• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد

ان کے اس بیانیے کے جواب میں گزشتہ سال میں کئی کالم تحریر کرچکا ہوں، لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان جن کے ہاتھوں میں قرآن پاک، اس کی تفاسیر، احادیث اور ان کے تراجم، فقہ کی کتب کا ایک ذخیرہ اور ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک تسلسل اور روایت موجود ہے۔ وہ کیسے ’’موصوف‘‘ کے بیانیے پر اتفاق کرسکتے ہیں جو اسلام کی تاریخ اور تعلیمات سے اجنبی ہے۔

’’حضرت‘‘ کو یقینا علم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں میں جو شدت پسندی کا ’’بیانیہ‘‘ مقبول ہورہا ہے، یہ اچانک اور فوری نہیں ہے۔ ایک خاموش، مرنجا مرنج اور سوئی ہوئی قوم اچانک کیسے جاگ گئی کہ وہ ہر اس محاذ پر اپنے افراد مرنے کے لیے بھیجنے لگی جہاں ان سے مخالف نظریے کے لوگ انھیں محکوم بنارہے تھے، قتل کررہے تھے، بستیاں اور گھر اجاڑ رہے تھے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ کے سامنے جدید مغربی تہذیب نے ایک ’’بیانیہ‘‘ پوری طاقت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ چونکہ یہ تمام اقوام طاقتور ہیں۔ اس لیے وہ اپنے اس بیانیے کو طاقت سے نافذ کرتی ہیں اور انہوں نے ایسا کرکے دکھایا ہے۔ یہ بیانیہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ اس بیانیے کی بنیادیں معاشی ہیں اور خالصتاً سودی معیشت اور کارپوریٹ اقتصادیات پر مبنی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد

ان ہزاروں شیعہ اور سنی مدارس سے لاکھوں لوگ ایک ہزار سال تک پڑھ کر نکلتے رہے، کتنے تھے جو ویٹیکن سٹی میں پوپ اور اس کے حواریوں کو قتل کرنے جانکلے۔ بھارت میں کاشی وشواناتھ کے مقدس مندر میں بیٹھے پروہت اور برہمن پر حملہ آور ہوئے، انھیں 15؍ جولائی 1099ء میں یروشلم کے شہر میں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا، دس ہزار مسلمان مسجد اقصیٰ کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے،انھیں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا۔ یروشلم کی گلیاں اس قدر خون سے تر ہوئیں کہ گھوڑوں کی سْمیں بھیک گئیں، اس کے بعد جب صلاح الدین ایوبی نے واپس یروشلم حاصل کیا تو ایک بھی انتقامی قتل اس کے کھاتے میں تاریخ میں نظر نہیں آتا ہے، کوئی نہیں بتاتا کہ وہ یہ اخلاقیات آکسفورڈ اور ہارورڈ سے نہیں بلکہ تکریت اور دمشق کے مدارس سے سیکھ کر آیا تھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کا ایک ورق

اس دوران امریکا میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ دو سینیٹر ’’بوب گراہم‘‘ اور ’’پیٹر گوس‘‘ گزشتہ جولائی میں پاکستان گئے تھے جہاں آپ نے ان کی مہمانداری کی تھی تو وہ دونوں آپ کو کسی کھانے پر ملنا چاہتے ہیں۔ یوں گیارہ ستمبر صبح سات بجے ملاقات طے ہوئی۔ اس ملاقات میں جنرل محمود کے ساتھ ملیحہ لودھی، سفارت خانے سے ضمیر اکرم، ٹرانسفر ہونے والے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر مجتبیٰ اور نئے آنے والے بریگیڈیئر مظہر الحق شریک تھے جب کہ دوسری جانب سے بھی تقریباً اتنے ہی لوگ موجود تھے۔ پیٹرگوس بعد میں امریکا کی تینوں خفیہ ایجنسیوں کو ملا کر جو اتحاد بنایا گیا، یہ اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ میٹنگ کے دوران اچانک کسی نے ایک چٹ لا کر دی جو تمام لوگوں نے باری باری پڑھی جس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پہلے ٹاور سے طیارہ ٹکرانے کی بات تھی، اس کے فوراً بعد 8 بجکر چالیس منٹ پر میٹنگ ختم ہوگئی اور گاڑی انھیں لے کر ہوٹل روانہ ہوگئی۔ جنرل محمود کے بقول جب میں نے ٹیلی ویڑن پر یہ منظر دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ یہ دوسرا پرل ہاربر ہے یعنی کسی بڑی جنگ میں کودنے کے لیے خود کروایا گیا ہے۔ پورے امریکا میں ایک سراسمیگی کی کیفیت تھی۔ انھوں نے مختلف جگہ اس واقعہ پر افسوس کے لیے ٹیلیفون کیے اور اپنے میزبان جارج ٹینٹ سے ملاقات کرنے کے لیے چلے گئے۔ یہ ملاقات بہت حیران کن تاثر چھوڑ گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کا ایک ورق

