• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دوراستے

’’جزف ہیلر‘‘ ایک امریکی کہانی کار تھا۔ 1961ء میں اُس نے ایک ناول لکھا جس کا عنوان تھا ’’Catch22‘‘۔ یہ ناول اور اس کا مرکزی خیال دنوں میں عالمی شہرت پاگیا۔ دو دہائیوں کے بعد یہ لفظ انگریزی ڈکشنری میں شامل کرلیا گیا۔ ایسا انسانی تاریخ میں بہت کم ہوا ہے کہ کوئی لکھاری نیا لفظ استعمال کرے اور وہ لغت میں اتنی جلد جگہ پاجائے۔ کیچ22 ایک ایسی صورت حال کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سخت پریشانی والی ہوتی ہے۔ جس سے متاثرہ شخص ہزار کوشش کے باوجود نہیں نکل سکتا۔ اُس کے پاس صرف دو راستے ہوتے ہیں۔ دونوں میں خرابی اور تباہی ناقابل بیان ہوتی ہے۔ اسے علم نہیں ہوتا کہ جو بربادی ان راستوں پہ سامنے نظر آرہی ہے، کیا وہی درپیش ہے یا اُس کے علاوہ بھی کچھ تقدیر کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ وہ اگر ایک کا انتخاب کر بھی لیتا ہے تو تباہیوں کا شکار ہونے کے بعد اُس کے ذہن میں یہی خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ دوسرے راستے پہ چل پڑتا تو شاید اُس کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ جس بھی آدمی کے سامنے کیچ22 والی سچویشن آتی ہے اور وہ ایک راستے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ دوسری راہ پر چلنے والے کو اپنے سے زیادہ خوش قسمت سمجھتا ہے۔ جوزف ہیلر اس استعارے کو خود کی زندگی سے نکال کر انسانی گروہوں، معاشروں اور ملکوں تک لے جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پانامہ لیکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

ابنِ بطوطہ دنیا کا سب سے مشہور سفرنامہ نگار تھا۔ یورپ میں مارکو پولو نے بھی کئی سفر کیے، مگر وہ صرف واقعات لکھتا رہا۔ ابنِ بطوطہ انسانوں، ملکوں اور معاشروں کا پوسٹ مارٹم کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ خوش شکل اور خوش گفتار آدمی تھا۔ بادشاہوں اور وزیروں کے حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ وہ روساء کی محفلوں میں خوشی اور شادمانی کے نغموں سے لطف اندوز ہونے کے بعد فوراً اپنی ڈائری میں تجزیہ کرتا رہتا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ان ’’خوش قسمتوں‘‘ میں سے بیشتر زندگی سے انتہائی غیرمطمئن تھے۔ دولت کی ہوس اور خزانوں کی چکاچوند نے انہیں اندھا کر رکھا تھا۔ وہ ہندوستان آیا تو پرانے بادشاہوں کے اجاڑ محل دیکھنے نکل گیا۔ یہ دیکھ کر اُس کے آنسو کل آئے کہ جہاں بادشاہوں کے تخت ہوا کرتے تھے، وہاں گھوڑے بندھے ہوئے ہیں۔ جہاں بادشاہوں کے قدموں کی خاک ’’کحل الجواہر‘‘ قرار پاکر آنکھوں کے سرمے کا درجہ پاتی تھی وہاں گھوڑوں کی لید پڑی ہوئی ہے۔ بنائی گئیں مسجدیں، کنویں، تالاب موجود تھے، مگر کئی ناموروں کے مقبرے گمنام ہوچکے تھے۔ ابن بطوطہ سے کئی سو سال پہلے فارسی کا عظیم شاعر عمر خیام لکھ گیا تھا کہ جس جگہ جمشید شراب پیتا اور شاہانہ محفلیں منعقد کیا کرتا تھا، وہاں اب جنگی درندوں اور چھپکلیوں کے قافلے رواں دواں ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا نئے ورلڈ آرڈر کی تیاریاں ہیں؟

