• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

عید ذرا ہٹ کے

ننھا کامل اپنی کھلونا بائیسائیکل کو انتہائی تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے ماں کے پاس سے گزرتا چلا گیا۔ وہ جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ اچانک اس نے کامل کی طرف دیکھا تو وہ اگلا چکر کاٹ کر دوبارہ ماں کی طرف بڑھا چلا آ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی شازیہ بیگم کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ کامل نے یہ دیکھا تو فوراً ماں کی طرف لپک پڑا۔ ’’ارے کیا ہوا میری ممی کو؟ ناں ناں مت رو ممی جانی!‘‘ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ماں کے آنسو پونچھنے لگا۔ شازیہ بیگم نے اسے بے اختیار سینے سے چمٹا لیا اور پھر اس سے باتیں کرنے لگی۔

شازیہ بیگم کے شوہر شاہ زیب میاں ایک سرکاری میڈیا ہاؤس میں ملازم تھے۔ یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں، پھر اللہ نے انہیں کامل دیا، ایک چاند سا بچہ۔ وہ ایک نیک سیرت انسان تھے اور اہل محلہ میں ہر دلعزیز۔ سب کے کام آنے والے، ہر ایک کے لیے اچھا سوچنے والے۔ اللہ نے انہیں شازیہ کی صورت میں خلیق، سمجھ دار اور حوصلہ مند شریک حیات عطا کی۔ جس نے ہمیشہ اور ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا۔ چھ افراد کا اس ہنستے مسکراتے گھرانے پر اس وقت اچانک مصیبت کا پہاڑ آن پڑا جب شاہ زیب ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انہیں ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹھٹھرتی سردی اور متاثرین

زندگی میں اس قدر مشکل حالات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے؟ شریف خان نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ 26 اکتوبر 2015ء کو آنے والے زلزلے نے 19 افراد کے اس کنبے کو زندہ رہنے کے لیے چھوڑا ہے نہ مرنے کے لیے باقی رہنے دیا ہے۔ شریف، اس کا معذور بھائی، دونوں کے 15 بچے اور بوڑھے والدین چترال کے نواحی علاقے ’’دروش‘‘ کے ایک بوسیدہ مکان میں رہتے تھے۔ زلزلے سے قبل مسلسل جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے مکان کی صورت حال خاصی مخدوش تھی۔ پھر تباہ کن زلزلے نے بڑی آسانی کے ساتھ تین کمروں پر مشتمل اس مکان کو زمیں بوس کر دیا۔ انہیں انتہائی کس مپرسی کے عالم میں اپنے گھر سے نکلنا پڑا۔ اس وقت یہ خاندان ایک رفاہی تنظیم کی معمولی امداد کے بل بوتے پر دو خیموں میں رہائش پذیر ہے۔ ان کے پاس جو کچھ بھی تھا، کھانے سے لے کر پہننے تک، وہ سب مکان کے ملبے تلے دَب چکا ہے۔ وہ بس خدا کے آسرے اور اپنے ہم وطن بھائیوں سے لگائی گئی امیدوں کے سہارے یہ کڑا وقت کاٹ رہے ہیں۔ خون جما دینے والی ٹھنڈ، کڑاکے کا جاڑا اور مسلسل چلتی ہوائیں انہیں ترپال سے بنے خیموں میں بھی مارے ڈالتی ہیں۔ بچے اگر بھوک اور سردی سے بلبلاتے رہتے ہیں تو بوڑھے والدین موسم کی سنگینی سے شدید طور پر متأثر ہیں۔ شریف خان سے جب میڈیا کے کارکنوں نے یہ سوال کیا کہ یہاں امدادی کارروائیوں کی صورت حال کیسی ہے؟ اس کے جواب میں اس نے کہا: ’’یہاں امدادی کام نہایت محدود ہے، دو دن قبل جب میں امداد وصول کرنے گیا تو مجھے شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اس آگ کو بجھائیے!

