• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آیندہ نہیں

امریکا کا صدر مقام واشنگٹن جو دنیا بھر کے لیے طاقت کا مرکز بن چکا ہے۔ اس ملک سے باہر بسنے والے اس شہر میں موجود طاقت کے مراکزکی تصویروں کو ہی امریکا کے اس دارالحکومت کی نشانیاں اور علامتیں تصورکرتے ہیں۔ دنیا بھر میں کہیں بھی واشنگٹن دکھایا جائے گا تو ’’کیپٹل ہل‘‘ کی گنبد والی عمارت جس میں کانگریس بیٹھتی ہے، ’’وائٹ ہاؤس‘‘ جو صدر کی جائے رہائش ہے، فوجی ہیڈکوارٹر ’’پنٹاگون‘‘ کی پانچ کونوں والی عمارت یا سپریم کورٹ کے بڑے بڑے ستون۔ یوں تو یہ تمام عمارات قریب قریب ہیں۔ ان کے بیچوں بیچ بہت بڑا پارک ہے جس کے ایک کونے پر لنکن میموریل ہے جس میں امریکی صدر ابراہم لنکن کا دیوقامت مجسمہ نصب ہے۔ امریکی اس صدر کو اس لیے یاد رکھتے ہیں کہ اس نے امریکا سے غلامی کی لعنت ختم کرنے کے لیے آئینی اور قانونی نہیں، بلکہ آتشی اسلحہ سے بھی ان کے جنوب میں آباد ریاستوں سے جنگ کی تھی جو افریقا سے اغواء کیے گئے سیاہ فام افراد کو صرف 150 سال پہلے یعنی 1868ء تک غلام رکھنا چاہتی تھیں، لیکن حیرت ہے کہ اس عظیم شخص کے مجسمے کے عین قدموں تلے جو باغ شروع ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعصب کی عینک

اگر دنیا بھر کا میڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کٹر عیسائی ہونے کے باوجود امریکا کا عیسائی صدر اور 80 فیصد بالغ امریکیوں کے عیسائی ہونے کے باوجود بھی اسے عیسائی امریکا نہیں لکھتا تو پھر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ پوری مسلم امت کو بدنام کرنے کے لیے اس کے ساٹھ کے قریب ممالک پراقتدارپرقابض اپنی تمام وضع قطع اور خیالات ہی نہیں، بلکہ اپنے اعمال اور پالیسیوں کی بنیاد پرسیکولر اور لبرل حکمرانوں کو مسلمان حکمران پکارے۔ یہ سب اپنی اپنی قومیتوں کے حکمران نہیں، کوئی مصری ڈکٹیٹر ہے تو کوئی قطری بادشاہ، کوئی بنگلہ دیشی وزیراعظم ہے توکوئی انڈونیشیائی صدر۔ جسے تم چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ ہونے کے باوجود عیسائی ملکہ ایلزبتھ نہیں کہتے، ویسے ہی کسی کو حق حاصل نہیں کہ میرے دین کو بدنام کرنے کے لیے ہر سیکولر، لبرل اور قومی حکمران کو اسلام کے لاحقے کے ساتھ وابستہ کرکے نہ صرف اسلام کی توہین کرے، بلکہ پوری اُمت کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوف

دنیا جس قدر تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ اس کا رویہ انسانوں کے ساتھ بیگانہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ بیگانگی اس لیے بھی ہے کہ دن بدن مشینوں کی حکمرانی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ حیرت ہے اقبال نے آج سے سو برس پہلے اس کیفیت کو کس خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔۔۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت۔۔۔ احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔۔۔ مشینوں کی حکومت میں ایک حکومت ایرپورٹ پر سیکیورٹی چیکنگ کی مشینیں بھی ہیں۔ آج سے 20 سال قبل جب میں امریکا آیا تھا تو اس کے ایرپورٹ اس طرح عام آدمی کے لیے کھلے تھے کہ لوگ اپنے مسافروں کو جہاز کے دروازوں تک چھوڑنے آتے تھے، لیکن نائن الیون کے بعد کا خوف جہاں دنیا بھر کے ہوائی اڈوں میں نظر آتا ہے وہاں امریکا اس خوف کی بدترین مثال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیس سال قبل جب میں یہاں آیا تو وہ سفر ایک بالکل مختلف انداز کا تھا۔ 1996ء میں جب میں ڈپٹی کمشنر سبی اور میری عمومی شہرت ایک شاعر اور پاکستان ٹیلی ویڑن کے ڈرامہ نگار کی تھی تو ایک دن مجھے پاکستان میں متعین امریکی سفیر کا خط موصول ہوا جس کا آغاز کچھ یوں تھا کہ

