھارتیوں نے کل بھوشن کو بچانے کے لیے عالمی انصاف فروش بھڑوں کے در پہ جادہائی دی ہے۔ اب وہاں سے عصمت اور عزت پر لیکچر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چینیوں نے سی پیک کا نام تبدیل کرنے کا ڈول ڈالنا چاہا۔ لفظ PAK کو بدل کر انڈیا کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ جب پاکستان نے چینی سفیر کی گوشمالی کی تو اس کا نشہ اُترا۔ ثابت ہوا کہ چینی گوادر کا پانی پی پی کر نشے میں آگئے تھے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد پاکستان کی دہائی نہ دیتی ہو۔

کئی اسلامی حکمرانوں کی دولت کمپیوٹروں اور کیلکولیٹروں سے باہر نکلے جارہی ہے اور رعایا ہاتھوں سے ستر ڈھانپے پھرتی ہے۔ ایک طرف فلک بوس محل ہیں اور دوسری طرف آسمانی بجلیوں سے جلی سیاہ جھگیاں، منافقت ڈکشنری کا وہ لفظ ہے جو اسلامی دنیا کے بیشتر حکمرانوں کی ساری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہی وہ تار ہے جس سے ان کا کفن بُنا جائے گا۔ سارا سال یہی ایک منظرنامہ ہے جو آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ رمضان میں اس کی خوں آشامی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ امارت اور غربت کو پاٹنے والی عارضی لکڑیاں بھی گرجاتی ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر اسلامی ملکوں کے حکمران اربوں، کھربوں پتی لوگ ہیں۔ یہ دنیا کے امیرترین لوگوں کی فہرست میں نہایت اونچے درجے پہ ہیں۔ ان کے پاس الف لیلوی دولت کے انبار ہیں۔ یہ شاہانہ محلوں میں رہتے اور چکاچوند روشن شاہراوں پر سفر کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس سونے سے بنے جہاز اور گاڑیاں ہیں۔ ان کے دسترخوانوں پر غیرملکی ڈشیں اعلیٰ مشروبات اور بدیسی مکروہات سجی رہتی ہیں۔ یہ ایک ایک وقت کے کھانے پر لاکھوں پاونڈ خرچ کردیتے ہیں۔ یہ سیون اسٹار ہوٹلوں سے کم ہیں، اقامت اختیار کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ یہ ہوٹلوں کے بیروں کو ہزاروں پاونڈ ٹپ دے دیتے ہیں۔ ان کے عشرت کدوں میں رات کو بھی دن کا سماں رہتا ہے۔ کشادہ ڈرائنگ روموں، بیش قیمت پردوں، جھلملاتے فانوسوں اور نایاب نودرات سے سجے ان کے محل حسن بن صباح کی بنائی جنت کو مات دے دیتے ہیں۔ یہودیوں کے بینکوں میں ان کی دولت اسرائیل کو بے مہار قوت دیتی رہتی ہے۔ یہ حکمران بادشاہ اور شاہزادے اس سنگین حقیقت سے بالکل بے حس ہیں کہ آج کی دنیا میں غریب ترین آبادی کا سب سے زیادہ حصہ مسلمان ہیں۔ عراق، افغانستان، شام، سوڈان، فلسطین وغیرہ میں مسلمان بدترین حالات کا شکار ہیں۔ اگر دنیا کے یہ امیر ترین مسلمان ایک عیسائی بل گیٹس کی مثال کو ہی فالو کرلیں تو مسلم دنیا کا مقدر بدل سکتا ہے۔ بل گیٹس امریکا کا امیر ترین شخص ہے۔ اُس نے ’’بل ملینڈا اینڈ گیٹس‘‘ نامی ایک فلاحی تنظیم بنائی اور کروڑوں ڈالر لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے۔ ہمارے مسلمان دولت مند حکمران سونے کے کموڈوں میں رفع حاجت کرتے اور ایک ہی رات میں 20، 20 لاکھ پاونڈ جوئے میں ہار جاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ خدا خوفی کریں اور روز جزا کا خیال کریں تو یہ دنیا بھر کے مجبور اور بے کسی مسلمانوں کی ڈھال بن سکتے ہیں۔ یہ سائبان بن کر اُن کے سروں کو تپتی دھوپ سے بچاسکتے ہیں۔ یہ صحرائوں کے بگولوں سے لڑتے لوگوں کے لیے نخلستان بناسکتے ہیں۔ مسائل کے گرداب میں پھنسے مسلمانوں کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھاسکتے ہیں۔ ایثار کا یہ جذبہ مسلمانوں کی بکھری طاقت کو سمیٹ دے گا۔ ان کی شیرازہ بندی ہوجائے گی اور اُمت متحد ہوکر ایک بہت بڑی قوت بن جائے گی۔ ایک لازوال قوت، ناقابل شکست طاقت۔

