• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اختلافات کی حدود

تیسرا درجہ اجتہادی اختلاف کا ہے جو قرآن و سنت کی تشریح میں مسائل شریعہ کے تعین میں ہے۔ یہ اختلاف صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی ہوا، لیکن حضرت علامہ ابن قیمؒ ’’اعلام الموقعین‘‘ میں اور علامہ ابن لبرؒ ’’جامع بیان العلم و فضلہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ تمام اختلافات کے باوجود کسی صحابی کے بارے میں منقول نہیں کہ انہوں نے دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو کہ ان کا اجتہاد میرے اجتہاد سے مختلف ہے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعودؓ کا مسلک کچھ اور ہے، لیکن امام نے اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھائی تو عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی طرح پڑھی، کیونکہ ’’الاختلاف شر‘‘ اختلاف شر ہے۔ اجتہادی اختلاف کے باوجود محبتیں بھی ہیں باہمی تعاون، ایک دوسرے کے ساتھ تناصر اور آپس میں احترام بھی ہے اور اس سے کبھی بھی کسی شقاق نے جنم نہیں لیا۔ اس سے آگے بڑھ کر مزاج و مذاق کا اختلاف ہے۔ سب کچھ متحد ہے، لیکن ایک کا مزاج ایک جیسا ہے، دوسرے کا مزاج دوسرے جیسا ہے۔ ہم نے جو کر رکھا ہے وہ یہ کہ ہم تمام اختلافات کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔ اگر کسی سے اختلاف ہوا تو اب وہ ایسا اختلاف ہے کہ میں اس کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وطن کی فکر کر ناداں

پاکستان میں نظام کی غیرجمہوری طریقے سے تبدیلی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ یہ طریقہ ماضی میں چار مرتبہ دہرایا جا چکا ہے۔ ہر تبدیلی کے پس پردہ ’’چار اے‘‘ (4 As) فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جن میں امریکا، آرمی، عدلیہ اور الائیز (موقع پرست سیاستدان) شامل رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں موجودہ حکومت کو گرانے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان کا طریق کار بھی ماضی کی طرح غیرجمہوری ہے۔ ماضی میں حکومت گرانے کی ایسی دو مثالیں ملتی ہیں جو کافی حد تک عمران خان کی سربراہی میں کی جانے والی حالیہ کوششوں سے مشابہ ہیں۔

1976 ء میں حکومت گرانے کے لیے چلائی جانے والی تحریک ’’چار اے‘‘ کی ملی بھگت کی اعلیٰ ترین مثال ہے جس کا نتیجہ بالآخر بھٹو کی پھانسی کی صورت میں نکلا۔ متعدد لاوارث سیاسی جماعتوں کی طرف سے چلائی جانے والی اس تحریک میں ایر چیف مارشل اصغر خان بھی شامل ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلمانوں کے ذوال کے دو سبب

اسلام کی تاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچایا، دشمن کی سازشیں کامیاب ہوئیں۔ دشمن ان پر فتح یاب ہوا تو وہ اپنی بہادری اور طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کی ہی کسی خرابی یا کسی نقصان کی وجہ سے ہوا، لہٰذا ہم جو آپس میں بیٹھ کر مجلسوں میں برا بھلا کہتے ہیں کہ فلاں نے ہمارے ساتھ یہ کردیا اور فلاں نے یہ کردیا تو اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں بھی منہ ڈال کر دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا وجہ ہے کہ دشمن کامیاب ہورہا ہے اور ہمارے خلاف اس کی تدبیریں کارگر ہورہی ہیں۔ یہ نکتہ ایسا ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور افسوس کا سامان پیدا کرتا ہے۔ اس موقع پر تمام خرابیوں اور ان کے اسباب کا احاطہ ممکن نہیں۔

لیکن میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا ایک جملہ نقل کرتا ہوں۔ میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ان کے مرید تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب سب بچے کھیل کود کے لیے جایا کرتے تھے تو میں تب بھی حضرت شیخ الہندؒ کی خدمت میں بیٹھا رہتا تھا۔ حضرت دیوبند میں دارالعلوم کے احاط میں تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اختلافات کی حدود

پچھلے دنوں نائب رئیس جامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم برطانیہ تشریف لے گئے تھے۔ لندن کے مسلم سینٹر میں علمائے کرام کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب فرمایا۔ یہ خطاب آج کل کے حالات میں تمام مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل ہے، زوال کے اسباب کی نشاندہی بھی ہے اور بحران سے نکلنے کا طریقہ بھی۔ یہ خطاب ہدیۂ قارئین ہے۔ (ادارہ)

