• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اپنے قارئین سے کیا چاہتا ہے؟

’’چاہت ‘‘اس کائنات ِ رنگ و بوو عالَم خوبرو کا وہ اہم عنصر ہے، جسے جس جگہ سے دیس نکا لا دے دیا جائے! تو اس مقام کی خوشیاں غموں میں، آبادیاں بربادیوں میں، کامیابیاں ناکامیوں میں، رو نقیں ماتم کدوں میں، خوشگوا ریاں تلخیوں میں، نرما ہٹیں گرما ہٹوں میں، محبتیں نفرتوں میں، الفتیں عداوتوں میں، اجالے اندھیروں میں بدل جاتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب سے لفظ چاہت کے معنی و مفہوم کی کھیتی میں’’ مَن چلے وتَن جلے‘‘ کسانوںنے ’’ احکا ماتِ الٰہی وسنتِ مصطفائی‘‘ جیسے معطر و منور، دلکش ودیدہ زیب اور دائمی حُسن کے مالک بیج کو چھوڑ کر’’ خواہشاتِ نفسا نیہ واتباع شیطانیہ‘‘جیسے شنیع وقبیح، مذموم ومجذوم، دوامی کالک کے مالک بیج کی کا شتکا ری شروع کی ہے۔ تو اس وقت سے چاہت کے معنی و مفہوم نے ایسی نیک و بد صورتیں اختیار کی ہیں کہ معنی کا تعیّن بغیر ’’سیاق وسباق اور اَمام وخلف‘‘ کو دیکھے بغیر ممکن ہی نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدرٹرمپ کی پراسرارشخصیت

نئے منتخب امریکی صدرصاف گوئی، غیر لچکدار رویئے، دوٹوک اندازگفتگو کے حوالوں سے دلچسپ شخصیت کے حامل ہیں۔ مشکل انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے مستقبل کے منصوبے، سوچ کاپس منظر اور اپنی ذاتی شخصیت کے حوالے سے تمام باتیں لگی لپٹی بغیر عیاں کر دی ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے دوران چند اہم معاملات بھی اٹھائے جو امریکی عوام کے لیے خاصی تشویش کا باعث ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔ گر اسی طرح مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو 2050ء تک امریکی شہری نوکریوں سے محروم اور اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ یقینایہ امر خاصی تشویش کا باعث ہے، اس کے باوجود کچھ لوگ ٹرمپ کو نسل پرست کہتے ہیں جو درست نہیں۔ ہیلری کے مقابلے میں تین ملین کم ووٹ لینے کے باوجود انتخابی کالج نے انہیں صدر منتخب کیا ہے۔ معروف فلسفی رکارڈ رورٹی نے 1998ء میں کہا تھا کہ نظام کی ناکامی کی وجہ سے غیرمضافاتی ووٹرکسی مضبوط امیدوار کو منتخب کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ ایسا امیدوار جو انہیں یقین دلا سکے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ لڑکھڑاتی ہوئی بیوروکریسی، شاطر قانون دانوں، منافع پرست تاجروں اور جدت پسند پروفیسروں کو لگام ڈال سکے گا۔ وہ مضبوط امیدوار ٹرمپ ہے جو آچکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاقی فریضہ

گھر سے بے گھر ہونا کتنا تلخ، کتنا مشکل اور کتنا دشوار ہوتا ہے۔ شامی شہر ادلب کا خانماں خراب، 30 سالہ عبداللہ اس دکھ، درد اور کرب کو محسوس کرسکتا تھا۔ وہ بوابۃ الاسلام سے ایک غیر قانونی کشتی میں سوار ہوا۔ دنوں کے سفر کے بعد اٹلی کی سرزمین میں چوری چھپے داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ شاید سیکڑوں شامیوں میں سے وہ خوش قسمت جو بحر ابیض المتوسط کی بھوکی مچھلیوں کا شکار ہونے سے بچ گیا۔ اسے پتہ تھا کہ اگلے چند دنوں میں وہ اٹلی سے آگے نکل نہ گیا تو زندگی کے باقی دن کسی کال کوٹھری میں موت سے جنگ لڑتے گزریں گے۔ اس کی منزل سویڈن تھی، مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے اسے آگ کا دریا عبور کرنا تھا۔ قدرت نے اس سے گرینڈل کو ملادیا۔ گرینڈل نے عبداللہ کی کہانی سنی اور اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور پھر عبداللہ کو بتایا کہ اٹلی سے باہر نکلنے اور سویڈن میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے: ایک جعلی بارات ہی تمہیں گرفتار ہوئے بغیر سویڈن تک پہنچا سکتی ہے۔ تمہیں صرف یہ کرنا ہے کہ چند باراتی تلاش کرو، دو کیمرہ مین اور سب سے مشکل ایسی خاتون جو تمہاری جعلی بیوی بننے پر آمادہ ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ ایک نظر میں

