• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آپ لوگ بہت خوش نصیب ہیں

اتنے خوبصورت چہروں کے درمیان اور علماء کی پرنور محفل چھوڑ کر جانے کا دل نہیں چاہ رہا ہے، لیکن بہرحال ہر کوئی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے کچھ نہ کچھ ایسا کام کررہا ہوتا ہے جو اس معاشرے کی بھلائی کا سبب بنے۔ پچھلے سال جنرل حمید گل مرحوم کے ساتھ طے تھا کہ میں نے یہاں حاضر ہونا ہے، مگر اسلام آباد میں مصروفیت کی وجہ سے نہیں آسکا۔ میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں ان طلبہ کو جو آج یہا ںسے فارغ التحصیل ہورہے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے ان طلبہ کو اس علم کے زیو رسے نوازا۔

میں بہت گھومتا بھی ہوں اور گھوماتا بھی ہوں اور سفر کرتا ہوں، انگلش والا بھی سفر کرتا ہوں اور اردو والا سفر بھی کرتا ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جامعۃ الرشید کا کردار… قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمودار

امسال دسویں سالانہ تقریب و اسناد کے انعقاد کے موقع پر جامعۃ الرشید کے علمائے کرام کی نگرانی میں چلنے والے 33 اہم شعبہ جات اور ذیلی اداروں کی جانب سے پیش کی جاگئی خدمات کے خدوخال منصۂ شہود پر نمودار ہوئے۔

حسب روایت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم اور نمایاں نمایندگان کی شرکت نے تقریب کا حسن دوبالا کردیا۔ اس پنڈال کا دامن اپنے کرم فرمائوں کے لیے جب تنگ ہوتا محسوس ہوا تو قبل از وقت سوچا گیا اور مہمانوں کے ایک طبقے کے لیے کیمپس II کے کانفرنس ہال میں الگ سے اسکرین لگاکر اُن کی نشستوں کا انتظام کیا گیا۔ تقریباً 8 تا 10 ہزار کے اس مجمعے نے نظم و ضبط کا وہ مظاہرہ کیا جو ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتا۔ حسن انتظام کی تعریف زبان زدِ خاص و عام تھی۔ تقریب کے انتظام و انصرام کے لیے 80 انتظامی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن میں ایک ہزار طلبہ و اساتذہ شریک ہوئے جو اکابر اساتذہ کی نگرانی میں اپنے اپنے حصوں کے کام سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان بھر میں ایونٹ مینجمنٹ کی تاریخ میں ایک نادر مثال رقم ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صرف ایک ٹانکا

غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کے مہاراجہ نے یہ فرمان جاری کیا کہ چونکہ بعض شریر لوگ آگ لگنے کی غلط اطلاع دے کر فائر بریگیڈ والوں کو پریشان کرتے ہیں، اس لیے جب بھی کہیں آگ لگے تو مہاراجہ کے ذاتی حکم کے بغیر فائر بریگیڈ نہ بھیجا جائے۔ اتفاق سے ایک بلڈنگ میں آگ لگ گئی۔ فائر بریگیڈ والوں کو اطلاع دی گئی۔ ان کا نمائندہ مہاراجہ کے محل کو روانہ ہوا۔ وہاں پہنچنے پر اسے پتا چلا کہ مہاراجہ تو انگلستان کی طرف رختِ سفر باندھ چکے ہیں۔ مہاراجہ کو چٹھی بھیجی گئی۔ چند ماہ بعد مہاراجہ کی منظوری کی اطلاع ملی تو فائر بریگیڈ والے زور و شور سے سائرن بجاتے منزل مقصود پر پہنچے تو جلی ہوئی عمارت کی جگہ نئی بلڈنگ تعمیر ہو چکی تھی۔

آج ہمارے ہاں جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتی ہیں۔ ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ سڑک پر چلتی اور ہچکولے لیتی گاڑیاں مسافروںاور مریضوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ہنگامی طور پر کسی زخمی اور مریض کو ہسپتال لے جانا پڑ جائے تو وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جیسی روح ویسے فرشتے

