• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

قیامت جو بپا نہ ہوسکی

جمعرات 20؍ اپریل کو دن 2 بجے بالآخر پانامہ لیکس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ پانامہ لیکس 2016ء میں انہی دنوں منظرعام پر آئے تھے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بم کی طرح پھٹے تھے۔ ان میں سینکڑوں ارب پتی پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں منی ٹرنزیکشن کی تمام تفصیلات موجود تھیں۔ دوسرے سبھی لوگ پسِ منظر میں چلے گئے۔ وزیراعظم کی ذات پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پی ٹی آئی اُس وقت تک دھرنوں سے من چاہے نتائج حاصل نہ کرپائی تھی۔ اُس کی سیاست پر سخت جمود طاری ہوچکا تھا۔ اُسے پانامہ نے نئی زندگی دے دی۔ قومی اسمبلی میں گھمسان کا رَن پڑا۔ پیپلز پارٹی بھی بظاہر وزیراعظم کی برطرفی کی سرخیل بن گئی تھی۔ پچھلے سال موسم گرما میں سیاسی محاذ پر بھی سورج سوا نیزے پر رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے اپنی راہیں بدل لیں۔ عمران خان اس میدان میں اکیلے ہی وزیراعظم کو کھینچ کر کرسی سے گرانے کے درپے ہوگئے۔ اگست میں بیرون ملک سے ان کے دیرینہ دوست بھی لوٹ آئے۔ اندیشہ پیدا ہوا کہ 2014ء کے حالات دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ عدالت میں اُس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے عمران خان کو کوئی گھاس نہ ڈالی۔ پی ٹی آئی نے حسبِ سابق عدالتوں کے خلاف روایتی تندخوئی کا مظاہرہ شروع کردیا۔ عمران خان کے الیکشن کمیشن پر جارحانہ الزامات پر ادارے کے سربراہ جسٹس سردار رضاخان نے انہیں کھری کھری سنائیں۔ عمران اسمبلی اور سینیٹ میں پانامہ سے کچھ بھی نہ نکال پائے۔ ن لیگ نے رومن جرنیل فیبیس کی طرح لیت و لعل کی پالیسی اپنالی اور وقت گزاری کے لیے اپوزیشن کو مختلف تاریخیں دینا شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدمست امریکی ہاتھی

باکسنگ کے کھلاڑی مشق کے لیے ایک بیگ استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ریت بھر کر دیا جاتا ہے۔ اسے Punching Bag کہتے ہیں۔ کھلاڑی جی بھر کر اسے مُکے مارتا ہے۔ اپنی قوت کار میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بیگ مدمقابل کھلاڑی نہیں ہوتا کہ پلٹ کر اُسے مُکہ جڑسکے۔ اس کی قسمت میں صرف مار ہی ہوتی ہے۔

شمالی کوریا وقت کے ساتھ ساتھ ایک طاقت ور ملک بن رہا ہے۔ یہ ان دنوں پانچویں بار ایٹمی ہتھیارو ںکا تجربہ کرنے کے لیے تیاریاں کررہا ہے۔ دارالحکومت پیانگ ہنگ میں ایمرجنسی کی سی صورت حال ہے۔ اس کا مخالف جنوبی کوریا واویلا مچارہا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے بھی تند و تیز بیانات آرہے ہیں۔ جاپانی حکومت جو ایٹم بم کے نام سے ہی لرزہ براندام ہوجاتی ہے، شدید تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد شمالی کوریا کو للکارا تھا اور جنگی عزائم کو ترک کرنے کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے نہ صرف جنگی تیاریاں بڑھادیں، بلکہ پانچویں ایٹمی دھماکے کے لیے جنگی بنیادوں پر تیاریاں شروع کردیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کرپشن سے پاک پاکستان

21؍ مارچ کو پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی رو سے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے 81 کھرب روپے کے بینک اکائونٹس خفیہ نہیں رہیں گے۔ یہ معاہدہ حکومت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت معلومات حاصل کرسکتی ہے اور یہ کلاسیفائیڈ نہ ہوگی۔ ایف بی آر اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے اس معاہدے کو قانون شکل دے دی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے ایام میں پاکستان میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ ہمارا سرمایہ ملک سے یوں بے دردی سے غائب کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔ اُدھر دبئی سے آنے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق پچھلے برس پاکستانیوں نے وہاں سوا کھرب کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ پراپرٹی خریدنے میں صرف ہوا۔ ایف بی آر سے جب اتنی بڑی رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے بارے میں ویسی ہی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ایف بی آر سوئٹزرلینڈ سے حاصل کرے گی تو ایف بی آر کے اعلیٰ افسران نے نہایت شرمیلے انداز میں بغلیں جھانکیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پانامہ لیکس کی ایک کہانی