پنڈت نہرو کی کتاب ’’Auto Bigography‘‘ بہت مشہور ہے۔ یہ اُس کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ نہرو لکھتا ہے کہ انگریزوں کے دور میں ہندوستان اور فلسطین غلام تھے، چونکہ آقا ایک ہی تھا، سو پالیسی دونوں جگہ یکساں ہی چلاکرتی تھی۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں گاڑھی چھننے لگی۔ لارڈ بالفور فلسطین میں وائسرے کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اُس نے وہاں یہودیوں کی اندرون خانہ آبادکاری شروع کروادی۔ اُس دور میں یہودیوں کی عالمی تنظیم World Jewish Movement کے نمایندے ہندوستان آئے۔ مشہور تھا کہ کانگریس انگریزوں کے زیراثر ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ ہندو قیادت اس آبادکاری کے لیے پراسیس کو تیز کروائے۔ نہرو نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اہم امپریل ازم کے خلاف ہیں، ہم آپ کی مدد نہیں کرسکتے۔ 1947ء میں انگریز رخصت ہوئے تو انڈیا نے فلسطین کی تقسیم کے یہودی منصوبے کی ورلڈ فورمز میں مخالفت کی۔ 1949ء میں جب اسرائیل بحیثیت ایک الگ ملک کے اقوام متحدہ کی رکنیت کا خواستگار ہوا تو نہرو نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ آزادی کے بعد 45 برس تک انڈیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی سطح پر تعلقات نہ تھے۔ دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کا کوئی سفارت خانہ تھا۔ انڈیا میں کئی ہزار یہودی آباد تھے، انہوں نے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری، مرادجی ڈیسائی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی پر زور دیے رکھا کہ بھارت اسرائیل سے رسمی تعلقات قائم کرے۔ ساری قیادت نے اسے منظور نہ کیا۔ 1991ء میں راجیو گاندھی خوفناک بم دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔ کانگریس کی نئی لیڈر شپ آگئی اور بالآخر 1992ء میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرلیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خطرے کی گھنٹیاں

نریند مودی کا دورئہ امریکا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجاگیا ہے۔ مودی کا نہایت والہانہ استقبال ہوا۔ اس نے امریکی صدر کو جھپی ڈالی۔ امریکی حکومت کی اعلیٰ کمان سارے کی ساری حاضر تھی۔ بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبر بار بار فلیش کرتی رہی۔ بھارتی وفد نے امریکی حکام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں۔ ہر بھارتی وزیر نے اپنی منسٹری کی وساطت سے معاہدے کیے۔ مصافحے ہوئے، معانقے ہوئے، دستخط شدہ فائلوں کے تبادلے ہوئے، کیمروں کی لائٹیں چمکیں اور لمحات جاودانی ہوگئے۔ بھارت کے لیے یہ دورہ ممکنہ نتائج سے بڑھ کر بار آور ثابت ہوا۔ اس کی جھولی میں نوازشات کی شیرنیاں آئیں۔ مشترکہ اعلامیے کے دن ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ امریکی صدر نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا۔ معاشی میدان میں تعاون بڑھایا۔ تعلیمی میدان میں امریکی نیورسٹیوں میں مزید ہندو طالب علموں کے لیے دروازے کھولے، صفت صنعت حرفت میں نئے نئے افق سامنے لائے گئے۔ جنگی میدان میں بھارت کو بونس دیا گیا اور امریکی اسلحے کے لیے بھارتی گوداموں کو لبالب بھرنے کی نوید سنائی۔ جدید فوجی ٹیکنالوجی ڈرون کے ساتھ اسے تھمادی گئی۔ ٹرمپ نے پاکستانی مجاہد صلاح الدین کو دہشت گرد

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کو لاحق ماحولیاتی خطرات

وفاقی بجٹ کے دن ملک بھر سے کسانوں کی ٹولیاں اسلام آباد پہنچیں۔ وہ احتجاج کے لیے آئے تھے۔ انہیں مہنگے بیج، ناقص ملاوٹ، زدہ کھاد اور ناکافی پانی کی مشکلات درپیش تھیں۔ کسانوں کو بار دانے کی بروقت ناکافی فراہمی اور ایگریکلچر عملے کے توہین آمیز رویے کے خلاف غم و غصہ تھا۔ ان کی فصلیں بروقت نہیں خریدی جارہی تھیں۔ طوفان، آندھی، بارش کے خوف سے اور باردانہ حکومت کی طرف سے نہ ملنے پر وہ اونے پونے بیچنے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ وہ فصلیں ریاستی کارندے مہنگی بیچ کر درمیان میں بیوپاری بن بیٹھے تھے۔ بجٹ کے دن ان کسانوں پر حکومت نے آنسو گیس پھینکی، واٹرکینن سے پانی پھینکا، لاٹھی چارج کیا، یہ لوگ منتشر ہوگئے، مگر جاتے ہوئے بددعائیں دے کرگئے کہ خدا کرے تم لوگ دانے دانے کو ترسو۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

