• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پاکستان کا مستقبل روشن ہے، امریکا افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے

ضربِ مؤمن: مرحوم جنرل(ر)حمید گل نے ایک لمبا عرصہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔ ان سے آپ کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ رفاقت کا یہ سلسلہ دہائیوں پر مشتمل رہا ہے۔ مرحوم جنرل(ر)حمید گل کے بارے میں قارئین کو کچھ بتائیں کہ یہ رفاقت کب اور کہاں سے شروع ہوئی؟

جنرل اسلم بیگ: جنرل حمید گل سے میری پہلی ملاقات1978 ء میں ہوئی۔ جب مجھے اوکاڑہ میں ڈپ کمانڈر تعینات کیا گیا۔ اس وقت جنرل حمید گل وہاں پر کور کے چیف آف سٹاف تعینات تھے۔ میر ی ہمیشہ یہ کو شش اور عادت رہی ہے کہ میں اپنے آفیسرز اور جوانوں سے ڈائریکٹ بات کرتا تھا۔ میری تعیناتی کے کچھ عرصہ کے دوران ڈپ کے آفیسرز میرے پاس کسی مسئلے پر آئے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ حضرات آڈیٹوریم میں آئیں میں نے ان سے خطاب کیا۔ جب میرا خطاب ختم ہوا تو جنرل حمید گل میرے پاس آئے اور کہا کہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میری اجازت کے بعد، اس نے مجھ سے جوباتیں کیں وہ انتہائی متاثرکن اور شاندار تھیں۔ میں نے دیکھا کہ اس افسر کی سوچ بڑی گہری ہے، اس نے میری تقریر پر تبصرہ بھی کیا اوراپنی سوچ اور خیالات سے بھی آگاہ کیا۔ اس وقت سے جنرل حمید گل کے ساتھ میری ذہنی ہم آہنگی اور گہرا تعلق پیدا ہوتا گیا۔ پھر ہمارے درمیان رابطے شروع ہوئے۔ ہم ہراہم موضوع پر بات چیت کرتے تھے۔ خاص کر ملکی اور فوجی معاملات پراکثر بات چیت ہو تی رہتی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی عقائد کے محافظ

دینِ اسلام میں باطل فرقوں اور اسلام مخالف فتنوں کے خلاف سینہ سپر رہنے والے خدا رسیدہ بزرگوں کی تاریخ بڑی طویل و تابناک ہے، لیکن چند بزرگوں کو چھوڑ کر بیشتر کے حالات میں خاص اس زاویے سے اُن پر بہت کم لکھاگیا ہے۔ فقہ، حدیث، سیاسیات و سماجیات وغیرہ شعبہائے زندگی کے مختلف خانوں میں اُن شخصیات کا تفصیلی ذکر ملتا ہے، لیکن احقاق حق و ابطال باطل کے زاویہ سے صرف چند سطروں پر اکتفا کرلیا جاتا ہے، جبکہ ان کی مجموعی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عقائد و نظریات کی حفاظت میں وہ لوگ سرحد کے بے مثل وجانباز سپاہی تھے۔ ان کی بے لوث قربانیوں کا ہی فیض ہے کہ آج اسلامی عقائد کی سر حدیں باطل قوتوں اور فتنوںکی یلغار سے کلی طور پرمحفوظ ہیں جن کی بدولت مسلمان اپنے اصلی شکل وشباہت میں موجود ہے۔ مولانا محمد علی مونگیریؒ، علامہ انورشاہ کشمیریؒ، مولانا عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، استاذ الاساتذہ مولانا محمد حیاتؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مفتی اعظم محمدکفایت اﷲ دہلویؒ، مولانا محمد مسلم دیوبندیؒ، مولانا عبد الشکور لکھنویؒ، مولانا مفتی عبد الغنی شاہجہاں پوریؒ، علامہ نور محمد ٹانڈویؒ جیسے پاک و ہند کے بے شمار اہلِ علم اسلامی عقائد کے اُن سرحدی محافظین میں سے ہیں جن کو لگتا یہ ہے کہ شاید اﷲ تعالیٰ نے پیدا ہی اسی خدمت کے لیے کیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تحریک ختم نبوت… قدم بہ قدم

