• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جعلی عامل: دین و دنیا کے دُشمن

آپ خاندان میں کسی کے ساتھ پیار، اچھائی اور بھلائی کرتے ہیں، بدلے میں وہ آپ کے ساتھ دغا بازی، برائی اور بے وفائی کرتا ہے۔ بیوی کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ رہتے ہیں اس کے باوجود وہ ناراض ہو جاتی ہے۔ ہر گھر کی کہانی یہی ہے۔ ہر گھر کے یہی تین مسئلے ہیں۔ یہی تین آزمائشیں ہیں۔ کسی بھی ڈاکٹر، پروفیسر، تاجریا سرکاری افسر کو لے لیں اس کا گھر ان تین مسئلوں میں سے کسی نہ کسی نہ مسئلے میں مبتلا ہوگا۔اگر تینوں نہیں ہوں گے تو کم از کم ایک تو ضرور ہوگا ہی۔ جب وہ ان کے پاس آتا ہے تو اسے بتاتے ہیں کہ تم پر جادو ہوا ہے۔ اسی لیے جب تم کوئی بھی کام کرتے ہو وہ سیدھا نہیں ہوتا، الٹا ہی ہوتا ہے۔ یعنی زندگی میں جو بھی کام یا کاروبار کرتے ہیں اور ایک قدم آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، تین قدم پیچھے ہو جاتے ہیں۔ کاروبار میں آپ کے اخراجات زیادہ ہیں اور منافع کم ہے۔ تھوڑے سے آپ سیدھے ہونے لگتے ہیں تو اچانک زندگی میں کوئی چیز آتی ہے کہ پھر کسی آزمائش میں مبتلا ہوجاتے ہو۔ پھر کہتے ہیں کہ آپ کا کام تو ہو جائے گا، لیکن اس کام کا خرچ آئے گا۔ میری کوئی فیس نہیں ہے، لیکن آپ کا کام جنّات نے کرنا ہے۔ ان کے لیے خرچہ کرنا ہوگا۔ یہاں سے ان کے کام کا آغاز ہوتا ہے۔ سننے والا متاثر ہوجاتا ہے کہ میرا کام تو جنات کریں گے تو پھر تو ضرور ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صفائی نصف ایمان ہے

گزشتہ دنوں جامعۃ الرشید شعبہ رفاہی خدمات کے تحت ہفتہ صفائی کا اہتمام کیا گیا۔ مہم کے تحت جامعۃ الرشید کے اطراف میں واقع گلیوں، سڑکوں اور محلوں کی صفائی میں جامعہ کے 2300 طلبہ اور 150 اساتذہ نے حصہ لیا۔ اس سلسلے میں ایک ہفتہ قبل علاقے بھر میں آگہی پر مشتمل بینرز لگائے گئے اور لوگوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ ہفتہ صفائی کے آخری مرحلے پر اتوار کے دن اساتذہ کی نگرانی میں 2300 طلبہ کے مختلف گروپس بنائے گئے جن کو دستانے، فیس ماسک، جھاڑو، بیلچے اور تھیلے فراہم کیے گئے۔ طلبہ کے ان گروپس نے علاقے بھر کی سڑکوں اور گلی محلوں کو صاف کیا۔ ’’آواز شہر، مجھے صاف رکھیں‘‘ کے عنوان سے جاری اس صفائی مہم کے دوران ٹریکٹر ٹرالوںکے ذریعہ علاقے کی کچرا کنڈیوں کی صفائی بھی کی گئی۔ علاقے کے مکینوں نے جامعۃ الرشید کی صفائی مہم کو سراہا۔ محلے کے مکینوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ’’صفائی مہم نے نہ صرف ہمیں صفائی و ستھرائی کے حوالے سے شعور و آگاہی دی بلکہ طلبہ و اساتذہ نے خود صفائی کرکے ہمارے سامنے ایک عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ ہم اس مہم میں جامعۃ الرشید کے ساتھ ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جعلی عامل: دین و دنیا کے دُشمن