صرف انسان ہی نہیں، معاشرے بھی مرتے ہیں۔ بیمار پڑتے ہیں، دوا کے طالب ہوتے ہیں۔ معاشرے بوڑھے بھی ہو تے ہیں اور وہ لاٹھی ٹیک کے چلنے لگتے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب اخلاقی قدریں پامال ہونے لگتی ہیں۔ جب اپنی تہذیب، اپنے کلچر پر سمجھوتہ کرلیا جاتاہے۔ جب دین کو دیس نکالادینے ایسی روش پنپنے لگتی ہے۔ جب قوم کے لیڈر خود یاوہ گوئی کرتے اور عوام الناس کو اس کی جگالی کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ جب واعظین، قوم کو قصے کہانیوں میں الجھا دیتے اور نبض شناسی کے فرض سے عاری ہوجاتے ہیں۔ جب زندہ انسانوں کے قبرستان وجود میں آجاتے ہیں۔ جب دنیا میں ہی محشر بپا ہو کر نفسا نفسی کے مناظر نظر آنے لگتے ہیں۔ جب قوم کا ہر فرد یہ دُہائی دینے لگتا ہے کہ ’’زمانہ خراب ہو گیا۔‘‘ جب افراد اپنی اصلاح سے غافل ہو کر دوسروں کی اصلاح کے درپے ہو جاتے ہیں۔

شاید پورا عالم اسلام، بالخصوص وطن عزیز پاکستان کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے۔ یہاں برائیوں پر مکمل اتحاد،اچھائیوں پر شدید نااتفاقی ہے۔ یہاں اصلاح احوال کی انفرادی یا اجتماعی کاوشوں کی حد درجہ حوصلہ شکنی ہے۔یہاں برائی پر فخر ہے اور اچھائی پر طعن۔ یہاں ایسی نسلیں تیار ہو رہی ہیں، جو دین اور مذہب کے تئیں بند گلی کا رخ کر رہی ہیں۔یہاں شر کے نمائندے گناہوں پر ایکا کر چکے ہیں۔ یہاں جب بجلی کڑکتی، بارش اترتی اور آندھی چلتی ہے تو دل دھک سے رہ جاتا ہے کہ اللہ کا عذاب اب آیا کہ آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اے وطن کے سجیلے جوانوا

یہ ایک تلخ سچ ہے کہ پوری قوم پاکستان’ بنانے‘ کے بعد اسے’ بچانے‘ میں ہلکان ہو رہی ہے۔ اڑسٹھ سال سے ایک تسلسل اور پوری تندہی کے ساتھ۔ بحرانوں، سازشوں، بغاوتوں، عداوتوں اور شرارتوں سے نجات کے لیے پیہم کوشاں ہے۔ تمام ادارے، سبھی باشندے اور کل طبقات اسی کوشش کا حصہ نظر آتے ہیں۔ تاہم وطن عزیز کو ہر طرح کے بحرانوں سے نکالنے کے اس سفر میں افواجِ پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا۔ بیرونی سازشیں ہوں یا اندرونی شورشیں۔ دہشت گردی کا عنصر ہو یا عالم اسلام کا دست و بازو بننے کے مواقع، نیز وطن عزیز کی سرحدات کی حفاظت سے لے کر آسمانی آفتوں میں عوام کی بحالی تک ہر جگہ فوج اپنے نمایاں کردار کے ساتھ موجود نظر آتی ہے۔

آپ آگے بڑھنے سے قبل یہ حالیہ خبر ملاحظہ فرمائیے۔ پاک وطن میں سیلابوں کی جاری لہر میں گلگت اور قرب جوار کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اسی حوالے سے افواجِ پاکستان نے بھی متاثرین بھائیوں کی طبّی امداد کے لیے ایک طیّارہ روانہ کیا۔ یہ فوجی ہیلی کاپٹر مانسہرہ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ایم آئی 17 نامی ہیلی کاپٹر راولپنڈی سے جاتے ہوئے ’’تناول‘‘ کے علاقے ’’موہار‘‘ میں حادثے کا شکار ہوا۔ جہاں آرمی کی میڈیکل کور ٹیم کے 5 میجرز سمیت 12 افراد شہید ہو گئے۔ ان میں سے 11 لاشیں اس حالت میں نکالی گئیں کہ وہ قابل شناخت ہی نہیں تھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملامحمد عمر مجاہد: درونِ خانہ

