• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پاکستان کو لاحق ماحولیاتی خطرات

وفاقی بجٹ کے دن ملک بھر سے کسانوں کی ٹولیاں اسلام آباد پہنچیں۔ وہ احتجاج کے لیے آئے تھے۔ انہیں مہنگے بیج، ناقص ملاوٹ، زدہ کھاد اور ناکافی پانی کی مشکلات درپیش تھیں۔ کسانوں کو بار دانے کی بروقت ناکافی فراہمی اور ایگریکلچر عملے کے توہین آمیز رویے کے خلاف غم و غصہ تھا۔ ان کی فصلیں بروقت نہیں خریدی جارہی تھیں۔ طوفان، آندھی، بارش کے خوف سے اور باردانہ حکومت کی طرف سے نہ ملنے پر وہ اونے پونے بیچنے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ وہ فصلیں ریاستی کارندے مہنگی بیچ کر درمیان میں بیوپاری بن بیٹھے تھے۔ بجٹ کے دن ان کسانوں پر حکومت نے آنسو گیس پھینکی، واٹرکینن سے پانی پھینکا، لاٹھی چارج کیا، یہ لوگ منتشر ہوگئے، مگر جاتے ہوئے بددعائیں دے کرگئے کہ خدا کرے تم لوگ دانے دانے کو ترسو۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

آؤ! مل کر ملک و قوم کی خدمت کریں

31 ؍ مئی کو افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے دو بڑے واقعات رونما ہوئے۔ پہلے میں کابل کے ڈپلومیٹک زون میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ دوسرے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی نے اپنی ہی حکومت پر خودکش حملہ کیا اور اس کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’اور سن لو! حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ نواز شریف کا بیٹا ہے۔ ہم نواز شریف کے کارکن ہیں۔ حساب لینے والو! ہم تمہارا یومِ حساب بنادیں گے۔ جنہوں نے بھی حساب لیا ہے اور جو لے رہے ہیں۔ کان کھول کے سن لو! ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو۔ آج حاضر سروس ہو، کل ریٹائر ہوجاؤگے، تمہارے بچوں کے لیے، تمہارے خاندان کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کردیں گے ہم۔ تم پاکستان کے باضمیر، باکردار نواز شریف کا زندہ رہنا تنگ کررہے ہو۔ پاکستانی قوم تمہیں تنگ کردے گی۔ اور بنی گالہ میں رہنے والو سنو! یہ عمارت جو ماڈل ٹاؤن کا گھر ہے، یہ یہودی سرمایہ سے نہیں بنا۔ یہ جمائمہ کے پیسے سے نہیں بنا۔ یہ نواز شریف کے محنت اور ٹیکس کے پیسوں سے بنا ہے۔ یہ قوم تمہارے لیے زمین تنگ کردے گی۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی عدالت انصاف کا انصاف

عالمی عدالتِ انصاف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے۔ جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تو اسے بھی ایک ذیلی ادارے کی صورت وجود بخشا گیا۔ یہ عدالت سلامتی کونسل کے ماتحت ہے۔ اس کے جج دنیا کے مختلف ملکوں سے آتے ہیں۔ زیادہ تر کا تعلق بڑی عالمی طاقتوں سے ہے۔ عدالت کو توقیر بخشنے کے لیے کبھی کبھار چھوٹے یا کمزور ملکوں سے بھی کوئی جج لے لیا جاتا ہے۔ عالمی امن کے لیے اس عدالت کے دعوے بڑے بڑے ہیں اور فیصلے عموماً بہت چھوٹی ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے بارے میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں: اگر کیس دو چھوٹے ملکوں کا ہو تو عدالت پورے طمطراق کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ اگر کیس دو عالمی طاقتوں کے درمیان ہو تو عدالت سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہوجاتی ہے۔ ان ججوں کے بارے میں مشہور ہے کہ من چاہا فیصلہ دینے کے لیے یہ کبھی بوسیدہ سے بوسیدہ قانون کی تلوار اٹھالیتی ہے ،

