• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نمازِ عید سے متعلق چند اہم مسائل:

عید کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے:
اگر کوئی شخص نماز عید کی جماعت میں نہ پہنچ سکا تو اکیلے اس کی قضاء نہیں پڑھ سکتا، البتہ اگر گھر لوٹ کر چار رکعت نفل پڑھ لے تو بہتر ہے۔

کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی:
اگر کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی تو کسی دوسری مسجد یا عید گاہ میں جہاں پہلے عید کی نماز نہ ہوئی ہو اپنی الگ جماعت کر کے نماز عید پڑھ سکتے ہیں، ایسی مسجد یا عید گاہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

عشرہ ذی الحججہ

عن إبن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ما العمل فی ایام افضل منہا فی ہذہ‘ قالوا: ولا الجہاد؟ قال: ولا الجہاد، الا رجل خرج یخاطر بنفسہٖ وما لہ فلم یرجع بشیٔ۔ (صحیح بخاری:۱/۱۳۲)

ترجمہ:حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذی الحجہ (یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! کیا یہ جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاںجس شخص نے اللہ کی راہ میں نکل کر اپنی جان اور اپنے مال کو ہلاکت اور خطرے کی جگہ ڈال دیا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا (سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا) بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شامی بچے… منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

ایک طرف پاکستان میں معصوم بچوں کو اغوا کیا جارہا ہے تو دوسری طرف شام میں بچوں پر قیامت بپا ہے۔ شام کے ایک 5 سالہ پھول سے زخمی بچے کی ویڈیو نے خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے۔ اس معصوم کی بے بسی پر عالمی میڈیا بھی ٹسوے بہاتا نظر آتا ہے۔ شام کے شہر حلب میں فضائی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت سے بچائے جانے والے ایک زخمی بچے کی تصویر نے دنیا بھر میں تہلکہ سا مچادیا ہے۔ وہ کسی ایمبولینس میں اس بات سے بے خبر پڑا رہا کہ اس کا چہرہ خون آلود ہے۔ پانچ سالہ ’’عمرو قنیش‘‘ کو کچھ سیکنڈ میں احساس ہوا اور پھر اس نے اپنے ہاتھ کو سر پر رکھ کر اس زخم کو چیک کیا۔ بچے کو ایمبولینس میں بٹھاکر لے جانے والی تصویر اور ویڈیو گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہے، جسے اب تک کروڑوں افراد دیکھ کر تڑپ اٹھے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کی مظلومیت پر خون کے آنسو بہارہے ہیں۔ اس سے پہلے ایک اور معصوم سے شامی بچے ’’ایلان‘‘ نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔ کل رات جب میں اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھارہا تھا تو کسی نے مجھے شام کے ایک خاندان کی ویڈیو واٹس ایپ کی۔ دورانِ کھانا اسی وقت میں نے دیکھنا شروع کردی۔ بس نہ پوچھیے کہ یہ ویڈیو دیکھ کر مجھ اور میرے بچوں پر کیا گزری؟ اس ویڈیو میں ایک شامی خاندان کا المیہ تھا۔ دو معصوم بچے اور بچوں کا والد کھلے آسمان تلے ایک ساتھ سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باپ کے ہاتھ میں صرف ایک خشک روٹی تھی اور اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گررہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلمانو! فلسطین جارہا ہے؟

اندریں حالات گوگل کی ان حرکات سے مسلمانوں کے اندر اشتعال پیدا ہورہا ہے اور وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ تازہ خبر ہے کہ سرچ انجن گوگل نے دنیا کے نقشے سے فلسطین کا وجود مٹادیا ہے اور نئے نقشے میں جغرافیائی اعتبار سے فلسطین کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ 25؍ جولائی 2016ء سے گوگل نے فلسطین کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں فلسطین کا وجود ہی نہیں ہے۔ گوگل کے سرچ بار میں فلسطین لکھ کر سرچ کیا جائے تو فلسطین کی بجائے اسرائیل دکھائی دیتا ہے۔ نئے نقشے میں غزہ اور فلسطین کی حدود کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ قارئین! فلسطین کے خلاف سازشی کہانی کا آغاز انیس سو سترہ سے ہوتا ہے۔ 1917ء میں ’’اعلان بالفور‘‘ کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ 1947ء کے بعد بڑی تعداد میں یہودی بستیوں کی تعمیر شروع ہوگئی۔ اس کے بعد سے اسرائیل میں یہودیوں کی آمد اور نئی بستیوں کی تعمیر رکنے میں نہیں آئی۔ پچھلے دنوں غرب اردن میں ایک یہودی بستی بنی ہے۔ سب سے بڑی یہودی بستی ’’ادومن‘‘ میں توسیع کرنے کے منصوبے کی بھی اطلاعات ہیں، حالانکہ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبہ ’’روڈ میپ‘‘ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اتحادِ اُمت… وقت کی اہم ترین ضرورت

