• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

یہ کیسا بجٹ ہے؟

تین سال قبل موجودہ حکومت نے ملکی اقتصادیات کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ’’قرض اور امداد‘‘ کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا جس سے بنیادی اہداف کے حصول میں تو حکومت کوجزوی طورپر کامیابی ملی، لیکن ابتر اقتصادی صورت حال کو سنبھالنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات نے مالی معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے ‘ جس کا اندازہ ملکی ماہرین اقتصادیات کے درج ذیل تبصروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ’’غیر ملکی امداداور قرضوں پر انحصار کرنے سے پاکستان کو آئی ایم ایف اور امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیکن اس کے باوجود غربت میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے۔ پالیسی کے حوالے سے بجٹ امید افزا نہیں ہے اور مالی پالیسی بھی غیریقینی کا شکارہے جس سے نیابحران ابھرنے کا خدشہ ہے۔‘‘ معنوی اعتبار سے بجٹ کی اساس سیاسی ترجیحات ہیں جو روایتی طریقوں سے سال بہ سال دہرائی جاتی رہی ہیں۔ یہ عمومی نوعیت کی رسمی کاروائی ہے جس کے سبب دولت اور غربت میں تفریق مزید بڑھی ہے۔تعلیم اور صحت کے حوالے سے معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے قومی بجٹ ایک موثر ہتھیار ہوتا ہے، لیکن اس بجٹ میں 20 لاکھ کے قریب بے روزگار نوجوانوں اور قرض سے پاک اقتصادیات کے حوالے سے کوئی قابل ذکر منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے۔ بجٹ میں نہ توکوئی اصطلاحات کی بات کی گئی ہے اور نہ ہی ٹیکس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور وسعت دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا سیمینار میں ’’جامعۃ الرشید‘‘ کی صدائے بازگشت

30؍ مئی 2016ء بروز پیر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) کے اولڈ کیمپس کے آڈیٹوریم میں سیمینار یہ عنوان ’’پاک سعودی تعلقات میں تعلیمی اداروں کا کردار‘‘ منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے رئیس الجامعہ کو خصوصی دعوت دی گئی۔ رئیس الجامعہ عمرہ کے سفر پر تھے۔ چنانچہ نمایندگی کے لیے روزنامہ اسلام کے ایڈیٹران چیف اور راقم الحروف کی تشکیل ہوئی۔ سیمینار کی صدارت جناب سلیمان عبداللہ اباخیل، پروچانسلر (IIUI) نے فرمائی۔ جو سعودیہ یونیورسٹی جامعہ امام محمد کے ریکٹر بھی ہیں۔ مہمان خصوصی جناب راجہ ظفرالحق قائد ایوان سینیٹ تھے۔

صدر IIUI ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریوش، ریکٹر (IIUI) ڈاکٹر محمد معصوم یٰسین زئی، پاکستان میں مصر کے سفیر اور سابق رئیس الجامعۃ الازھر کے علاوہ خلیج ٹائمز کے سینئر صحافی، جماعت اہل حدیث کے ایک مدرسہ کے مندوب اور جامعہ امام محمد (سعودیہ) کا ایک وفد بھی شامل تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان میں امن کی تلاش

جنگ کا اصول ہے کہ مقصد پوری طرح واضح ہو اور اس میں کسی بھی مرحلے پر تبدیلی نہ لائی جائے ورنہ شکست مقدر بن جاتی ہے۔ اسے ہم Maintenance of Aim کہتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکا کا افغانستان کے خلاف جنگ کا مقصد نائن الیون کے حملے کا بدلہ لینا تھا جس کے لیے افغانستان کا انتخاب کیا گیا جو روسیوں کے خلاف جنگ اور 8 سالہ خانہ جنگی کے بعد تباہ حال تھا۔ اس کے خلاف امریکا نے پوری طاقت استعمال کی ’’Shock & Awe‘‘ حکمت عملی کا بدترین مظاہرہ کیا اور امریکی قوم کو یہ پیغام دیا کہ‘‘دیکھو ہم نے بدلہ لے لیاہے۔‘‘ امریکا نے چند مہینوں میں افغانستان پر قبضہ کر لیا’اپنی مرضی کی حکومت بنائی اور ایک سال کی مدت میں جنگ کا مقصد حاصل کر لیا۔ اس کے بعد امریکا اور اسکے اتحادی جنگ کے مقصد سے ہٹ کر سازشوں میں الجھ گئے۔ یہیں سے ان کی شکست کے آثار نمایاں ہوئے جو آج انکی پسپائی اور ناکامی کی عبرتناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس افغان طالبان دوبارہ منظم ہوئے اورآزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ ان کی جنگ کا مقصد بڑا واضح تھا جو ملاعمر نے میرے سوال کے جواب میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا تھا جسے میں بار بار دہراتا رہا ہوں تاکہ ہم اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو افغانستان میں بہت جلدقیام امن ممکن ہوگا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

زیور کی زکوۃ کے متعلق تفصیل:

زیور اکیلے ہوں، دوسرا کوئی مالِ زکوٰۃ ساتھ نہ ہو اور یہ زیور سونے کے ہوں تووجوبِ زکوٰۃ کے لیے ساڑھے سات تولہ اور چاندی کے ہوں توساڑھے باون تولہ ہونا ضروری ہے، اس سے کم وزن میں زکوٰۃ لازم نہیں، البتہ اگر سونا چاندی دونوں کے زیور ہوں یامالِ تجارت یا نقدی بھی ساتھ ہو توپھر وزن کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ سب کی قیمت لگائی جائے گی، اگر ان سب کی قیمت 35ئ612گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ان میں زکوٰۃ فرض ہے ورنہ نہیں۔باقی زیورمیں صرف سونے یا چاندی کی قیمت لگائی جائے گی، موتیوں، نگینوں اور زیور بنوانے کی اجرت شامل نہیں کی جائے گی، نیز نصاب معلوم کرنے کے لیے زیور میں موجود سونے کی قیمت لگائی جائے گی، اگر خالص سونا ہے تو خالص سونے کی قیمت، اگر اس میں ملاوٹ ہے تو ملاوٹ شدہ سونے کی قیمت لگائی جائے گی، نیز اس میں قیمت ِ خرید نہیں لگائی جائے گی بلکہ ایک قول کے مطابق جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی ہے اس دن کی اور دوسرے قول کے مطابق جس دن زکوٰۃ اداء کررہے ہوں اس دن کی قیمت لگائی جائے گی۔ ملاوٹ شدہ سونے میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھوٹ کی مقدار معلوم کر کے اس کو نکال کر خالص سونے کی زکوۃ ادا ء کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روزہ کے متفرق مسائل

نیت کا مطلب:
نیت بس اس حدتک کافی ہے کہ دل میں اسے معلوم ہو کہ فلاں روزہ مثلاً رمضان کا یا نذر کا رکھ رہا ہوں بلکہ روزہ کا تذکرہ کیے بغیر صرف سحری کھالے تو یہ بھی نیت کے قائم مقام ہے۔ (البحر الرائق: ۲/۲۵۹) البتہ اگر سحری کھاتے ہوئے نیت کرلی کہ صبح روزہ نہ رکھوں گا تو یہ کھانا روزہ کی نیت کے قائم مقام نہ ہوگا۔

نیت کا وقت:
نیت کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتاہے، اس سے پہلے یا عین غروب کے وقت کی نیت کا اعتبار نہیں۔ رمضان، نذرِ معین یا نفل روزہ ہو تو نصف النہار تک یہ وقت رہتا ہے، جبکہ ہر قسم کے کفارات اور نذرِ مطلق میں ہر روزہ کے لیے غروبِ آفتاب سے صبح صادق تک وقت رہتا ہے۔ صبحِ صادق کے بعد نیت کا اعتبار نہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

فضائل رمضان

روزہ دار کے مُنہ کی بو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ابن آدم کے ہر نیک عمل کا اجروثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’روزہ اس سے مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود (اپنے شایان شان) اس کا بدلہ دوں گا کہ روزہ دار میری ہی خاطر نفسانی خواہشات اور کھانے پینے کو قربان کرتا ہے۔روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں، ایک فرحت افطار کے وقت ملتی ہے اور دُوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہوگی اور روزہ دار کے مُنہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اورپسندیدہ ہے۔‘‘(صحاح ستہ)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

موجودہ سیاسی کشمکش کا انجام کیا ہوگا؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا۔ قوم کے نظریہ حیات کا تعین کیا: ’’پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہوگا جس کی بنیادیں قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہوں گی۔‘‘ استحکام جمہوریت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط قومی سیاسی جماعت بنایا اور نظریاتی اثاثے کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لیے قومی نظریاتی کونسل قائم کی۔ وفاق کی بنیادیں مستحکم ہوئیں، لیکن 5 سال کے اندر اندر یہ نظام درہم برہم کر دیا گیا۔ 11 سال کے بعد جب دوبارہ جمہوری نظام بحال ہوا تو اقتدارمحترمہ بے نظیر بھٹو کے ہاتھوں میں تھا۔ اس نوجوان قیادت سے جو امیدیں وابستہ تھی وہ آپس کی چپقلش کی نذر ہوگئیں۔ سیاسی نظام مفلوج ہوا، نظریاتی قدریں بے توقیر کر دی گئیں اور پھر ایک ایسا دور آیا کہ نہ جمہوریت رہی اور نہ نظریات۔ ہمارا دینی قبیلہ سیاست اور نظریات کے معاملے سے لا تعلق ہوکر تمام قومی معاملات سے الگ ہوگیا، جس کے سبب غیر متعلقہ نظریات نے اپنے لئے جگہ بنا لی ہے۔آج کی موجودہ کشمکش میں سیاست اور نظریات کا یہی الجھاو، قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