آج کل ہمارے ملک میں جعلی عاملوں کی بھرمار ہے۔ ملک کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ٹی وی چینلوں پر بھی اشتہارات چل رہے ہیں اور کھمبوں، دیواروں پر بھی اشتہارات کی بھرمار ہے۔ اسی طرح اخبارات میں بھی قسما قسم اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انسان کی مختلف طبعی اور بشری خواہشیں پوری کرنے کے لیے اعلان دیتے ہیں کہ آپ تمام کام یہاں پر فی سبیل اللہ نورانی عمل سے ہوں گے۔ پھر فی سبیل اللہ کے نام پر رقم اینٹھنے کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ نمٹنے میں نہیں آتا۔ اشتہارات کے ذریعے شہرت کا خواہش مند عامل فراڈ ہوتا ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ان کے پاس جانے سے اپنی دنیا برباد کرنے کے ساتھ دین اور ایمان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ایک ایسے ہی ساتھی جو ایسے لوگوں کے ساتھ رہے اور وہ ان کے طریقہ کار سے بہت حد تک واقف اور ان کی تکنیک سے آگاہ ہیں۔ ان سے ایک گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے تاکہ وہ ایسے جعلی عاملوں کے ہتھکنڈوں کو سمجھیں اور اپنے دین اور دنیا کو برباد ہونے سے بچائیں۔ ہم اس گفتگو کو سوال جواب کی شکل میں نقل کریں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب تدریس کے راہنما اصول

(1) اخلاص و للہیت۔
(2) طلبہ سے گہری ہمدردی اور محبت و شفقت۔
(3) ان کے علم و کردار کو بنانے کی دھن۔
(4) درس کی پورے اہتمام سے تیاری۔
(5) رجوع الیٰ اللہ اور دعا کا اہتمام۔
(6) طلبہ میں متعلقہ فن کی دلچسپی پیدا کرنا اور ان کے دلوں میں اس کی اہمیت و افادیت کو راسخ کرنا، استاذ کے لیے کلیدِ کامیابی ہے۔
(7)ہر طالب علم پر اُس کی ذہنی سطح اور نفسیاتی کمزوریوں اور خوبیوں کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی توجہ دینا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا ہمہ گیر اور مربوط ایٹمی مزاحمت کا نظام

1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے جنوبی ایشیا میں ایٹمی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا، جسے متوازن بنانے کے لیے ایک دور اندیش اور پُرعزم قیادت کی ضرورت تھی جو وزیراعظم ذوالفقار بھٹو اورغیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شکل میں پاکستان کو حاصل تھی جن کی انتھک محنت کے سبب 1986ء تک ہم نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی۔ اس کے اگلے سال ہی ایٹمی ہتھیار کو ایف سولہ جنگی طیاروں کے ذریعے استعمال کرنے کے نظام کے تجربات کیے۔ اس صلاحیت کے حصول کے لیے اخراجات کی حد 250 ملین امریکی ڈالر سے بھی کم تھی جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کمال تھا اور کم ہی لوگ اس پر یقین کریں گے۔ 1996ء تک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کا نظام بھی وضع کرلیا گیا، لیکن اس کے باوجود ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی وجہ سے ہماری ایٹمی صلاحیت کے بارے میں ابہام موجود تھا۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ 1998ء میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے جس کا جواب پاکستان نے 6 زوردار ایٹمی دھماکوں کی صورت میں دیا جس سے ہماری ایٹمی صلاحیت دنیا پر واضح ہوگئی۔ اس موقع پر بھارتی وزیر دفاع نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’پاکستان اور بھارت کے مابین اب حقیقی معنوں میں ایٹمی طاقت کا توازن قائم ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے بعد پاکستان نے اپنی ایٹمی مزاحمتی صلاحیت کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات اُٹھائے جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

علاقائی سلامتی کے تقاضوں کی ترتیب نو

ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کو ختم کرنے کے حوالے سے پاکستان نے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں، کیونکہ پاکستان بذات خود فرقوں کے مابین ہم آہنگی کا عمدہ نمونہ ہے۔ ملک دشمن قوتیں شیعہ سنی فسادات بپاکرانے کی سازشوں اور دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے باوجود ہماری قومی یکجہتی کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی فرقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ کوئی بھی قابل اور اہل پاکستانی چاہے کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو ’اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنا پر ملک کے بلند ترین عہدے پر پہنچ سکتا ہے، لہٰذا ہمیں امید ہے کہ پاکستان جو بھی اقدامات کرے گا۔ اس کی مخلصانہ کوششوں اور جذبہ خیرسگالی کو ضرور پذیرائی ملے گی۔ سعودی عرب کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ خطے کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی ماحول نے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس تبدیلی پر نظر رکھی ہوئی ہے جو امڈ آئی ہے اور جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہم سب نے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویلنٹائن ڈے بنانے سے پہلے سوچیے!