آپ ہندوستان کے علاقے تھانہ بھون کے قصبہ حسن پور لوہاری میں 25 دسمبر 1926ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق آفریدی خوانین کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی۔ پہلے استاذ محمد حسن منشی تھے جن سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ دوسرے استاذ منشی اللہ بندہ تھے جن سے فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ پھر مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد میں پانچ سال تک زیرتعلیم رہے۔ مولانا مسیح اللہ خان ؒسے خوب استفادہ کیا۔ حضرت شیخ الحدیث سلیم اللہ خانؒ کا حافظہ انتہائی تیز تھا۔ صرف 27دن میں قرآن مجید حفظ کیا۔ زمانۂ طالب علمی میں ایک مرتبہ سالانہ تعطیلات میں گھر آئے۔ رمضان کے دن تھے۔ گائوں کی مسجد میں قرآن سنانے والا کوئی حافظ نہ تھا، چنانچہ روزانہ سوا پارہ یاد کرتے اور تراویح میں سنادیتے۔ یوں چنددن میں قرآن حفظ ہوگیا۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند آگئے۔ یہاں اُس وقت کے بڑے اساتذہ کرام سے جملہ علوم و فنون قرآن، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، ریاضی، کلام، بلاغت، منطق، فلسفہ، کتابت، اصول، عروض وغیرہ سیکھے۔ دارالعلوم دیوبند سے ہی فارغ التحصیل ہوئے ۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے خصوصی تعلق رہا۔ آپ حضرت مدنیؒ کے خصوصی شاگرد تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاقی ذمہ داری

سات سال ادھر کی ہی تو بات ہے۔ قلم کار نے عالم اسلام کے حالات کا مطالعہ شروع کیا۔ انہی صفحات پر ہر ہفتے سوز دروں بکھیرنا اور دل کی تاروں کو چھیڑنا شروع کیا۔ ان سات سالوں میں کتنے طوفان باد وباراں آئے، کتنے جھکڑ بگولے چلے، کتنی آندھیاں تہ وبالا کرگئیں۔ عالم اسلام ادھیڑ کے رکھ دیا گیا۔ عظیم مشرق وسطی کا خواب کرچی کرچی ہوگیا۔ مراکش کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک جو لاشے خاک و خون میں غلطان نظر آئے وہ مسلمانوں کے ہی تھے۔ مگر ایک ناکردہ کار قلم کار کر بھی کیا سکتا تھا۔ وہ کب تک خامہ بگوش فکر و خیال کی وادیوں میں بھٹکتا رہتا۔ آخراس کا ایک ایک لفظ دہائی بنا، سطر سطر بین کرنے لگی، حرف حرف فریادی ہوا، جملے جملوں کے گلے لگ کر دھاڑیں مارتے رہے، کالم سے چیخ نکلتی، قاری سے بغلگیر ہوتی اور سسکیوں میں تحلیل ہوجاتی۔ وہ ہر ہفتے کسی نئے ملک کا مرثیہ لکھتا۔ وبال دوش کو قرطاس کے سپرد کردیتا۔ پڑھنے والے ہائے ہائے کرتے، کچھ روتے کرلاتے، دل کے زخموں کو خون جگر سے رفو کرتے۔ مگر بدلتا کچھ بھی نہیں۔ حالات کا دھارا وہیں بہتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم سب کو مسلمان ہونے کی دعوت دیتے ہیں

ضربِ مؤمن: آپ کی وہاں پر ایک ساکھ ہے، اتنے زیادہ شاگرد ہیں، آپ نے اتنے ممالک کا دورہ بھی کیا، آپ نے کس حکمت عملی کے ساتھ اتنا کام کیا؟