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی دنیا کا منظرنامہ

2017ء کے ان ایام میں اسلامی دنیا کا منظرنامہ بہت وحشت ناک ہے۔ ایران نے سعودی عرب کو تباہ و برباد کردینے کی کھلی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ ایرانی جرنیل نے اپنی حکومت کے ایما پر پاکستان کے بارے میں سخت رویہ اپنایا۔ افغانوں کا کہیں اور بس نہ چلا تو ہمارے اوپر برق بن کر آگے۔ سرحدوں پر آگ اور خون کا کھیل شروع کردیا۔ دندان شکن جواب کے بعد افغان حکومت ’’امن، امن‘‘ پکارنے لگی۔ بھارتیوں نے کل بھوشن کو بچانے کے لیے عالمی انصاف فروش بھڑوں کے در پہ جادہائی دی ہے۔ اب وہاں سے عصمت اور عزت پر لیکچر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چینیوں نے سی پیک کا نام تبدیل کرنے کا ڈول ڈالنا چاہا۔ لفظ PAK کو بدل کر انڈیا کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ جب پاکستان نے چینی سفیر کی گوشمالی کی تو اس کا نشہ اُترا۔ ثابت ہوا کہ چینی گوادر کا پانی پی پی کر نشے میں آگئے تھے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد پاکستان کی دہائی نہ دیتی ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گارڈ فادر

’’جندال‘‘ کھرب پتی بھارتی بزنس مین ہے۔ وہ ہمارے وزیراعظم صاحب کا قریبی دوست ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے ان تلخ ایام میں اُسے ویزہ جاری ہوا اور وہ مری میں ملاقات کے لیے پاکستان آگیا۔ کہا جارہا ہے کہ یہ دورہ دو بزنس مینوں کے کاروبار کو بڑھانے میں نہایت خوش آیند رہے گا۔ پانامہ لیکس کے فیصلے میں دولت کے ذرائع پر محترم جج صاحب نے ایک اطالوی ناول ’’گاڈفادر‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔ اس کی کہانی مافیا سے وابستہ ایک خاندان سے متعلق تھی۔ یہی جج صاحب خلیل جبران کی کتابوں سے بھی اقتباسات اپنے فیصلے میں شامل کرچکے ہیں۔ ان کتابوں کا ذکر اب ہماری قانونی اور سیاسی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان دنوں ہم ہر جگہ ’’Behind every great fortune, there is a crime‘‘ (ہر بڑی دولت کے خزانے کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ہوتا ہے) بازگشت ہر جگہ سن رہے ہیں۔ لوگ خلیل جبران کی اساطیری کہانیوں کے ذریعے ہمارے قومی زوال کی نقشہ کشی کررہے ہیں۔ ہمارے انگریزی پریس میں ان دنوں ایک کتاب ’’Why Nations Fails?‘‘ کا بہت تذکرہ ہے۔ جسٹس کھوسہ کی طرح اس کتاب میں بھی بعض قوموں کو لوٹ لینے والے مافیاز کا پول کھولا گیا ہے۔ یہ مافیاز پہلے ناجائز ذرائع سے دولت کماتے ہیں۔ پھر یہ ملکوں کی حکومتو ںکی عنان تھام لیتے ہیں۔ پھر ان کی دولت الف لیلوی انداز میں بڑھتی جاتی ہے۔ پھر یہی دولت اُن کے اقتدار کی طوالت کا باعث بنتی ہے۔ یوں ایک شیطانی چکر چلتا ہے، جہاں دولت معاشرے کی اوپر والی پرت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ یہ ملک کسی بھی سسٹم کے بغیر چلائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیامت جو بپا نہ ہوسکی

