• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دہشت گردی کے مہیب سائے

سوموار 2؍ اکتوبرکو امریکی تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا۔ ایک دہشت گرد سٹیفن پیڈوک نے لاس ویگاس میوزیکل شو میں اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ 58 افراد موقع پر ہلاک اور 515 زخمی ہوگئے۔ 22 ہزار تماش بینوں پر امریکی ٹیررسٹ نے ہوٹل کی 32 منزل سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس سے پہلے جون 2017ء میں لندن برج کے خوفناک دہشت گردانہ حملے نے برطانیہ سمیت سارے یورپ کو لرزہ کے رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں خودکش حملے ایک استثنا نہیں ایک رول ہیں۔ جمعرات 5؍ اکتوبر کو بلوچستان میں جھل مگسی کے مقام پر خودکش دھماکہ ہوا۔ 19؍ افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔ ایک کانسٹیبل نے اپنی جان دے کر ایک ہزار کے مجمعے کو بہت بڑے نقصان سے بچالیا۔ اس سے پہلے محرم ے دنوں میں ہم دم سادھے محو دعا رہے کہ یہ ایام خیریت سے گزر جائیں۔ ہفتہ وار اوسطاً دو بڑے چھوٹے خودکش حملے ملک میں جاری ہیں۔ ہم ان کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اب اخبارات اور میڈیا میں ان کو بریکنگ نیوز تو کیا عام خبروں میں بھی نمایاں حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سال کا ایک بھیانک خودکش حملہ 16 فروری کو لال شہباز قلندر کے مزار پر ہوا۔ satp.org نے جو اعدادو شمار دیے ہیں ان کے مطابق یکم جنوری سے 23 جون تک ملک می ں65 دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

درست سمت میں سفر

22؍ ستمبر کو دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا گیا۔ اُس دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی۔ پچھلے چند ہفتوں سے بھارتی جارحیت میں نہایت اضافہ ہوچکا ہے۔ شہدا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کا آپس میں رابطہ بھی ہوا ہے۔ پنجاب رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی بھی کی۔ بھارتی چوکیوں کے پرخچے بھی اُڑائے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کیا گیا، شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ چند دن امن کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ ان سطور کے لکھتے وقت بیک گرائونڈ میں دوبارہ بھارتی جارحیت کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ جب ہمارے وزیراعظم سلامتی کونسل میں خطاب کررہے تھے، ان کو بھارتی فوج بارڈر پر سلامی دے رہی تھی، عالمی میڈیا کے نمایندے سرحدوں کا دورہ کرچکے ہیں، مگر یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ دوسرے محاذ پر افغانستان سے ہم پر حملے ہورہے ہیں۔ خیبرایجنسی کے علاقے راجگال سے ہماری چیک پوسٹ کو فائرنگ کا

مزید پڑھیے۔۔۔

وزیر اعظم کا جرتمندانہ خطاب

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے برما کے مسلمانوں کے ’’انسانی حقوق‘‘ کے لیے آواز اُٹھائی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا سارے کا سارا تنظیمی ڈھانچہ امریکا میں کھڑا ہے۔ اس تنظیم کے سارے بڑے دفاتر امریکا میں واقع ہیں۔ امریکا نے اپنی درندگی کے لیے ان اداروں کو ہمیشہ استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر امریکا کی سرکردگی میں بنا۔ امریکا نے ہی اسے مسلمانوں کے خلاف نہایت بے رحمانہ انداز میں استعمال کیا۔ امریکی سرکردگی میں عیسائی طاقتوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کا شکار انہی ہتھیاروں سے کیا۔ پھر کرتے کرتے یہودی اور ہندو اور اب بودھ بھی اس گھنائونے کھیل میں شامل ہوگئے۔ ہمارے وزیراعظم نے سرمایہ کاری کی آڑ میں امریکی حکام سے مدد امداد کے لیے التجائیں بھی کردیں۔ آئی ایم ایف کے گماشتے بھی نیویارک میں اپنے دفتروں میں تھوتھنیاں نکالے ہماری حرکات و سکنات دیکھتے رہے۔ کھرب ہا ڈالرز اور پونڈز سے عیاشی کرنے والے عیسائی طاقتوں کے پاس روہنگیا مسلمانوں کے زخموں کے لیے مرہم کا چندہ بھی نہ تھا۔ ہر تین سالوں کے بعد ہمارا صدر یا وزیراعظم جنرل اسمبلی میں مسلمانوں پر ہونے والے تازہ مظالم اور انساسنی حقوق پر ایک مرثیہ پڑھتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاست کے مہرے