جنرل محمود احمد گیارہ ستمبر کے واقعات سے پہلے امریکا میں کیا کررہے تھے۔ ان کی بیان کردہ تفصیلات حیرت انگیز ہیں۔ پرویز مشرف کے ابتدائی دو سالوں میں پاکستان پر امریکا کی جانب سے شدید پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ حالت یہ تھی کہ کلنٹن نے بھارت کا طویل دورہ کیا اور پاکستان کی منت سماجت کے بعد چند گھنٹوں کے لیے یہاں قدم رکھا اور پاکستانی قوم کو ٹیلی ویڑن کے ذریعے خطاب کر کے نصیحتیں کر کے چلے گئے۔ امریکا کے ساتھ اپنی ساکھ بحال کرنے اور امداد جاری کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے اس زمانے کے وزیر خارجہ عبدالستار کو کشکول دے کر امریکا بھیجا کہ وہ وہاں سے کچھ امداد لے کر واپس آئیں، لیکن ان کا یہ تفصیلی دورہ ناکام و نامراد ثابت ہوا۔ ایسے میں جنرل محمود احمد سے کہا گیا کہ چونکہ آپ آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں اور مدتوں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کا ایک گہرا تعلق افغان جنگ کے سلسلے کے حوالے سے رہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محبت کا انعام

پاکستان کی عدلیہ میں اس فقرے کی گونج اس مملکت خداداد میں بسنے والے ان کروڑوں لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے روز اپنی بے بسی پر ماتم کرتے، خون کے آنسو روتے تھے، ایسا تو دنیائے اسلام کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہر روز ایک گروہ جو خود کو سیکولر اور لبرل کہتا ہو وہ فیس بک، ٹوئٹر اور ویب سائٹس پر روزانہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ جملے لکھے، کارٹون بنائے، اہل بیت و اطہار کے بارے میں ہرزہ سرائی کرے اور کوئی ان کا گریبان نہ تھامے، انہیں روکنے کی کوشش نہ کرے، ان پر نفرت انگیزی جیسے نرم قانون کے تحت بھی مقدمہ درج نہ ہو۔ سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ تھے جو دن رات سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ان بدبختوں کا مقابلہ کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کا ایک ورق

تاریخ کی ترتیب و تدوین میں غیرجانبداری ایسی نایاب چیز ہے جسے ڈھونڈنا نا ممکن ہے۔ دنیا میں آپ کو کہیں کہیں ایسی تحریریں مل جاتی ہیں جو کم جانبدار ہیں، لیکن میرے ملک پاکستان میں اس کی پیدائش کے دن سے لے کر آج تک غیرجانبدار تاریخ ڈھونڈنا ایسے ہی ہے جیسے سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی کو تلاش کرنا۔ اول دن سے اس ملک کے واقعات کو دو مختلف نظریات رکھنے والے گروہوں نے بیان کیا ہے۔ ایک وہ جو قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ضد پر قائم رہے اور آج بھی اس ملک کی آزادی کی تحریک کو اسی رنگ میں دیکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس ملک کو ایک اسلامی نظریاتی ملک سمجھتے ہیں اور دوقومی نظریے کی ایک تاریخ بیان کرتے ہیں جس کا برصغیر میں بانی اورنگ زیب عالمگیر بتایا جاتا ہے۔ دونوں جانب تعصبات اور شخصیات پرستی سے رنگین تاریخ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چونکہ پاکستان کو انگریز ورثے میں برطانوی اقدار سے متاثر ایک سیکولر بیوروکریسی، سیکولر اشرافیہ اور سیکولر فوج عطا کر گیا تھا، اسی لیے تاریخ مرتب کرنے والوں پر بھی انھی کا پلڑا بھاری رہا۔ یہ ستر سال اس تگ و دو میں لگے رہے کہ آیندہ نسلوں کو یہ بتایا جائے کہ یہ ملک اسلام کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے بنا ہے اور اس ملک میں بسنے والے 20کروڑ مسلمان ان کے بتائے ہوئے تاریخی واقعات اس لیے جھٹلاتے رہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی اسلام کے لیے ہے، اسلام کے بغیر اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اردو کیوں ناگزیر ہے؟

