• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

عالمی طاقتوں کا خفیہ کھیل

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان، پاکستان اور بھارت کے بارے میں پالیسی تقریر کے بعد اگرکوئی آج بھی خوابوں کی دنیا میں رہ رہا ہے کہ ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کا اگلا نشانہ نہیں بنیں گے تواسے احمقوں کی جنت سے نکل آنا چاہیے۔ خصوصاً ان لوگوں کو جوپاکستان کی سرزمین پررہتے ہیں، یہاں سے رزق حاصل کرتے ہیں، عوام انہیں منتخب کرکے وزارتِ خارجہ کے عہدے پرسرفرازکرتے ہیں اور وہ ان آقاؤں کی زبان بولنے لگتے ہیں جنہوں نے ان کے قائد میاں نواز شریف کوپرویزمشرف کی قید سے نجات دلا کرسعودی عرب کی مہمان داری میں دیا تھا۔ یہ حقیقت اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا کہ کارگل کے وقت جب نوازشریف مجھ سے ملنے آیا توملاقات کے دوران مجھ سے ممکن فوجی مداخلت کے خلاف جان کی امان مانگی، جس کا میں نے وعدہ کیا، اورپھرجب اکتوبر1999ء میں معزول ہوکرقید ہوا تومیں نے سعودی حکومت کواسے وہاں سے نکالنے کے لیے کہا اور بالآخرنواز شریف امریکی آشیرباد اور سعودی عرب کی مدد سے مشرف کی جیل اورممکنہ سزاؤں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے خلاف چلنے والے مقدمات بھی سردخانے میں چلے گئے۔ امریکا کی ایسی ہی مہربانیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے وزریرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کوحقیقت کا روپ دینے کے لیے ایک فقرہ بولا ’’ہمیں اپنا گھر بھی صاف کرنا چاہیے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کی مسلم دشمنی

جدید جمہوری نظام کی کہانی بھی الف لیلیٰ کی وہ داستان ہے جس میں سمرقند کا بادشاہ شہریار، عورتوں سے اس قدر بدظن ہوجاتا ہے کہ ہرروز ایک نئی شادی کرتا اوردلہن کورات بھررکھ کرصبح قتل کردیتا۔ یہ بادشاہ کہانیاں سننے کا شوقین تھا، وہ اپنی ہردلہن کوکہانی سنانے کے لیے کہتا، اگرصبح سے پہلے کہانی ختم ہوجاتی تواسے قتل کردیا جاتا۔ ایسے میں بادشاہ کے وزیرکی لڑکی ’’شہرزاد‘‘ نے بادشاہ سے شادی کا ارادہ کیا تاکہ وہ اپنے ملک کی عورتوں کواس عذاب سے نجات دلائے۔ شہرزاد کہانی کہنے کا فن جانتی تھی، وہ ایک ایسی کہانی شروع کرتی جس کا طلسم اورتجسس صبح تک قائم رہتا۔ کہانی اس قدر دلچسپ ہوتی کہ بادشاہ اس کا باقی حصہ سننے کے شوق میں وزیرزادی شہرزاد کا قتل ملتوی کردیتا۔ شہرزاد اگلی رات پہلی کہانی کودرجہ کمال پرپہنچا کر نئی کہانی اس طرح شروع کرتی کہ جب تجسس انتہا کوپہنچ جاتا تو صبح ہوجاتی۔ اس طرح وہ بادشاہ کوایک ہزارایک راتوں تک کہانیاں سناتی رہی، اس مدت میں اس کے دوبچے ہوگئے اوریوں عورتوں کوبادشاہ کے ظلم سے نجات مل گئی۔ ایک ہزارایک راتوں کوعربی میں ’’الف لیلیٰ‘‘ کہتے ہیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

