• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

رویے بدلنے ہوں گے!

6؍ نومبر سے 27؍ نومبر 2017ء تک فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔ فیض آباد راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ایک بہت بڑا انٹرچینج ہے۔ دارالحکومت میں نظامِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے اس کی اہمیت شہ رگ کی سی ہے۔ 25؍ نومبر کی صبح مرکزی حکومت نے دھرنا شرکا پر حملہ کردیا۔ کئی گھنٹے تک لڑائی مارکٹائی ہوئی۔ آنسو گیس کو تیز ہوائوں نے دور دراز تک پھیلادیا۔ فائرنگ ہوئی، میڈیا کو فی الفور بند کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔ تمام پرائیویٹ چینلز آف ایر ہوگئے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹیوٹر اور سماجی رابطے کے دوسرے ذریعے بھی معطل کردیے گئے۔ پی ٹی وی نے ایک نہایت دل خراش کرائسس پر بلیک آئوٹ کر رکھا تھا۔ ملک بھر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ ہر گلی، محلے، شہر، قصبے میں احتجاج ہونے لگا۔ ٹائر جلاکر ٹریفک بند کردی گئی۔ بسوں کے اڈوں، ٹرین اسٹیشنوں اور ایرپورٹوں کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ کئی شہروں بالخصوص راولپنڈی میں کرفیو کا ماحول پیدا ہوگیا۔ مرکزی حکومت پر نزاع کا عالم تھا۔ کابینہ کی نااہلی اور بھونڈے پن کا پول کھل گیا۔ وزارتِ داخلہ کے سرخیل سر پر پائوں رکھ کر بھاگ گئے۔ اسلام ـآباد کی انتظامیہ اور پولیس کی بری طرح درگت بنادی گئی۔ سینکڑوں مظاہرین کو تھانوں اور جیلوں میں بند کردیا گیا۔ فیض آباد میں سابق وزیر داخلہ کے گھر کے اندر اور باہر کتنے افراد ہلاک ہوئے، اس بارے میں سب کچھ ابھی اسرار کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترقی کے زینے

بیسیویں صدی میں انسان نے وہ ایجادات کیں کہ پرانی نسلیں ان کا یقین کرسکتی تھیں۔ بجلی کا بلب ایجاد ہوا اور اُس کی روشنی نے رات میں دن کا سماں پیدا کردیا۔ لائوڈ اسپیکر نے انسانی آوا زکو میلوں دور تک پہنچانا شروع کردیا۔ ریڈیو ٹی وی بنائے گئے اور معلومات سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رسائی پانے لگی۔ موٹر سائیکل، گاڑیاں، ٹرینیں ایجاد ہوئیں اور انسان نے فاصلوں کو قربتوں میں بدل دیا۔ ہوائی جہاز بناکر اُڑائے گئے اور مہینوں سالوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر کا سفر شروع ہوا۔ دنیا انٹرنیٹ، فیس بک، یوٹیوب، آئی پیڈ کی وساطت سے سکڑ کر ایک ہی نقطے میں آگئی۔ وی سی آر سے ڈش انٹینا اور پھر کیبل تک تیزی سے پہنچاگیا اور انسان کے پاس معلومات کا خزانہ جمع ہونا شروع ہوگیا۔ ریفریجریٹرز اور مائیکرو ویو اوون نے گرم کو ٹھنڈا اور ٹھنڈے کو گرم کرنے کے کمالات دکھائے۔ انسان زندگی میں جوسر، بلینڈر، مکسچر، واشنگ مشین، ڈش واشر، ٹوسٹر مکر اور ہاٹ پاٹ آگئے۔ زندگی سہل ہوتی گئی۔ انسان اے سی سے گرمی میں ٹھنڈ اور ہیٹر سے سردی میں گرمی کے مزے لوٹنے لگا۔ جنریٹر اور یو پی ایس تک بجلی کی مسلسل فراہمی کو بہم پہنچایا جانے لگا۔ انسانی دور بینوں نے سیاروں اور ستاروں کا مطالعہ کیا