قیامِ پاکستان کے بعد 1952ء کو کوئٹہ کے ایک اجلاس میں مرزا محمود نے اعلان کیا: ’’ہم 1952ء کے اندر اندر بلوچستان کو احمدی صوبہ بنادیں گے۔‘‘ اس کا یہ اعلان مسلمانان پاکستان کے اوپر بجلی بن کر گرا تو علماء نے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی کہ اس فتنہ کامقابلہ کرنے کے لیے ایک مستقل جماعت ہونی چاہیے۔ قادیانی جماعت کی حمایت میںبرطانیہ، روس، اسرائیل، فرانس، امریکا سب کررہے تھے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تمام علمائے کرام کوجمع فرمایا۔ باضابطہ ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد عقیدہ ختم نبوت کی ترویج اور فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی اور مسلمانوںکو اس فتنے کی سازشوں سے بچانا تھا، چنانچہ مجلس کے لیے کرائے پر دفتر لیا گیا۔ پُرزور انداز میں کام شروع ہوگیا۔ پورے ملک میں قادیانیوں کا تعاقب کیا گیا۔ مسلمانان اُمت کو اس فتنے کے عقائد و عزائم سے مطلع کیا جانے لگا۔

اس سلسلے میںپورے ملک میں تحریکیں چلائی گئیں۔ تحریک ختم نبوت 1953ء سے فراغت ہوتے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دستور مرتب کرکے باضابطہ انتخاب کرایا گیا جس کے نتیجہ میں 13 دسمبر 1954ء کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اول مقرر کردیے گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قندوز کی جنگ کے مضمرات جنرل (ر) اسلم بیگ

دو متحارب قوتوںیعنی امریکا اور طالبان کے درمیان قندوز کی لڑائی فیصلہ کن مقام پر آچکی ہے۔ افغانستان میں اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہوکرامریکا پسپا ہوچکا ہے۔ اپنے پیچھے 12000 فوجی چھوڑ گیا ہے جو 5 فضائی اڈوں سے کارروائیاں کر کے کابل کے حکمرانوں کی مدد کررہے ہیں جن کی حکومت افغانستان کے شہری علاقوں تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ طالبان کو ملک کے 80 فیصد دیہی علاقوں کا کنٹرول حاصل ہے جہاں پر شرعی قوانین نافذ ہیں۔ اس طرح قندوز کی جنگ متحارب قوتوں کی جنگی حکمت عملی کی کامیابی وناکامی کا اصل امتحان ہے۔

امریکی حکمت عملی تو اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں صدر اوبامہ نے یہ کہہ کر واضح اعتراف شکست بھی کر لیا ہے: ’’صرف عسکری طاقت اور سرمایہ جنگوں میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوا کرتے۔‘‘ افغان حکومت کو اندرونی خلفشار اور کمزور نیشنل آرمی جیسے مسائل درپیش ہیں جو طالبان کے مقابلے میں ’’خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ رہی ہے۔‘‘ دوسری جانب طالبان کی جنگی حکمت عملی ملاعمر کی وضع کردہ حکمت عملی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی ملک پاکستان کی قدر کیجیے

میں جیسے عرض کررہا ہوں کہ پاکستان کا یہ دستور ساری دنیا کے دستوروں سے ممتاز ہے اور کسی دستور میں وہ باتیں نہیں ہیں جو ہمارے پاکستان کے دستور میں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے، ہمارے علمائے کرام کی جدوجہد کے نتیجے میں ہمیں عطا فرمایا۔ سعودی عرب سمیت کسی بھی مسلمان ملک میں اس قسم کا دستور موجود نہیں ہے۔ آج بھی ہمارے دستور کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے کسی بھی غیراسلامی قانون کو عدالت میں چیلنج کرسکتا ہے کہ یہ چونکہ قرآن وو سنت کے خلاف ہے، لہٰذا اس کو بدلا جائے۔

میں 17 سال سپریم کورٹ کے شریعت بینچ کے جج کی حیثیت سے ان مقدمات کی سماعت کرتا رہا ہوں جن میں یہ دعوے کیے جاتے تھے کہ یہ شکایتیں کی جاتی تھیں کہ فلاں قانون قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ ہم نے وہاں پر بیٹھ کر 200 سے زیادہ قوانین کو اللہ کے فضل و کرم سے اسی دستور کے تحت بدل کر اسلامی قانون میں تبدیل کیا۔ 200 کے قریب قوانین بدلے، لیکن مجھے افسوس ہے اس پورے 17 سال میں دستور کے اس عظیم موقع سے فائدہ ہمارے لوگوں نے نہیں اُٹھایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی ملک پاکستان کی قدر کیجیے!