آؤ! مل کر ملک و قوم کی خدمت کریں

31 ؍ مئی کو افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے دو بڑے واقعات رونما ہوئے۔ پہلے میں کابل کے ڈپلومیٹک زون میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ دوسرے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی نے اپنی ہی حکومت پر خودکش حملہ کیا اور اس کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’اور سن لو! حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ نواز شریف کا بیٹا ہے۔ ہم نواز شریف کے کارکن ہیں۔ حساب لینے والو! ہم تمہارا یومِ حساب بنادیں گے۔ جنہوں نے بھی حساب لیا ہے اور جو لے رہے ہیں۔ کان کھول کے سن لو! ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو۔ آج حاضر سروس ہو، کل ریٹائر ہوجاؤگے، تمہارے بچوں کے لیے، تمہارے خاندان کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کردیں گے ہم۔ تم پاکستان کے باضمیر، باکردار نواز شریف کا زندہ رہنا تنگ کررہے ہو۔ پاکستانی قوم تمہیں تنگ کردے گی۔ اور بنی گالہ میں رہنے والو سنو! یہ عمارت جو ماڈل ٹاؤن کا گھر ہے، یہ یہودی سرمایہ سے نہیں بنا۔ یہ جمائمہ کے پیسے سے نہیں بنا۔ یہ نواز شریف کے محنت اور ٹیکس کے پیسوں سے بنا ہے۔ یہ قوم تمہارے لیے زمین تنگ کردے گی۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی عدالت انصاف کا انصاف

عالمی عدالتِ انصاف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے۔ جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تو اسے بھی ایک ذیلی ادارے کی صورت وجود بخشا گیا۔ یہ عدالت سلامتی کونسل کے ماتحت ہے۔ اس کے جج دنیا کے مختلف ملکوں سے آتے ہیں۔ زیادہ تر کا تعلق بڑی عالمی طاقتوں سے ہے۔ عدالت کو توقیر بخشنے کے لیے کبھی کبھار چھوٹے یا کمزور ملکوں سے بھی کوئی جج لے لیا جاتا ہے۔ عالمی امن کے لیے اس عدالت کے دعوے بڑے بڑے ہیں اور فیصلے عموماً بہت چھوٹی ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے بارے میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں: اگر کیس دو چھوٹے ملکوں کا ہو تو عدالت پورے طمطراق کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ اگر کیس دو عالمی طاقتوں کے درمیان ہو تو عدالت سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہوجاتی ہے۔ ان ججوں کے بارے میں مشہور ہے کہ من چاہا فیصلہ دینے کے لیے یہ کبھی بوسیدہ سے بوسیدہ قانون کی تلوار اٹھالیتی ہے ،

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی دنیا کا منظرنامہ

2017ء کے ان ایام میں اسلامی دنیا کا منظرنامہ بہت وحشت ناک ہے۔ ایران نے سعودی عرب کو تباہ و برباد کردینے کی کھلی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ ایرانی جرنیل نے اپنی حکومت کے ایما پر پاکستان کے بارے میں سخت رویہ اپنایا۔ افغانوں کا کہیں اور بس نہ چلا تو ہمارے اوپر برق بن کر آگے۔ سرحدوں پر آگ اور خون کا کھیل شروع کردیا۔ دندان شکن جواب کے بعد افغان حکومت ’’امن، امن‘‘ پکارنے لگی۔ بھارتیوں نے کل بھوشن کو بچانے کے لیے عالمی انصاف فروش بھڑوں کے در پہ جادہائی دی ہے۔ اب وہاں سے عصمت اور عزت پر لیکچر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چینیوں نے سی پیک کا نام تبدیل کرنے کا ڈول ڈالنا چاہا۔ لفظ PAK کو بدل کر انڈیا کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ جب پاکستان نے چینی سفیر کی گوشمالی کی تو اس کا نشہ اُترا۔ ثابت ہوا کہ چینی گوادر کا پانی پی پی کر نشے میں آگئے تھے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد پاکستان کی دہائی نہ دیتی ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گارڈ فادر

’’جندال‘‘ کھرب پتی بھارتی بزنس مین ہے۔ وہ ہمارے وزیراعظم صاحب کا قریبی دوست ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے ان تلخ ایام میں اُسے ویزہ جاری ہوا اور وہ مری میں ملاقات کے لیے پاکستان آگیا۔ کہا جارہا ہے کہ یہ دورہ دو بزنس مینوں کے کاروبار کو بڑھانے میں نہایت خوش آیند رہے گا۔ پانامہ لیکس کے فیصلے میں دولت کے ذرائع پر محترم جج صاحب نے ایک اطالوی ناول ’’گاڈفادر‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔ اس کی کہانی مافیا سے وابستہ ایک خاندان سے متعلق تھی۔ یہی جج صاحب خلیل جبران کی کتابوں سے بھی اقتباسات اپنے فیصلے میں شامل کرچکے ہیں۔ ان کتابوں کا ذکر اب ہماری قانونی اور سیاسی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان دنوں ہم ہر جگہ ’’Behind every great fortune, there is a crime‘‘ (ہر بڑی دولت کے خزانے کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ہوتا ہے) بازگشت ہر جگہ سن رہے ہیں۔ لوگ خلیل جبران کی اساطیری کہانیوں کے ذریعے ہمارے قومی زوال کی نقشہ کشی کررہے ہیں۔ ہمارے انگریزی پریس میں ان دنوں ایک کتاب ’’Why Nations Fails?‘‘ کا بہت تذکرہ ہے۔ جسٹس کھوسہ کی طرح اس کتاب میں بھی بعض قوموں کو لوٹ لینے والے مافیاز کا پول کھولا گیا ہے۔ یہ مافیاز پہلے ناجائز ذرائع سے دولت کماتے ہیں۔ پھر یہ ملکوں کی حکومتو ںکی عنان تھام لیتے ہیں۔ پھر ان کی دولت الف لیلوی انداز میں بڑھتی جاتی ہے۔ پھر یہی دولت اُن کے اقتدار کی طوالت کا باعث بنتی ہے۔ یوں ایک شیطانی چکر چلتا ہے، جہاں دولت معاشرے کی اوپر والی پرت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ یہ ملک کسی بھی سسٹم کے بغیر چلائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیامت جو بپا نہ ہوسکی