میرے ذہن میں حضرات علمائے کرام کی محفل میں ہمیشہ دو قسم کے مختلف جذبات کا امتزاج ہوتا ہے۔ ایک تو الحمدللہ مسرت ہوتی ہے کہ میں اپنی برادری میں اپنے بھائیوں اور اپنے اکابر سے ملنے کا شرف حاصل کررہا ہوں۔ اس پر خوشی ہوتی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، کیونکہ میں ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہوں اور حضرات علمائے کرام میرے لیے سرتاج اور قابل صد احترام و تکریم ہیں۔ ان کی زیارت اور ان سے ملاقات بذات خود ایک سعادت ہے۔ دوسری طرف جب مجھے علمائے کرام سے خطاب اور ان سے کچھ گزارشات پیش کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو دوسرا امتزاج یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں کہاں اور علمائے کرام کہاں؟ میں اس لائق نہیں ہوں کہ ان کی خدمت میں کوئی نصیحت یا گزارش پیش کروں، ان کے سامنے لب کشائی اپنی حیثیت سے زیادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی جب کوئی ایسا موقع آتا ہے تو میں یہ تصور کرلیتا ہوں کہ ہم نے جن دینی مدارس میں پڑھا ہے، وہاں ایک طریقہ رائج ہے جس سے ہم سب واقف ہیں کہ جب استاذ سے سبق پڑھ لیا جاتا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

مشن کشمیر

اقوام متحدہ میں متعین پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے سابق بھارتی وزیراعظم نہرو کی جانب سے اقوام عالم کے سامنے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے جھوٹے وعدے یاد دلاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ’’مشن کشمیر‘‘ کا نام دیا ہے۔ نہرو نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ ’’ہم دنیا کو یقین دلاتے ہیں کہ کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیں گے۔ ‘‘ لیکن چھ دہائیاں گذرنے کے باوجود بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی اداروں کی ناکامیوں نے مسئلہ کشمیر کو اس نازک مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ’’اب صرف گولی کے ذریعے ہی فیصلہ ممکن ہو گا‘‘ کیونکہ انسانی حقوق کے محافظ کشمیریوں کو انصا ف دلانے میں بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔

اس سال کے اوائل میں پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری ’’کشمیر جہادی کونسل‘‘ نے قبول کی تھی جو تیسری نوجوان نسل کی ایک نئی جہادی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ افغان جہادیوں کی دوسری نسل کو طالبان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

12 راہنما اصول

اس تحریر میں اسلام پسند سے مراد ہروہ شخص یا جماعت ہے جواسلامی ممالک میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی بھی منصوبہ شروع کرے۔ اسلامی ممالک میں تبدیلی کے کسی بھی منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے متعدد قوانین کی پاس داری کرنا ضروری ہے۔

رائے اور اسلام
اے اسلامی تحریک کے علمبردار! یہ ہمیشہ یاد رکھ کہ آپ کا شروع کردہ منصوبہ ’’اسلام‘‘ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اجتہادی رائے ہے جو آپ نے اسلام کو سمجھنے اور اس پرعمل کرنے کے لیے اپنائی ہے۔

تنقید برداشت کریں
تنقید برداشت کرنے اور پیچھے ہٹنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ جب آپ کا منصوبہ اجتہادی رائے ہے تو اس پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے اور اس سے پیچھے بھی ہٹا جاسکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی کوئی شخص تنقید کرے گا تو وہ آپ کی اجتہادی رائے پر تنقید ہوگی، اسلام پر ہرگز نہیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ دوسروں کی تنقید سے پہلے ہی اپنا تنقیدی جائزہ لیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا ہونے جارہا ہے؟

چند دن قبل متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے بانی چیئرمین الطاف حسین کی پاکستان، مسلح افواج اور سیاسی قیادت کے خلاف تین منٹوں پر مشتمل بے تکی باتوں نے ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کردی تھی، جبکہ ملک میں پہلے ہی دہشت گردی کے واقعات سے جنم لینے والی بے یقینی کراچی کی بدامنی اور حزب اختلاف کے ہنگاموں کے باعث مایوسی کی فضا تھی، لیکن ان حالات کے باوجود اب ملک میں تیزی سے ابھرتے ہوئے تبدیلی کے عمل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کی صورتحال کا احاطہ کیا جاسکے۔

الطاف حسین نے وہ کچھ کر دکھایا جو کوئی اور نہیں کر سکتاتھا۔ ان کی بے تکی باتوں نے ایم کیو ایم کی صفوں میں ایسی ہلچل مچا دی کہ جس کے رد عمل کے طور پر عوام نے خود الطاف حسین ہی کوغیض و غضب کا نشانہ بنایا اور ایم کیو ایم کی قیادت گہرے صدمے سے دوچار ہوکر اپنے سیاسی دفاتر کی اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھ رہی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