پچھلے دو تین ہفتوں سے پانامہ لیکس کا فیصلہ قومی افق پر چھایا ہوا ہے۔ پورے ملک میں یہ سب سے زیادہ زیربحث موضوع ہے۔ افواہ تھی کہ سولہ سترہ تاریخ کو اس کا اعلان کردیا جائے گا۔ ان سطور کے لکھتے وقت تک یہ امید پوری ہوپائی۔ شاید جب آپ کے اس سطروں کو پڑھتے وقت یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہو!

سخت مایوسی ہے کہ ہم لوگ جمہوریت سے کیسے کیسے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ ٹوٹتے ہیں اور ہمیں لہولہان کرتے ہیں۔ آمریتوں نے جمہوری گملوں میں جو پنریاں لگائیں وہ بھی کبھی سدا بہار درخت نہ بن پائیں۔ ہم ہمیشہ دائروں میں سفر کرتے رہے۔ سیدھے راستے پر دور تک سفر نہ کرپائے۔ عمران خان کی صورت ہمیں ایک نئی قیادت اچکنے والی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشحالی کا منصوبہ

اسلام آباد میں ہونے والا اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) کا اجلاس ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس میں ازبکستان جیسے ملک کی شمولیت اہم پیش رفت ہے۔ ازبکستان کا پورا نام ری پبلک آف ازبکستان ہے۔ اس کا رقبہ 447,400 اسکوائر کلومیٹر ہے۔ دارالحکومت تاشقند اور 2015ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 31 ملین ہے۔ ملکی آبادی کا 80 فیصد ازبک، 5.5 فیصد روسی، 5 فیصد تاجک، 3 فیصد کازک اور 2.5 فیصد دوسری نسلوں کے لوگ ہیں۔ اس ملک کی ترقی کا اندازہ شرح خواندگی سے لگایا جاسکتا ہے جو 99.3 فیصد ہے۔ جی ڈی پی 66.4 بلین ڈالر اور جی ڈی پی گروتھ ریٹ 2015ء میں 8 فیصد تھا۔ فارن ایکسچینج ری زیرو 16 بلین، ٹریڈ ٹرن اوور 25.82 بلین ڈالرز ہے جس میں برآمدات 13.32 بلین اور درآمدات 12.5 بلین ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ازبکستان سالانہ اوسطاً 258 ملین کی تجارت کررہا ہے جس میں درآمدات 17.3 ملین ڈالرز اور برآمدات 8.5ملین ڈالرز ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم نئی نسل کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں؟؟

22 ؍فروری کے دن ’’آپریشن ردالفساد‘‘ شروع کردیا گیا۔ اس آپریشن کو پاک فوج سارے ملک میں انجام دے گی۔ بحری، بری اور فضائی افواج اس میں پورے ولولے کے ساتھ شامل ہوں گی۔ قانون نافذ کرنے والے تمام ملکی ادارے افواج کی بھرپور معاونت کریں گے۔ اس ضمن میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور میں ٹاپ ملٹری لیڈر شپ کے ہمراہ ایک اجلاس کیا۔ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن کلین اپ بھی ’’ردالفساد‘‘ کی ایک کڑی ہوگا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری سارے آپریشنز ردالفساد میں سمودیا گیا ہے۔ ملک کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے پنجاب میں رینجرز کو 60 دن کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ رینجرز انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 7 کے تحت پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہدایت پر کارروائی کرے گی۔ رینجرز کو پنجاب کے 21 اضلاع میں ٹاسک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گنہگاروں کے آنسو