دہشت گردی کا عذاب کیا کم تھا کہ سازشوں کا ایک اور عفریت پھن پھیلائے ڈسنے کو تیار ہے۔ پانامہ لیکس کا جائزہ لیا جائے تواس سازش کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ نامزد لوگوں کی فہرست میں امریکا اور اسرائیل کے کسی شہری کا نام نہیں ہے۔ کئی برسوں تک صحافیوں کی بڑی تعداد ان انکشافات پر کام کرتی رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان صحافیوں کو کس نے اس کام پر لگایا؟ اور ان کو معاوضہ کہاں سے ملتا رہا ہے؟ امریکا ان انکشافات کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یہ ایک الگ کہانی ہے، لیکن پاکستان کا نام شامل کرنے کا ایک خاص مقصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ بڑی بڑی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، جن میں میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔ امریکا اور اسرائیل کا نام ان میں شامل نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ درپردہ کچھ راز ہیں جن کی پردہ داری ضروری ہے۔

آج سے چند سال قبل امریکا کا تذویراتی مرکز جنوبی ایشیاء سے ایشیا پیسیفک منتقل ہوا۔ امریکا افغانستان سے نکلا ہے تو چین کا اثرورسوخ اس علاقے میں بڑھا۔ خصوصاً پاکستان میں ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ کی تعمیر نے چین کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ جنوبی ایشیا سے چین کے اثرورسوخ کو کم کیا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سچے اور جھوٹے کی پہچان

قارئین محترم! گزشتہ شماروں میں ہم نے اب تک آپ کے سامنے جعلی عاملوں جو ہتھکنڈے پیش کیے تھے امید ہے آپ کافی حد تک پہچان گئے ہوں گے کہ ان جعلی عاملوں کے کون کون سے حربے ہیں جن کے ذریعے وہ عوام کو پھنساتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ ان کی دین اور دنیا دونوں لوٹتے ہیں اور برباد کرتے ہیں۔ ہم نے اب تک جو آپ کے سامنے معلومات پیش کیں، یہ ایسے صاحب کا انٹرویو تھا جنہوں نے بڑا وقت جعلی عاملوں کے ساتھ گزارا ہے۔ پھر توبہ تائب ہوگئے ہیں، لیکن وہ خود عالم نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا یہ کہ ہماری پھر ایک ایسے عالم صاحب سے ملاقات ہوئی جو اس فن کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ آپ اس میں کچھ اضافہ کریں۔انہوں نے نہایت خوش دلی سے اس کو قبول کیا اور ایک طویل نشست میں نہایت اہم معلومات فراہم کیں۔ ان سے کی گئی گفتگو پیش خدمت ہے۔

٭ سب سے پہلے تو آپ ہمیں یہ بتائیں کہ اصلی عامل یعنی اللہ والے میں اور جعلی عامل یعنی دنیا پرست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اور عوام کے لیے کیا ہدایات ہونی چاہییں؟ روحانی مسائل کے حل کے لیے کس طرح کے انسان کے پاس جایا کریں اور کس کے پاس نہ جایا کریں؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے

ضرب مومن: کفار کے مقابلے میں امت مسلمہ آج تقسیم درتقسیم نظر آرہی ہیں۔ ایسی صورتحال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں اُمت مسلمہ کے حکمرانوں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب: اس وقت جب عالم اسلام پر نظر ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ فلسطین کے بعد برما (میانمار)، عراق، شام، لیبیااورافغانستان سمیت بیشتر مسلم ممالک سخت تکلیف میں ہیں۔ آج عالم اسلام کے ممالک باہمی تنازعوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ لاکھوں مسلمان ان حادثات میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کے حکمرانوں، عوام اورعلماء کرام کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو ہر وقت سامنے رکھنے اور غور کرنے کی توفیق عطافرمائے جس میں اللہ تعالیٰ نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ بزدل ہوجاؤگے۔ عالم اسلام خصوصاً پاکستان اور سعودی عرب کو اضافی طور پر سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ہر ایک کو اصلاح کی طرف لوٹنا ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پروگرام کی سہ جہتی میڈیا کوریج

سالانہ کانووکیشن کی بھرپور میڈیا کوریج کے لیے سہ جہتی حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔ کانووکیشن سے ہفتہ بھر پہلے ہی پاکستان کے نامور میڈیا ہائوسز کے دورے کیے گئے۔ سرکردہ اخبارات، ٹی وی چینلز اور صحافی تنظیموں کے دفاتر میں جاکر کانووکیشن میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ایڈیٹران اور ذمہ داران سے روبہ رو ملاقاتیں کی گئیں۔ روزنامہ جنگ، دی نیوز، روزنامہ دنیا، ایکسپریس، نئی بات، نوائے وقت، اوصاف، جیونیوز، دنیا نیوز، نیو چینل، سمائ، اے آر وائی کے مختلف عہدوں پر فائز شخصیات نے کانووکیشن میں شرکت کی یقین دہانی کروائی۔

دوسری طرف کانووکیشن کے پنڈال میں میڈیا کوریج کے لیے علیحدہ سے جگہ مخصوص کردی گئی۔ پریس گیلری میں میڈیا نمایندگان کے لیے نمایاں مقام پر کرسیاں لگائی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سات افراد پر مشتمل میڈیا کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی نے میڈیا نمایندگان کی آمد سے لے کر روانگی تک تمام انتظامات کی نگرانی کرنا تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