سرمایہ داری کے بدمست ہاتھی

بدھ بھکشوؤں کی طرح سرکے بال منڈوائے، گیروے رنگ کے ان سلے کپڑے پہنے، 20؍ جون 2013 ء کوٹائم میگزین کوانٹرویودیتے ہوئے اس نے کہا: ’’آپ میں محبت اورشفقت کوٹ کوٹ کربھری ہو پھربھی آپ ایک پاگل کتے کے ساتھ نہیں سوسکتے۔ اگرہم کمزورہوگئے توہماری زمین تک مسلمان ہوجائے گی۔ ’’آشن وراتھ‘‘ یہ وہ شخص ہے جوبرما کی بدھ قومی تحریک 969 کا سربراہ ہے۔ اس تحریک کا مقصد برما میں مسلمانوں کی آبادی کوبڑھنے سے روکنا ہے۔ اس تحریک کا نام مہاتما بدھ کے بتائے گئے اصولوں پررکھا ہے۔ 9 کا ہندسہ ان نوصفات کی جانب اشارہ کرتا ہے جو بدھ کے ساتھ منسوب ہیں، 6 کا ہندسہ بدھ دھرم کے چھ اصول ہیں اورپھر9 کا ہندسہ بدھا سنگھا یعنی بدھ بھکشوؤں کے اوصاف کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس تحریک کے خدوخال 1990ء کے آس پاس لکھی جانے والی کتاب میں ملتے ہیں جس برما کی وزارتِ مذہبی امورکے آفیسر کاؤلیون (Kywo Luin) نے تحریر کیا۔ اس نے علم الاعداد کی بنیاد پراس تحریک کومسلمانوں کے مقابل تحریک قراردیا۔ اس نے لکھا کہ چونکہ مسلمان بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اعداد 786 لکھتے ہیں اورپورے برِصغیر میں وہ انہی اعداد کو اپنی تحریروں سے پہلے اورکاروباری اداروں کے باہرتحریر کرتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے مقابلے میں زیادہ طاقتوراعداد کا سہارا لینا چاہیے اوراعداد کی دنیا میں 9 سے طاقتورکوئی عدد نہیں بنتا اوراگر 9 اور6 کوملا کررکھا جائے تو یہ ایک پورا دائرہ بن جاتا ہے (69) یعنی آپ کو ان اعداد کی موجودگی میں شکست نہیں ہوسکتی۔ 969 عالمی تکوینی نظام میں 786 کا مخالف ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان: گوند کا تالاب

وہ دانشور، تجزیہ نگار، سیاست دان، جرنیل اورپالیسی ساز جوآج سے سترہ سال قبل پرویزمشرف کی بالغ نظری اورفہم فراست کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ اسے عالمی سیاست کا سب سے بڑا نابغہ بتاتے تھے۔ اس کی پالیسیوں کوپاکستان کی بقا اورسالمیت کا پیش خیمہ ثابت کرتے تھے۔ شاید آج بھی شرمندہ نہ ہوں، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 سال بعد اس ملک پربدترین الزامات لگا کراسے اپنے دشمنوں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ تاریخ کے بعد بدترین کرداروہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرف کی صرف اس لیے حمایت کی کہ وہ ایک سیکولرسوچ رکھتا تھا اوراس نے پاکستان میں ہراس ادارے، فرد اورگروہ پرحملہ کیا جہاں سے صدائے لا الٰہ بلند ہوتی تھی اورپھراس قدرفروغ دینے کی کوشش کی جس سے اسلامی معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہوسکتی تھیں۔ پاکستان کے سافٹ امیج کے نام پربے حیائی اورعریانی کوفروغ دیا گیا اوردہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرہراس شخص کی تذلیل کی گئی جس کے چہرے پرداڑھی، ماتھے پرمحراب اورٹخنوں سے اوپرشلوارتھی۔ اس ملک کو بزدلی اوربے غیرتی کا درس دینے والے روز ٹیلی ویڑن پرآکرنعرہ بلند کرتے تھے کہ اگر امریکا کا ساتھ نہ دیتے تووہ ہمارا تورا بورا بنا دیتا۔ سترہ سال کے بعد آج عالم یہ ہے کہ افغان قوم توغیرت و حمیت اورعزت ووقار سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے۔ انہیں پختہ یقین اورایمان ہے کہ وہ جس سے جنگ لڑرہے ہیں وہ ایک غاصب فوج ہے۔ کفرپرقائم ایک عالمی طاقت نے ان کے ملک پرقبضہ کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان میں دھنستا امریکا