ملا محمد عمر مجاہدؒ کے انتقال پرملال کی خبر کیا آئی کہ دل کا غنچہ مرجھاگیا۔ ایک ایسی شخصیت جو اپنوں کے لیے حددرجہ مقام عقیدت اور غیروں کے لیے بے انتہا حیرت کا باعث تھی۔ یقینا دنیا تادیر ان کے افسانوں میں الجھی رہے گی اور ان کی تہہ درتہہ عبقریت کی پہنائیاں اسے ورطہ حیرت میں مبتلا رکھیں گی۔ دلوں کے فاتح، صفحہ تاریخ پر ان مٹ نقوش ثبت کرنے والے اور تادیر یاد رکھے جانے والے ملامحمد عمر مجاہد کے وجود سے محرومی کا زخم لیے ’’ضربِ مؤمن‘‘ کی پرانی فائلیں کھول کر بیٹھ گیا کہ شاید ان گرد آلود اوراق میں اپنے دل کے راج دلارے کو پاسکوں۔ اچانک ایک تحریر نے ساری توجہ سمیٹ لی۔ میں نے پڑھنا شروع کیا اور پڑھتا چلاگیا۔ یہ ملامحمد عمر مجاہد کے سگے چچا، مربی و استاذ جناب مولوی محمد انور کا ملا محمد عمر مجاہد کی ذاتی اور خانگی زندگی سے متعلق ایک مفصل انٹرویو تھا۔ یہ تحریر آپ کی بے مثالی اسلامی و شرعی حکومت کے دنوں میں آپؒ کے خیالات و حالات کو ظاہر کرتی ہے۔ جو حددرجہ حیرت انگیز ہے۔ جی چاہا کہ ملا محمد عمر کی زندگی کے اس خصوصی پہلو کو قارئین کی خدمت میں رکھا جائے۔ ملا محمد عمر مجاہد کے عمّ مکرم فرماتے ہیں: ’’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی 37 سالہ زندگی میں کبھی کوئی انسان ان سے ناراض نہیں ہوا۔ ان کے تمام احباب، رشتہ دار اور دوست بے حد خوش تھے۔ ان کی دوستی اور دشمنی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔ ملا محمد عمر مجاہد کی خوشی، غمی بھی صرف اعلائے کلمۃ اللہ سے وابستہ ہوکر رہ گئی تھی۔ آپ ’’سانحہ مزار‘‘ کے المناک واقعے سے اس قدر متاثر تھے کہ انتہائی صدمے کی وجہ سے تین روز تک کچھ نہیں کھایا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

رمضان کے بعد کی زندگی

ٹھاہ! ٹھاہ! ٹھاہ! چاروں طرف سے فائرنگ کی ایک گونج سنائی دیتی ہے۔ نوجوان سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔ ہلہ گلا، سرپھٹول اور دھما چوکڑی عروج کو پہنچنے لگتی ہے۔ گھروں میں ٹی وی زور سے بجنے لگتے ہیں۔ کچھ نیکوکار سیدھا حمام کا رخ کرتے ہیں۔جہاں انہیں مہینے بھر کی بڑھی ہوئی’’ شیو‘‘ سے جان چھڑانی ہے۔ قارئین! یہ میرے اور آپ کے وطن عزیز میں رمضان کی رخصتی کے لمحات کے مناظر ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا یہ کیسی عید کی خوشی ہے؟یہ برکتوں والے مہینے کی پرملال رخصتی کا موقع ہے یا شیطان کے پرجوش استقبال کا؟اس کا واضح مطلب ہے ہم نے اپنی مہینے بھر کی کمائی کو پانی میں ڈبو دیا۔ ہم نے محنت و مشقت سے جمع کے گئے توشہ آخرت کو اپنے ہاتھوں آگ لگا دی۔ رمضان کی انتہائی مبارک گھڑیوں سے محرومی پر رنجیدہ ہونے کے بجائے اسے قید سمجھ کر آزادی کا عملی تاثر دیا۔

عید کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی ہم رمضان سے شوال میں داخل ہو تے ہیں۔ ہم اللہ کی رحمتوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے گناہوں کی گرم لو میں آ جاتے ہیں۔ ہم برکتوں کی کثرت والی گھڑیوں سے بے برکتی کے غلبے کے زمانے میں اترتے ہیں۔ اسی لیے رمضان کے سائبان سے باہر آتے ہوئے ہمیں اللہ سے بے حد ڈرنا چاہیے۔ ہمیں عافیت کی دعاؤں کی کثرت کرنی چاہیے۔ ہمیں نیکیوں کی کمائی کو حد درجہ محفوظ بنانے کے لیے سعی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وقت کی آواز