٭… بعض عاملوں اور حکیموں کو دیکھا گیا ہے کہ اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا کون اصلی ہے کون نقلی؟

t جیسی روح ویسے فرشتے۔ جعلی عامل حضرات کی طرح چند شعبدہ باز حکیم حضرات بھی ہوتے ہیں۔ یہ مل کر کام کرتے اور بانٹ کر کھاتے ہیں۔ مثلاً: حکیم …… ہے۔ اسی طرح حکیم…… ہیں۔ یہ دونوں سگے بھائی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں ایک دواخانہ بنایا ہوا ہے۔ وہ دواخانہ اور ’’جھپکائی‘‘ نام کی فرضی عملیات دو نوں عمل اکھٹے ہی کرتے ہیں۔ کرتے یوں ہیں کہ دواخانے کے باہر مجمع لگواتے ہیں۔ اس مجمعے سے بندے کو منتخب کرتے ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک بندہ بھیجتے ہیں کہ حکیم صاحب آپ کو شیشے سے دیکھ رہے تھے۔ آپ کو یہ یہ بیماری ہے اس لیے حکیم صاحب آپ کو اندر بلا رہے ہیں۔ وہ اس کو اندر بلا کر لے جاتا ہے۔ اب حکیم صاحب اسے بتاتے ہیں کہ آپ کا جگر کام نہیں کرتا۔ تمہیں سیکشل پروبلم ہے۔ یہ آج کل ہر بندے کو ہے۔ پاکستان میں ہر بندے کا جگر کام نہیں کرتا۔ ہر بندے کا معدہ خراب ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمیں ایک نئے تعلیمی سال کی ضرورت ہے

حضرت والا ماجد مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے جو بات فرمائی تھی اُس کا منشاء یہ تھا کہ انگریز کی غلامی کے بعد جو تعلیم کی کایا پلٹی گئی ہے، اُس کایا کو دوبارہ پلٹ کر اُس راستے پر چلیں جو راستہ جامعۃ القرویین نے دکھایا، جو جامعہ زیتونہ نے دکھایا، جو ابتدائی دور میں جامعۃ الازہر نے دکھایا۔ میں ابتدائے دور کی بات اس لیے کررہا ہوں کہ آج جامعہ ازہر کی بھی کایا پلٹ چکی ہے، اسی لیے ابتدائی دور کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے یہاں حکومتی سطح پر وہ نظام تعلیم نافذ نہیں ہوسکا، لہٰذا مجبوراً کم از کم دارالعلوم دیوبند کے نظام کا تحفظ تو ہو۔ الحمدللہ! اسی غرض سے مدارس قائم ہوئے۔ جب تک ہمیں حکمرانوں او رنظامِ حکومت پر اور اُن کے بنائے ہوئے قوانین پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بھروسہ ہونے کی امید ہے، اس لیے اُس وقت تک ہم اِن مدارس کا پورا تحفظ کریں گے۔ مدارس کو اسی طرح برقرار رکھیں گے جس طرح ہمارے اکابر نے دیوبند کی طرح برقرار رکھا۔ اس کے اوپر ان شاء اللہ کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ قوم اُس طرف بڑھے جو ہمارا ابتدائی مطمح نظر تھا۔ اسی سلسلے میں حرا فائونڈیشن کی یہ چھوٹی سی پریذینٹیشن تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیمیکل والا تعویذ

گاہک امیر ہو یا غریب اس سے یہ پیسے نکلوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس کی تکنیک یہ ہوتی ہے کہ پاکستان میں تو شروع میں تین سے پانچ ہزار تک لگواتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اگلے مرحلے میں وہ متاثر تو ہوچکا ہوتا ہے، لہٰذا مطالبہ بڑھا دیتے ہیں۔ اب وہ 15 ہزار مانگتے ہیں۔ اب آدمی سوچتا ہے کہ پانچ ہزار پہلے ہی لگا چکا ہوں تو مزید 15ہزار روپے لگاؤں گا تو کل 20 ہزار میں پورا کام ہوجائے گا۔ جب سادہ لوح گاہک یا مریض 20 ہزار لگا چکا ہوتا ہے تو تیسرے مرحلے میں اس سے اس کا ڈبل 40 سے 60 ہزار تک بتاتے ہیں۔ اب وہ شخص سوچتا ہے کہ میں نے 50 ہزار والا کام نہیں کیا تو میرا 20 ہزار ضائع ہوجائے گا۔ اس تکنیک سے وہ ہر دن نیا کام بتاتے رہتے ہیں اور اس حساب سے پیسے بڑھاتے رہتے ہیں۔ اب وہ شخص پچھلے پیسے بچانے کے لیے اور دیتا رہتا ہے۔ اب یہ کام نہ کیا تو پچھلے پیسے ضائع ہوجائیں گے۔ چلو یہ بھی کر لو۔ اس طرح ان کا کام بڑھتا رہتا ہے اور مریض کی جیب ہلکی اور ان کی بھاری ہوتی رہتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمیں ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے

وقت کی کمی کے پیش نظر بہت اختصار کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’حرا فائونڈیشن اسکول‘‘ جس کی حفظ قرآن کی تقریب میں آج ہم اور آپ شریک ہیں، اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ بات رئیس الجامعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے مختلف مواقع پر مختلف نشستوں میں دہرائی، مجھے بھی اپنے والد مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے سنی گئی اس بات کو کئی جگہ سنانے کی توفیق ہوئی۔ پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں تین بڑے نظامِ تعلیم معروف تھے: ایک دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم، دوسرا مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کا نظامِ تعلیم اور تیسرے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظامِ تعلیم۔ حضرت والد ماجدؒ نے تقریباً 1950ء میں ایک موقع پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات فرمائی تھی: ’’پاکستان بننے کے بعد درحقیقت نہ ہمیں علیگڑھ کی ضرورت ہے، نہ ندوہ کی ضرورت ہے، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک تیسرے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے اَسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

جنات کی فرضی حاضری

اس مرحلے پر جادو کی ہوئی اشیاء ’’خودبخود‘‘ مریض تک یا اس کے تکیے تک پہنچ گئیں اور اس کا یقین بھی کامل ہوگیا کہ ڈاڑھی منڈا نوجوان ’’بابا‘‘ بڑی پہنچی ہوئی شخصیت ہیں۔ اس ابتدائی کام کے بھی انہوں نے تین، چار یا پانچ ہزار لیے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم رات کو بیٹھ کر مہنگے تیل کا چراغ جلائیں گے۔ مہنگے عود لوبان کی دھونی دیں گے اور اپنا عمل کریں گے تو جنوں کی حاضری ہوگی۔ پھر آپ پر عمل کرنے کے لیے دبائی گئی چیزیں خودبخود آپ کے گھر پہنچیں گی۔ اب یہ چیزیں جو ان کے ہاں پہنچ جاتی ہیں یا انہی کے ہاتھوں ان کے ہاں پہنچائی گئی ہوتی ہیں۔ جب وہ انہیں کھولتے ہیں تو اس کے ساتھ انہوں نے ایک رقعہ رکھا ہوتا ہے۔ یہ رقعہ گاہک کی زبان میں لکھا ہوتا ہے۔ اب اگر گاہک باہر کے ممالک کا ہو تو انگلش میں لکھا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے فراڈیے ہر ملک میں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جہاں بھی جاتے ہیں اس ملک کی زبان ہی استعمال کرتے ہیں یا معاون رکھ لیتے ہیں۔ یہ رقعہ جنات کی طرف سے ایک پیغام ہوتا ہے۔ یہ سرخ رنگ کی سیاہی یا خون وغیرہ سے لکھا ہوتا ہے کہ آپ پر یہ یہ جادو ہوا تھا۔ آپ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کیا تھا۔ جن چیزوں کے ذریعے جادو ہوا تھا وہ تو نکل آئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا پیغام سب طلبہ کے لیے ہے

٭ اسکالر شپ دینے کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ کیا پاکستان سے دینی مدارس کے طلبہ کو بھی آپ نے ترکی بلایا ہے؟ tآپ کے دوسرے سوال کا پہلے جواب دینا پہلے پسند کروں گا کہ ہم دینی مدارس کے طلبہ کو بھی لیتے ہیں۔ ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ ان طلبہ کی تعداد میں مزید اضافہ ہو۔