ہم کس بدقسمت میڈیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں جو اپنی آزادی سے لے کراب تک اس ملک کے ٹوٹنے، معاشی طورپردیوالیہ ہونے اوردہشت گردریاست کے اعلان پرتبصروں اورتجزیوں سے اپنی خواہشوں کا اظہار کرتا رہتا ہے، لیکن اپنے، آقاؤں کی ذلت ورسوائی پرخاموش ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ ان کے آقا نہیں، بلکہ وہ بت ہیں جن کی یہ پوچا کرتے ہیں۔ یہ ان کی پرستش کے مندر ہیں ان کی مرادوں، آرزوؤں اورتمناؤں کا محورہیں۔ مندر میں کبھی ایک بت نہیں ہوا کرتا۔ دنیا بھر کی دیومالائی دنیا جسے Mythology کہتے ہیں، اس میں ہردیومالامیں ایک طاقتورترین بت ہوتا ہے، اور پھر اس کے ساتھ اس کے حواریوں کی ایک پوری کھیپ۔ یہ سب کے سب اس طاقتور بت کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں۔ میرے ملک کے میڈیا کے مندرمیں طاقت وربت امریکا ہے۔ اس بت کی پوجا اس لیے کی جاتی ہے کہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کائنات کی زمامِ کار اورکلی اختیارمالک کائنات کے ہاتھوں میں نہیں ہے، بلکہ امریکا جو چاہے کرے، جس کو چاہے معاشی پابندیاں لگا کربھوکا ماردے، فوجی امداد بند کرکے کمزورکردے، دہشت گردقراردے کرقیدتنہائی میں سزا سنا دے اوراگرغیظ و غضب میں آئے توملکوں پرچڑھ دوڑے، قتل وغارت کا بازارگرم کرے، اپنی ٹیکنالوجی کے زورپرہزاروں میٹرکی بلندی سے بم برسائے اور بستیوں کی بستیاں ویران کردے۔ طاقت کے پچاری اس بت کی اس طرح پوجا کرتے ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

اصل خوف کیا ہے

اگربددیانتی، کرپشن، منی لانڈرنگ اوروسائل سے زیادہ جائیدادیں بنانے کے الزامات آج سے پندرہ سال پہلے لگائے گئے ہوتے، کسی ڈکٹیٹرنے تفتیش کرواکرفوجی عدالتوں سے سزا سنائی ہوتی یا کسی حکومتی ادارے نے گزشتہ ادوارکی طرح ثبوتوں کے انبار جمع کئے ہوتے، دنیا بھر کے ملکوں کی خاک چھان کرجائیدادوں کی تفصیل جمع کی ہوتی تونواز شریف کبھی اتنے پریشان نہ ہوتے۔ وہ 1999ء میں نکالے گئے تو پوری دنیا میں ان کی لوٹی ہوئی دولت سے سرمایہ کاری کرنے کے راستے کھلے تھے۔ ان کے ہم پیشہ سیاستدان آصف زرداری اور بے نظیربھٹو بھی انہی کی طرح یہ سب کچھ کرتے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے سیف الرحمٰن کے ذریعے بہت محنت کے ساتھ آصف زرداری اوربے نظیرکے اثاثوں کی چھان بین کروائی، سرے محل سے لے کرقیمتی ہارتک بے شمار جائیداد اوردولت جس کا وہ حساب نہیں دے سکتے تھے، لیکن دنیا شاید ابھی کرپشن کے خلاف اس قدر سنجیدہ اورمتحد نہیں ہوئی تھی۔ غریب ممالک کے سیاسی رہنما اورفوجی ڈکٹیٹرعوام کا پیسہ لوٹ کرمغرب کی جنت میں مزے کے دن گزارتے اورکاروبارکرتے تھے۔ غریب ملکوں کی لوٹی ہوئی