جناب شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنے دو ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی ایک بھاری کابینہ بنائی، دھواں دھار تقریریں کیں، قومی اسمبلی میں بلند و بانگ دعوے کیے، سنگ بنیاد رکھنے کے فیتے کاٹے۔ پروٹوکول کی لگژری سے لطف اٹھایا اور پھر ’’دیہاڑی دار‘‘ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کرنے لگے۔ جمعہ 15؍ ستمبر کو ہماری سیاسی و قانونی تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور ہوگیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی نظرثانی اپیل سپریم کورٹ نے مسترد کردی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 15 رکنی بنچ نے ساری درخواستیں مسترد کردیں۔ یوں نواز شریف کی آخری امید کا چراغ گل ہوگیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ 19 ستمبر کو نیب کورٹ میں اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں۔ اُن پر دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ ان بطور کو لکھتے وقت تک ان کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ حکومت کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ظلم پر خاموشی کیوں؟

انگریز ناول نگار جارج آرویل برما کی آزادی سے قبل وہاں مقیم رہا۔ اُس نے اِس ملک پر دلچسپ ناول ’’Burmese Days‘‘ لکھا۔ اس کتاب میں دوسرے حصوں کے علاوہ وہاں کے مسلمانوں کی جفاکشی اور بودھوں کی کاہلی پر بھی کئی واقعات لکھ گیا۔ انگریز دور میں برما کے مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں بودھوں سے بڑھ کررہے۔ انگریزوں سے پہلے کے ادوار کو دیکھیں تو بھرپور تفصیلات ایک اور کتاب The Glass Palace Chromicle میں ملتی ہیں۔ یہ تاریخ اٹھارویں صدی کے آخر میں سرچارلز بوچانن نے لکھی۔ مسلمان صدیوں برما میں ہندوستان، چین، بنگال اور عرب سے آئے اور آباد ہوگئے۔ انگریز یہاں 1823ء میں قابض ہوئے۔ بودھ خانقاہی نظام کی بھول بھلیوں میں گم تھے۔ انگریزوں نے ریلوے کے نظام کے لیے مسلمانوں کو ملازمتیں دیں۔ مسلمانوں نے یہاں نہریں کھودیں۔ درآمدات اور برآمدات کے لیے ساحلوں پر لاکھوں مسلمان ملازم ہوئے۔ وہ بودھوں سے کئی گنا زیادہ خوشحال ہوگئے۔ 1930ء میں پہلی بار بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا۔ کازکان کے ساحلوں پر مسلمان مزدوروں کو بودھوں کے مقابلے میں ترجیح دی گئی۔ یہ فسادات دنوں میں سارے برما میں پھیل گئے۔ انگریزوں نے ایک مانیٹگو کمیشن بنایا جس نے مسلمانوں کو مزید مراعات دینے کی سفارش کی۔ یوں دونوں نے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگئی۔ اراکان کے صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بل کھاتی موت کی شاہراہیں

ہر ہفتے ایسے دو تین واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔ جیسے ہی کوئی آئل ٹینکر الٹتا ہے لوگ برتن اٹھاکر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ٹینکر کا گھیرائو کرلیتے ہیں۔ احمد پور شرقیہ کے خوفناک حادثے کے بعد بھی ہماری سڑکیں محفوظ نہیں ہوئیں۔ حرص و لالچ ہمارے اندر اتنا گہرا اترچکے ہیں کہ ہم اپنی جانیں ایک ہولناک خطرے میں ڈال کر دو تین لیٹر کے لیے آگ کے جہنم میں اترنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ ہماری سڑکیں دنیا کی 10 پرخطر ترین سڑکوں میں شامل کی گئی ہیں۔ ٹریفک حادثات کی فیگرز ہوش اُڑانے کو کافی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کی جاتی، ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل سوار راکٹ کی رفتار سے گزر جاتے ہیں۔ لوگ حفاظتی بیلٹ کی طرف سے غفلت برتتے ہیں۔ اوور ٹیکنگ اور غیرضروری تیز رفتاری زندگی کے لیے نہایت پرخطر ہے۔ ویگنوں اور بسوں والے اپنی انا کی تسکین کے لیے ریسیں لگاتے ہوئے خود بھی مرتے ہیں اور دوسروں کے گھر بھی اُجاڑتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے لڑکے ون ویلنگ کے شوق میں ہزاروں کی تعداد میں مررہے ہیں۔ سفر زمینی ہو یا فضائی ہمارے ملک میں نہایت غیرمحفوظ ہوچکا ہے۔ پبلک گاڑیوں میں ناقص سلنڈروں نے گھروں کے گھر اجاڑ دیے ہیں۔ پچھلے ہفتے کراچی کا ایک خاندان پکنک منانے کے لیے