اللہ جل جلالہٗ نے ہمیں پاکستان جیسی ایک مسلمان ریاست اپنے فضل و کرم سے ایسے ماحول میں عطا فرمائی جبکہ دنیا کی اسلام دُشمن طاقتیں اپنا پورا زور اس بات کے لیے لگارہی تھیں کہ کسی طرح یہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں نہ آئے۔ انگریز، ہندو اور سکھ جو غیرمنقسم ہندوستان میں آباد تھے، وہ مسلمانوں کے لیے کوئی الگ ریاست قائم کرنے کے مخالف تھے۔انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور اس بات کے اوپر لگایا ہوا تھا کہ مسلمان یہ ملک حاصل نہ کرسکیں۔

پاکستان کا ابتدائی تصور کہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست ہو، عام طور سے کہا یہ جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے پیش کیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سے بھی پہلے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور سب سے پہلے پیش کیا تھا۔ حضرت مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ جو بہت بڑے ادیب اور مصنف تھے اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو تعلق عطا فرمایا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نماز و خطبہ کے احکام و آداب

عید گاہ شہر سے باہر ہونا مسنون ہے:
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عیدین کی نماز ہمیشہ شہر سے باہر نکل کر ادا فرماتے تھے، صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے باہر تشریف نہیں لے جاسکے، اس لیے عیدگاہ کا شہر سے باہر ہونا سنت ہے، اس طرح اجتماعِ عظیم میں شوکت اسلام کا مظاہرہ بھی ہے، مگر بڑے بڑے شہروں میں باہر نکل کر عید کی نماز پڑھنا مشکل ہے، اس لیے شہر کے اندر بڑے میدان یا بوقت ضرورت مسجد میں نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے، مگر حتی الامکان ہر محلہ میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کے بجائے ایک مقام یا چند مقامات پر بڑے اجتماع کی کوشش کی جائے۔

نمازِ عید سے قبل نفل پڑھنا مکروہ ہے:
نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں، حتیٰ کہ عورت بھی گھر میں نفل پڑھنا چاہے تو نماز عید کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد فقط عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قربانی، فضائل و مسائل:

عن إبن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ما العمل فی ایام افضل منہا فی ہذہ‘ قالوا: ولا الجہاد؟ قال: ولا الجہاد، الا رجل خرج یخاطر بنفسہٖ وما لہ فلم یرجع بشیٔ۔ (صحیح بخاری:۱/۱۳۲)

ترجمہ:حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذی الحجہ (یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! کیا یہ جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاںجس شخص نے اللہ کی راہ میں نکل کر اپنی جان اور اپنے مال کو ہلاکت اور خطرے کی جگہ ڈال دیا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا (سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا) بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عشرہ ذی الحجہ

عن إبن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ما العمل فی ایام افضل منہا فی ہذہ‘ قالوا: ولا الجہاد؟ قال: ولا الجہاد، الا رجل خرج یخاطر بنفسہٖ وما لہ فلم یرجع بشیٔ۔ (صحیح بخاری:۱/۱۳۲)

ترجمہ:حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذی الحجہ (یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! کیا یہ جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاںجس شخص نے اللہ کی راہ میں نکل کر اپنی جان اور اپنے مال کو ہلاکت اور خطرے کی جگہ ڈال دیا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا (سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا) بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔

یوم عرفہ کا روزہ:
عن ابی قتادۃ الانصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سئل عن صومہ… قال وسئل عن صوم یوم عرفۃ فقال یکفر السنۃ الماضیۃ والباقیۃ۔( صحیح مسلم :۱/۳۶۸)
ترجمہ:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم عرفہ یعنی ۹/ ذی الحجہ کا روزہ ایک سال گذشتہ اور ایک سال آیندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

