• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

21؍ مارچ کو پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی رو سے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے 81 کھرب روپے کے بینک اکائونٹس خفیہ نہیں رہیں گے۔ یہ معاہدہ حکومت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت معلومات حاصل کرسکتی ہے اور یہ کلاسیفائیڈ نہ ہوگی۔ ایف بی آر اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے اس معاہدے کو قانون شکل دے دی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے ایام میں پاکستان میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ ہمارا سرمایہ ملک سے یوں بے دردی سے غائب کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔ اُدھر دبئی سے آنے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق پچھلے برس پاکستانیوں نے وہاں سوا کھرب کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ پراپرٹی خریدنے میں صرف ہوا۔ ایف بی آر سے جب اتنی بڑی رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے بارے میں ویسی ہی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ایف بی آر سوئٹزرلینڈ سے حاصل کرے گی تو ایف بی آر کے اعلیٰ افسران نے نہایت شرمیلے انداز میں بغلیں جھانکیں۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی 2013ء کی سنگاپور کے بارے میں اپنی رپورٹ کی دوبارہ تجدید کی ہے۔ دنیا کے 175 ملکوں میں سروے کے بعد سنگاپور کو دنیا کا سب سے کم کرپٹ ملک قرار دیا گیا ہے۔ ہم 2013ء میں 139 ویں نمبر پر تھے۔ 2012ء میں 127 ویں، 2011ء میں 134 ویں اور 2010ء میں 143 ویں اور 2009ء میں 138ویں نمبر پر براجمان تھے۔ نیب کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ یومیہ پاکستان میں 15؍ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے اور سرمایہ بہتے خون کی طرح تیزی سے فوارے کی صورت میں قومی وجود سے خارج ہوئے جارہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جھانکا جائے تو ہم نے 1947ئ، 1950ئ، 1958ء اور 1999ء میں کرپشن کی روک تھام کے لیے نہایت سخت گیر قوانین بنائے تھے۔ ان کے باوجود کرپشن کے طوفان کی حشرسامانیاں پورے شدمد کے ساتھ جاری رہیں۔ قائداعظم کے خطوط کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ ہمارا مغربی تعلیم یافتہ بااثر طبقہ، جسے مثالی ہونا چاہیے تھا، کرپشن کی کالک اپنے چہروں پر ملے بیٹھا ہوا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس سیلاب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا۔ صرف زرداری دور کے اعدادو شمار یکجا کیے جائیں تو روٹی، کپڑا، مکان بانٹنے والوں کے دور میں 8.5 ٹریلین روپے یعنی 94 بلین ڈالرز کی کرپشن کی گئی۔ دنیا کے بہترین معاشی دماغ ہمیں بارہا بتاچکے ہیں کہ اگر ملک سے صرف کرپشن ختم ہوجائے تو ہمیں سودخوروں سے سود پر ایک روپیہ بھی نہیں ختم اٹھانا پڑے گا۔ صورت حال یہ ہے کہ ہماری قومی بوریت کے تجویز کردہ علاج کرکٹ نے کرپشن میں نئے نئے افق دریافت کیے ہیں۔ آج کل آئی پی ایل میچوں میں لاکھوں کروڑوں جائز تنخواہ پانے والوں کی جوا، سٹہ بازی اور سپاٹ فکسنگ کے کرتوت قومی اور بین الاقوامی پریس میں شہ سرخیاں بنارہے ہیں۔ ایسا لگتا یہاں جو جتنا خوشحال ہے اس کی پیاس دولت کے سمندر کا شورابہ پینے کے بعد جناتی ہوچکی ہے۔ ہم انگریز ڈراہ نگار بن جانسن کے ڈرامے والپون کے تمام کرداروں کی طرح دولت کی دوڑ میں اندھے ہوچکے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم سچائی کے آئینے کے بدترین دشمن ہیں۔ ہم کبھی نہیں مانے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ ہماری کرپشن تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بیوروکریٹوں، سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور جرنیلوں نے ایک اشتراک بنالیا تھا اور ملک کو ٹڈی دل کے لشکر کی طرح چاٹنا شروع کردیا تھا۔ مغربی پاکستان نے مشرقی حصے کے قریب قریب تمام ری سورسز ہتھیالیے۔ بنگالیوں کا دبا ہوا غم و غصہ ہندوستان نے تیل ڈال کر بھڑکادیا تو پاکستان کرپٹ مافیے کے ہاتھوں دو ٹکڑے ہوگیا۔ پاکستان میں کرپشن کی داستان لکھنے کے لیے کئی جلدوں پر محیط ایک کتاب چاہیے۔ ان چند برسوں کے چند بڑے کرپشن اسکینڈل اگر صرف یادداشت کے ذریعے لکھے جائیں تو صورت حال کم ڈرائونی نہ ہوگی۔ نندی پور پاور پراجیکٹ پر ہم 18 سے 23 ارب خرچہ کرنے کے بعد کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا پائے۔ ہم نے اس پر جو تخمینہ لگایا تھا اب وہ رقم انباروں کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر 54 ؍ ارب روپے لگنا تھے، اب تک 80 ؍ ارب لاگت کے باوجود اس پر ابھی خاصا کام باقی ہے۔ اسلام آباد ایرپورٹ پر ابتدائی تخمینہ 36؍ ارب تھا، اب تک 70؍ ارب لگاکر بھی ہم اسے آپریشنل نہیں کرپائے۔ اوگرا کرپشن کیس میں توقیر صادق جیسے فرنٹ مینوں نے 90؍ ارب روپے کی کرپشن کی۔ راولپنڈی میٹرو منصوبے میں تخمینے سے 15 سے 20 ؍ ارب روپے زیادہ اُڑا دیئے گئے۔

کے پی کے میں پیڈو نامی محکمے نے اسٹاک مارکیٹ میں ٹیکس دینے والوں کے اربوں کی سرمایہ کاری کی اور بعد میں نقصان کا بتاکر پیسہ ہڑپ کرلیا۔ این ایل سی میں تین چار بڑے افسروں نے 4؍ ارب روپے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اور بعد میں رقم ڈوب جانے پر افسوس کا اظہار کردیا۔ ڈی ایچ اے ویلی میں شہدا کی زمینوں اور پلاٹس میں 15 سے 20؍ ارب روپے لینڈ مافیا ادھر ادھر کرگیا۔ لاہور میں اورنج میٹرو ٹرین میں تقریباً ایک کھرب روپیہ لگانے کی منظوری دی گئی۔ ہمارے بڑے بڑے ٹھیکے چینی کمپنیوں کو بغیر کسی ٹینڈر کے دیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا چین اور ترکی میں معاہدے کرنے سے دوسرے صوبوں میں احساس کمتری کو مزید بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ بغیر ٹینڈر کے کسی بھی دوست ملک کی کمپنیوں کو ٹھیکے دینا نہایت قابل اعتراض اقدام ہے۔ حب الوطنی کی نقاب کے پیچھے اربوں ادھر ادھر کیا جارہا ہے۔ اولڈ ایج بینفٹ نامی محکمے کے 90؍ ارب روپے زمینوں میں پھنس گئے ہیں۔ نیٹوور لینزنگ کمپنی 94؍ ارب روپے کے معاملات میں جکڑی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں بحریہ انکلیو نے سی ڈی اے کی 688 کنال زمین پر قبضہ کرکے پلاٹس بناکر بیچ دیے ہیں۔ راولپنڈی میں محکمہ جنگلات کی 823 کنال زمین پر بحریہ ٹائون نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس کی پلاٹنگ کرکے بیچا جارہا ہے۔ سینٹارس اسلام آباد کا ہی نہیں پاکستان کا بھی سب سے بڑا شاپنگ پلازہ ہے۔ یہ ملک کی سب سے زیادہ قیمتی کمرشل زمین تھی۔ اس کی مالیت کھربوں میں بنتی ہے۔ اس بڑے پلاٹ کو چند کروڑ میں مالکوں کے حوالے کرکے اربوں کی کرپشن کی گئی۔ اسلام آباد کا سرینا ہوٹل ریڈزون میں واقع ہے۔ یہ اربوں روپے مالیت کی زمین ہے۔ یہ پلاٹ اور اس سے ملحقہ زمین کا سارا سودا اسرار کے پردے میں لپٹا ہوا ہے۔ گرینڈ حیات ہوٹل کا پلاٹ اونے پونے بیچ دیا گیا۔ کراچی کمپنی اسلام آباد میں 10؍ ارب روپے کا کمرشل پلاٹ صرف 53 کروڑ میں بیچ دیا گیا۔ اسلام آباد میں میں صفاگولڈ مال پلازے میں 10؍ ارب روپے کی کرپشن منظرعام پر آچکی ہے۔ ملک میں اب تک جعلی پنشنرز کو کھربوں روپے پنشن کی ادائیگی ہوچکی ہے۔ این سی ایچ ڈی کے ہزاروں گھوسٹ اسکولوں میں اربوں کی کرپشن کی کہانیاں سامنے آچکی ہیں۔ ٹی ڈی سی پی میں اربوں کی کرپشن زبان زدعام ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے سرکردہ لیڈروں کی کرپشن آدمی کو زبان دانتوں میں دبالینے پر مجبور کردیتی ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن اس دیگ کے صرف دو دانے ہیں۔ سندھ میں دونوں بڑی پارٹیوں نے کرپشن کے میدان میں جو جوہر دکھائے ہیں وہ رہتی دنیا تک مثال رہیں گے۔

