• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

یہ ایک عالمی سازش کا آغاز ہے

کیا قادیانیوں کے متعلق حلف نامے میں تبدیلی اتنا سادہ سا معاملہ ہے، جیسے اربابِ حکومت بتا رہے ہیں۔ چند تویہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک ٹائپسٹ کی غلطی ہے اوراس میں کسی سیاستدان سے لے کر محکمہ قانون کے سیکشن آفیسرتک کسی کا کوئی دخل نہیں۔ شورمچا تواسے اجتماعی ذمہ داری کے کھاتے میں ڈال کریہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ چونکہ یہ تمام قانون سازی ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ تھی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل تھے، اس لئے سب کی آنکھوں پرایک دبیزپردہ چڑھ گیا تھا اورکسی نے اس بات پرغورتک نہیں کیا۔ شورمچا تومولانا فضل الرحمان بولے، دراصل اس سارے ہنگامے میں جو ’’ایک نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے‘‘ کے لئے برپا ہوا تھا، اس میں کسی نے ختمِ نبوت کی جیب کاٹ لی۔ سراج الحق صاحب جو ان لوگوں میں شامل تھے جن کی سینٹ میں غیرحاضری نے نااہلی والے قانون کو ممکن بنایا، انہیں اس جیب کاٹنے کا علم بعد میں ہوا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

جدید سیاست کے کرشمے

جدید سیاست کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ تمام تجزیات اورمنصوبہ بندی سے اس کائنات کے مالک اورفاعلِ حقیقی کودوررکھا جائے۔ اس کا نام صرف برکت کے لیے لیا جائے یا پھرلوگوں کواس بات کو یقین دلانے کے لیے کہ ہم خدائے بزرگ وبرترپریقین و ایمان رکھتے ہیں۔ سوشلزم اورکمیونزم تویادِ ماضی ہوگئے کہ ان کے ماننے والے منافقت نہیں کرتے تھے۔ خدائے بزرگ وبرتراورآسمانی مذاہب کونہیں مانتے تھے تواس بات کا واضح اعلان کرتے تھے۔ جدید جمہوری نظام کی منافقتیں ان میں موجود نہ تھیں کہ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن حکیم سے کریں اورپھراس کے بعد ہروہ کام کریں جو اس کتابِ ہدایت کے خلاف ہو۔ مغرب سے مستعاراس سیاسی نظام کا خمیرچونکہ سیکولرنظریات سے اٹھا ہے اوراس کی جڑوں میں دوتصورات انتہائی گہرائی کے ساتھ شامل ہیں، ایک یہ کہ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اوردوسرایہ کہ یہ دنیا سائنسی نظام کی پابند ہے۔ یہاں ہرعمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے اورواقعے، سانحے، المیے یہاں تک کہ ایجاد کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرورہوتی ہے۔ یہ دنیا علت ومعلول کا کھیل ہے اورعلت و معلول میں کسی آفاقی ہستی، کسی بالاترنظام یہاں تک کہ خدائے بزرگ وبرترکی دخل دراندازی شامل نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے

دنیا بھرمیں ڈرامہ، افسانہ، ناول کی ایک اپنی طویل داستان ہے۔ عمومی طورپرمحبت کی لازوال داستانوں سے ان اصناف کی روایت نے جنم لیا ہے۔ یہ داستانیں دنیا کے ہرمعاشرے میں سینہ بہ سینہ لوگوں کومنتقل ہوتی رہی ہیں۔ مشرق کے معاشروں کا کمال یہ تھا کہ ان میں داستان گوافراد کا ایک تسلسل تھا جویہ قصے کہانیاں لوگوں کوسناتا تھا۔ مدتوں بعد علاقائی زبانوں کے عظیم شعراء نے ان کہانیوں کوخوبصورت انداز میں تحریرکرکے ابدی شکل دے دی۔ لوگ ان کی شاعری اورگانے سنانے لگے، جیسے برصغیرمیں ہیررانجھا، مرزا صاحباں، سسی پنوں وغیرہ۔ اسی طرح ایران کی شیرین اورفرہاد، سرزمینِ عرب کا مجنوں اورلیلیٰ جیسی داستانیں ان شعراء کی شاعری میں ڈھلیں تو لازوال ہوگئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگریونان کے رومانوی اثاثے کوشیکسپیئراپنے ڈراموں کے کرداروں میں نہ ڈھالتا تورومیوجولیٹ کے کردارکہاں امرہوسکتے تھے۔ ان تمام داستانوں میں بنیادی طورپرتین کردارہوتے تھے، ہیرو، ہیروئن اوروِلن۔ یعنی ایک منفی اوردومثبت کردار۔ ہیروپڑھنے والوں کی محبت سمیٹتا اوروِلن کا کردارایسا تخلیق کیا جاتا کہ ساری نفرتیں اس کے حصے میں آتیں۔ یہ داستانیں آہستہ آہستہ پتلیوں کے تماشوں اوراسٹیج ڈراموں کے ذریعے عوام کی تفنن طبع کا باعث بننے لگیں۔ ڈرامے کا فن اس قدرترقی کرگیا کہ کوئی معاشرہ اس سے خالی نہ رہا۔ ڈرامہ آرٹسٹ عوام میں مقبول ہونے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حقیقتیں واضح ہوچکی