سپریم کورٹ نے حکم دیا: ’’اردو کو دفتری زبان اور ذریعہ تعلیم کا درجہ دیا جائے۔‘‘ سال بھر خاموشی رہی۔ وزیراعظم کی طرف سے یہ عہد نامہ جمع کروادیا گیا کہ وہ عالمی سطح پر اردو زبان میں مخاطب ہوں گے، لیکن خوئے غلامی اس قدر رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے کہ پوری دنیا میں اپنی انگریزی کے لب و لہجے کا تمسخر اڑائیں گے، لکھی ہوئی تقریر پڑھیں گے، ہاتھ میں پکڑی ہوئی چٹوں سے پریس کانفرنس کریں گے، لیکن اردو میں گفتگو کرنا اپنی توہین سمجھیں گے۔ وہ سیاست دان جن کو انگریزی تو دور کی بات کسی زبان میں اظہار خیال کی دعوت دی جائے تو ان کی گفتگو سے کئی لطیفے جنم لیں، وہ بھی اپنے قائدین کی اس روش پر واہ واہ اور تحسین کے ڈنگرے برساتے ہیں۔ جس دور میں اردو کے حق میں سپریم کورٹ میں بحث جاری تھی تو میرا موقف یہ تھا کہ اگر سول سروس کا امتحان اردو میں شروع کردیا جائے تو انگریزی کی حمایت کرنے والے طبقے کی کمر ٹوٹ جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا یہ ایک سازش ہے؟

کئی سالوں کے بعد اس سڑک سے میرا گزر ہوا۔ میں انجینئرنگ یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد اس سڑک پر واہگہ کی سمت چل نکلا جس پر مغلیہ دور کی یادگار اور پاکستان میں کل موجود چھ عالمی ورثوں میں سے ایک شالا مار باغ واقع ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ باغ دو درجن کے قریب بڑے بڑے باغات کے درمیان واقع تھا لیکن اب وہاں صرف تین باغات کے صرف نشان باقی رہ گئے ہیں۔ ایک گلابی باغ، دوسرا انگوری باغ اور تیسرا عنائت باغ۔ ان باغات کے اردگرد بھی مکانات کی فصل اگ آئی ہے جو سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ در قبضہ سے اگتی ہے۔

آج سے تیرہ سال قبل جب میں بلوچستان سے پنجاب آیا تو اس متروک اور آفت زدہ محکمے ’’آثار قدیمہ‘‘ کا مجھے ڈائریکٹر جنرل لگایا گیا۔ اس وقت لاہور میں دو عدد مغلیہ دور کی یادگاریں عالمی ورثے کی ایک ایسی لسٹ میں شامل کردی گئیں تھیں جسے Endangered لسٹ کہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کرپشن کی کہانی