پاکستانی بالادست طبقے نے صرف سوئس بینکوں میں 200 ارب ڈالر غیرقانونی انداز میں جمع کروا رکھے ہیں۔ ایک بینک کریڈٹ سوئس اے جی بینک کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ اُس کے ہاں 97؍ ارب ڈالر پاکستانیوں کے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری سیاست اور جمہوریت نے ملک کے غریبو ںکے تن سے کپڑا، اُن کے منہ سے نوالا چھینا ہے۔ ان کی ہوس کی آگ پھر بھی نہیں بجھی۔ ہمارا حکمران اور رئیس طبقہ مال و دولت اکھٹی کرنے کی دوڑ میں پاگل ہوچکا ہے۔ یہ غریبوں کے آنسو اپنے دامنے میں نہیں لیتا۔ معذوروں کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھتا۔ محتاجوں کی حاجت روائی کا روادار نہیں ہوتا۔

یتیموں اور بیوائوں کے سروں پر دستِ شفقت نہیں رکھتا۔ یہ اس احساس سے عاری ہے کہ اس ملک کا غریب کیسے سسک سسک کر زندگی گزار رہا ہے۔ علاج کے لیے لوگ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ان کے لیے نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیاں۔ چھوٹے چھوٹے بچے اسکول اور تعلیم سے محروم ورکشاپوں میں زندگی کی گاڑی کھینچنے کی سخت تگ و دو میں مصروف ہیں۔ آج عیاشی اور حرام خوری ہماری سیاست کے دو بڑے ستون بن کر رہ گئی ہیں۔

آپ دنیا بھر پر نظر دوڑائیں۔ آپ ان ملکوں کو دیکھیں جو ترقی کرچکے ہیں یا تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ آپ ایک ہی اصول کو وہاں رواں دواں دیکھیں گے۔ صدر سے لے کر ایک ادنیٰ کان کن اپنے کام کے ساتھ انتہائی مخلص نظر آئے گا۔ ہر شعبہ زندگی کو چلانے کے لیے بہترین دماغ میسر کردیے گئے ہیں۔ ہر نظام زندگی ایک مربوط سسٹم سے جڑا ہوا ہے۔ صدر، وزیراعظم، وزیر، سفیر، مشیر، نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک لوگ ہیں۔ جج، وکیل، پولیس، ایجنسیاں، فوج اپنا اپنا کام کیے جارہی ہیں۔ ہر بستی، ہر آبادی میں ترقی کا پہیہ گھوم رہا ہے۔ ہر فرد ایک ستارہ ہے جو ملکی کہکشاں کو اور خوبصورت بنائے جارہا ہے۔ لوگ اپنے فرائض ادا کیے جارہے ہیں اور ریاست دن بدن اُن کے حقوق کا دائرہ وسیع کیے جارہی ہے۔ ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جارہی ہیں۔ خوشحال ہوتے ملکوں میں خوشحالی کا شیریں جام ہر کسی کے ہونٹوں کو میسر آرہا ہے۔ معاشروں کے کمزور طبقوں کی زبانیں بھی سیرات ہورہی ہیں۔ یہ ملک آگے بھی جارہے ہیں اور دائرے میں بھی گھوم رہے ہیں۔ یہ ترقی خوشحالی میں آگے بڑھے جارہے ہیں۔ یہی ترقی اور خوشحالی عوام کی زندگیوں میں ایک دائرہ بھی بنارہی ہے۔ ان کی محنت، کاوش، ہنر، عرق ریزی کا صلہ معاشرہ انہیں ثمر کی صورت لوٹا بھی رہا ہے۔ لوگ ٹیکس ادا کرکے اس کا بہترین نعم البدل پارہے ہیں۔ وہ اپنی ریاضتوں کا صلہ بہتر معیارِ زندگی کی صورت حاصل کررہے ہیں۔ ان ملکوں میں یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوئے جارہا ہے۔ تعلیکم مفت ہے۔ علاج معالجہ حکومت اپنے خرچ پر مہیا کررہی ہے، روزگار کے نت نئے دروازے کھولے جارہے ہیں۔ ضروریاتِ زندگی کا حصول نہایت آسان ہے۔ مزدور اپنی گاڑی پر کام کو آرہا ہے اور واپس لوٹ رہا ہے۔ اس کا لباس اپنی تراش خراش میں ملکی صدر جیسا ہے۔ اس کے چہرے پر آسودگی کا غازہ ہے۔ ریاست اس کی مکمل محافظ ہے۔ اسے تحفظ کا سائبان میسر ہے۔ اس کے بیوی بچوں والدین کے سروں پر بھی ٹھنڈا سایا موجود ہے۔ ایسا شخص پوری رغبت سے اپنا کام کررہا ہے۔ وہ ملک کو آگے لے کر جارہا ہے۔ بدلے میں ریاست اُس کا نہال کیے جارہی ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں لیاقت اور محنت کا بیج بنجر زمینوں میں تلف نہیں ہورہا۔