یوں تواس محفل میں شام سے آئے ہوئے کئی مفتیانِ کرام موجود تھے، لیکن ان میں سے دو’’دیرالزور‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہ شہرہے جس کی فتح کے لیے امریکا، روس، ایران، بشارالاسد اورحزب اللہ سب کے سب متحد ہیں۔ رقہ کے صحرائی علاقے کایہ شہردریائے فرات کے نزدیک آباد ہے۔ یہی دریائے فرات جب ترکی سے شام میں داخل ہوتا ہے تووہاں صدیوں پرانا شہرعرفہ بھی آباد ہے۔ وہ شہرجوسیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ولادت گاہ ہے۔ اسی شہرمیں وہ مقام ہے جہاں انہیں نمرود نے آگ میں پھینکا تھا۔ منجنیق کے دوستون آج بھی بلندی پرایستادہ ہیں اورجس جگہ آگ جلائی گئی تھی وہ ایک بہت بڑی جھیل میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں ہزاروں مچھلیاں تیرتی نظرآتی ہیں۔ اسی شہر میں وہ غاربھی ہے جس میں سیدنا ایوب علیہ السلام نے بیماری کے دن صبرواستقامت سے کاٹے۔غارکے ساتھ وہ چشمہ ہے جس کے پانی سے آپ نے غسل کیا توآپ کی بیماری جاتی رہی۔ یوں تویہ شہراوراس کے گردونواح کے علاقے قدیم وسیع ترشام کا حصہ ہیں، لیکن جدید قومی ریاست کی تقسیم کی وجہ سے خلافتِ عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد ترکی کے حصے میں آئے۔ انطاکیہ سے لے کرنصیبین تک سرحدی علاقے ترکی کے پاس ہیں، لیکن وہاں شام کے عربوں اورکردوں کی تہذیب آج بھی نمایاں نظرآتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تم قانون چاہے جوبھی بنا لو

اس کے باوجود بھی جمہوریت کے وکیل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک عین اسلامی طرزِسیاست وحکومت ہے جبکہ اس کی پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں قانون سازی ہورہی ہوتوبحث اس بات پرنہیں ہوتی کہ ایسا قانون بنانے میں منشائے الہیٰ یا قرآن وسنت کے مطالبات کیا ہیں، بلکہ گفتگومعروضی حالات، گمراہ کن اعدادوشماراورمغربی’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک کے قوانین کے حوالوں سے باہرنہیں نکل پاتی۔ ہرممبرقومی اسمبلی یاسینیٹرماہراقتصادیات وقوانین عالم بن کربات کررہا ہوتا ہے اورہاتھوں میں پکڑے مغربی رسالوں میں چھپے مضامین اورعالمی اداروں کی رپورٹوں کولہرالہراکربتاتا ہے کہ اگرہم نے مغرب میں رائج قانون کواس کی روح کے مطابق پاکستان کے لیے منظورنہ کیا تواس میں کئی خطرات ہیں۔ اول توہمیں پسماندہ، دقیانوسی، جاہل اورشدت پسند تصورکرلیا جائے گا۔ دوئم یہ کہ ہماری معاشی ترقی رک جائے گی، سوئم یہ کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ اورعدم توازن آ جائے گا اورچہارم یہ کہ ہم دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے اورکوئی ملک بھی دنیا میں ایک جزیرہ بن کرنہیں رہ سکتا۔ ایسا کرتے ہوئے اورزورداربحث کرتے ہوئے وہ اسلام کی تعلیمات کوپس پشت ڈال کر، ان کی اپنی مرضی سے تعبیرکرکے، یا پھرمکمل طورپراسلام کے اصولوں کے مقابل کھڑے ہوکرپارلیمنٹ کی اکثریت کوئی قانون منظوورکرلیتی ہے اوروہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نافذالعمل ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی طاقتوں کا خفیہ کھیل