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسطنطنیہ کے متعلق دو پیشین گوئیاں کی تھیں: ایک پوری ہوچکی ہے اور ایسے حیرت انگیز انداز میں پوری ہوئی ہے کہ مغرب کے متعصب تاریخ نویس بھی اسے معجزہ کہے بغیر نہیں رہ سکے۔ دوسری بھی ان شاء اللہ ضرور پوری ہوگی اور ایسے غیرمعمولی انداز میں پوری ہوگی کہ دنیا کو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی معجزانہ صداقت کا قائل کر جائے گی اور زمین پر اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگی۔ ’’فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِن، وَمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُر۔‘‘ پس جس کا جی چاہے سچے خدا کے سچے نبی پر ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے سب کچھ دیکھ کر بھی فتنوں میں مبتلا رہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اتفاق و اتحاد ناگزیر ہوچکا

قدیم یونان اور روم کے اساطیری قصے (Mythologies) بہت مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک خون آشام بلا کا ذکر بار بار آتا ہے۔ اسے ’’ہاسیڈرا‘‘ (Hydra) کہا جاتا تھا۔ اس کو دیکھنے والے کا پِتّہ پانی ہوجاتا تھا۔ اس کے جسم پر نو چہرے تھے۔ ہر چہرا دوسرے سے زیادہ خوفناک تھا۔ آنکھوں سے ہمہ وقت خون ٹپکتا تھا۔ دانت انسانی ہڈیاں مسلسل چبائے جارہے ہوتے تھے۔ چہروں سے قہر و غضب کی بجلیاں برستی تھیں۔ کئی بہادر اس بلا کو مارنے آئے، مگر ناکام رہے۔ کچھ خوف سے ہی مارے گئے۔ کچھ نے ایک آدھ سر کاٹا تو فوراً اس کی جگہ نیا سر اُگ آیا اور بلا غصے میں غضبناک ہوکر شکار پر ٹوٹ پڑی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہائیڈرا انسانی بستیوں میں خوف و دہشت کا ہولناک استعارہ بن گئی۔ اس کی انسانی خون کے لیے پیاس میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے منہ کا نوالا بننے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ آخرکار یونان کے بہادر ترین جرنیل ہرکولیس نے اسے ختم کرنے کی ٹھانی۔ وہ اس وقت تک اپنے ملک کو کئی آفات سے بچاچکا تھا۔ اُس نے اپنے ہمراہ اپنے ایک ساتھی آئیسولیس کو لیا اور ہائیڈرا کے مسکن کے پاس جاپہنچا۔ ہرکولیس کے پاس ایک نہایت لمبی اور بھاری تلوار تھی۔ آئیسولیس کے پاس مٹی کے تیل کے کنستر تھے۔ ہرکولیس نے آئیسولیس کو ٹریننگ دی کہ جیسے ہی تلوار کے وار سے چڑیل کا سر کٹے تو وہ فی الفور مٹی کا تیل چھڑک کر اُس جگہ آگ لگادے تاکہ دوبارہ سر نہ اُگ سکے۔ اگلے سر کے کٹنے پر بھی وہ یہی عمل دوہراتا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عوام اور حکمران

انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینن نے یکم فروری 2017ء کو ایک سروے شائع کیا ہے۔ نواز شریف کو 63 فیصد، عمران خان کو 39 فیصد اور بلاول کو 32 فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے۔ ناپسندیدگی میں الطاف حسین کو 85 فیصد، آصف زردار کو 80 فیصد، طاہر القادری کو 79 فیصد نے رد کیا۔ صوبائی حکومتوں کی پسندیدگی کی شرح میں 79 فیصد، پنجاب نے 73 فیصد، کے پی کے نے 54 فیصد، سندھ نے اور 48 فیصد نے بلوچستان حکومت کو سراہا ہے۔ 59 فیصد پاکستانیوں کو پانامہ لیکس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ 26 فیصد اس کی مکمل تحقیقات چاہتے ہیں۔ 38 فیصد کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ 66 فیصد عوام نے مرکز میں نواز شریف کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جدیدے بلو برگ نے نوید سنائی ہے کہ پاکستان میں غربت آدھی رہ گئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جی ڈی پی 4 سے5 کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زرمبادلہ بھی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فج نے پاکستان کی ریٹنگ بی کردی اور ترقی کی شرح کو 5.3 فیصد کہا ہے۔ زراعت میں بہتری ہوئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر فچ نے کہا ہے کہ حکومت غیرضروری قرضوں، اخراجات اور مالیاتی خسارے میں کمی لارہی ہے۔ اوپر دیے گئے تینوں سروے ہمارے حکومت کے لیے خوشی کا پیغام لائے ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ سب سے زیادہ خوش ہیں۔ ان کی محنت رنگ لے ہی آئی۔ ایک ایک دن میں تین تین سروے آنا شروع ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا کدھر جارہی ہے؟

