• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

انڈو نیشیا سے سیکھیے

پاکستانی پارلیمنٹ سے اس وقت تک دنیا کے 20 سربراہان خطاب کرچکے ہیں۔ سب سے پہلے 15 مارچ 1950ء کو شاہ ایران نے خطاب کیا۔ 3 جولائی 1962ء کو شاہ ایران دوبارہ خطاب کے لیے آئے۔ 15 جولائی 1962ء کو فلپائن کے صدر میکاپاگال نے خطاب کیا۔ 26 جون 1963ء کو انڈونیشیا کے صدر احمد سایکارنو نے خطاب کیا۔ 5 ستمبر 1974ء کو سری لنکا کی وزیراعظم بندرانائیکے نے خطاب کیا۔ 15 نومبر 1985ء کو ترکی کے صدر کنعان ابوران خطاب کرنے آئے۔ 24 جون 1989ء کو فلسطین کے صدر یاسر عرفات نے خطاب کیا۔ 20 فروری1990ء کو فرانس کے صدر متران نے خطاب کیا۔ 24 فروری 1991ء کو ایران کے اسپیکر مہدی کروبی نے خطاب کیا۔ 7 ستمبر 1992ء کو ایرانی صدر ہاشمی رفسجانی خطاب کرنے آئے۔ 11؍ اپریل 1994ء کو ایرانی اسپیکر علی اکبر نوری نے خطاب کیا۔ 2 دسمبر 1996ء کو چینی صدر جی اینگ زیمن نے خطاب کیا۔ 8؍ اکتوبر 1997ء کو برطانوی ملکہ الزبتھ خطاب کرنے آئیں۔ 26؍ اکتوبر 2009ء کو ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے خطاب کیا۔ 11 نومبر 2010ء کو چین کے وزیراعظم وین جی اے بوا نے خطاب کیا۔ 21 مئی 2012ء کو 2012ء کو ترک وزیراعظم طیب اردوان نے دوبارہ خطاب کیا۔ 23 مئی 2013ء کو چینی وزیراعظم لی کی کوانگ نے خطاب کیا۔ 21؍ اپریل 2015ء کو چین کے صدر لی جن پنگ نے خطاب کیا۔ 17 نومبر 2016ء کو ترکی کے صدر طیب اردوان تیسری بار خطاب کے لیے تشریف لائے۔ پہلے دونوں موقعوں پر وہ وزیراعظم کی حیثیت سے تشریف لائے تھے، اب وہ صدرِ مملکت کی حیثیت سے آئے تھے۔ اس برس انڈونیشیا کے صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں رونمائی کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیسٹ کیس

9؍ جنوری کی صبح ننھی زینب کی لاش کچرے کے ڈھیرے سے ملی۔ اُسے 4؍ جنوری کی شام اغوا کیا گیا تھا۔ سارا قصور شہر سڑکوں پہ نکل آیا۔ 2 کلومیٹر کے علاقے میں چند ماہ میں یہ بارہواں واقعہ تھا۔ بچیوں کو اٹھایا جاتا، ان سے کئی روز تک زیادتی کی جاتی اور لاشیں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دی جاتیں۔ والدین کو تھانے سے تعاون نہ ملا۔ وہ پاگلوں کی طرح گلیوں میں ڈھونڈتے پھرے۔ قانون خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ ایک بچی کائنات نومبر میں ادھ موئی حالت میں ملی۔ اُس کا علاج ابھی تک قصور کے سرکاری ہسپتال میں جاری ہے۔ باپ زندہ سے زیادہ مردہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے دو ماہ میں کوئی انصاف نہ ملا۔ یہ زیادہ تر تنگ و تاریک محلوں کے باسی تھے۔ ان کی آہ و بکا قانون کے رویے ایوانوں تک نہ پہنچ پائی۔ زینب کے واقعے کی ٹائمنگ سازگار رہی۔ پنجاب حکومت بحران کا شکار ہے۔ زینب کے والدین کا بیک گرائونڈ کام آیا۔ لوگ گھروں سے نکل آئے۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں توڑ پھوڑ کی۔ پتھرائو کیا۔ ڈی سی او کے وسیع و عریض دفتر پر حملہ آور ہوئے۔ پولیس کے سورمائوں نے لوگوں پر سیدھے فائر کیے۔ لاشیں گریں، لوگ زخمی ہوئے۔ لائیو کوریج نے اسے چند گھنٹوں میں ملک کا سب سے برننگ ایشو بنادیا۔ یہ فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام، سماجی رابطے کے سب چینلوں پر چھاگیا۔ ٹی وی پر ہر اینکر نے اس موضوع پر پروگرام کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے یقینی کی دھند