طلبہ کو اسکالر شپ دینے میں اس طالب علم کے ملکی حالات کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے شرائط کے تحت اسکالر شپ دیتے ہیں کہ کن طلبہ کو زیادہ دینا ہے کن کو کم۔ جس ملک سے کوئی بچہ آرہا ہے اس ملک سے ہمارے متعلقہ کوئی شخصیت کسی بچے کے بارے میں کہتی ہے کہ اس کی مدد کی جائے تو اس ریفرنس کی بنا پر ہم اس کی پوری رعایت کرتے ہیں، لیکن جانچ پڑتال بھی کرتے ہیں کہ کیا واقعی یہ مالی لحاظ سے ضرورت مند ہے یا نہیں؟ چوتھا درجہ یہ ہے کہ ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ کے زمرے میں ہم غیر مسلموں کے ساتھ بھی تعاون کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان میں امن کی تلاش

سیاسی و سفارتی دانشمندی کا تقاضا ہے کہ جب ملک کو مختلف سمتوں سے خطرات لاحق ہوں تو بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ ان مفروضوں اور ترجیحات کو رد کرنا ہوتا ہے جو کسی سازش کے تحت یا ایسے نظریات و سوچ کے نتیجے میں ابھارے جاتے ہیں جو قومی نظریۂ حیات سے متصادم ہوتے ہیں، تو انہیں سمجھنا اور صحیح فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے کرتے وقت قومی اقدار اور روایات کو نگاہ میں رکھنا لازم ہے۔ جن مسائل سے آج ہمارا ملک دوچار ہے ان میں افغانستان میں قیام امن کا مسئلہ سب سے اہم ہے، کیونکہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا، لیکن بیرونی جارحیت کے سبب پچھلے 53 سالوں سے افغان قوم اپنے نظریات، اقدار اور روایات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے اوربے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دو سپر پاور اور ان کے اتحادیوں کو شکست دی ہے اور اپنے موقف پر ثابت قدم ہے۔ اس حقیقت کو میں باربار دھراتا رہا ہوں تاکہ ہم افغانستان کی جنگ آزادی کو غلط نہ سمجھ بیٹھیں۔ آج سے 14 سال قبل ملا عمر نے جس موقف کا اعلان کیا تھا، ان کے جانشین آج بھی اس پر قائم ہیں:

’’ہم نے اپنی آزادی کے حصول تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان شاء اللہ ہم فتح یاب ہوں گے۔ جب ہم آزادی حاصل کرلیں گے تو اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ایسے فیصلے کریں گے جوتمام افغانوں کے لیے قابل قبول ہو ںگے۔ اب ہم ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جعلی عاملوں کے خفیہ راز

توبہ تائب ہونے والے ایک عامل سے نمایندئہ ضربِ مؤمن کی خصوصی گفتگو اس مرحلے پر جادو کی ہوئی اشیاء ’’خودبخود‘‘ مریض تک یا اس کے تکیے تک پہنچ گئیں اور اس کا یقین بھی کامل ہوگیا کہ ڈاڑھی منڈا نوجوان ’’بابا‘‘ بڑی پہنچی ہوئی شخصیت ہیں۔ اس ابتدائی کام کے بھی انہوں نے تین، چار یا پانچ ہزار لیے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم رات کو بیٹھ کر مہنگے تیل کا چراغ جلائیں گے۔ مہنگے عود لوبان کی دھونی دیں گے اور اپنا عمل کریں گے تو جنوں کی حاضری ہوگی۔ پھر یہ چیزیں آپ کے گھر پہنچیں گی۔ اب یہ چیزیں جو ان کے ہاں پہنچ جاتی ہیں یا ان کے ہاں پہنچائی گئی ہوتی ہیں۔ جب وہ انہیں کھولتے ہیں تو اس کے ساتھ انہوں نے ایک رقعہ ہوتا ہے۔ یہ رقعہ گاہک کی زبان میں لکھا ہوتا ہے۔ اب اگر گاہک باہر کے ممالک کا ہو تو انگلش میں لکھا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے فراڈیے ہر ملک میں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جہاں بھی جاتے ہیں اس ملک کی زبان ہی استعمال کرتے ہیں یا معاون رکھ لیتے ہیں۔ یہ رقعہ جنات کی طرف سے ایک پیغام ہوتا ہے۔ یہ سرخ رنگ کی سیاہی یا خون وغیرہ سے لکھا ہوتا ہے کہ آپ پر یہ یہ جادو ہوا تھا۔ آپ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کیا تھا۔ جن چیزوں کے ذریعے جادو ہوا تھا وہ تو نکل آئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