’’چینوا ایچ بی‘‘ کا تعلق نائیجیریا سے تھا۔ وہ بیسیویں صدی کا سب سے بڑا افریقی قلم کار تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 16 نومبر 1930ء کو پیدا ہوا اور 21 مارچ 2013ء کو فوت ہوگیا۔ اس کی تحریروں کو عالمگیر شہرت ملی۔ اسے بے شمار ایوارڈز یے گئے۔ بیشتر افریقی ملکوں میں اُسے ایک ہیرو کا درجہ ملا۔ اس کے ناولوں اور کہانیوں پر فلمیں اور ڈاکیومنٹریاں بنائی گئیں۔ اس نے سفید فام یورپیوں اور امریکیوں کے صدیوں کے مظالم کی تصویر کشی کی تھی۔ کس طرح کالوں کو غلام بنایا گیا؟ کس طرح بحری جہازوں پر لاد کر انہیں چاکری کے لیے جانوروں کی طرح ڈھویا گیا؟ کس طرح انہیں نسل درنسل اذیتوں کی چکیوں میں پیسا گیا؟ ایچ بی کہتا ہے کہ اس کے دادا کا مذہب اسلام تھا۔ عیسائی پادریوں نے قحط زدہ علاقوں میں چندہ نوابوں کے بدلے مسلمانوں کو عیسائی بنانا شروع کردیا۔ پہلے سفید فام وحشی انہیں دانے دانے کا محتاج بناتے اور پھر پادریوں کے ذریعے ان کی مذہبی نسل بند کرتے تھے۔ بیشتر افریقی ملکوں میں فرانسیسی، اٹالین اور برطانویوں نے حکومتیں بنائیں۔ انہوں نے سونے اور ہیروں کی کانوں کو اپنے قبضے میں کرلیا۔ ہاتھی دانت کے لیے لاکھوں ہاتھیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ کیسے لوگ؟

مغربی دنیا میں صدیوں سے یوٹوپیا (Utopia) کا تصور گردش کررہا ہے۔ یہ ایک خیالی اور مثالی دنیا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی انسان جب دنیا کے عذابوں سے تنگ آیا تو فلاسفروں نے ایک تصوراتی دنیا تخلیق کی۔ افلاطون، ارسطو، تھامس مور، روسو، فرانسس، بیکن نے کتابیں لکھیں۔ افلاطون اپنی ’’ری پبلک‘‘ میں تربیت یافتہ فلسفیوں کی حکومت قائم کرتا نظر آتا ہے۔ انصاف کی ضرورت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سات سال کی عمر کے تمام بچوں کو والدین اور رشتہ داروں سے جدا کردیا گیا۔ سرکاری اداروں میں ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت ہوئی۔ یہ ساری تگ و دو اس لیے تھی کہ وہ بلاتفریق یکساں انصاف دینے کے قابل ہوجائیں۔ افلاطون سسلی کے بادشاہ ڈائیوینس کا مشیر بنا اور بالآخر بادشاہ افلاطون کے فلسفے سے بہت تنگ آگیا۔ وہ اس کے قتل کے درپے ہوا۔ ہمارا فلاسفر بڑی مشکل سے اپنی جان بچاکر دوڑا۔ ارسطو بہت کائیاں تھا۔ سائنس اور فلسفے کا بھی دم بھرتا رہا اور سکندر اعظم کی چاکری میں بھی پیش پیش رہا۔ وہ بادشاہوں سے ہمیشہ بناکر رکھتا تھا اور ان کے موڈ کے مطابق فلسفے کا رخ موڑلیا کرتا تھا۔ روسو نے سوشل کنٹریکٹ جیسی شہرئہ آفاق کتاب لکھی اور انسانی یوٹوپیا کو حقیقت کے قریب لے آیا، مگر جب سفاک بادشاہ نے اسے کارسیکا کے جزیرے پر بلاکر وہاں کے لیے ایک آئیڈیل حکومت بنانے کے لیے کہا تو اس نے اپنے فلسفیانہ خیالات کے بالکل برعکس بادشاہت قائم کرنے کی تجویز پیش کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