مزید پڑھیے۔۔۔

رہے نام اللہ کا

مغربی جمہوریت اوراسلام میں سب سے بنیادی فرق یہ ہے کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ یا کانگریس کی برتری ہوتی ہے، جبکہ اسلام میں عدلیہ کی برتری مسلم ہوتی ہے۔ دونوں حکومتوں کے اجزائے ترکیبی ملتے جلتے بھی ہوں پھر بھی وہ اصول جن کی بنیاد پرحکومت یا ریاست کھڑی ہوتی ہے وہ جمہوری اصول و قواعد سے بالکل مختلف ہیں۔ جمہوریت میں حکمرانی عوام کی ہے اور وہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ وہ جیسا چاہیں جس وقت چاہیں اور آئین مرتب کر سکتے ہیں، قانون بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں 1973ء کا آئین بناتے وقت تمام عوامی نمایندوں نے مل کرقرآن وسنت کی بالادستی کو جمہوری طورپراکثریتی ووٹ کے ساتھ تسلیم کیا اسے عمومی طورپر متفقہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کا یہ آئین ایک کمیٹی نے مرتب کیا جس کی پہلی سربراہی محمود علی قصوری اورپھر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کی۔ اس مسودے کو سب کے لیے قابلِ قبول بنانے کے لیے ذوالفقارعلی بھٹو نے 17؍ اکتوبر 1972ء کو پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں کے سربراہوں کو بلایا اورتین دن غوروحوض کے بعد بنیادی ڈھانچے پراتفاق رائے ہوگیا۔ 10؍ اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی میں آئین کی منظوری دے دی گئی اور14؍ اگست 1973ء کو وہ نافذالعمل ہوگیا۔ یہ منظوری اکثریت کے ووٹ سے تھی۔ متفقہ اس لیے نہیں، کیونکہ نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبدالولی خان اورپیپلزپارٹی کے میرعلی احمد تالپورنے ووٹ ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مغرب کا اصل چہرہ

صرف 90 منٹ کے اندر 14؍ جولائی 2017ء کو لندن شہرمیں 5 افراد پر تیزاب پھینکا گیا۔ تیزاب پھینکنے والے دو نوجوان گرفتار کیے گئے جن کی عمریں 15 اور 16 سال تھیں۔ دونوں نجیب الطرفین گورے تھے۔ سیکولر نظامِ تعلیم کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ یہ کسی مذہبی منافرت یا نسلی تعصب کی وجہ سے ایسا نہیں کررہے تھے کہ ان کے شکار افراد میں ہروہ راہگیر شامل تھا جسے وہ لوٹنا چاہتے تھے، خواہ گورا ہو یا کالا، مسلمان ہو یا عیسائی۔ یہ لندن کی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں ہے کہ لوگوں کے چہروں پرتیزاب پھینکا گیا۔ 2016 ء میں 431 افراد پرتیزاب پھینکا گیا، جبکہ 2015ء میں یہ تعداد 261 تھی۔ 2011ء سے لے کرآج تک یعنی ساڑھے چھ سالوں میں 1500 افراد صرف لندن میں تیزاب گردی کا نشانہ بنے۔ پولیس کے مطابق یہ شرح پولیس میں رپورٹ ہونے والے مقدمات کی ہے، جبکہ اصل اس سے کہں زیادہ ہے، کیونکہ بعض معاملات میں تیزاب پھینکنے والے کا خوف اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ خصوصاً بچیاں اس لیے نہیں بتاتیں کہ وہ ان کے باقی خاندان کے افراد کو نشانہ نہ بنائے۔ برطانیہ میں تیزاب گردی کے حملے ہرشہراورہرقصبے میں ہوتے ہیں جبکہ یورپ اوردیگر ممالک بھی اس جرم سے خالی نہیں ہیں۔ عموماً تیزاب گردی سے ان کا چہرہ جھلس جاتا ہے، کوئی جسمانی معذوری لاحق ہوجاتی ہے، لیکن موت واقع نہیں ہوتی۔ مگرتیزاب کا شکار ہونے کے بعد کی زندگی بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہیں تھے