مزید پڑھیے۔۔۔

مسیحا کی تلاش

پاکستان شہری آبادی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کا تیسرا بڑا ملک ہماری 38 فیصد آبادی شہروں میں مکین ہے۔ چین کی 53 فیصد، مالدیپ کی 43 فیصد، بھوٹان کی 37 فیصد، بنگلہ دیش کی 33 فیصد، بھارت کی 32 فیصد، افغانستان کی 26 فیصد، سری لنکا اور نیپال کی اٹھارہ، اٹھارہ فی صد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ ہماری شہری آبادی میں چین اور مالدیپ کی نسبت نہایت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ دیہی آبادی سرعت سے شہروں کا رُخ رہتی ہے۔ زراعت کی زبوں حالی سے تنگ کاشت کار شہروں میں مزدوری کی تلاش میں نقل مکانی کررہا ہے۔ موجودہ حکومت نے قومی صحت پروگرام کے نام سے ایک اچھا قدم اٹھایا، لیکن اس پر ابھی صرف اسلام آباد اور مظفرآباد میں کام شروع ہوا۔ یہ ساری کاوشیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز اسلام آباد کے لیے ہم چار ارب سالانہ گرانٹ دیتے ہیں۔ اس اسپتال میں ملک بھر سے آنے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کی راہداریاں لان حتیٰ کہ پارکنگ ایریا بھی مریضوں سے بھرا رہتا ہے۔ غریب لوگوں نے یہاں بستر بچھارکھے ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں کے سرکاری اسپتال، بدنظمی، غفلت اور بے رحمی کی بنا پر بدنام ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دوراستے

’’جزف ہیلر‘‘ ایک امریکی کہانی کار تھا۔ 1961ء میں اُس نے ایک ناول لکھا جس کا عنوان تھا ’’Catch22‘‘۔ یہ ناول اور اس کا مرکزی خیال دنوں میں عالمی شہرت پاگیا۔ دو دہائیوں کے بعد یہ لفظ انگریزی ڈکشنری میں شامل کرلیا گیا۔ ایسا انسانی تاریخ میں بہت کم ہوا ہے کہ کوئی لکھاری نیا لفظ استعمال کرے اور وہ لغت میں اتنی جلد جگہ پاجائے۔ کیچ22 ایک ایسی صورت حال کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سخت پریشانی والی ہوتی ہے۔ جس سے متاثرہ شخص ہزار کوشش کے باوجود نہیں نکل سکتا۔ اُس کے پاس صرف دو راستے ہوتے ہیں۔ دونوں میں خرابی اور تباہی ناقابل بیان ہوتی ہے۔ اسے علم نہیں ہوتا کہ جو بربادی ان راستوں پہ سامنے نظر آرہی ہے، کیا وہی درپیش ہے یا اُس کے علاوہ بھی کچھ تقدیر کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ وہ اگر ایک کا انتخاب کر بھی لیتا ہے تو تباہیوں کا شکار ہونے کے بعد اُس کے ذہن میں یہی خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ دوسرے راستے پہ چل پڑتا تو شاید اُس کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ جس بھی آدمی کے سامنے کیچ22 والی سچویشن آتی ہے اور وہ ایک راستے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ دوسری راہ پر چلنے والے کو اپنے سے زیادہ خوش قسمت سمجھتا ہے۔ جوزف ہیلر اس استعارے کو خود کی زندگی سے نکال کر انسانی گروہوں، معاشروں اور ملکوں تک لے جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پانامہ لیکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

ابنِ بطوطہ دنیا کا سب سے مشہور سفرنامہ نگار تھا۔ یورپ میں مارکو پولو نے بھی کئی سفر کیے، مگر وہ صرف واقعات لکھتا رہا۔ ابنِ بطوطہ انسانوں، ملکوں اور معاشروں کا پوسٹ مارٹم کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ خوش شکل اور خوش گفتار آدمی تھا۔ بادشاہوں اور وزیروں کے حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ وہ روساء کی محفلوں میں خوشی اور شادمانی کے نغموں سے لطف اندوز ہونے کے بعد فوراً اپنی ڈائری میں تجزیہ کرتا رہتا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ان ’’خوش قسمتوں‘‘ میں سے بیشتر زندگی سے انتہائی غیرمطمئن تھے۔ دولت کی ہوس اور خزانوں کی چکاچوند نے انہیں اندھا کر رکھا تھا۔ وہ ہندوستان آیا تو پرانے بادشاہوں کے اجاڑ محل دیکھنے نکل گیا۔ یہ دیکھ کر اُس کے آنسو کل آئے کہ جہاں بادشاہوں کے تخت ہوا کرتے تھے، وہاں گھوڑے بندھے ہوئے ہیں۔ جہاں بادشاہوں کے قدموں کی خاک ’’کحل الجواہر‘‘ قرار پاکر آنکھوں کے سرمے کا درجہ پاتی تھی وہاں گھوڑوں کی لید پڑی ہوئی ہے۔ بنائی گئیں مسجدیں، کنویں، تالاب موجود تھے، مگر کئی ناموروں کے مقبرے گمنام ہوچکے تھے۔ ابن بطوطہ سے کئی سو سال پہلے فارسی کا عظیم شاعر عمر خیام لکھ گیا تھا کہ جس جگہ جمشید شراب پیتا اور شاہانہ محفلیں منعقد کیا کرتا تھا، وہاں اب جنگی درندوں اور چھپکلیوں کے قافلے رواں دواں ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا نئے ورلڈ آرڈر کی تیاریاں ہیں؟