شرم وحیا انسانی طبیعت کی اس کیفیت اورصفت کا نام ہے جو انسان کوہرقسم کی نامناسب باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روکتی ہے۔حیا ایمان کا عظیم شعبہ، فطرت انسانی کا ایک شریفانہ اوربنیادی وصف ہے۔اسی سے انسان کی سیرت نکھرتی جبکہ کردارروشن ہوتا ہے۔ حیا جیسی خوبصورت صفت کے ذریعہ ہی انسان بہت ساری سماجی، معاشرتی اوراخلاقی برائیوں سے رکتاہے۔ اسی سے اچھی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے۔حیا ہی عفت وعصمت کو داغ دار کرنے سے بچاتی ہے۔ جس شخص کو حیا نصیب ہووہی بندہ گناہوں سے بچ کر متقی وپرہیزگار بن سکتا ہے۔تمام انبیاء کرام علیھم السلام حیا جیسی عظیم صفت سے متصف تھے۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مقدس اورمنور تعلیمات میں اس خوبی کواپنانے کی خوب ترغیب جبکہ اس کادامن ترک کرنے والے شخص کو سخت تنبیہ فرمائی ہے۔

دانائے سبل، ختم رسل صلی اللہ عیلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے:حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اورایمان کاٹھکانہ جنت ہے۔بے حیائی اوربے شرمی بدی میںسے ہے اوربدی دوزخ میں لے جانے والی ہے[ترمذی:2009] ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا:ہردین کا کوئی خاص اورممتازوصف ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال اتھارٹی کا قیام خوش آیند، مگر…؟؟

گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں ’’حلال اتھارٹی بل‘‘ متفقہ طو رپر منظور کرلیا گیا ہے۔ اگر اس بل پر سنجیدگی سے عمل درآمد دہوگیا تو پھر حرام اشیاء تیار ہوسکیں گی اور نہ ہی ایکسپورٹ امپورٹ ہوسکیں گی۔ بل کی منظوری کے بعد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ اب حلال سرٹیفکیشن (Certification) کا عمل شکوک و شبہات سے پاک ہونا چاہیے۔ حکومت حلال اتھارٹی کے قیام کے بعد مستند علماء اور ماہرین فوڈز سے مشاورت کا اہتمام کرے اور قانون پر سختی سے عملدرآمد بھی کروائے۔ قارئین! حلال اتھارٹی کے قیام کی منظوری سے پاکستان کو دو بڑے فوائد حاصل ہو ںگے۔ ایک بڑا فائدہ معاشی ہے۔ معاشی فائدے کے لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو ہمارے ملک کے اردگرد بہت بڑی بڑی مارکٹیں ہیں۔ خصوصاً عرب ممالک کی مارکٹیں ہیں جنہیں ’’گلف کاپوریشن کونسل‘‘ (Gulf Cooperation Council) کہا جاتا ہے جہاں پر ’’حلال‘‘ کے اعتبار سے بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔

اس بات سے اندازہ لگالیجیے کہ اگر ہم دبئی کی مارکیٹ کی گوشت کے زمرے میں بات کرتے ہیں تو اس کو روزانہ 22 کنٹینر صرف مٹن کے چاہیے۔ باقی دوسرے گوشت کی ضروریات اس کے علاوہ ہیں۔ حلال اتھارٹی کا بل پاس ہونے سے قبل مختلف پرائیویٹ حلال آرگنائزیشن سرٹیفکیٹ جاری کررہی تھیں، ان کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس کو کچھ ممالک اور جگہوں پر قبول کیا جاتا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی امن کے لیے نئی حکمت عملی