اللہ تبارک تعالیٰ نے سورہ کہف میں اپنی مشیت اور سنت کا ایک اصول حضرت موسٰیؑ اورحضرت خضرؑ کے واقعے کے دوران واضح کیا ہے کہ اگر باپ نیک پرہیزگار اور صالح ہو تواللہ اس کی حلال کمائی کی حفاظت کرتا ہے اور اس شخص کی اولاد تک بحفاظت پہنچاتا ہے۔ اسے کہیں آف شور کمپنیاں بنانے، بیرونِ ملک دولت منتقل کرنے، جعلی دستاویزات بنانے، جھوٹے بیانات دینے اور غلط حلف نامے جمع کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی، نہ ہی اس کی اولاد کو دنیا بھر میں رسوا ہوکراپنے باپ کی لغزشوں، بداعمالیوں اورجھوٹ کا طوق اپنے گلے میں ڈال کرالزامات اپنے سرلے کر بھیکی آنکھوں سے یہ کہنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ میں نے وہ قرض بھی ادا کردیا جومجھ پرواجب ہی نہیں تھا۔


کس قدر بدنصیب ہوتی ہے وہ اولاد جس کے والدین پاک صاف ہونے اور ایماندار کہلانے کی تگ ودو میں اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے اپنی اولاد کولوگوں کے سامنے پیش کردیں۔ اللہ صالح اور پرہیز گار لوگوں کی اولادوں تک یہ دن نہیں آنے دیتا۔ حضرت موسٰیؑ کی حضرت خضرؑ سے یہ ملاقات اس لیے کروائی گئی تھی کہ اللہ ان پراس کائنات کے وہ رازافشا کرنا چاہتا تھا کہ اس نے اس دنیا کو بنا کر، انسانوں کو پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس کا ایک تکوینی نظام ہے جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی مسلسل تکمیل کرواتا ہے اورخاص طورپراپنے نیک اورصالح بندوں کی مدد کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب قیادت عوام کے پاس آ جائے

جس تحریک کا پرچم لوگ رہنماؤں سے چھین کراپنے ہاتھ میں تھام لیں تواسے کوئی نہیں مارسکتا۔ اس کی قسمت میں ہمیشگی اورابدیت لکھ دی جاتی ہے۔ فتح و شکست کبھی حق وباطل کا معیارنہیں رہی۔ مدتوں باطل حکمرانی قائم رہتی ہے اوراہلِ حق اپنے خون کے چراغ روشن کرتے ہوئے اس اندھیرے سے مسلسل برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ دنیا میں بھی حق وباطل کا معیار اکثریت نہیں رہا اورنہ ہی کامیابی۔ یہ اصول اگر درست ہوتا تو آج ایتھنز شہر کے ان حکمرانوں کا غلغلہ ہوتا جنہوں نے ایک حق گو سقراط کو زہرکا پیالہ پینے پرمجبورکیا تھا۔ حق ہمیشہ حق اورباطل ہمیشہ باطل ہی رہا۔

جدید انسانی تہذیب کا المیہ بھی گزشتہ کئی ہزارسالہ تاریخ سے مختلف نہیں ہے۔ انسان ہمیشہ طاقتورکواصول مرتب کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جس طرح آج امریکہ اورعالمی طاقتوں کا دہرا معیارہے کہ ان کے حامی جس قدرظلم روا رکھیں وہ جائز اوردنیا کے امن کے لیے ضروری ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

غیرت و حمیت!

میں بہت کچھ بیان کرسکتا ہوں۔ آزاد، خودمختار اور باغیرت قوموں کو داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کے قصے بہادر اور غیور اقوام کے لیے مشعلِ راہ ہیں، لیکن مجھے کچھ نہیں کہنا، 17 سال ہوگئے مجھے کالم لکھتے ہوئے، مشرف کی آمریت ہو یا زرداری کی بے حس حکومت، شہباز شریف کے ترقی کے افسانے ہوں یا نواز شریف کی بیچ کھانے کی خو، سب کے بارے میں لکھا۔ 20 سال ڈرامہ تحریر کیا، کرداروں کو حکمرانوں کے احوال اور معاشرے کے زوال کے خلاف زبان دی۔ شاعری کی جگرکا خون شامل کیا، لیکن آج دل پژمردہ بھی ہے اور اُداس بھی، اتنا کچھ کہنے، لکھنے اور سنانے کو ہے کہ کئی راتیں بیت جائیں، لیکن داستانِ الم ختم نہ ہو۔ اقبال نے کہا تھا…اگرچاہوں تو نقشہ کھینچ کرالفاظ میں رکھ دوں… مگرتیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارہ…

 

مزید پڑھیے۔۔۔