یہ صرف چند قابل ذکر مثالیں ہیں۔ اپ اخبارات، ٹی وی ہر جگہ نئے سے نئے کیس سن سکتے ہیں۔ یہ کیسز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں زیربحث آچکے ہیں۔ ان میں سے چند عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ کچھ نیب کی چھلنی سے ہوکر گزر رہے ہیں۔ بعض ٹی وی ٹاک شوز میں ملک کے بہترین رپورٹر ثبوتوں کے ذریعے خوفناک کرپشن کی کہانیاں منظرعام پر لائے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ہمارا احساس زیاں مفلوج ہوچکا ہے۔ عدلیہ میں کرپشن کی خوفناک مثالیں نظر آرہی ہیں۔ یہ ایک وبا کی صورت ہمارے عدالتی نظام کو چاٹ رہی ہے۔ ہیلتھ سیکٹر میں مجبور مریضوں کی ادویات ہسپتالوں سے نکال کر میڈیکل اسٹوروں پر فروخت کرکے مافیا نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ ہماری وزارت صحت میں بیٹھے بے ایمانوں نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو چھ چھ گنا تک ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا لائسنس دے رکھا ہے۔ پولیس کا محکمہ جیسے کرپشن کا ایک ذیلی ادارہ بن چکا ہے۔ پولیس اسٹیشنوں کی درجہ بندی کے ذریعے ٹھیکے دیے جارہے ہیں۔ ایس ایچ او نے خود کمانے کے علاوہ ان افسروں کے منہ بھی بھرنے ہوتے ہیں جو اژدھوں کی طرح منہ پھاڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔ عوامی بہبود کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی جارہی ہے۔ ہماری سڑکوں، پلوں، گلیوں، بازاروں کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال ہورہا ہے۔ ٹیکس کی چوری میں سرمایہ داروں اور قانون سازوں نے نئے نئے ہتھکنڈے متعارف کروارکھے ہیں۔ کمی کو پورا کرنے کے لیے غریبوں کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے روندا جارہا ہے۔ جاگیرداروں کو زرعی ٹیکس سے مکمل استفادے رکھا ہے۔ مزدور کی روٹی بھی ٹیکس زدہ ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں من چاہا اضافہ کرکے حکمرانوں کی عیاشیوں کا سامان کیا جاتا ہے۔ جی ایس ٹی اور دوسرے منصوبوں کے نام پر رقم اینٹھی جاتی ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز میں کرپشن 26.5 بلین تک جاپہنچی ہے۔ پی آئی اے میں 500 ملین ماہانہ کرپشن ہوتی ہے۔ ریلوے بھی کرپشن میں کچھ پیچھے نہیں ہے۔ ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے جیسے اداروں کے ماہانہ بنیادوں پر اسکینڈل سامنے آرہے ہیں۔ حکمران، بیورو کریٹ، صحافی، جج، جرنیل، سرمایہ دار ہر طبقے میں کرپشن ناسور بن کر پھیل چکی ہے۔ اگر ہم سوئٹزرلینڈ سے رقم نکلوا بھی لیں تو واپس لانے والے ہاتھ ہی شاید اس کو کسی دوسرے ملک میں دھکیل دیں گے۔ ہمارے وزیر خزانہ جو اپنے بچوں کو 40، 40 کروڑ قرض حسنہ دینے کی وجہ سے مشہور ہیں، اتنی دولت کو خود سنبھال نہیں پائیں گے۔

گزرے وقتوں میں کرپشن کرنے والا لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا۔ آج کرپٹ لیڈر اور افسر ہمارے ہیرو ہیں۔ یہ معاشرہ انہیں پوجتا ہے اور اپنی نجات انہی کے ہاتھوں میں دیکھتا ہے۔ بھوکا اگر چوری کرے تو قابلِ فہم ہے، وہ جس کی اگلی نسلیں بھی فکر معاش کی زنجیروں سے آزاد ہیں، ان کا چوری کرنا بدترین خباثت ہے۔ یہی درندگی ہے جس نے عام پاکستانی کو قابل رحم معیارِ زندگی کا تحفہ دیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم کے دونوں صاحبزادوں اور صاحبزادی نے خاندانی دولت کے بارے میں جو متضاد بیانات دیے وہ حیرانگی کا باعث ہر گز نہیں، جب دولت شمار سے باہر ہوجائے اور آوارہ گرد ہوکر بیرون ملک چل پڑے تو بڑے سے بڑا کمپیوٹر اس کا حساب نہیں رکھ پاتا۔ صد شکر کہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ کرپشن ختم کرنے کا یہ معاہدہ ہمارے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے ہاتھوں انجام پایا۔ کرپشن کے امام اداروں ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب نے دستخطوں کے لیے قلم میں سیاہی ڈالی۔