جب بھی علماء سے خطاب کا موقع ملتا ہے تو دو طرح کی متضاد کیفیات طبیعت پر وارد ہوتی ہیں۔ پہلی کیفیت خوشی کی ہوتی ہے کہ میں اپنی برادری یعنی اپنے بھائیوں اور اکابر کے درمیان موجود ہوں، جب کہ دوسری کیفیت یہ ہوتی ہے کہ میں ادنیٰ سا طالب علم کہاں اور علماء کا درجہ کہاں؟ میری کیا حیثیت جو علماء کو تجاویز دوں۔ پھر یہ سوچ کر تسلی دے لیتا ہوں کہ جس طرح مدارس میں استاذ سبق پڑھاکر کسی بھی ایک طالب علم کو کھڑا کرکے سبق کے تکرار کرنے کو کہہ دیتا ہے، ٹھیک اسی طرح میں بھی تکرار کروں گا۔ اللہ پاک صحیح تکرار کی توفیق دیں۔ وہی بیان کروں گا جو اکابر سے سنا ہے۔ اصل میں کچھ بھی ذاتی نہیں، مگر ممکن ہے اس میں کچھ تھوڑا سا ذاتی استنباط بھی ہو۔ میرے والد ماجد مفتی محمد شفیعؒ کا قول ہے: ’’اس طرح کا اختلاف یا استنباط بھی دراصل استاذ اور اکابر ہی کا معنوی فیض ہوتا ہے۔ ‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

بغاوت جو ناکام ہوگئی

باغیوں نے ترکی میں جمہوری حکومت کو ناکام بنانے کے لیے بغاوت کی، لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی اور 1960ئ، 71ئ، 80ء اور 97ء کی بغاوتوں جیسی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ بغاوت کا سبب نظریاتی تصادم ہے کیونکہ فوج اپنے آپ کو سیکولرجمہوری نظام کی امین سمجھتی ہے جبکہ صدر اردگان اسلامی جمہوری نظام کے حامی ہیں، لیکن توہم پرست قوتوں کے لیے یہ نظام ناقابل قبول ہے کیونکہ ان کی ترجیحات میں بنگلہ دیش کی طرز کا خالص سیکولر جمہوری نظام نافذ کرنا ہے۔ مثال کے طور پرچند سال پہلے مصر میں اسلامی جمہوری نظام کو عسکری قوت کے بل بوتے پربے دردی سے کچل دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں فوجی حکومت قائم ہوئی جسے مشرق وسطی کے ڈالروں اور جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں کی تائید حاصل تھی۔ نیو یارک ٹائمز 19 جولائی کے شمارے میں افسوس کے ساتھ لکھتا ہے کہ ’’ترکی میں سیاسی اسلام فاتح کی حیثیت سے ابھر ا ہے اور اب ترکی ایک اسلامی ملک بن جائے گا جہاں عوامی طاقت یکجان ہو گی اور یہ صورت حال بڑی مشکلات کا باعث ہو گی۔ ‘‘

صدر اردگان ایک مقبول سیاسی تحریک کے سربراہ ہیں جن کی متوازن پالیسیوں کے سبب ملک کی اقتصادیات مستحکم ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اردوغان، گولن اختلافات… وجوہات اور اسباب

ترکی کی ناکام بغاوت سامنے آئی تو سیکولر اور دین دار حلقے آمنے سامنے آکھڑے ہوئے۔ گولن اور اردوغان تنازع کا ذکر شروع ہوگیا۔ آج ہم صرف یہ جائزہ لیتے ہیں کہ گولن اور اردوغان کے درمیان تنازع کا سبب کون کون سی باتیں ہیں؟ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اردوغان حکومت کو اپنے ابتدائی دور میں گولن کا بھرپور اعتماد حاصل رہا۔ مگر رفتہ رفتہ یہ دوستی، دوری اور پھر دشمنی میں بدلتی چلی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گولن نے دنیا کے 140ملکوں میں اپنا تعلیمی نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ ترکی میں ان کے تعلیم سے وابستہ اداروں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ مگر ترکی کے گزشتہ دو سالوں کا جائزہ لینے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گولن کی اس تعلیمی تحریک کے پس پردرہ کچھ دیرینہ عزائم ہیں، جنہیں وہ بہر صورت پورا کرنا چاہتا ہے۔ گولن نے نہ صرف تعلیمی نظام کو ہائی جیک کررکھا ہے، بلکہ بیوروکریسی، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں بھی ان کی خدمت تحریک کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