جمعرات 20؍ اپریل کو دن 2 بجے بالآخر پانامہ لیکس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ پانامہ لیکس 2016ء میں انہی دنوں منظرعام پر آئے تھے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بم کی طرح پھٹے تھے۔ ان میں سینکڑوں ارب پتی پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں منی ٹرنزیکشن کی تمام تفصیلات موجود تھیں۔ دوسرے سبھی لوگ پسِ منظر میں چلے گئے۔ وزیراعظم کی ذات پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پی ٹی آئی اُس وقت تک دھرنوں سے من چاہے نتائج حاصل نہ کرپائی تھی۔ اُس کی سیاست پر سخت جمود طاری ہوچکا تھا۔ اُسے پانامہ نے نئی زندگی دے دی۔ قومی اسمبلی میں گھمسان کا رَن پڑا۔ پیپلز پارٹی بھی بظاہر وزیراعظم کی برطرفی کی سرخیل بن گئی تھی۔ پچھلے سال موسم گرما میں سیاسی محاذ پر بھی سورج سوا نیزے پر رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے اپنی راہیں بدل لیں۔ عمران خان اس میدان میں اکیلے ہی وزیراعظم کو کھینچ کر کرسی سے گرانے کے درپے ہوگئے۔ اگست میں بیرون ملک سے ان کے دیرینہ دوست بھی لوٹ آئے۔ اندیشہ پیدا ہوا کہ 2014ء کے حالات دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ عدالت میں اُس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے عمران خان کو کوئی گھاس نہ ڈالی۔ پی ٹی آئی نے حسبِ سابق عدالتوں کے خلاف روایتی تندخوئی کا مظاہرہ شروع کردیا۔ عمران خان کے الیکشن کمیشن پر جارحانہ الزامات پر ادارے کے سربراہ جسٹس سردار رضاخان نے انہیں کھری کھری سنائیں۔ عمران اسمبلی اور سینیٹ میں پانامہ سے کچھ بھی نہ نکال پائے۔ ن لیگ نے رومن جرنیل فیبیس کی طرح لیت و لعل کی پالیسی اپنالی اور وقت گزاری کے لیے اپوزیشن کو مختلف تاریخیں دینا شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدمست امریکی ہاتھی

باکسنگ کے کھلاڑی مشق کے لیے ایک بیگ استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ریت بھر کر دیا جاتا ہے۔ اسے Punching Bag کہتے ہیں۔ کھلاڑی جی بھر کر اسے مُکے مارتا ہے۔ اپنی قوت کار میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بیگ مدمقابل کھلاڑی نہیں ہوتا کہ پلٹ کر اُسے مُکہ جڑسکے۔ اس کی قسمت میں صرف مار ہی ہوتی ہے۔

شمالی کوریا وقت کے ساتھ ساتھ ایک طاقت ور ملک بن رہا ہے۔ یہ ان دنوں پانچویں بار ایٹمی ہتھیارو ںکا تجربہ کرنے کے لیے تیاریاں کررہا ہے۔ دارالحکومت پیانگ ہنگ میں ایمرجنسی کی سی صورت حال ہے۔ اس کا مخالف جنوبی کوریا واویلا مچارہا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے بھی تند و تیز بیانات آرہے ہیں۔ جاپانی حکومت جو ایٹم بم کے نام سے ہی لرزہ براندام ہوجاتی ہے، شدید تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد شمالی کوریا کو للکارا تھا اور جنگی عزائم کو ترک کرنے کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے نہ صرف جنگی تیاریاں بڑھادیں، بلکہ پانچویں ایٹمی دھماکے کے لیے جنگی بنیادوں پر تیاریاں شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کرپشن سے پاک پاکستان

21؍ مارچ کو پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی رو سے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے 81 کھرب روپے کے بینک اکائونٹس خفیہ نہیں رہیں گے۔ یہ معاہدہ حکومت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت معلومات حاصل کرسکتی ہے اور یہ کلاسیفائیڈ نہ ہوگی۔ ایف بی آر اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے اس معاہدے کو قانون شکل دے دی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے ایام میں پاکستان میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ ہمارا سرمایہ ملک سے یوں بے دردی سے غائب کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔ اُدھر دبئی سے آنے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق پچھلے برس پاکستانیوں نے وہاں سوا کھرب کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ پراپرٹی خریدنے میں صرف ہوا۔ ایف بی آر سے جب اتنی بڑی رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے بارے میں ویسی ہی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ایف بی آر سوئٹزرلینڈ سے حاصل کرے گی تو ایف بی آر کے اعلیٰ افسران نے نہایت شرمیلے انداز میں بغلیں جھانکیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پانامہ لیکس کی ایک کہانی