28؍ جولائی کے بعد یہ پانچ ماہ سخت بے یقینی کا عرصہ تھا۔ مسلم لیگ ن اپنا نیا وزیراعظم لے آئی۔ پارٹی مستحکم رہی، اس کی ٹوٹ پھوٹ کی خبریں بے بنیاد نکلیں۔ پھر ہر ہفتے عشرے بعد ایک نیا بحران سمندری طوفان کی طرح امنڈتا رہا۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی بنائے رکھا۔ ہر سطح پر کوشش ہوئی کہ مارچ کے سینیٹ الیکشن سے پہلے اسمبلیاں ٹوٹ جائیں۔ مسلم لیگ نون کو کوئی فائدہ نہ ہوجائے۔ یہ عمل پہلے ڈھکا چھپا رہا، پھر عریاں ہوگیا کہ اب ساری کارروائیاں مارچ کو آنے سے روکنے کے لیے ہیں۔ نواز شریف نیب کورٹ آتے اور نکلتے دکھائی دیئے۔ انہیں بے شمار رسوائیاں اور ہمدردیاں بھی ملیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

جرمِ ضعیفی

6؍ دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا۔ اُس نے وہاں امریکی سفارت خانہ کو منتقل کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ امریکا دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اس شیطانی فعل کی داغ بیل ڈالی ہے۔ 1995ء میں امریکی کانگریس نے بل کلنٹن کے دور میں ایک قرارداد پاس کی تھی۔ تسلیم کیا گیا کہ امریکا صدارتی لیول پر یروشلم کو اسرائیلی جاگیر تسلیم کرے گا۔ امریکی صدر کے پاس ایک اتھارٹی ہے کہ وہ چھ ماہ کے لیے کسی بھی قرارداد پر عمل روک سکتا ہے۔ بل کلنٹن نے مسلم دنیا کے سخت ری ایکشن آنے کی بنا پر اسے چھ ماہ موخر کردیا۔ پھر وہ 2000ء تک اپنی صدارت کے اختتام تک یہی فعل دوہراتا رہا۔ جارج بش جیسا خونخوار بھیڑیا بھی اس قرارداد کا وزن نہ اٹھاسکا۔ وہ اور اُس کا جانشین اگلے 16 برس تک اس بھاری پتھر کو اٹھانے سے قاصر رہے۔ 2016ء میں امریکی انتخابات میں ٹرمپ کا ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ وہ منتخب ہوکر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے گا۔ یہودیوں نے اُس کی حمایت کی اور وہ الیکشن جیت گیا۔ یوں اس وقت امریکا اسرائیل اور بھارت تینوں ملکوں میں مسلمانوں کے خون کے پیاسے حکمران تخت پر براجمان ہیں۔ مودی اور نیتن یاہو مسلمانوں کے قتل عام کے ریکارڈ ہولڈرز ہیں۔ ٹرمپ نے اپنا وعدہ پورا کردکھایا اور جہنم کے دروازے واقعی کھول دیے گئے۔ اب مشرق وسطیٰ میں لگی آگ مزید پھیل جائے گی۔ مسلمانوں کو شکروں میں تقسیم دیکھ کر اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے بھانپ کر امریکا نے موقع دیکھا اور وار کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رویے بدلنے ہوں گے!