ہم ہر روز جمہوریت کی برکات پہ لیکچر سنتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے فیصلے نے ہماری جمہوری نقاب نوچ لی ہے۔ ڈان لیکس کے ڈراپ سین نے حکومت کو عریاں کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹ سے شروع ہونے والا معاملہ جنرل قمر جاوید کی فراست نے حل کردیا ہے۔ فوج ہندوستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ محاذوں پر سرگرم ہے۔ وہ اندرون ملک نیا محاذ کھولنا نہیں چاہتی۔ مشرقی سرحدی پر انڈیا کے سامنے ہم ہتھیار سونتے ہوئے ہیں۔ افغانوں اور ایرانیوں کے ساتھ معاملات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت منبروں کے علاوہ کہیں موجود نہیں۔ مہنگائی بے روزگاری کرپشن کے سیلاب کو روکا نہیں جاسکا۔ کارسرکار ہر طرف چوپٹ ہے۔ کسی بھی محکمے میں بھاری رشوت کے بغیر جائز کام نہیں ہورہا۔ اس ماہ کے آخر میں بجٹ سے پہلے ہی ایک ہزار ضرورت کی اشیاء مہنگی ہونے کی نوید سنائی جارہی ہے۔ اسحاق ڈار اس حکومت کے آخری بجٹ میں کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دینے والے ہیں۔ یہ مسافرہ بھی پاکستان میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ارب پتی وزیر خزانہ مزدور کے کچن کا بجٹ بناتا ہے۔ وہ اصرار کرتا ہے کہ مہنگائی صرف 5 فیصد بڑھی ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ آدمی صرف روٹی اور دال پہ زندہ نہیں ہوتا۔ اسے بچوں کی فیس دینا ہوتی ہے۔ کتابوں، بستوں اور یونیفارم مہیا کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہر سال مہنگے ہورہے ہیں۔ مکانوں کے کرایوں اور بلوں میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے اکانومسٹ اپنی کمیونٹی اور جاگیرداروں کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں۔ اولاد جس چیز کا بزنس کررہی ہو اُس کی ذخیرہ اندوزی سے انہیں راتوں رات چوگنی ترقی مہیا کردی جاتی ہے۔ ہمارے خزانے کے صندوقوں میں نوٹ کترنے والے چوہے گھس آئے ہیں۔ ہمارے جمہوری بونے اپنے خوابوں میں سونے کے سکّوں کے پہاڑ گنتے ہیں۔

قومی منظر نامے کا جائزہ لینے سے عیاں ہوتا ہے کہ فوج نے وقت کی نزاکت کو پورے طو رپر بھانپ لیا ہے۔ عسکری قیادت نے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک اپنی بھرپور موجودگی ثابت کردی ہے۔ کراچی میں امن و امان کی کھیتیاں لہلہانا شروع ہوگئی ہیں۔ بلوچستان میں فوج کی حمایت میں ریلیاں نکل رہی ہیں۔ بلوچستان میں ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے۔ پنجاب میں فوج نے ازخود آپریشن شروع کردیا ہے۔ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ آرمی چیف افغان اور ایران حکومت سے معاملات کو خود ہینڈل کررہے ہیں۔ ان کی حکمت عملی میں تدبر اور فراست کی گہری جھلک ہے۔ وہ پاکستان کو درپیش خطرات کا پورا پورا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ عسکری قوت کو برابر مضبوط کررہے ہیں۔ فوج کو انتہائی اعلیٰ ٹریننگ دی جارہی ہے۔ ہماری اسلحہ ساز فیکٹریاں، جدید اسلحہ بنارہی ہیں۔ ہم بہترین جہاز بنارہے ہیں۔ ہماری سرحدیں مضبوط ہورہی ہیں۔ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے ثمرات تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔ ہماری فوج نے بیرون ملک ’’رعدالشمال‘‘ مشقوں میں اپنی م شاقی اور مہارت کی دھاک بٹھائی تھی۔ عرب ملکوں میں پاک فوج کو اعلیٰ ترین سطح پر سراہا جارہا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی ماہرین گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان کا جوہری منصوبہ انتہائی محفوظ ہے۔ گزشتہ دو ڈھائی سالوں میں پاک فوج نے ہماری سیاسی قیادت کی نااہلی سے پیدا ہونے والے خلا کو اپنی محنت، جانفشانی اور زبردست عملی کارکردگی سے پُر کردیا ہے۔ فوج سرحدوں پر، بین الاقوامی تعلقات میں، اندرون ملک امن و سلامتی میں ہر جگہ بھرپور طریقے سے موجود ہے۔