پنڈت نہرو کی کتاب ’’Auto Bigography‘‘ بہت مشہور ہے۔ یہ اُس کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ نہرو لکھتا ہے کہ انگریزوں کے دور میں ہندوستان اور فلسطین غلام تھے، چونکہ آقا ایک ہی تھا، سو پالیسی دونوں جگہ یکساں ہی چلاکرتی تھی۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں گاڑھی چھننے لگی۔ لارڈ بالفور فلسطین میں وائسرے کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اُس نے وہاں یہودیوں کی اندرون خانہ آبادکاری شروع کروادی۔ اُس دور میں یہودیوں کی عالمی تنظیم World Jewish Movement کے نمایندے ہندوستان آئے۔ مشہور تھا کہ کانگریس انگریزوں کے زیراثر ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ ہندو قیادت اس آبادکاری کے لیے پراسیس کو تیز کروائے۔ نہرو نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اہم امپریل ازم کے خلاف ہیں، ہم آپ کی مدد نہیں کرسکتے۔ 1947ء میں انگریز رخصت ہوئے تو انڈیا نے فلسطین کی تقسیم کے یہودی منصوبے کی ورلڈ فورمز میں مخالفت کی۔ 1949ء میں جب اسرائیل بحیثیت ایک الگ ملک کے اقوام متحدہ کی رکنیت کا خواستگار ہوا تو نہرو نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ آزادی کے بعد 45 برس تک انڈیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی سطح پر تعلقات نہ تھے۔ دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کا کوئی سفارت خانہ تھا۔ انڈیا میں کئی ہزار یہودی آباد تھے، انہوں نے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری، مرادجی ڈیسائی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی پر زور دیے رکھا کہ بھارت اسرائیل سے رسمی تعلقات قائم کرے۔ ساری قیادت نے اسے منظور نہ کیا۔ 1991ء میں راجیو گاندھی خوفناک بم دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔ کانگریس کی نئی لیڈر شپ آگئی اور بالآخر 1992ء میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرلیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خطرے کی گھنٹیاں

نریند مودی کا دورئہ امریکا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجاگیا ہے۔ مودی کا نہایت والہانہ استقبال ہوا۔ اس نے امریکی صدر کو جھپی ڈالی۔ امریکی حکومت کی اعلیٰ کمان سارے کی ساری حاضر تھی۔ بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبر بار بار فلیش کرتی رہی۔ بھارتی وفد نے امریکی حکام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں۔ ہر بھارتی وزیر نے اپنی منسٹری کی وساطت سے معاہدے کیے۔ مصافحے ہوئے، معانقے ہوئے، دستخط شدہ فائلوں کے تبادلے ہوئے، کیمروں کی لائٹیں چمکیں اور لمحات جاودانی ہوگئے۔ بھارت کے لیے یہ دورہ ممکنہ نتائج سے بڑھ کر بار آور ثابت ہوا۔ اس کی جھولی میں نوازشات کی شیرنیاں آئیں۔ مشترکہ اعلامیے کے دن ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ امریکی صدر نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا۔ معاشی میدان میں تعاون بڑھایا۔ تعلیمی میدان میں امریکی نیورسٹیوں میں مزید ہندو طالب علموں کے لیے دروازے کھولے، صفت صنعت حرفت میں نئے نئے افق سامنے لائے گئے۔ جنگی میدان میں بھارت کو بونس دیا گیا اور امریکی اسلحے کے لیے بھارتی گوداموں کو لبالب بھرنے کی نوید سنائی۔ جدید فوجی ٹیکنالوجی ڈرون کے ساتھ اسے تھمادی گئی۔ ٹرمپ نے پاکستانی مجاہد صلاح الدین کو دہشت گرد

مزید پڑھیے۔۔۔