6؍ نومبر سے 27؍ نومبر 2017ء تک فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔ فیض آباد راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ایک بہت بڑا انٹرچینج ہے۔ دارالحکومت میں نظامِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے اس کی اہمیت شہ رگ کی سی ہے۔ 25؍ نومبر کی صبح مرکزی حکومت نے دھرنا شرکا پر حملہ کردیا۔ کئی گھنٹے تک لڑائی مارکٹائی ہوئی۔ آنسو گیس کو تیز ہوائوں نے دور دراز تک پھیلادیا۔ فائرنگ ہوئی، میڈیا کو فی الفور بند کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔ تمام پرائیویٹ چینلز آف ایر ہوگئے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹیوٹر اور سماجی رابطے کے دوسرے ذریعے بھی معطل کردیے گئے۔ پی ٹی وی نے ایک نہایت دل خراش کرائسس پر بلیک آئوٹ کر رکھا تھا۔ ملک بھر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ ہر گلی، محلے، شہر، قصبے میں احتجاج ہونے لگا۔ ٹائر جلاکر ٹریفک بند کردی گئی۔ بسوں کے اڈوں، ٹرین اسٹیشنوں اور ایرپورٹوں کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ کئی شہروں بالخصوص راولپنڈی میں کرفیو کا ماحول پیدا ہوگیا۔ مرکزی حکومت پر نزاع کا عالم تھا۔ کابینہ کی نااہلی اور بھونڈے پن کا پول کھل گیا۔ وزارتِ داخلہ کے سرخیل سر پر پائوں رکھ کر بھاگ گئے۔ اسلام ـآباد کی انتظامیہ اور پولیس کی بری طرح درگت بنادی گئی۔ سینکڑوں مظاہرین کو تھانوں اور جیلوں میں بند کردیا گیا۔ فیض آباد میں سابق وزیر داخلہ کے گھر کے اندر اور باہر کتنے افراد ہلاک ہوئے، اس بارے میں سب کچھ ابھی اسرار کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترقی کے زینے

بیسیویں صدی میں انسان نے وہ ایجادات کیں کہ پرانی نسلیں ان کا یقین کرسکتی تھیں۔ بجلی کا بلب ایجاد ہوا اور اُس کی روشنی نے رات میں دن کا سماں پیدا کردیا۔ لائوڈ اسپیکر نے انسانی آوا زکو میلوں دور تک پہنچانا شروع کردیا۔ ریڈیو ٹی وی بنائے گئے اور معلومات سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رسائی پانے لگی۔ موٹر سائیکل، گاڑیاں، ٹرینیں ایجاد ہوئیں اور انسان نے فاصلوں کو قربتوں میں بدل دیا۔ ہوائی جہاز بناکر اُڑائے گئے اور مہینوں سالوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر کا سفر شروع ہوا۔ دنیا انٹرنیٹ، فیس بک، یوٹیوب، آئی پیڈ کی وساطت سے سکڑ کر ایک ہی نقطے میں آگئی۔ وی سی آر سے ڈش انٹینا اور پھر کیبل تک تیزی سے پہنچاگیا اور انسان کے پاس معلومات کا خزانہ جمع ہونا شروع ہوگیا۔ ریفریجریٹرز اور مائیکرو ویو اوون نے گرم کو ٹھنڈا اور ٹھنڈے کو گرم کرنے کے کمالات دکھائے۔ انسان زندگی میں جوسر، بلینڈر، مکسچر، واشنگ مشین، ڈش واشر، ٹوسٹر مکر اور ہاٹ پاٹ آگئے۔ زندگی سہل ہوتی گئی۔ انسان اے سی سے گرمی میں ٹھنڈ اور ہیٹر سے سردی میں گرمی کے مزے لوٹنے لگا۔ جنریٹر اور یو پی ایس تک بجلی کی مسلسل فراہمی کو بہم پہنچایا جانے لگا۔ انسانی دور بینوں نے سیاروں اور ستاروں کا مطالعہ کیا

