• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہٹلرنے جب جرمنی میں آباد یہودیوں کی نسل کشی کا آغازکیا اورتمام ریاستی ادارے ان پرپل پڑے تواس کے والدین اپنی جان بچا کرفلسطین کے شہریروشلم میں جاکرآباد ہوگئے۔ یروشلم یوں بھی یہودیوں کا مقدس ترین شہرہے اوراس دورمیں یہ برطانیہ کے زیرتسلط تھا۔ اسی شہر میں 1941ء میں اس کی پیدائش ہوئی۔ والدین نے اس کا نام الیاس ڈیوڈسن (Elias Davidson) رکھا۔ بچپن میں ہی اسے اپنے اردگرد بسنے والے مسلمان عربوں کا ساتھ میسرآیا۔ 14 مئی 1948ء کویروشلم سے ملحقہ صحرائی علاقوں میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تواس کے والدین ساحلی شہرحیفہ منتقل ہوگئے۔ الیاس ڈیوڈسن ایک بے چین اورمضطرب روح لے کرپیدا ہوا تھا۔ وہ تعلیم اورکاروبارکے سلسلے میں پہلے فرانس، جرمنی اورامریکہ میں مختصرقیام کرتا ہوا 1962ء میں آئس لینڈ پہنچا جہاں وہ 2008ء تک رہائش پذیررہا۔ شروع کے بائیس سال اس نے ایک کمپیوٹرکے ماہرکی حیثیت سے آئی بی ایم اورایک ہسپتال میں نوکری کی۔ نوکری سے تنگ آیا توسوئٹزرلینڈ چلا گیا اوروہاں تین سال تک پیانوسیکھتا رہا اورپھرپندرہ سال اس نے ایک کمپوزراورپیانوکے استاد کی حیثیت سے گزارے۔ اپنی اس تمام ترمعاشی وتعلیمی جدوجہد کے شانہ بشانہ اس نے بھرپورسیاسی مبصرکی زندگی بھی بسرکی۔ اس نے انسانی حقوق اورعالمی سیاست پرچونکا دینے والے انکشافات کیے۔ گیارہ ستمبر 2001ء کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹرپرحملہ ہوا تواس نے اپنی تمام ترتوانائیاں اس سانحے کی کھوج میں لگا دیں اوراپنی بارہ سال کی محنت کے بعد حیران کردینے والے انکشافات کے ساتھ اپنی کتاب ’’Hijacking American mind on 9-11‘‘ (نائن الیون واقعات پرامریکی دماغ کا اغوا)، 2013ء میں لے کرسامنے آگیا۔ اس کتاب میں ایسے حقائق منظرعام پرلائے گئے تھے جوپہلے کبھی نہیں لائے گئے۔