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان، پاکستان اور بھارت کے بارے میں پالیسی تقریر کے بعد اگرکوئی آج بھی خوابوں کی دنیا میں رہ رہا ہے کہ ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کا اگلا نشانہ نہیں بنیں گے تواسے احمقوں کی جنت سے نکل آنا چاہیے۔ خصوصاً ان لوگوں کو جوپاکستان کی سرزمین پررہتے ہیں، یہاں سے رزق حاصل کرتے ہیں، عوام انہیں منتخب کرکے وزارتِ خارجہ کے عہدے پرسرفرازکرتے ہیں اور وہ ان آقاؤں کی زبان بولنے لگتے ہیں جنہوں نے ان کے قائد میاں نواز شریف کوپرویزمشرف کی قید سے نجات دلا کرسعودی عرب کی مہمان داری میں دیا تھا۔ یہ حقیقت اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا کہ کارگل کے وقت جب نوازشریف مجھ سے ملنے آیا توملاقات کے دوران مجھ سے ممکن فوجی مداخلت کے خلاف جان کی امان مانگی، جس کا میں نے وعدہ کیا، اورپھرجب اکتوبر1999ء میں معزول ہوکرقید ہوا تومیں نے سعودی حکومت کواسے وہاں سے نکالنے کے لیے کہا اور بالآخرنواز شریف امریکی آشیرباد اور سعودی عرب کی مدد سے مشرف کی جیل اورممکنہ سزاؤں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے خلاف چلنے والے مقدمات بھی سردخانے میں چلے گئے۔ امریکا کی ایسی ہی مہربانیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے وزریرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کوحقیقت کا روپ دینے کے لیے ایک فقرہ بولا ’’ہمیں اپنا گھر بھی صاف کرنا چاہیے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کی مسلم دشمنی

جدید جمہوری نظام کی کہانی بھی الف لیلیٰ کی وہ داستان ہے جس میں سمرقند کا بادشاہ شہریار، عورتوں سے اس قدر بدظن ہوجاتا ہے کہ ہرروز ایک نئی شادی کرتا اوردلہن کورات بھررکھ کرصبح قتل کردیتا۔ یہ بادشاہ کہانیاں سننے کا شوقین تھا، وہ اپنی ہردلہن کوکہانی سنانے کے لیے کہتا، اگرصبح سے پہلے کہانی ختم ہوجاتی تواسے قتل کردیا جاتا۔ ایسے میں بادشاہ کے وزیرکی لڑکی ’’شہرزاد‘‘ نے بادشاہ سے شادی کا ارادہ کیا تاکہ وہ اپنے ملک کی عورتوں کواس عذاب سے نجات دلائے۔ شہرزاد کہانی کہنے کا فن جانتی تھی، وہ ایک ایسی کہانی شروع کرتی جس کا طلسم اورتجسس صبح تک قائم رہتا۔ کہانی اس قدر دلچسپ ہوتی کہ بادشاہ اس کا باقی حصہ سننے کے شوق میں وزیرزادی شہرزاد کا قتل ملتوی کردیتا۔ شہرزاد اگلی رات پہلی کہانی کودرجہ کمال پرپہنچا کر نئی کہانی اس طرح شروع کرتی کہ جب تجسس انتہا کوپہنچ جاتا تو صبح ہوجاتی۔ اس طرح وہ بادشاہ کوایک ہزارایک راتوں تک کہانیاں سناتی رہی، اس مدت میں اس کے دوبچے ہوگئے اوریوں عورتوں کوبادشاہ کے ظلم سے نجات مل گئی۔ ایک ہزارایک راتوں کوعربی میں ’’الف لیلیٰ‘‘ کہتے ہیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