مزید پڑھیے۔۔۔

اسموگ کی تباہ کاریاں

اسموگ (Smog) ایک نہایت زہریلا مرکب ہے۔ اس میں دھویں، مٹی، ریت، آبی بخارات اور دوسری زہریلی گیسوں کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ پچھلے دو تین ہفتوں سے یہ خطرناک دھند پنجاب کے تمام میدانی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ حدِنگاہ دن میں بھی زیرو ہوگئی ہے۔ سڑکوں پہ حادثات خوفناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ٹرینیں کئی کئی دن لیٹ پہنچ رہی ہیں۔ ایرپورٹ بند ہوچکے ہیں۔ فلائٹیں کینسل کی جاچکی ہیں۔ 17 بجلی گھر کلوز کردیے گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاکر 12 گھنٹے تک کردیا گیا ہے۔ اسموگ کی وجہ سے ایٹمی اور پن بجلی کی پیداوار میں بڑی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارا بجلی کا شارٹ فال اس ناگہانی آفت کی وجہ سے 6700 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ تیل سے بجلی پیدا کرنے والے 13 پاور اسٹیشنوں کے بند ہونے سے 5500 میگاواٹ اور گیس کی بندش سے 1205 میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی۔ چشتمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹرپنگ کی وجہ سے عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ 4؍ نومبر کو اچانک ڈیزل اور فرنس آئل سے چلنے والے سب بجلی گھر بند کرنے کا آرڈر آگیا۔ پاکستان کی تمام ریفائنریز جلد بند ہوجائیں گی۔ اس طرح پی ایس او کو یومیہ 10 ہزار ڈالرز کے نقصان کا احتمال ہے۔ حکومت کے 400؍ ارب روپے پاور ودہولڈنگ کمپنیوں اور 400؍ ارب ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذمے ہیں۔ یوں حکومت پہ معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ہم نے 276؍ ارب روپے پاور جنریشن کمپنیوں سے تاحال وصول کرنے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

احتساب سب کا ہوگا؟

جمعرات 2؍ نومبر کی صبح آٹھ بجکر 20 منٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف پی آئی اے کی فلائٹ نمبر786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے۔ بے نظیر انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اُن کے وزراء اور سپورٹرز کا جمِ غفیر تھا۔ 26؍ اکتوبر کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ نکل چکے تھے، اُن کو گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ 2؍ نومبر کو نیب کی چار رکنی ٹیم کو اُن سے ملنے نہیں دیا گیا۔ کیڈ کے وزیر طارق فضل چودھری نے 10 لاکھ روپے سیکیورٹی بھر کہ نواز شریف 3؍ نومبر کو عدالت میں حاضر ہوں گے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ملزم کی موجودگی کے باوجود نیب ٹیم اُن کے درشن نہ کرپائی اور عدالت کے احکامات اُن تک نہ پہنچاسکی۔ نواز شریف ایرپورٹ سے وی آئی پی پروٹوکول میں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ 40 کے قریب گاڑیاں بھی روانہ ہوئیں۔ یہ اُن کے لیے سیکورٹی نہیں، بلکہ اُن کا پروٹوکول تھا۔ یوں عوام کے کون پسینے کے ٹیکس سے وہ پیٹرول پھونکا گیا جو ایک ملزم کے شان و شوکت کو قائم رکھنے کے لیے اُڑادیا گیا۔ اس سے پہلے لندن میں نواز شریف سے مشاورت کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،

مزید پڑھیے۔۔۔

غریب کہاں جائیں؟

ٹماٹر پچھلے چند ماہ اسی طرح سبزیوں کا سرتاج بن گیا جیسے آم نے پھلوں کی بادشاہی کا تاج پہن رکھا ہے۔ ٹماٹروں کی چند پیٹیوں کے مالک ضرورت رشتہ میں ترجیحی نمبروں کے حق دار قرار پائے۔ ہمارے ملک کی معیشت اور خصوصاً زراعت کی حالت زار پہ بچپن میں پڑھی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ کسی سنسان بستی میں تین کمہار رہتے تھے۔ ان میں سے دو کبڑے اور تیسرا سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ جو سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، اس نے اپنی ساری زندگی میں تین ہانڈیاں بنائی تھیں۔ دو ہانڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، تیسری کا پیندا غائب تھا۔ جس ہانڈی کا پیندا نہ تھا، اُس میں چاول کے تین دانے پکائے گئے۔ دو دانے سخت رہ گئے، تیسرا نرم نہ ہوسکا۔ جو چاول نرم نہ ہوسکا اُسے کھانے کے لیے تین مہمان تشریف لائے۔ دو بھوکے رہ گئے، تیسرے کا پیٹ نہ بھرسکا۔ جس کا پیٹ نہ بھرا، اُس کے پاس تین گائیں تھیں۔ دو بانجھ تھیں، تیسری دودھ نہ دیتی تھی۔ جو گائے دودھ نہ دیتی تھی اُسے جب بیچا گیا تو تین روپے ملے۔ دو روپے جعلی نکلے، تیسرے کو کوئی لینے کو تیار ہی نہ ہوا۔ جس روپے کو کوئی لینے کو راضی نہ تھا، اُس کی جانچ پڑتال کے لیے تین سنار بلائے گئے۔ ان سناروں میں سے دو اندھے تھے، تیسرے کو کچھ دکھائی نہ دیتا تھا… وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی کے مہیب سائے