جمعرات 20؍ اپریل کو دن 2 بجے بالآخر پانامہ لیکس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ پانامہ لیکس 2016ء میں انہی دنوں منظرعام پر آئے تھے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بم کی طرح پھٹے تھے۔ ان میں سینکڑوں ارب پتی پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں منی ٹرنزیکشن کی تمام تفصیلات موجود تھیں۔ دوسرے سبھی لوگ پسِ منظر میں چلے گئے۔ وزیراعظم کی ذات پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پی ٹی آئی اُس وقت تک دھرنوں سے من چاہے نتائج حاصل نہ کرپائی تھی۔ اُس کی سیاست پر سخت جمود طاری ہوچکا تھا۔ اُسے پانامہ نے نئی زندگی دے دی۔ قومی اسمبلی میں گھمسان کا رَن پڑا۔ پیپلز پارٹی بھی بظاہر وزیراعظم کی برطرفی کی سرخیل بن گئی تھی۔ پچھلے سال موسم گرما میں سیاسی محاذ پر بھی سورج سوا نیزے پر رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے اپنی راہیں بدل لیں۔ عمران خان اس میدان میں اکیلے ہی وزیراعظم کو کھینچ کر کرسی سے گرانے کے درپے ہوگئے۔ اگست میں بیرون ملک سے ان کے دیرینہ دوست بھی لوٹ آئے۔ اندیشہ پیدا ہوا کہ 2014ء کے حالات دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ عدالت میں اُس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے عمران خان کو کوئی گھاس نہ ڈالی۔ پی ٹی آئی نے حسبِ سابق عدالتوں کے خلاف روایتی تندخوئی کا مظاہرہ شروع کردیا۔ عمران خان کے الیکشن کمیشن پر جارحانہ الزامات پر ادارے کے سربراہ جسٹس سردار رضاخان نے انہیں کھری کھری سنائیں۔ عمران اسمبلی اور سینیٹ میں پانامہ سے کچھ بھی نہ نکال پائے۔ ن لیگ نے رومن جرنیل فیبیس کی طرح لیت و لعل کی پالیسی اپنالی اور وقت گزاری کے لیے اپوزیشن کو مختلف تاریخیں دینا شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدمست امریکی ہاتھی

باکسنگ کے کھلاڑی مشق کے لیے ایک بیگ استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ریت بھر کر دیا جاتا ہے۔ اسے Punching Bag کہتے ہیں۔ کھلاڑی جی بھر کر اسے مُکے مارتا ہے۔ اپنی قوت کار میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بیگ مدمقابل کھلاڑی نہیں ہوتا کہ پلٹ کر اُسے مُکہ جڑسکے۔ اس کی قسمت میں صرف مار ہی ہوتی ہے۔

شمالی کوریا وقت کے ساتھ ساتھ ایک طاقت ور ملک بن رہا ہے۔ یہ ان دنوں پانچویں بار ایٹمی ہتھیارو ںکا تجربہ کرنے کے لیے تیاریاں کررہا ہے۔ دارالحکومت پیانگ ہنگ میں ایمرجنسی کی سی صورت حال ہے۔ اس کا مخالف جنوبی کوریا واویلا مچارہا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے بھی تند و تیز بیانات آرہے ہیں۔ جاپانی حکومت جو ایٹم بم کے نام سے ہی لرزہ براندام ہوجاتی ہے، شدید تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد شمالی کوریا کو للکارا تھا اور جنگی عزائم کو ترک کرنے کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے نہ صرف جنگی تیاریاں بڑھادیں، بلکہ پانچویں ایٹمی دھماکے کے لیے جنگی بنیادوں پر تیاریاں شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