پچھلے دو تین ہفتوں سے پانامہ لیکس کا فیصلہ قومی افق پر چھایا ہوا ہے۔ پورے ملک میں یہ سب سے زیادہ زیربحث موضوع ہے۔ افواہ تھی کہ سولہ سترہ تاریخ کو اس کا اعلان کردیا جائے گا۔ ان سطور کے لکھتے وقت تک یہ امید پوری ہوپائی۔ شاید جب آپ کے اس سطروں کو پڑھتے وقت یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہو!

سخت مایوسی ہے کہ ہم لوگ جمہوریت سے کیسے کیسے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ ٹوٹتے ہیں اور ہمیں لہولہان کرتے ہیں۔ آمریتوں نے جمہوری گملوں میں جو پنریاں لگائیں وہ بھی کبھی سدا بہار درخت نہ بن پائیں۔ ہم ہمیشہ دائروں میں سفر کرتے رہے۔ سیدھے راستے پر دور تک سفر نہ کرپائے۔ عمران خان کی صورت ہمیں ایک نئی قیادت اچکنے والی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشحالی کا منصوبہ

اسلام آباد میں ہونے والا اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) کا اجلاس ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس میں ازبکستان جیسے ملک کی شمولیت اہم پیش رفت ہے۔ ازبکستان کا پورا نام ری پبلک آف ازبکستان ہے۔ اس کا رقبہ 447,400 اسکوائر کلومیٹر ہے۔ دارالحکومت تاشقند اور 2015ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 31 ملین ہے۔ ملکی آبادی کا 80 فیصد ازبک، 5.5 فیصد روسی، 5 فیصد تاجک، 3 فیصد کازک اور 2.5 فیصد دوسری نسلوں کے لوگ ہیں۔ اس ملک کی ترقی کا اندازہ شرح خواندگی سے لگایا جاسکتا ہے جو 99.3 فیصد ہے۔ جی ڈی پی 66.4 بلین ڈالر اور جی ڈی پی گروتھ ریٹ 2015ء میں 8 فیصد تھا۔ فارن ایکسچینج ری زیرو 16 بلین، ٹریڈ ٹرن اوور 25.82 بلین ڈالرز ہے جس میں برآمدات 13.32 بلین اور درآمدات 12.5 بلین ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ازبکستان سالانہ اوسطاً 258 ملین کی تجارت کررہا ہے جس میں درآمدات 17.3 ملین ڈالرز اور برآمدات 8.5ملین ڈالرز ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم نئی نسل کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں؟؟

22 ؍فروری کے دن ’’آپریشن ردالفساد‘‘ شروع کردیا گیا۔ اس آپریشن کو پاک فوج سارے ملک میں انجام دے گی۔ بحری، بری اور فضائی افواج اس میں پورے ولولے کے ساتھ شامل ہوں گی۔ قانون نافذ کرنے والے تمام ملکی ادارے افواج کی بھرپور معاونت کریں گے۔ اس ضمن میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور میں ٹاپ ملٹری لیڈر شپ کے ہمراہ ایک اجلاس کیا۔ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن کلین اپ بھی ’’ردالفساد‘‘ کی ایک کڑی ہوگا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری سارے آپریشنز ردالفساد میں سمودیا گیا ہے۔ ملک کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے پنجاب میں رینجرز کو 60 دن کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ رینجرز انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 7 کے تحت پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہدایت پر کارروائی کرے گی۔ رینجرز کو پنجاب کے 21 اضلاع میں ٹاسک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