مزید پڑھیے۔۔۔

اسموگ کی تباہ کاریاں

اسموگ (Smog) ایک نہایت زہریلا مرکب ہے۔ اس میں دھویں، مٹی، ریت، آبی بخارات اور دوسری زہریلی گیسوں کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ پچھلے دو تین ہفتوں سے یہ خطرناک دھند پنجاب کے تمام میدانی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ حدِنگاہ دن میں بھی زیرو ہوگئی ہے۔ سڑکوں پہ حادثات خوفناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ٹرینیں کئی کئی دن لیٹ پہنچ رہی ہیں۔ ایرپورٹ بند ہوچکے ہیں۔ فلائٹیں کینسل کی جاچکی ہیں۔ 17 بجلی گھر کلوز کردیے گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاکر 12 گھنٹے تک کردیا گیا ہے۔ اسموگ کی وجہ سے ایٹمی اور پن بجلی کی پیداوار میں بڑی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارا بجلی کا شارٹ فال اس ناگہانی آفت کی وجہ سے 6700 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ تیل سے بجلی پیدا کرنے والے 13 پاور اسٹیشنوں کے بند ہونے سے 5500 میگاواٹ اور گیس کی بندش سے 1205 میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی۔ چشتمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹرپنگ کی وجہ سے عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ 4؍ نومبر کو اچانک ڈیزل اور فرنس آئل سے چلنے والے سب بجلی گھر بند کرنے کا آرڈر آگیا۔ پاکستان کی تمام ریفائنریز جلد بند ہوجائیں گی۔ اس طرح پی ایس او کو یومیہ 10 ہزار ڈالرز کے نقصان کا احتمال ہے۔ حکومت کے 400؍ ارب روپے پاور ودہولڈنگ کمپنیوں اور 400؍ ارب ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذمے ہیں۔ یوں حکومت پہ معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ہم نے 276؍ ارب روپے پاور جنریشن کمپنیوں سے تاحال وصول کرنے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

احتساب سب کا ہوگا؟

جمعرات 2؍ نومبر کی صبح آٹھ بجکر 20 منٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف پی آئی اے کی فلائٹ نمبر786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے۔ بے نظیر انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اُن کے وزراء اور سپورٹرز کا جمِ غفیر تھا۔ 26؍ اکتوبر کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ نکل چکے تھے، اُن کو گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ 2؍ نومبر کو نیب کی چار رکنی ٹیم کو اُن سے ملنے نہیں دیا گیا۔ کیڈ کے وزیر طارق فضل چودھری نے 10 لاکھ روپے سیکیورٹی بھر کہ نواز شریف 3؍ نومبر کو عدالت میں حاضر ہوں گے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ملزم کی موجودگی کے باوجود نیب ٹیم اُن کے درشن نہ کرپائی اور عدالت کے احکامات اُن تک نہ پہنچاسکی۔ نواز شریف ایرپورٹ سے وی آئی پی پروٹوکول میں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ 40 کے قریب گاڑیاں بھی روانہ ہوئیں۔ یہ اُن کے لیے سیکورٹی نہیں، بلکہ اُن کا پروٹوکول تھا۔ یوں عوام کے کون پسینے کے ٹیکس سے وہ پیٹرول پھونکا گیا جو ایک ملزم کے شان و شوکت کو قائم رکھنے کے لیے اُڑادیا گیا۔ اس سے پہلے لندن میں نواز شریف سے مشاورت کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،