مولانا بشیر احمد: ’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ‘‘ کی حکمت کو اپنایا۔ اس کے تحت پرامن رہ کر پرامن رہنے کا درس بھی دیا۔ وہاں پر کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ کوئی جذباتیت نہیں دکھائی۔ اگر کسی کے ساتھ ہمدردی کی تو اخلاق و پیار سے بات کی۔ دارالعلوم اوسلو کے پڑوس میں عیسائیوں کا ایک ادارہ ’’اولڈر سینٹر‘‘ ہے جو بوڑھوں کا ایک مرکز ہے۔ بوڑھے حضرات وہاں پر آتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں، کھانا وغیرہ کھاتے ہیں۔ جب میں بوڑھوں کو آتا ہوا دیکھتا ہوں، کمزور ہوتے ہیں تو ان کا بازو پکڑ کر اندر لے جاتا ہوں، اس کا کوئی سامان اُٹھاکر اندر پہنچادیتا ہوں، اس طرح وہ بھی بڑا پیار کرتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی پروگرام ہوتا تو کہتے ہیں کہ امام کو لازم بلائو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالم اسلام پر طاغوتی یلغار

جرمنی کے شہر برلن میں ایک شخص نے ٹرک چڑھا کر 13 افراد کو مارڈالا، ترکی میں روسی سفیر قتل کردیا گیا، سویٹرز لینڈمیں مسجد پر دھاوابول دیا گیا ۔ یہ ایک ہی دن میں دنیا کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے دلخراش واقعات ہیں۔ ان کے اسباب و عوامل مختلف ہوسکتے،لیکن دراصل یہ واقعات موجودہ عالمی منظر نامے میں عمل اور رد عمل کے اس خونی کھیل کا شاخسانہ معلوم ہوتے ہیں جو اس وقت عالمی طاقتیں کھیل رہی ہیں۔ ان کو اسے کوئی غرض نہیں ہے کہ اس میں کون مر رہا ہے اور کون جی رہا ہے؟ ان کو بس اپنے مفادات ہی کی تکمیل کرنی ہے۔

اس کھیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جنگ دو قسم کی ہوتی ہے :ایک فکری جنگ اور دوسری عسکری۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے فکری کا تعلق افکار ونظریات سے ہوتا ہے جبکہ عسکری جنگ ہمیشہ ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی عسکری قیادت کو اہم چیلنجز کا سامنا

پاکستان آج بڑے پر آشوب دور سے گزر رہا ہے۔ اس دور کے ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لیے ہماری عسکری و سیاسی قیادت پر بھاری اور اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو غوروفکر اور فہم و فراست کی متقاضی ہیں۔ اس وقت سیاسی افہام و تفہیم اورسوچ و عمل میں ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے تاکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بطریق احسن پورا کیا جا سکے۔ فوج میں اعلیٰ قیادت میں تبدیلی ایک معمول کی بات ہے۔ ہماری روایت ہے کہ رخصت ہونے والا کمانڈر آنیوالے کمانڈر کے لیے پہلے سے تمام کمانڈروں اورڈائریکٹروں کو ہدایات دیتا ہے کہ تفصیلی بریف تیار کر لیں اور نئے کمانڈر کو پیش کریں۔ پروموشن اور ٹرانسفر جو لازم ہوتے ہیں وہ نئے کمانڈر کی صوابدید پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ نیا کمانڈر فوج کے معاملات میں بہتری کے لیے اپنی سوچ و فکر کے مطابق نئی حکمت عملی بناتا ہے۔ مثلاً: 80 ء کی دہائی میں پہلی دفعہ 1971ء کی جنگ کی شکست کے اسباب پر تفصیلی غور کے بعد ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا اور اس لائحہ عمل پر چین کی مدد سے عمل درآمد ہوااور ترتیب نو عمل میں آئی جس کا تذکرہ میں نے اپنے حالیہ مضمون ’’Strategic Pakistan - China Pivot‘‘ میں کیا ہے۔ اسی محور پر آج CPEC کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ ناقابلِ فہم فیصلہ منسوخ کیا جائے