قربانی کے معاشی اثرات

ہر سال جوں جوں قربانی کا موسم قریب آتا چلا جاتا ہے، توں توں عقلی موشگافیاں، ادبی نکتہ آفرینیاں اور گھسی پٹی منطق سنجیاں بھی عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے: اتنے جانور قربان کرنے کا کیا فائدہ؟ جانوروں کی ایک نسل کو نقصان پہنچتا ہے؟ لاکھوں بیٹیاں جہیز کے بغیر بن بیاہی بیٹھی ہیں اور انہیں قربانی کی سوجھی ہے؟ آپ نے ایک لاکھ کا بیل ذبح کیا اور اسی محلے کا ایک خاندان بھوک، افلاس اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر خود کشی کرگیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ دو باتیں:

بات حق اور انصاف کی کرنی چاہیے۔ یہ بھی ایک معاشرے کا کڑوا سچ ہے کہ قربانی کا جانور رفتہ رفتہ اسٹیٹس سمبل بنتا جارہا ہے۔ دس لاکھ کا بیل اور پانچ لاکھ کا بکرا ہر سال ہی خبروں میں جگہ بنالیتے ہیں۔ اسکردو اور گلگت کا یاک خریدا جاتا ہے اور چار سینگوں والے بکرے لیے جاتے ہیں۔ لڑکے بالے ان جانوروں کو گلی محلوں میں یوں لیے پھرتے ہیں جیسے ’’مقابلہ حسن و دکھاوا‘‘ منعقد کیا جارہا ہو۔ ظاہر ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اتنا پیسہ خرچ کرنا اللہ کے دربار میں وزن نہیں پاسکتا۔ تفاخر، دکھاوا اور ڈھنڈورا تو سب کچھ راکھ کا ڈھیر بنادیتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قربانی کن جانوروں کی جائز اور کن کی ناجائز ہے:

قربانی مندرجہ ذیل جانوروں کی ہو سکتی ہے:
اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دنبہ۔ ان جانوروں میں سے ہر ایک کی قربانی درست ہے، خواہ نر ہو یا مادہ یا خصی۔ ان کے سوا کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں، جیسے نیل گائے، ہرن وغیرہ۔

جانروں کی عمروں کی تفصیل:
قربانی کے اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال، گائے، بھینس کی دو سال اور بھیڑ، بکری، دنبہ کی ایک سال ہونا ضروری ہے۔ البتہ بھیڑ یا دنبہ چھ ماہ کے ہوں، مگر اس قدر فربہ( صحت مند اور موٹے) ہوں کہ دیکھنے میں پورے سال کے معلوم ہوتے ہوں، جس کی علامت یہ ہے کہ انہیں سال کی بھیڑوں، دنبوں میں چھوڑ دیا جائے تو دیکھنے والا ان میں فرق نہ کر سکے تو سال سے کم عمر ہونے کے باوجود ان کی قربانی جائز ہے، اگر چھ ماہ سے عمر کم ہو تو کسی صورت میں قربانی درست نہیں، خواہ بظاہر کتنے ہی بڑے لگتے ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قربانی، فضائل و مسائل:

قربانی کی فضیلت:
عن عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا أن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ما عمل آدمی من عمل یوم النحر أحب الی اﷲ من إہراق دم، إنہ یأتی یوم القیمٰۃ بقرونہا وأشعارہا وأظفارہا، وإن الدم لیقع من اﷲ عزوجل بمکان قبل أن یقع من الأرض، فطیبوا بہا نفسا۔(ترمذی: ۱/۱۸۰، ابن ماجہ)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نماز و خطبہ کے احکام و آداب:

عید گاہ شہر سے باہر ہونا مسنون ہے:
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عیدین کی نماز ہمیشہ شہر سے باہر نکل کر ادا فرماتے تھے، صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے باہر تشریف نہیں لے جاسکے، اس لیے عیدگاہ کا شہر سے باہر ہونا سنت ہے، اس طرح اجتماعِ عظیم میں شوکت اسلام کا مظاہرہ بھی ہے، مگر بڑے بڑے شہروں میں باہر نکل کر عید کی نماز پڑھنا مشکل ہے، اس لیے شہر کے اندر بڑے میدان یا بوقت ضرورت مسجد میں نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے، مگر حتی الامکان ہر محلہ میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کے بجائے ایک مقام یا چند مقامات پر بڑے اجتماع کی کوشش کی جائے۔

نمازِ عید سے قبل نفل پڑھنا مکروہ ہے:
نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں، حتیٰ کہ عورت بھی گھر میں نفل پڑھنا چاہے تو نماز عید کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد فقط عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