شاعری وہ طرزِ اظہار ہے جو یوں لگتا ہے مجھے ورثے میں ملا تھا۔ میرے والد اور دونوں تایا شاعر تھے۔ تایا کا مجموعہ کلام بھی چھپا اور والد عہد جوانی میں امرتسر سے ایک ادبی رسالہ نکالا کرتے تھے۔ ہجرت کی دربدری اور غم روزگار نے انہیں مہلت ہی نہ دی کہ اپنے اس فن میں کمال دکھاتے، البتہ گھر کے ماحول میں جہاں میں نے قرآن و حدیث اور فقہ کے رموز سے آشنائی حاصل کی، وہیں ہر مرحلے پر میر و سودا، داغ و مومن اور جگر و اصغر کے اشعار اپنے بزرگوں کی گفتگو میں موتیوں کی طرح پروئے ہوئے ملتے۔ لیکن تین ایسے شعراء تھے جن کا کلام مجھے خاص طور پر سمجھنے کے لیے اور اسے زندگی سے مربوط کرنے کے لیے کہا جاتا، ایک مولانا روم کی مثنوی، دوسری الطاف حسین حالی کی مسدس اور تیسرے علامہ اقبال۔ مجھے ان تینوں کی محبت اور شاعری بالعموم ورثے میں میسر آئی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دشمن کی صفوں میں دشمن

کسی دین میں داخل ہونے، کسی ملک کی شہریت اختیار کرنے، کسی عہدے پر فائز ہونے کے لیے ایک اعلان ضروری ہوتا ہے جو انسان صدق دل اور بقائمی ہوش و حواس کرتا ہے۔ جس طرح مسلمان ہونے کے لیے کلمۂ شہادت اس کے تمام تر مفاہیم و مطالب کو سمجھ کر ادا کرنا لازمی ہے۔ ویسے ہی کسی بھی ملک کی شہریت اختیار کرنے کے لیے اس کی وفاداری کا حلف بہت ضروری ہی نہیں بلکہ لازم ہے۔ یوں تو ہر وہ شخص جو کسی ریاست میں پیدا ہوتا ہے اسے یہ حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اس ملک کے قوانین یہ وضاحت کردیتے ہیں کہ تم ہر معاملے میں اس ریاست سے وفادار رہوگے۔ انسان جب مذہب بدلتا ہے تو یہ اس کی شعوری کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خوب سوچ سمجھ کر تبدیلی مذہب کا اعلان کرتا ہے۔ اسلام اختیار کرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو الٰہ کہنے کا کیا مطلب ہے‘ یعنی باقی تمام خداؤں اور مذاہب کا انکار اور اللہ کو تمام معاملات میں واحد حاکم، فرماں روا اور معبود تسلیم کرنا۔ اسی طرح جب کوئی کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اس کی شعوری کوشش ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

منتشر اور بے خبر بھیڑیں

ابھی امریکا میں کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہ تھی کہ 20؍ جنوری 2017ء کو اس عالمی طاقت کا سربراہ ایک ایسا متعصب اور جنونی شخص ہو گا جو دو سو سال کے بعد سفید فام عیسائیوں کے ذریعے ایک بار پھر سیاہ فاموں، گندم گوں ہسپانوئیوں اور کلمہ گو مسلمانوں پر فتح حاصل کرے گا۔ جمہوریت کے اس مکروہ رخ ’’اکثریت کی آمریت‘‘ کو دنیا بھر کے سامنے روز روشن کی طرح واضح کر دے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کے انتخاب جیتنے کا کسی کے ذہن میں تصور بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ طاقتور ترین امریکی، بلکہ عالمی میڈیا کو بھی اس کا یقین نہ تھا، تمام سروے کرنے والے بھی یوں لگتا ہے سماعت و بصارت سے محروم ہو چکے تھے، لیکن ان کے برعکس کٹر مذہبی عیسائی اور کٹر مذہبی یہودی اپنی تحریروں، تقریروں اور انتہائی محنت سے بنائی گئی ڈاکو مینٹریوں میں 2017ء کے سال کو اہم ترین سال قرار دے رہے تھے۔ ایک ایسا سال جس میں یروشلم کے مقدس شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں انسانی تاریخ کی تیسری اور سب سے بڑی عالمگیر جنگ برپا ہو گی۔ عیسائی پادریوں اور یہودی ربئیوں کی تمام گفتگو حالات حاضرہ اور معروضی صورت حال کے پس منظر میں نہیں تھی، بلکہ وہ اپنی آسمانی کتابوں میں درج پیش گوئیوں کی بنیاد پر جدید حالات کا جائزہ لیتے تھے اور ان کی تطبیق کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