سرمایہ داری کے بدمست ہاتھی

بدھ بھکشوؤں کی طرح سرکے بال منڈوائے، گیروے رنگ کے ان سلے کپڑے پہنے، 20؍ جون 2013 ء کوٹائم میگزین کوانٹرویودیتے ہوئے اس نے کہا: ’’آپ میں محبت اورشفقت کوٹ کوٹ کربھری ہو پھربھی آپ ایک پاگل کتے کے ساتھ نہیں سوسکتے۔ اگرہم کمزورہوگئے توہماری زمین تک مسلمان ہوجائے گی۔ ’’آشن وراتھ‘‘ یہ وہ شخص ہے جوبرما کی بدھ قومی تحریک 969 کا سربراہ ہے۔ اس تحریک کا مقصد برما میں مسلمانوں کی آبادی کوبڑھنے سے روکنا ہے۔ اس تحریک کا نام مہاتما بدھ کے بتائے گئے اصولوں پررکھا ہے۔ 9 کا ہندسہ ان نوصفات کی جانب اشارہ کرتا ہے جو بدھ کے ساتھ منسوب ہیں، 6 کا ہندسہ بدھ دھرم کے چھ اصول ہیں اورپھر9 کا ہندسہ بدھا سنگھا یعنی بدھ بھکشوؤں کے اوصاف کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس تحریک کے خدوخال 1990ء کے آس پاس لکھی جانے والی کتاب میں ملتے ہیں جس برما کی وزارتِ مذہبی امورکے آفیسر کاؤلیون (Kywo Luin) نے تحریر کیا۔ اس نے علم الاعداد کی بنیاد پراس تحریک کومسلمانوں کے مقابل تحریک قراردیا۔ اس نے لکھا کہ چونکہ مسلمان بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اعداد 786 لکھتے ہیں اورپورے برِصغیر میں وہ انہی اعداد کو اپنی تحریروں سے پہلے اورکاروباری اداروں کے باہرتحریر کرتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے مقابلے میں زیادہ طاقتوراعداد کا سہارا لینا چاہیے اوراعداد کی دنیا میں 9 سے طاقتورکوئی عدد نہیں بنتا اوراگر 9 اور6 کوملا کررکھا جائے تو یہ ایک پورا دائرہ بن جاتا ہے (69) یعنی آپ کو ان اعداد کی موجودگی میں شکست نہیں ہوسکتی۔ 969 عالمی تکوینی نظام میں 786 کا مخالف ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان: گوند کا تالاب

وہ دانشور، تجزیہ نگار، سیاست دان، جرنیل اورپالیسی ساز جوآج سے سترہ سال قبل پرویزمشرف کی بالغ نظری اورفہم فراست کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ اسے عالمی سیاست کا سب سے بڑا نابغہ بتاتے تھے۔ اس کی پالیسیوں کوپاکستان کی بقا اورسالمیت کا پیش خیمہ ثابت کرتے تھے۔ شاید آج بھی شرمندہ نہ ہوں، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 سال بعد اس ملک پربدترین الزامات لگا کراسے اپنے دشمنوں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ تاریخ کے بعد بدترین کرداروہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرف کی صرف اس لیے حمایت کی کہ وہ ایک سیکولرسوچ رکھتا تھا اوراس نے پاکستان میں ہراس ادارے، فرد اورگروہ پرحملہ کیا جہاں سے صدائے لا الٰہ بلند ہوتی تھی اورپھراس قدرفروغ دینے کی کوشش کی جس سے اسلامی معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہوسکتی تھیں۔ پاکستان کے سافٹ امیج کے نام پربے حیائی اورعریانی کوفروغ دیا گیا اوردہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرہراس شخص کی تذلیل کی گئی جس کے چہرے پرداڑھی، ماتھے پرمحراب اورٹخنوں سے اوپرشلوارتھی۔ اس ملک کو بزدلی اوربے غیرتی کا درس دینے والے روز ٹیلی ویڑن پرآکرنعرہ بلند کرتے تھے کہ اگر امریکا کا ساتھ نہ دیتے تووہ ہمارا تورا بورا بنا دیتا۔ سترہ سال کے بعد آج عالم یہ ہے کہ افغان قوم توغیرت و حمیت اورعزت ووقار سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے۔ انہیں پختہ یقین اورایمان ہے کہ وہ جس سے جنگ لڑرہے ہیں وہ ایک غاصب فوج ہے۔ کفرپرقائم ایک عالمی طاقت نے ان کے ملک پرقبضہ کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان میں دھنستا امریکا

