• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

شیر کی زندگی کا آخری دن

4 مئی 1799ء کا دن بھی عجیب دن تھا... اس دن ’’شیر‘‘ نے اس دنیا سے منہ موڑ لیا... اس نے جان لیا تھا، اس دنیا میں غداروں کے ساتھ کیا جینا... اس سے بہتر ہے، لڑتے ہوئے جان دے دو۔ جی ہاں! ایسا 4 مئی 1799ء کو ہو اتھا... سلطان ٹیپو کے والد نواب حید ر علی نے انگریزوں کے چھکّے چھڑائے تھے... حیدر علی اس وقت پورے میسور کے حکمران بن چکے تھے... جبکہ انگریز مدراس، بنگال اور بمبئی پر قبضہ کرچکا تھا... ایک طرف حیدر علی روز بروز طاقت پکڑتے جا رہے تھے تو دوسری طرف انگریز اپنے قدم جمارہا تھا۔ اس نے حیدرآباد کے حکمران کو اپنے ساتھ ملا رکھا تھا... جیسا کہ آج امریکا مسلمان ملکوں کو اپنے ساتھ ملا لیتاہے... اور ملائے رکھتا ہے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑائے رکھتا ہے اور اپنا اُلّو سیدھا کرتا چلا جاتا ہے... بالکل اسی طرح ان دنوں انگریز یہ کام کر رہا تھا...
جب حیدر علی کو مرہٹوں سے جنگ لڑنا پڑی تو اس نے انگریزوں سے معاہد ہ کیا تھا... انگریز معاہدے کی ر و سے نواب حیدر علی کی مدد کا پابند تھا... مرہٹوں سے جنگ شروع ہونے لگی تو اس نے انگریز کو مدد کا پیغام بھیجا... لیکن وہ تو انگریز تھا... ہمیشہ کا دھوکے باز... معاہدے کی خلاف ورزی کی... کیونکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، اس کی گھٹی میں پڑا تھا... مدد کو نہ آیا... حیدر علی کو تنہا مرہٹوں سے نبٹنا پڑا... تاہم وہ حیدر علی تھے... بے پناہ صلاحیتوں کے مالک..

مزید پڑھیے۔۔۔

الجزائر کے صدارتی انتخابات اور عوام کا مستقبل

الجزائر جہاں 17 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ’’عبد العزیز بوتفلیقہ‘‘ چوتھی بار صدر منتخب قرار پائے۔ تقریباً 4 کروڑ آبادی پر مشتمل عرب افریقی ملک ہے جس کے 99 فیصد باشندے مسلمان ہیں۔ فرانسیسی استعمار سے آزادی کے لیے الجزائری مسلمانوں نے طویل جنگ لڑی۔ 130 برس کی غلامی کے بعد مارچ 1962ء میں مکمل آزادی حاصل کی۔ جہادِ آزادی کی کامیابی مسلمان عوام کے جذبہ ایمانی اور ذوق شہادت کا حاصل تھی، مگر تحریک آزادی کے رہنماؤں نے اسلام کے بجائے ملک میں سوشلسٹ اور آمرانہ حکومت قائم کی۔ احمد بن بیلا اور ھواری بومدین (جسے غلطی سے اکثر ’’حواری بومدین‘‘ لکھا جاتا ہے) کے بعد شاذلی بن جدید فروری 1979ء میں ملک کے صدر بنے۔ انہوں نے دسمبر 1991ء میں ملک میں پہلے عام انتخابات کرائے۔

اس طرح غیروں کی غلامی سے آزادی کے تقریباً 30 سال بعد الجزائر کے لوگوں کو اپنی مرضی سے اپنے نمایندے چن کر ملک میں جمہوری نظام قائم کرنے کا موقع ملا۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں 30 سال سے حکمرانی کرنے والی جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ صرف 15 نشستوں پر کامیاب ہوسکی، جبکہ اس کے مقابلے میں میدان میں آنے والے دینی جماعتوں کے اتحاد اسلامک سالویشن فرنٹ نے 231 میں سے 188 نشستیں جیت لیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