مزید پڑھیے۔۔۔

غریب کہاں جائیں؟

ٹماٹر پچھلے چند ماہ اسی طرح سبزیوں کا سرتاج بن گیا جیسے آم نے پھلوں کی بادشاہی کا تاج پہن رکھا ہے۔ ٹماٹروں کی چند پیٹیوں کے مالک ضرورت رشتہ میں ترجیحی نمبروں کے حق دار قرار پائے۔ ہمارے ملک کی معیشت اور خصوصاً زراعت کی حالت زار پہ بچپن میں پڑھی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ کسی سنسان بستی میں تین کمہار رہتے تھے۔ ان میں سے دو کبڑے اور تیسرا سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ جو سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، اس نے اپنی ساری زندگی میں تین ہانڈیاں بنائی تھیں۔ دو ہانڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، تیسری کا پیندا غائب تھا۔ جس ہانڈی کا پیندا نہ تھا، اُس میں چاول کے تین دانے پکائے گئے۔ دو دانے سخت رہ گئے، تیسرا نرم نہ ہوسکا۔ جو چاول نرم نہ ہوسکا اُسے کھانے کے لیے تین مہمان تشریف لائے۔ دو بھوکے رہ گئے، تیسرے کا پیٹ نہ بھرسکا۔ جس کا پیٹ نہ بھرا، اُس کے پاس تین گائیں تھیں۔ دو بانجھ تھیں، تیسری دودھ نہ دیتی تھی۔ جو گائے دودھ نہ دیتی تھی اُسے جب بیچا گیا تو تین روپے ملے۔ دو روپے جعلی نکلے، تیسرے کو کوئی لینے کو تیار ہی نہ ہوا۔ جس روپے کو کوئی لینے کو راضی نہ تھا، اُس کی جانچ پڑتال کے لیے تین سنار بلائے گئے۔ ان سناروں میں سے دو اندھے تھے، تیسرے کو کچھ دکھائی نہ دیتا تھا… وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی کے مہیب سائے

سوموار 2؍ اکتوبرکو امریکی تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا۔ ایک دہشت گرد سٹیفن پیڈوک نے لاس ویگاس میوزیکل شو میں اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ 58 افراد موقع پر ہلاک اور 515 زخمی ہوگئے۔ 22 ہزار تماش بینوں پر امریکی ٹیررسٹ نے ہوٹل کی 32 منزل سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس سے پہلے جون 2017ء میں لندن برج کے خوفناک دہشت گردانہ حملے نے برطانیہ سمیت سارے یورپ کو لرزہ کے رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں خودکش حملے ایک استثنا نہیں ایک رول ہیں۔ جمعرات 5؍ اکتوبر کو بلوچستان میں جھل مگسی کے مقام پر خودکش دھماکہ ہوا۔ 19؍ افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔ ایک کانسٹیبل نے اپنی جان دے کر ایک ہزار کے مجمعے کو بہت بڑے نقصان سے بچالیا۔ اس سے پہلے محرم ے دنوں میں ہم دم سادھے محو دعا رہے کہ یہ ایام خیریت سے گزر جائیں۔ ہفتہ وار اوسطاً دو بڑے چھوٹے خودکش حملے ملک میں جاری ہیں۔ ہم ان کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اب اخبارات اور میڈیا میں ان کو بریکنگ نیوز تو کیا عام خبروں میں بھی نمایاں حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سال کا ایک بھیانک خودکش حملہ 16 فروری کو لال شہباز قلندر کے مزار پر ہوا۔ satp.org نے جو اعدادو شمار دیے ہیں ان کے مطابق یکم جنوری سے 23 جون تک ملک می ں65 دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

درست سمت میں سفر

22؍ ستمبر کو دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا گیا۔ اُس دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی۔ پچھلے چند ہفتوں سے بھارتی جارحیت میں نہایت اضافہ ہوچکا ہے۔ شہدا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کا آپس میں رابطہ بھی ہوا ہے۔ پنجاب رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی بھی کی۔ بھارتی چوکیوں کے پرخچے بھی اُڑائے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کیا گیا، شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ چند دن امن کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ ان سطور کے لکھتے وقت بیک گرائونڈ میں دوبارہ بھارتی جارحیت کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ جب ہمارے وزیراعظم سلامتی کونسل میں خطاب کررہے تھے، ان کو بھارتی فوج بارڈر پر سلامی دے رہی تھی، عالمی میڈیا کے نمایندے سرحدوں کا دورہ کرچکے ہیں، مگر یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ دوسرے محاذ پر افغانستان سے ہم پر حملے ہورہے ہیں۔ خیبرایجنسی کے علاقے راجگال سے ہماری چیک پوسٹ کو فائرنگ کا

مزید پڑھیے۔۔۔