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکنالوجی کے پرستار

اللہ پرکامل بھروسہ کرنا اور توکل کرنا اتنا آسان ہوتا تو اسے صوفیاء دین کی اصل نہ گردانتے۔ سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ سے کسی نے سوال کیا کہ ’’تصوف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’توکل ہی تصوف ہے۔‘‘ یعنی اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنا۔ مادّہ پرستی ایک ایسی لعنت ہے جو پہلے تو دنیا کی تمام طاقتوں پر اپنا ایمان پختہ کرتی ہے۔ مثلاً دریا، سمندر، ہوا، طوفان، زمین، سورج، چاند، ستاروں اورکائنات میں موجود ہر چیز پر ایمان لے آتا ہے اور اسے مظاہر فطرت کا نام دیتاہے۔ انہی مظاہرفطرت کو قابو میںلاکراس نے دنیامیںطرح طرح کی جدید سہولتیں پیدا کی ہیں۔ مثلاً دریا میں موجود پانی یا زمین میں موجود تیل سے اس نے توانائی کاکام لیا، بجلی پیدا کی، جہاز اڑائے، گاڑیاں چلائیں، زمین کے سینے میں سے جو کچھ نکلا اس میں لوہا، تانبہ، پیتل یا ان سے قیمتی دھاتیں، ان سے جہاز،کاریں، گاڑیاں کمپیوٹرغرض دنیا میں استعمال ہونے والی ہر چیز بنائی۔ اس کائنات میں موجود چیزوں کو اس نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ ازل سے لے کرابد تک انسان نے اپنی مصنوعات میں ایک ذرہ بھی خود تخلیق کرکے اپنی کسی ’’ایجاد‘‘ میں نہیں ڈالا، جبکہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ اسے ’’موجد‘‘ اور’’خالق‘‘ کے القابات دیے جاتے ہیں۔ اس کی بنائی ہوئی اورکائنات میں موجود وسائل سے جوڑی ہوئی اشیاء کو ’’ایجادات‘‘ اور ’’تخلیقات‘‘ کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکنالوجی کے پرستار

اللہ پرکامل بھروسہ کرنا اور توکل کرنا اتنا آسان ہوتا تو اسے صوفیاء دین کی اصل نہ گردانتے۔ سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ سے کسی نے سوال کیا کہ ’’تصوف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’توکل ہی تصوف ہے۔‘‘ یعنی اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنا۔ مادّہ پرستی ایک ایسی لعنت ہے جو پہلے تو دنیا کی تمام طاقتوں پر اپنا ایمان پختہ کرتی ہے۔ مثلاً دریا، سمندر، ہوا، طوفان، زمین، سورج، چاند، ستاروں اورکائنات میں موجود ہر چیز پر ایمان لے آتا ہے اور اسے مظاہر فطرت کا نام دیتاہے۔ انہی مظاہرفطرت کو قابو میںلاکراس نے دنیامیںطرح طرح کی جدید سہولتیں پیدا کی ہیں۔ مثلاً دریا میں موجود پانی یا زمین میں موجود تیل سے اس نے توانائی کاکام لیا، بجلی پیدا کی، جہاز اڑائے، گاڑیاں چلائیں، زمین کے سینے میں سے جو کچھ نکلا اس میں لوہا، تانبہ، پیتل یا ان سے قیمتی دھاتیں، ان سے جہاز،کاریں، گاڑیاں کمپیوٹرغرض دنیا میں استعمال ہونے والی ہر چیز بنائی۔ اس کائنات میں موجود چیزوں کو اس نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ ازل سے لے کرابد تک انسان نے اپنی مصنوعات میں ایک ذرہ بھی خود تخلیق کرکے اپنی کسی ’’ایجاد‘‘ میں نہیں ڈالا، جبکہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ اسے ’’موجد‘‘ اور’’خالق‘‘ کے القابات دیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نسل اور قوم پرستی کے جدید علمبردار