اہم تنبیہ:احادیث فضائل میں جہاں بھی کسی نیک عمل سے گناہوں کے معاف ہونے کا ذکر ہے ان سے صغیرہ گناہ مراد ہیں، کبیرہ گناہ بغیر توبہ و ندامت کے کسی عمل سے معاف نہیں ہوتے، مگر صغیرہ گناہوں کی معافی بھی کوئی معمولی نعمت نہیں۔

عشرۂ ذی الحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے:
حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب عشرۂ ذی الحجہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو قربانی کرنے تک وہ جسم کے کسی حصہ کے بال نہ لے اور ناخن نہ کاٹے۔(صحیح مسلم)
یہ استحبابی حکم صرف قربانی کرنے والوں کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں اس کی صراحت ہے، وہ بھی اس شرط سے کہ زیر ناف اور بغلوں کی صفائی اور ناخن کاٹے ہوئے چالیس روز نہ گذرے ہوں۔ اگر چالیس روز گذر گئے ہوں تو بالوں کی صفائی اور ناخن کاٹنا واجب ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان: ملا عمر کے بعد

2 سال قبل ملا عمر انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔ 2 سال تک طالبان نے ان کی موت کی خبراپنے عوام اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے پوشیدہ رکھی۔ دراصل پاکستان کی جانب سے شروع کیے جانے والے قیام امن کے اقدامات ہی ملا عمر کی موت سے پردہ اٹھانے کا باعث بنے ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے ملاعمر کے اس مطالبے کی خلاف ورزی ہوئی ہے: ’’تم جنگ ہار چکے ہو، افغانستان سے نکلو اور ہمیں اپنی روایات کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنے دو۔‘‘

طالبان کوامن مذاکرات کے لیے ملی شوری کو اکٹھا کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ امن مذاکرات ایک غیرمعینہ مدت تک ملتوی رہیں گے۔ طالبان جنگ جاری رکھیں گے، جبکہ انہیں افغانستان کے 70 فیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے افغانستان کے 8 شمالی صوبوں میں بھی نئے امدادی ٹھکانے قائم کرلیے ہیں جو پہلے شمالی اتحاد کے زیر اثر تھے، کیونکہ وہاں ازبکستان کی تحریک آزادی (MIU) نے طالبان کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے، جس سے وسطی ایشیائی ممالک اور شمال مغربی چین کو سلامتی کے خطرات ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سب سے بڑا سوال

افغانستان کی طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب تجزیہ نگاروں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کے نہ ہونے سے تحریک طالبان اور افغانستان کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا تحریک طالبان افغانستان اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق برقرار رکھ پائے گی یا اس کا شیرازہ منتشر ہو جائے گا؟

تحریک طالبان کی گزشتہ ایک دہائی کی تاریخ پر نظرڈالی جائے تو بظاہر پوری تحریک ملا عمر کی قیادت کے گرد گھومتی اور پھیلتی پھولتی نظر آتی ہے ،مگر درحقیقت اصل صورتحال کچھ اور تھی۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے کسی نے بھی ملا عمر کو نہیں دیکھا تھا۔ ابتداء میں ان کا رابطہ فقط چوٹی کے چند رہنماؤں کے ساتھ تھا، جو وقت گذرنے کے ساتھ مزید محدود سے محدود تر ہوتا چلا گیا۔ اس دوران تحریک کے کارکنوں نے غیر معمولی اتحاد، بینظیراتفاق اور بے مثال یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرصہ دراز سے روپوش ملا عمر کی طرف سے آنے والے ہر پیغام اور حکم کو من و عن قبول کیا۔ اس دوران طالبان تحریک کے دیگر رہنماؤں نے پوری تحریک کو سنبھالے رکھا۔ نہ صرف افغانستان میں جنگ کا محاذ گرم رکھا بلکہ قطر، ٹوکیو، اوسلو، چین اور پاکستان میں مذاکرات کی میز بھی بچھائے رکھی۔ یوںپوری دنیا طالبان کی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سفارتی مہارتوں کی بھی قائل ہوتی چلی گئی۔ اب طالبان ’’اطاعتِ امیر‘‘ کے تصور میں اس قدر پختہ ہو چکے ہیں کہ ملاعمر کے بعد ملااختر منصور جس کو ان کا جانشین بنایا گیا ہے، پوری تحریک بلا تامل اس کے ہاتھ پر بیعت کررہی ہے۔