سوموار 2؍ اکتوبرکو امریکی تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا۔ ایک دہشت گرد سٹیفن پیڈوک نے لاس ویگاس میوزیکل شو میں اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ 58 افراد موقع پر ہلاک اور 515 زخمی ہوگئے۔ 22 ہزار تماش بینوں پر امریکی ٹیررسٹ نے ہوٹل کی 32 منزل سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس سے پہلے جون 2017ء میں لندن برج کے خوفناک دہشت گردانہ حملے نے برطانیہ سمیت سارے یورپ کو لرزہ کے رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں خودکش حملے ایک استثنا نہیں ایک رول ہیں۔ جمعرات 5؍ اکتوبر کو بلوچستان میں جھل مگسی کے مقام پر خودکش دھماکہ ہوا۔ 19؍ افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔ ایک کانسٹیبل نے اپنی جان دے کر ایک ہزار کے مجمعے کو بہت بڑے نقصان سے بچالیا۔ اس سے پہلے محرم ے دنوں میں ہم دم سادھے محو دعا رہے کہ یہ ایام خیریت سے گزر جائیں۔ ہفتہ وار اوسطاً دو بڑے چھوٹے خودکش حملے ملک میں جاری ہیں۔ ہم ان کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اب اخبارات اور میڈیا میں ان کو بریکنگ نیوز تو کیا عام خبروں میں بھی نمایاں حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سال کا ایک بھیانک خودکش حملہ 16 فروری کو لال شہباز قلندر کے مزار پر ہوا۔ satp.org نے جو اعدادو شمار دیے ہیں ان کے مطابق یکم جنوری سے 23 جون تک ملک می ں65 دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

درست سمت میں سفر

22؍ ستمبر کو دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا گیا۔ اُس دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی۔ پچھلے چند ہفتوں سے بھارتی جارحیت میں نہایت اضافہ ہوچکا ہے۔ شہدا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کا آپس میں رابطہ بھی ہوا ہے۔ پنجاب رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی بھی کی۔ بھارتی چوکیوں کے پرخچے بھی اُڑائے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کیا گیا، شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ چند دن امن کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ ان سطور کے لکھتے وقت بیک گرائونڈ میں دوبارہ بھارتی جارحیت کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ جب ہمارے وزیراعظم سلامتی کونسل میں خطاب کررہے تھے، ان کو بھارتی فوج بارڈر پر سلامی دے رہی تھی، عالمی میڈیا کے نمایندے سرحدوں کا دورہ کرچکے ہیں، مگر یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ دوسرے محاذ پر افغانستان سے ہم پر حملے ہورہے ہیں۔ خیبرایجنسی کے علاقے راجگال سے ہماری چیک پوسٹ کو فائرنگ کا

مزید پڑھیے۔۔۔

وزیر اعظم کا جرتمندانہ خطاب

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے برما کے مسلمانوں کے ’’انسانی حقوق‘‘ کے لیے آواز اُٹھائی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا سارے کا سارا تنظیمی ڈھانچہ امریکا میں کھڑا ہے۔ اس تنظیم کے سارے بڑے دفاتر امریکا میں واقع ہیں۔ امریکا نے اپنی درندگی کے لیے ان اداروں کو ہمیشہ استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر امریکا کی سرکردگی میں بنا۔ امریکا نے ہی اسے مسلمانوں کے خلاف نہایت بے رحمانہ انداز میں استعمال کیا۔ امریکی سرکردگی میں عیسائی طاقتوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کا شکار انہی ہتھیاروں سے کیا۔ پھر کرتے کرتے یہودی اور ہندو اور اب بودھ بھی اس گھنائونے کھیل میں شامل ہوگئے۔ ہمارے وزیراعظم نے سرمایہ کاری کی آڑ میں امریکی حکام سے مدد امداد کے لیے التجائیں بھی کردیں۔ آئی ایم ایف کے گماشتے بھی نیویارک میں اپنے دفتروں میں تھوتھنیاں نکالے ہماری حرکات و سکنات دیکھتے رہے۔ کھرب ہا ڈالرز اور پونڈز سے عیاشی کرنے والے عیسائی طاقتوں کے پاس روہنگیا مسلمانوں کے زخموں کے لیے مرہم کا چندہ بھی نہ تھا۔ ہر تین سالوں کے بعد ہمارا صدر یا وزیراعظم جنرل اسمبلی میں مسلمانوں پر ہونے والے تازہ مظالم اور انساسنی حقوق پر ایک مرثیہ پڑھتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاست کے مہرے