ہم کس بدقسمت میڈیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں جو اپنی آزادی سے لے کراب تک اس ملک کے ٹوٹنے، معاشی طورپردیوالیہ ہونے اوردہشت گردریاست کے اعلان پرتبصروں اورتجزیوں سے اپنی خواہشوں کا اظہار کرتا رہتا ہے، لیکن اپنے، آقاؤں کی ذلت ورسوائی پرخاموش ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ ان کے آقا نہیں، بلکہ وہ بت ہیں جن کی یہ پوچا کرتے ہیں۔ یہ ان کی پرستش کے مندر ہیں ان کی مرادوں، آرزوؤں اورتمناؤں کا محورہیں۔ مندر میں کبھی ایک بت نہیں ہوا کرتا۔ دنیا بھر کی دیومالائی دنیا جسے Mythology کہتے ہیں، اس میں ہردیومالامیں ایک طاقتورترین بت ہوتا ہے، اور پھر اس کے ساتھ اس کے حواریوں کی ایک پوری کھیپ۔ یہ سب کے سب اس طاقتور بت کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں۔ میرے ملک کے میڈیا کے مندرمیں طاقت وربت امریکا ہے۔ اس بت کی پوجا اس لیے کی جاتی ہے کہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کائنات کی زمامِ کار اورکلی اختیارمالک کائنات کے ہاتھوں میں نہیں ہے، بلکہ امریکا جو چاہے کرے، جس کو چاہے معاشی پابندیاں لگا کربھوکا ماردے، فوجی امداد بند کرکے کمزورکردے، دہشت گردقراردے کرقیدتنہائی میں سزا سنا دے اوراگرغیظ و غضب میں آئے توملکوں پرچڑھ دوڑے، قتل وغارت کا بازارگرم کرے، اپنی ٹیکنالوجی کے زورپرہزاروں میٹرکی بلندی سے بم برسائے اور بستیوں کی بستیاں ویران کردے۔ طاقت کے پچاری اس بت کی اس طرح پوجا کرتے ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

اصل خوف کیا ہے

اگربددیانتی، کرپشن، منی لانڈرنگ اوروسائل سے زیادہ جائیدادیں بنانے کے الزامات آج سے پندرہ سال پہلے لگائے گئے ہوتے، کسی ڈکٹیٹرنے تفتیش کرواکرفوجی عدالتوں سے سزا سنائی ہوتی یا کسی حکومتی ادارے نے گزشتہ ادوارکی طرح ثبوتوں کے انبار جمع کئے ہوتے، دنیا بھر کے ملکوں کی خاک چھان کرجائیدادوں کی تفصیل جمع کی ہوتی تونواز شریف کبھی اتنے پریشان نہ ہوتے۔ وہ 1999ء میں نکالے گئے تو پوری دنیا میں ان کی لوٹی ہوئی دولت سے سرمایہ کاری کرنے کے راستے کھلے تھے۔ ان کے ہم پیشہ سیاستدان آصف زرداری اور بے نظیربھٹو بھی انہی کی طرح یہ سب کچھ کرتے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے سیف الرحمٰن کے ذریعے بہت محنت کے ساتھ آصف زرداری اوربے نظیرکے اثاثوں کی چھان بین کروائی، سرے محل سے لے کرقیمتی ہارتک بے شمار جائیداد اوردولت جس کا وہ حساب نہیں دے سکتے تھے، لیکن دنیا شاید ابھی کرپشن کے خلاف اس قدر سنجیدہ اورمتحد نہیں ہوئی تھی۔ غریب ممالک کے سیاسی رہنما اورفوجی ڈکٹیٹرعوام کا پیسہ لوٹ کرمغرب کی جنت میں مزے کے دن گزارتے اورکاروبارکرتے تھے۔ غریب ملکوں کی لوٹی ہوئی

مزید پڑھیے۔۔۔