گزشتہ پانچ سالوں سے اس کتاب نے عالمی پریس میں ایک طوفان کھڑاکررکھا ہے، لیکن میڈیا کے لئے یہ ایک اچھنبے کی بات نہ تھی کیونکہ گیارہ ستمبر کے واقعہ پرہزاروں ایسے مضامین اورکتابین مارکیٹ میں آچکی ہیں جواس سارے واقعاتی پس منظراورپیش منظرکوایک عالمی معاشی، عسکری اورسیاسی سازش کے طورپرپیش کرتی ہیں، لیکن الیاس ڈیوڈسن کی تازہ ترین کتاب زیادہ حیران کن اورزیادہ ہوشربا انکشافات پرمبنی ہے جس کے بارے میں عالمی میڈیا پربہت کم سچ بولا گیا ہے۔ یہ کتاب 2008ء کے ممبئی حملے کے بارے میں جس کا نام ہے The betrayal of India(بھارتی دھوکے کا افشائے راز) یہ کتاب آٹھ سوبائیس صفحات پرمشتمل ہے اورہرصفحہ چونکا دینے والی معلومات سے بھرا ہوا ہے۔ اس کتاب میں ڈیوڈسن نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ممبئی حملہ نومبر2008ء میں ایک بہت بڑا ڈرامہ تھا جسے امریکہ اوربرطانیہ نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اوراسرائیلی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کے ساتھ مل کررچایا تھا۔ اس نے کہا ہے کہ اس سارے ڈرامے کا اہم ترین کردارڈیوڈ ہیڈلے ’’David Headley‘‘ دراصل ایک ’’Red Harring‘‘ ’’سرخ رنگ کی مچھلی‘‘ ہے۔ یہ ترکیب انگریزی میں ایسی کیفیت یا کردارکے لیے استعمال ہوتی ہے کہ جوکرداریا واقعہ اصل واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لیے تخلیق کیا جاتا ہے۔ اپنی کتاب کے آخرمیں 865 صفحے پروہ لکھتا ہے ’’اس کتاب کا پہلا خلاصہ یہ ہے کہ بھارت کے بڑے ادارے جن میں مرکزی حکومت، پارلیمنٹ، بیوروکریسی، فوج، ممبئی، پولیس، خفیہ ایجنسیاں، عدلیہ اورمیڈیا نے جان بوجھ کر26 نومبر2008ء کے واقعات میں سچ کودبایا اورمسلسل دبائے جارہے ہیں۔‘‘

کتاب واقعات کی ترتیب اوربھارت اورعالمی رہنماؤں کے بدلتے ردعمل اورمؤقف سے شروع ہوتی ہے۔ آغاز بھارتی پولیس کے اس اعلان سے ہوتا ہے کہ ہم نے نودہشت گرد زندہ پکڑلیے ہیں اوراختتام اس بات پرہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں سوائے ایک لڑکے کے جوپاکستان سے ہے۔ ابھی یہ حملہ جاری ہوتا ہے کہ بھارت کے اہم ترین سرکاری عہدے داریہ اعلان کرنے لگتے ہیں کہ یہ پاکستان کی مدد سے حملہ ہوا اورحافظ سعید کا گروہ اس کی پشت پرہے۔ فوری طورپرہنجری کسنجربیان دیتا ہے کہ ممبئی حملے میں پاکستان ملوث ہے۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ حملے سے صرف تین دن قبل ہنری کسنجرہوٹل میں ٹھہرتا ہے اوربھارت کے ٹاٹا گروپ اورگولڈمین سیچس سے امریکی سیاست پرتبادلہ خیال کرتا ہے۔ کتاب کے تین سوصفحات پراس مقدمے کی پوری کاروائی، تفتیش اورشواہد پربحث کی گئی ہے۔ مصنف نے پورے مقدمے کوایسا ڈرامہ قراردیا ہے جس میں گواہوں کے بیانات، شناخت پریڈ، موقع سے دستیاب شواہد، یہاں تک کہ عام لوگوں کے تاثرات تک اس قدربے ربط ہیں کہ پورے واقعہ کا کوئی سراتک معلوم نہیں ہوتا۔

تاج محل کے کیفے میں موجود سوکے قریب گواہوں میں سے کسی ایک نے بھی ان آٹھ مجرموں کولوگوں کوقتل کرتے ہوئے دیکھنے کی گواہی نہیں دی۔ نریمان سنٹرمیں مرنے والے چھ افراد ہیں جن میں سے پانچ یہودی تھے، ان میں سے کسی کا بھی پوسٹ مارٹم نہ کرایا گیا۔ تمام کاروائی خفیہ رکھی گئی۔ ایک وکیل جس نے ملزم کی وکالت کی حامی بھری، اس کو عدالت نے برطرف کردیا اوردوسرا قتل کردیا گیا۔