تعصب اور خصوصاً قوم پرستی کا تعصب ایک ایسا گھوڑا ہے جو نفرت کے میدان میں سرپٹ بھاگتا ہے۔ اس پر بیٹھا ہوا سوار عموماً یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ اس کے قابو میں ہے، لیکن یہ بدمست گھوڑا ہے جو اپنے سوار کو ہی پاؤں تلے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں پر ان رہنماؤں نے ’’کھوپے‘‘ چڑھائے ہوتے ہیں۔ آنکھوں پر کھوپے چڑھائے نسل پرستی کی دوڑ میں جتے ہوئے اس گھوڑے کو تعصب کی لوریاں دے کر پالا جاتا ہے اور اس کے کانوں میں نفرت کے آوازے مسلسل دیے جاتے ہیں تاکہ یہ کسی اور طرف نہ دیکھ سکے اور نہ کوئی اور بات سن پائے۔ پاکستان کی پہلی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا وجود دنیا بھر میں رنگ، نسل اور زبان کی نفی سے پیدا ہوا تھا۔ ہمارے ’’عظیم‘‘ دانشور یہ کہتے ہیں کہ یہ ملک پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون اور بنگالیوں نے مل کر بنایا تھا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ہے۔ پنجابی نے اپنے پنجابی ہونے سے انکار کیا تھا، ورنہ اس کی نسل کے کروڑوں لوگ تو بھارت میں ہی رہ گئے، بلوچوں کی پاکستان جتنی آبادی ایران میں موجود تھی اور ہے، پختونوں کا تو پورا ملک افغانستان کی صورت موجود تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد

ان کے اس بیانیے کے جواب میں گزشتہ سال میں کئی کالم تحریر کرچکا ہوں، لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان جن کے ہاتھوں میں قرآن پاک، اس کی تفاسیر، احادیث اور ان کے تراجم، فقہ کی کتب کا ایک ذخیرہ اور ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک تسلسل اور روایت موجود ہے۔ وہ کیسے ’’موصوف‘‘ کے بیانیے پر اتفاق کرسکتے ہیں جو اسلام کی تاریخ اور تعلیمات سے اجنبی ہے۔

’’حضرت‘‘ کو یقینا علم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں میں جو شدت پسندی کا ’’بیانیہ‘‘ مقبول ہورہا ہے، یہ اچانک اور فوری نہیں ہے۔ ایک خاموش، مرنجا مرنج اور سوئی ہوئی قوم اچانک کیسے جاگ گئی کہ وہ ہر اس محاذ پر اپنے افراد مرنے کے لیے بھیجنے لگی جہاں ان سے مخالف نظریے کے لوگ انھیں محکوم بنارہے تھے، قتل کررہے تھے، بستیاں اور گھر اجاڑ رہے تھے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ کے سامنے جدید مغربی تہذیب نے ایک ’’بیانیہ‘‘ پوری طاقت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ چونکہ یہ تمام اقوام طاقتور ہیں۔ اس لیے وہ اپنے اس بیانیے کو طاقت سے نافذ کرتی ہیں اور انہوں نے ایسا کرکے دکھایا ہے۔ یہ بیانیہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ اس بیانیے کی بنیادیں معاشی ہیں اور خالصتاً سودی معیشت اور کارپوریٹ اقتصادیات پر مبنی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد

ان ہزاروں شیعہ اور سنی مدارس سے لاکھوں لوگ ایک ہزار سال تک پڑھ کر نکلتے رہے، کتنے تھے جو ویٹیکن سٹی میں پوپ اور اس کے حواریوں کو قتل کرنے جانکلے۔ بھارت میں کاشی وشواناتھ کے مقدس مندر میں بیٹھے پروہت اور برہمن پر حملہ آور ہوئے، انھیں 15؍ جولائی 1099ء میں یروشلم کے شہر میں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا، دس ہزار مسلمان مسجد اقصیٰ کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے،انھیں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا۔ یروشلم کی گلیاں اس قدر خون سے تر ہوئیں کہ گھوڑوں کی سْمیں بھیک گئیں، اس کے بعد جب صلاح الدین ایوبی نے واپس یروشلم حاصل کیا تو ایک بھی انتقامی قتل اس کے کھاتے میں تاریخ میں نظر نہیں آتا ہے، کوئی نہیں بتاتا کہ وہ یہ اخلاقیات آکسفورڈ اور ہارورڈ سے نہیں بلکہ تکریت اور دمشق کے مدارس سے سیکھ کر آیا تھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کا ایک ورق