سب سے پہلے اجتماعیت اور پھر اس کے حصول کے لیے مختلف اجتماعات کی جس قدر ضرورت اور نا گزیریت آج ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج افراد سے لے کر جماعتوں تک اور کارکنوں سے لے کر قائدین تک کو ہر سطح پر قریب آنے کی ضرورت ہے۔ آج مسئلہ بقا کا ہے، آج بات مٹتے آثار کے احیاء کی ہے۔ شر کی قوتیں ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘، ’’تنہا کرو اور من مانے قوانین مسلط کرو‘‘ اور ’’منتشر کرو اور نام و نشان مٹا دو‘‘ کے اپنے سازشی کردار میں سو فیصد کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ صورت حال ملکوں سے لے کر عالمِ اسلام تک اور طبقات سے لے کر جماعتوں تک عمومی طور پر پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ سازشوں کے اس ریلے کے آگے بند باندھنے کے لیے پہلے قدم کے طور پر آپ سوچ کو وسعت دیجیے، آپ سینوں کو کشادہ کیجیے اور جہاں تک بس میں ہے، قدم آگے بڑھا دیجیے۔ آپ کی خدمت میں بطورِ مثال دو دینی اداروں کے دو اجتماعات کا تذکرہ کرتے ہیں، جو مذکورہ بالا تناظر میں یقینا لائقِ داد بھی ہیں اور قابلِ تقلید بھی۔

جامعۃ الرشید کراچی نے یہ اہتمام کیا ہے کہ ہر سال، ابتدائی طور پر صرف ’’کلیۃ الشریعہ‘‘ کے فضلا کا تین روزہ تربیتی اجتماع منعقد کرتا ہے۔ امسال 20، 21 اور 22 مارچ کو یہ ’’فضلا اجتماع‘‘ اپنی شان، رونق اور برکات کے ساتھ عمل میں آیا۔ جامعۃ الرشید کا کلیۃ الشریعۃ پاکستان بھر کا وہ منفرد کورس ہے، جس میں گریجویٹ طلبہ کو چار سال میں مختصر درسِ نظامی پڑھایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش

کارگہ فکر و نظر میں ایک بار پھر ہلچل مچی ہے۔ معرکہ قلم و زباں میں ایک بار پھر دینی مدارس نشانہ ہیں۔ ’’اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش۔‘‘ ہر ایک ’’توفیق بھر‘‘ اس میں حصہ لے رہا ہے۔ وہی اعتراضات اور وہی سوالات۔ وہی پروپیگنڈا اور وہی ایجنڈا، مگر اب کے عنوان مختلف ہے۔ اب کے لہجہ ذرا نرم ہے۔ اب الزامات نہیں، اصلاحات کی بات ہے۔ اب شکایت نہیں، شکوے کا لہجہ ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے شہسوار، پرنٹ میڈیا کے رہواراور سوشل میڈیا کے ’’یار‘‘۔ ایک ہی بولی بول رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ دیے۔ آواز میں آواز ملا کر۔ قدم بقدم اور مرحلہ بہ مرحلہ۔

یقینا یہ دینی اداروں اور ان سے تعلق خاطر رکھنے والوں کے لیے ایک اور کڑی آزمائش ہے۔ اللہ کی توفیق سے وہ ہر بار کی طرح اب بھی سرخ رو ٹھہریں گے۔ وہ اب بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے۔ دینی مدارس کا نصاب، نظام اور پیغام ۔ کردار اور کارکردگی ۔ عمل اور طرز عمل۔ کامیاب اور کامران تھا، ہے اور رہے گا۔ اس پر اہل مدارس کا سرفخر سے بلند تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کی افادیت، ناگزیریت اور نافعیت کبھی ختم کی جا سکی نہ ہی کم۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو پھول