بے شمارسی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں نوے فیصد فوٹیج کیمرے خراب ہونے کی وجہ سے موجود نہ تھی اورجودس فیصد میسرآئی وہ بہت حد تک تباہ شدہ تھی یا پھراس میں کئی مقامات پرایڈیٹنگ کی گئی تھی۔ ان 300 صفحات میں ڈیوڈسن نے کہیں بھی اپنی ذاتی رائے نہیں دی اورنہ ہی کہانی میں جذبات بھرنے کی کوشش کی ہے۔ سیدھے سادھے حقائق بیان کیے ہیں اورپھران تمام ممالک کے مفادات کا ذکرکیا ہے جوانہوں نے اس واقعے کیبعد بھارت کی مدد سے اٹھائے۔ امریکی وزیردفاع کونڈولیزارائس نے 7 دسمبر2008ء کوپاکستان پربراہ راست الزام لگایا کہ اس میں شک ہی نہیں کہ ممبئی حملہ کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی۔ افغانستان کے تناظراورپاکستان کے کردارکومزید امریکی غلامی دینے کے لیے یہ ایک بہترین ہتھیارتھا جوامریکہ کے ہاتھ میں آگیا اوراس نے پاکستان پردباؤبڑھانے کے لیے اسے انتہائی موثرطورپراستعمال کیا۔ ایران، افغانستان میں اپنا ایک کردارچاہتا تھا۔ وہ امریکی پابندیوں کے باوجود بھارت کی محبتوں کا امین تھا، جس نے مسلسل اس سے تیل خریدا۔ اس حملے کیبعد بھارت کی سیکیورٹی کے خطے کی سیکیورٹی قراردیا گیا اوراسے افغانستان میں ایران کی مدد سے قدم جمانے کا موقع دیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ایرانی بندرگاہ ’’چاہ بہار‘‘ پربھارت کی عمل داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حملے کے دوسرے دن ایرانی اخبارات نے حملے کا ذمہ دارپاکستان کوٹھہرایا۔ روس کی فیڈرل نارکوٹکس سروس نے 18 دسمبرکوبیان دیا کہ ممبئی حملوں میں داؤد ابراہیم ملوث تھا اوراس نے باقاعدہ ان کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔ اوباما انتظامیہ نے روس، بھارت اورایران کیساتھ اس کے بعد معاہدہ کیا کہ وہ افغانستان میں اتحادی فوج کی مددکریں گے۔

آسٹریلیا کے بارے میں ڈیوڈسن نے جوانکشاف کیے وہ بھی چونکا دینے والے ہیں۔ اس حملے میں آسٹریلیا کے چند باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ آسٹریلوی وزیرِتجارت سائمن کرین نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’بھارت اورآسٹریلیا دہشت گردی کی جنگ میں ساتھ ساتھ ہیں اورہم عالمی سیکیورٹی، جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق اورقانون کی حکمرانی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘‘ اس کے بعد آسٹریلیا اوربھارت کے درمیان کاروباری ورفوجی معاہدات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ستمبر 2013ء میں نریندرمودی اورآسٹریلیا کے وزیراعظم نے ایک معاہدے پردستخط کیے جس کے تحت آسٹریلیا بھارت کویورنیم فروخت کرے گا۔

اس کتاب کے مندرجات اورحقائق اتنے اہم ہیں اورپاکستان کے اس قدر مفید ہیں کہ اگرانہیں مناسب میڈیا کے ذریعے دنیا بھرکے سامنے پیش کیا جائے، ہمارے سوئے ہوئے دفترخارجہ کے لوگ اس پرسیمینارکریں، ہمارے میڈیا کے لوگ عمران کی شادی اور پانامہ ہنگامے سے باہرنکلیں تو شاید ایک ایسے وقت میں جب حافظ سعید کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی مدد کے سلسلے میں واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، یہ کتاب اوراس کے حقائق عالمی رائے بدل سکتے ہیں۔ اس کے مصنف کا تفصیلی انٹرویو، اس کتاب کے مندرجات پرڈاکومنٹری، کیا کچھ نہیں ہوسکتا، مگرکون کرے گا، پاکستانی میڈیا جسے شاید خودتوپاکستان کا دفاع کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