اس دوران امریکا میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ دو سینیٹر ’’بوب گراہم‘‘ اور ’’پیٹر گوس‘‘ گزشتہ جولائی میں پاکستان گئے تھے جہاں آپ نے ان کی مہمانداری کی تھی تو وہ دونوں آپ کو کسی کھانے پر ملنا چاہتے ہیں۔ یوں گیارہ ستمبر صبح سات بجے ملاقات طے ہوئی۔ اس ملاقات میں جنرل محمود کے ساتھ ملیحہ لودھی، سفارت خانے سے ضمیر اکرم، ٹرانسفر ہونے والے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر مجتبیٰ اور نئے آنے والے بریگیڈیئر مظہر الحق شریک تھے جب کہ دوسری جانب سے بھی تقریباً اتنے ہی لوگ موجود تھے۔ پیٹرگوس بعد میں امریکا کی تینوں خفیہ ایجنسیوں کو ملا کر جو اتحاد بنایا گیا، یہ اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ میٹنگ کے دوران اچانک کسی نے ایک چٹ لا کر دی جو تمام لوگوں نے باری باری پڑھی جس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پہلے ٹاور سے طیارہ ٹکرانے کی بات تھی، اس کے فوراً بعد 8 بجکر چالیس منٹ پر میٹنگ ختم ہوگئی اور گاڑی انھیں لے کر ہوٹل روانہ ہوگئی۔ جنرل محمود کے بقول جب میں نے ٹیلی ویڑن پر یہ منظر دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ یہ دوسرا پرل ہاربر ہے یعنی کسی بڑی جنگ میں کودنے کے لیے خود کروایا گیا ہے۔ پورے امریکا میں ایک سراسمیگی کی کیفیت تھی۔ انھوں نے مختلف جگہ اس واقعہ پر افسوس کے لیے ٹیلیفون کیے اور اپنے میزبان جارج ٹینٹ سے ملاقات کرنے کے لیے چلے گئے۔ یہ ملاقات بہت حیران کن تاثر چھوڑ گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کا ایک ورق

جنرل محمود احمد گیارہ ستمبر کے واقعات سے پہلے امریکا میں کیا کررہے تھے۔ ان کی بیان کردہ تفصیلات حیرت انگیز ہیں۔ پرویز مشرف کے ابتدائی دو سالوں میں پاکستان پر امریکا کی جانب سے شدید پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ حالت یہ تھی کہ کلنٹن نے بھارت کا طویل دورہ کیا اور پاکستان کی منت سماجت کے بعد چند گھنٹوں کے لیے یہاں قدم رکھا اور پاکستانی قوم کو ٹیلی ویڑن کے ذریعے خطاب کر کے نصیحتیں کر کے چلے گئے۔ امریکا کے ساتھ اپنی ساکھ بحال کرنے اور امداد جاری کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے اس زمانے کے وزیر خارجہ عبدالستار کو کشکول دے کر امریکا بھیجا کہ وہ وہاں سے کچھ امداد لے کر واپس آئیں، لیکن ان کا یہ تفصیلی دورہ ناکام و نامراد ثابت ہوا۔ ایسے میں جنرل محمود احمد سے کہا گیا کہ چونکہ آپ آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں اور مدتوں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کا ایک گہرا تعلق افغان جنگ کے سلسلے کے حوالے سے رہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محبت کا انعام

پاکستان کی عدلیہ میں اس فقرے کی گونج اس مملکت خداداد میں بسنے والے ان کروڑوں لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے روز اپنی بے بسی پر ماتم کرتے، خون کے آنسو روتے تھے، ایسا تو دنیائے اسلام کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہر روز ایک گروہ جو خود کو سیکولر اور لبرل کہتا ہو وہ فیس بک، ٹوئٹر اور ویب سائٹس پر روزانہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ جملے لکھے، کارٹون بنائے، اہل بیت و اطہار کے بارے میں ہرزہ سرائی کرے اور کوئی ان کا گریبان نہ تھامے، انہیں روکنے کی کوشش نہ کرے، ان پر نفرت انگیزی جیسے نرم قانون کے تحت بھی مقدمہ درج نہ ہو۔ سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ تھے جو دن رات سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ان بدبختوں کا مقابلہ کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