جناب شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنے دو ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی ایک بھاری کابینہ بنائی، دھواں دھار تقریریں کیں، قومی اسمبلی میں بلند و بانگ دعوے کیے، سنگ بنیاد رکھنے کے فیتے کاٹے۔ پروٹوکول کی لگژری سے لطف اٹھایا اور پھر ’’دیہاڑی دار‘‘ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کرنے لگے۔ جمعہ 15؍ ستمبر کو ہماری سیاسی و قانونی تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور ہوگیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی نظرثانی اپیل سپریم کورٹ نے مسترد کردی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 15 رکنی بنچ نے ساری درخواستیں مسترد کردیں۔ یوں نواز شریف کی آخری امید کا چراغ گل ہوگیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ 19 ستمبر کو نیب کورٹ میں اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں۔ اُن پر دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ ان بطور کو لکھتے وقت تک ان کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ حکومت کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ظلم پر خاموشی کیوں؟

انگریز ناول نگار جارج آرویل برما کی آزادی سے قبل وہاں مقیم رہا۔ اُس نے اِس ملک پر دلچسپ ناول ’’Burmese Days‘‘ لکھا۔ اس کتاب میں دوسرے حصوں کے علاوہ وہاں کے مسلمانوں کی جفاکشی اور بودھوں کی کاہلی پر بھی کئی واقعات لکھ گیا۔ انگریز دور میں برما کے مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں بودھوں سے بڑھ کررہے۔ انگریزوں سے پہلے کے ادوار کو دیکھیں تو بھرپور تفصیلات ایک اور کتاب The Glass Palace Chromicle میں ملتی ہیں۔ یہ تاریخ اٹھارویں صدی کے آخر میں سرچارلز بوچانن نے لکھی۔ مسلمان صدیوں برما میں ہندوستان، چین، بنگال اور عرب سے آئے اور آباد ہوگئے۔ انگریز یہاں 1823ء میں قابض ہوئے۔ بودھ خانقاہی نظام کی بھول بھلیوں میں گم تھے۔ انگریزوں نے ریلوے کے نظام کے لیے مسلمانوں کو ملازمتیں دیں۔ مسلمانوں نے یہاں نہریں کھودیں۔ درآمدات اور برآمدات کے لیے ساحلوں پر لاکھوں مسلمان ملازم ہوئے۔ وہ بودھوں سے کئی گنا زیادہ خوشحال ہوگئے۔ 1930ء میں پہلی بار بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا۔ کازکان کے ساحلوں پر مسلمان مزدوروں کو بودھوں کے مقابلے میں ترجیح دی گئی۔ یہ فسادات دنوں میں سارے برما میں پھیل گئے۔ انگریزوں نے ایک مانیٹگو کمیشن بنایا جس نے مسلمانوں کو مزید مراعات دینے کی سفارش کی۔ یوں دونوں نے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگئی۔ اراکان کے صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بل کھاتی موت کی شاہراہیں

ہر ہفتے ایسے دو تین واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔ جیسے ہی کوئی آئل ٹینکر الٹتا ہے لوگ برتن اٹھاکر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ٹینکر کا گھیرائو کرلیتے ہیں۔ احمد پور شرقیہ کے خوفناک حادثے کے بعد بھی ہماری سڑکیں محفوظ نہیں ہوئیں۔ حرص و لالچ ہمارے اندر اتنا گہرا اترچکے ہیں کہ ہم اپنی جانیں ایک ہولناک خطرے میں ڈال کر دو تین لیٹر کے لیے آگ کے جہنم میں اترنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ ہماری سڑکیں دنیا کی 10 پرخطر ترین سڑکوں میں شامل کی گئی ہیں۔ ٹریفک حادثات کی فیگرز ہوش اُڑانے کو کافی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کی جاتی، ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل سوار راکٹ کی رفتار سے گزر جاتے ہیں۔ لوگ حفاظتی بیلٹ کی طرف سے غفلت برتتے ہیں۔ اوور ٹیکنگ اور غیرضروری تیز رفتاری زندگی کے لیے نہایت پرخطر ہے۔ ویگنوں اور بسوں والے اپنی انا کی تسکین کے لیے ریسیں لگاتے ہوئے خود بھی مرتے ہیں اور دوسروں کے گھر بھی اُجاڑتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے لڑکے ون ویلنگ کے شوق میں ہزاروں کی تعداد میں مررہے ہیں۔ سفر زمینی ہو یا فضائی ہمارے ملک میں نہایت غیرمحفوظ ہوچکا ہے۔ پبلک گاڑیوں میں ناقص سلنڈروں نے گھروں کے گھر اجاڑ دیے ہیں۔ پچھلے ہفتے کراچی کا ایک خاندان پکنک منانے کے لیے

مزید پڑھیے۔۔۔