شام میں روس کی عسکری مداخلت ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے جو کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ اس اقدام سے پہلے پیوٹن نے اندرونی مسائل کو حل کیا۔ مسلح افواج کی کارکردگی کو بہتر بنایا اور قریبی پڑوسی ممالک کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ روس کابنیادی ہدف سپر پاور کی حیثیت سے عالمی سیاسی افق پراپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے، لیکن اعلانیہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یورپ کو دہشت و بربریت سے محفوظ رکھنے کے لیے روس چوتھی مرتبہ کوشش کر رہا ہے۔ پہلی مرتبہ منگولوں سے پھر نپولین سے پھر ہٹلر سے اور اب داعش سے نجات دلانے کے لیے میدان عمل میں ہے۔

یورپ کی سلامتی یقینی بنانے سے مراد دراصل پیوٹن کی عالمی امن کے قیام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ اندرونی محاذ پر انہوں نے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھ کر 4 ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر تصادم کی فضا کو ختم کرکے اسے ایک بڑی تجارتی منڈی میں بدل دیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روس نے امریکا کو پریشان کردیا

ضربِ مؤمن: افغانستان سمیت خطے کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ اسلم بیگ: جب ہم نے یہاں افغان مجاہدین کے سپورٹ بیس ضرب عضب کے ذریعے توڑ دیا تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بیس کیمپ افغانستان کے شمالی علاقوں میں منتقل کردیے۔ میں کہتا ہوں کہ وہاں ان کے پیچھے کون پہنچے گا؟ طالبان کا افغانستان میں 8 صوبوں پر مکمل کنٹرول ہے۔ اب تو ان کے ساتھ 9 آزاد مسلم ریاستوں کی تحریک کے لوگ بھی شامل ہو رہے ہیں۔ ان کی قوت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، انہیں اب کون سنبھالے گا؟ یہ میں مسلسل کہتا آرہا ہوں کہ آیندہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہوگی۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ طالبان کے ساتھ معاملات کو ٹھیک رکھے، جبکہ اپنے باغی لوگوں کے ساتھ بھی رابطے میں رہے، ان کے ساتھ مذاکرات کرے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کا بارڈر کافی طویل ہے۔ اگر ان کے ساتھ تعلقات یا رابطے نہیں رہے تو آیندہ بارڈرز پر ہمیں کافی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ہمارے تین بڑے باغی گروپ ہیں جس میں ملا فضل اللہ گروپ، خراسانی گروپ اور تیسرا حافظ سعید گروپ کم از کم ان تین گروپوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہمارے لوگ ہیں اور یہاں تک کہ چیچنیا کے لوگ بھی ان سے ملے ہوئے ہیں۔ جب میں آرمی چیف بنا تو میں وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پاس گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

طالبان ہی اصل طاقت ہیں

ضربِ مؤمن: آپ نے کہا کہ فوجی ہتھیاروں میں سب سے اہم ہتھیار ٹینک ہوتا ہے۔ اس ہتھیار کی افادیت اور خصوصیت کیاہونی چاہیے؟

اسلم بیگ: فوجی اصطلاح میںاس کو ہم جی ایس آر بولتے ہیں، ہمار ے اپنے آرمڈز کے آفیسر ز میں صرف ایک بندہ تھا جس میں مجھے روشنی نظر آئی وہ تھا حمید گل۔ جو اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں میرے کام آسکتے تھے۔ حمید گل اور ہم نے مستقبل کے ٹینک کا جی ایس آر بنایا کہ ہم جو ٹینک بنانے جارہے ہیں۔ اس میں کیا خصوصیات ہوں گی، ہم اس ٹینک کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف ہماری نظر اس طرف بھی تھی کہ آخر انڈیا جو 25 سالوں سے ٹینک بنانے کی کوشش کررہا تھا، وہ کیوں ناکام رہا؟ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم وہ غلطی نہیں کریں گے جو وہ کر رہے ہیں۔ٹینک کی تیاری کے لیے ریسرچ شروع کرکے ایک رپورٹ تیار کرلی گئی۔ اس موقع پرمختلف امور بھی زیر غور آئے۔ آخرکار 1987ء میں چین سے معاہدہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