محبت کی ساری ادائیں، سب ماؤں کی سب بِلائیں، ناز و نحرے کے سارے اطوار اور پیاربھری داستانوں کے سارے کردار اس ایک لمحے پہ قربان جسے حضرت ابوہریرۃؓ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قلم بند کر کے لازوال کردیا۔ صحابی رسول فرماتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اچانک استفسار فرمایا: ارے! وہ شوخ لڑکا کہاں ہے؟‘‘ یعنی حسین۔ تھوڑی دیر میں حضرت حسینؓ آئے اور آپ کی گود میں گر پڑے۔ پھر گود میں لیٹے لیٹے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک میں انگلیاں ڈالنے لگے۔ آپ نے حسینؓ کے منہ پر بوسہ دیا اور فرمایا: ’’یا اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں، آپ بھی اس محبت کریں اور اس شخص سے بھی جو حسین سے محبت کرے۔ ‘‘

شہید کربلا، استعارہ صدق و وفا، پیکر عزیمت اور شہزادہ جنت کی فضیلت کا اس سے بڑھ کر شاہکار ثبوت کیا ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو یہ چاہے کہ اہلِ جنت میں سے کسی کو دیکھے یا فرمایا کہ نوجوان اہلِ جنت کے سردار کو دیکھے، وہ حسین ابن علی کو دیکھ لے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فریج کی قربانی

بس بات طے ہو گئی۔ فیصلہ ہو گیا۔ آپ کو دو میں سے ایک بات کو اختیار کرنا ہو گا۔ ’’عید‘‘ منانی ہے یا ’’قربانی‘‘ کی عید۔ دونوں ہی طریقے ہیں اور دونوں اپنی جگہ پر ٹھیک۔ مگر دونوں میں دھوپ چھاؤں جیسا فرق ہے۔ دونوں کے درمیان عزیمت اور رخصت کی لکیر کھنچی ہے۔ یہ ایک مسلمان اور ایک اچھے مسلمان کے درمیان حد فاصل ہیں۔
عید منانے والے خوشیاں منائیں گے، قربانی کی عید گزارنے والے خوشیاں بانٹیں گے۔ عید منانے والے قربانی کا جانورذبح کرکے خود کو فرض سے سبکدوش سمجھ لیں گے، قربانی والے خدمتِ خلق کے اگلے فریضے کی طرف بڑھ جائیں گے۔ عید منانے والوں کے ہاں مہنگے جانوروں کی خریداری اور باہم تفاخر کی سرشاری نظر آئے گی، قربانی والے ایک مہنگے جانور کے بجائے جانوروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے صحیح مصرف کی منصوبہ بندی کے لیے فکر مند ہوں گے۔ عید منانے والوں کے ذہن کا کینوس طرح طرح کی ڈشوں کے زائچے بنا رہا ہو گا، قربانی کی عید والے ان لوگوں کی ٹوہ میں ہوں گے، جنہیں سال میں صرف ایک بار گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چشمِ ما روشن، دلِ ما شاد

کیا چیز ہو تم، کیا اندازہ نہیں؟وہ کہ اللہ تعالی نے جنہیں اپنے گھر کے خاص بندے قرار دیا۔ وہ کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ذاتی مہمان کہا ہے۔ وہ کہ فرشتے جن کے استقبال کے لیے اپنے پَر بچھا لیں۔ وہ کہ جب گھر سے نکلیں تو وہ اللہ کے راہی ہیں، جب تک واپس نہ ہو جائیں۔ وہ کہ جن کا علم کے لیے قصد جنت کی بشارت ہے۔ وہ کہ جو رسول اللہ کے وارث اور ان کے نائبین ہیں۔وہ کہ جن سے متعلق ارشاد فرمایا گیا: جس کو طلب علم کے دوران موت آ گئی، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے اور نبیوں کے درمیان صرف ایک درجے، درجۂ نبوت کا ہی فرق ہو گا۔ وہ کہ جن سے زمین و آسمان کی مخلوقات محبت کرتی ہیں۔ آسمان کے فرشتوں سے سمندر کی مچھلیوں تک۔ وہ کہ جن کا پیشہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، یعنی: تعلیم دین۔ ان نسبتوں کو لے کر، ان فضیلتوں کے حصول کے لیے، اس عظیم جہاد کی خاطر تم گھروں سے نکلے ؎
راستے کھلتے گئے، عزم سفر کے سامنے
منزلیں ہی منزلیں ، اب نظر کے سامنے

مزید پڑھیے۔۔۔