طیب اردوان کی ملک و قوم کے لیے خدمات

ترکی نے تاریخ کا رخ ایک بار پھر موڑ دیا ہے۔ طیب اردوان نے ثابت کردکھایا کہ جس حکمراں کی محبت عوام کے دلوں میں بستی ہو، اسے ٹینکوں اور توپوں سے شکست نہیں دی جاسکتی۔ اردوان نے ثابت کردکھایا ہے کہ اسلام پسند وں کو نہ صرف حکومت کرنے کا حق ہے، بلکہ وہ اس قدر کامیاب حکمراں ہیں کہ عوام ان پر اپنی جان چھڑکتے ہیں۔ ناکام بغاوت کے بعد پاکستان اور دیگر ممالک میں سیکولر ازم کے حامیوں نے ایک بار پھر پرانے الزامات کی جگالی شروع کردی ہے۔ گھسے پٹے سوالات اور بوگس اعتراضات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ترک عوام گمراہ ہوچکے ہیں۔ آج ہم حقائق کی دنیا میں اندازہ لگاتے ہیں کہ عوام کیوں طیب اردوان کے گرویدہ بنے ہیں؟ اردوان پر لگے اعتراضات کی حقیقت کیا ہے؟ اردوان کے حیرت انگیز اقدامات کیا ہیں؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی… ایک عالمگیر مسئلہ!!

فرانس کے شہر ’’نیس‘‘ میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ایک دہشت گرد نے ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا جس کے نتیجے میں 84 افراد ہلاک، جبکہ 140 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ قومی دن کی تقریبات کے موقع پر لوگ ساحلی شہر نیس میں آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ دہشت گردی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ خودکش حملے امریکا میں بھی ہورہے ہیں اور سعودیہ میں بھی۔ برطانیہ میں بھی ہورہے ہیں اور ترکی میں بھی۔ فرانس میں بھی ہورہے ہیں اور عراق میں بھی۔ جرمنی میں بھی اور افغانستان میں بھی۔ بلجیم میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ عالم کفر اور عالم اسلام ہر جگہ دھماکوں نے تباہی مچارکھی ہے۔ انسانیت کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے دہشت گردی کون کررہا ہے؟ دہشت گردی کا اطلاق کن پر ہو؟ دہشت گردوں کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے؟ اگر یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے اور یہ حملے مسلمان کررہے ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حملے مسجد نبوی کے باہر کیوں ہوتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ناحق کسی کو نہ ماریں۔ دین اسلام میں ایک ناحق انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ حملے داعش اور داعش جیسے نظریات کی حامل شدت پسند تنظیمیں کررہی ہیں۔ ان کے کئی مقاصد میں سے ایک مقصد دہشت پھیلانا بھی ہے۔ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ یہ حملے ردّعمل ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

راہِ نجات کیا ہے؟

تخلیق کائنات کا عمل نزول آدم خاکی کے تصور سے عبارت ہے۔ وہی انسان کی اولین شناخت بھی ہے اور قوم، قبیلہ اور خاندان کی شناخت پر فوقیت رکھتی ہے۔ اسی شناخت کے حوالے سے انسان کو اپنی عظمت اور قربِ الٰہی کا احساس لازم ہے۔ اللہ سے یہ احساس قربت ہے کہ جس کے بغیر دل کی گرہیں نہیں کھلتیں اور نہ ہی روح کو ذہانت حاصل ہوتی ہے، روح جو اللہ کی شان ہے، ہمارے وجود اور دل کے درمیان حائل ہے۔ جب کچھ بھی نہ تھا تو اللہ تھا۔ انسان ایک خیال تھا جس کے لیے کائنات تخلیق کرنا مقصود الٰہی تھا۔ اللہ نے حکم دیا ’’کن فیکون‘‘ تو یہ کائنات وجود میں آگئی۔ سورئہ سجدہ کی آیت نمبر 32 میں ارشادِ ربانی کا ترجمہ ہے: ’’اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان ساری چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی رکھوالا ہے ، نہ کوئی سفارشی کیا پھر بھی تم کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے؟‘‘

سورئہ ق کی آیت نمبر 38 کا ترجمہ ہے: ’’اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے د رمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔‘‘ سورئہ طلاق کی آیت نمبر 12 کا ترجمہ ہے: ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے ، اور زمین بھی انہی کی طرح اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

2001ء میں جب امریکا نے افغانستان پرمصائب و الم کے پہاڑ ڈھائے اور قبضہ کرلیا تو اس وقت ملا عمر نے پاکستان کوپیغام بھیجا تھا کہ ’’آپ نے ہمارے خلاف جنگ میں ہمارے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں، کیونکہ ہمارے قومی مفادات اور منزل مشترک ہیں۔‘‘ ان الفاظ کے بہت گہرے معنی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے باریک بینی سے تجزیہ کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ بحرانی دور میں ہم کوئی قابل عمل حکمت عملی وضع کر سکیں۔اس تجزیے سے جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’سوویٹ یونین کی جارحیت کیخلاف افغانیوں کی جنگ آزادی میں بھرپور مدد کے باوجود امریکا نے افغانیوں سے کیوں پیٹھ پھیر لی تھی جبکہ وہ فاتح تھے اور ان کی خودمختاری کے قیام کی مخالفت کی تھی اور اب بھی شدت کیساتھ یہ مخالفت جاری ہے۔‘‘ اس کی وجوہات یہ ہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