’’سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے ایک بل منظور کیا ہے جس کی رُو سے کسی غیرمسلم کے 18 سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اسے قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اسلام لانے پر پابندی کا یہ قانون شریعت اسلامیہ اور عدل وانصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی رُو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا ہرگز جائز نہیں ہے، اور اس پر پابندی حق بجانب ہے، لیکن دوسری طرف برضا ورغبت اسلام لانے پر پابندی لگا کر کسی کو دوسرے مذہب پر باقی رہنے کے لیے مجبور کرنا بدترین زبر دستی ہے جس کا نہ شریعت میں کوئی جواز ہے، نہ عدل وانصاف کی رُو سے اس کی کوئی گنجائش ہے۔ اسلام کی رُو سے اگر کوئی سمجھ دار بچہ جو دین ومذہب کو سمجھتا ہو، اسلام لے آئے تو اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلو ک کرنے کا حکم ہے۔ نیز اسلامی شریعت کی رُو سے بچہ 15 سال کی عمر میں، بلکہ بعض اوقات اُس سے پہلے بھی بالغ ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دستور و آئین کا وفادار ہی پاکستان کا وفادار ہے

خطبۂ مسنون کے بعد فرمایا: بزگانِ محترم اور برادرانِ عزیز! اللہ رب العالمین نے ہمیں پے درپے بہت سی خوشیاں عطا فرمائی ہیں۔ شعبان کی نعمتیں عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کے قریب ذرائع بتائے، ثوابوں میں اضافہ کیا، رمضان کی نعمت اور عیدالفطر کی خوشیاں نصیب فرمائیں۔ اس کے بعد شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج کے برکتوں والے مہینوں سے نوازا۔ اب عیدالاضحی بھی ہمیں عطا فرمائی۔ قربانی کی بھی توفیق دی۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس دفعہ کراچی کے لوگوں نے بھی ذرا سکھ اور چین کا سانس لیا، ورنہ تو یہاں دہشت گردوں نے مہاجرین اور غریبوں کے نام پر قبضہ کر رکھا تھا، غریبوں کو لوٹ رہے تھے۔

بھارت مسلمانوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھارہا ہے۔ وہاں مسلمانوں کی طرف سے جو آزاد کی تحریک چل رہی ہے اس کا بدلہ ’’را‘‘ نے اور انڈیا نے اپنے ایجنٹ بھیج کر کراچی کے لوگوں سے لیا۔ ہم پر تباہی مسلط کی۔ آزادی کا خاتمہ کر ڈالا تھا اور خوشیاں نیست و نابود کردی تھیں۔ ہمارے مہاجرین کی تین نسلیں برباد ہوگئیں۔ مہاجرین نے پاکستان بنانے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ سب سے زیادہ قربانیاں دی تھیں۔ ان سب باصلاحیت سمجھ دار اور ذہین لوگوں کو ان ’’را‘‘ اور انڈیا کے ایجنٹوں نے برباد کر ڈالا۔ کراچی جیسے خوبصورت شہر کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وزارت حج کی قابل تحسین خدمات

اس سال موسم حج کے موقع پر وزارت حج اسلام آباد کی مستحسن کارکردگی، عمدہ انتظام اور ہر ہر مقام پر فرض شناسی کے ساتھ عازمین حج کی مخلصانہ خدمت پر ہم وفاقی وزیر مذہبی امور محترم جناب سردار یوسف صاحب اور ان کے مستعد رفقائے کار کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس مقدس عبادت کے دوران حرمین شریفین میں حجاج کرام کی طرف سے ان کو جو دعائیں ملی ہیں وہ ان شاء اللہ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گی۔ کسی سرکاری ادارے کی کارکردگی سے متعلق جب خوشی کی کوئی خبر آتی ہے تو حالات سے دل برداشتہ دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو مایوس کن حالات کی ظلمتوں میں روشنی کی لکیرمحسوس ہوتی ہے۔ امید ہے کہ حسن کارکردگی کا یہ معیار مزید بہتر ہوگا اور ماضی کے بے رحمانہ حالات دوبارہ پلٹ کرنہیں آئیں گے، حالانکہ وطن عزیز کا شاید ہی کوئی محکمہ یا ادارہ ایسا ہو جو بدعنوانی، کام چوری اور خودغرضی کے ملک دشمن جراثیم سے آلودہ نہ ہو، ملک کے طول وعرض میں جس طرف بھی نظر اٹھاکے دیکھو خیانت کے بڑے بڑے ہولناک اسکینڈل آنکھوں میں چبھتے نظر آتے ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