• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

حصول آزادی کے بعد وطن عزیز کو جس اسٹیبلشمنٹ نے چلایا وہ برطانوی سامراج کے زمانے میں، انگریز کی پروردہ، خودداری، قومی غیرت و حمیت اور دینی اقدار سے عاری رجال کار پرمشتمل تھی جن کے دل و دماغ پر مغربی نظریات و ثقافت کا قبضہ تھا، اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کو دوسروں کا تابع مہمل بنانے کی کوششیں تن دہی سے شرو ع ہوگئیں۔ شروع کے دو چار سال ہی کے دوران اس کے منطقی نتائج سامنے آگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے زیادہ تر ممالک شین، امریکن بلاکوں میں منقسم ہوگئے تھے۔ حالات کی ستم ظریفی اور غلامانہ ذہنیت کی حامل وطن عزیز کی بیوروکریسی نے اس ملک کو مضبوط اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے بجائے امریکا کا تابع مہمل بنادیا۔

یوں یہ ملک فکری، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر استوار نہ ہوسکا۔ مغربی دنیا بشمول امریکا سے امداد کے نام سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، تعاون اور امداد کے نام پر یہ لوگ معاشرے میں، سرکاری اداروں میں اور سیاست میں اس طرح نفوذ حاصل کرلیتے ہیں کہ پالیسی بنانے والے اپنے ملکی و قومی مفاد کے بجائے ’’باہر‘‘ کے مطالبات و خواہشات کو زیادہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ گہرائی تک دخیل ہونے کے بعد کوئی قومی راز یا حکمت عملی کے محرکات ان طاقتوں سے خفی نہیں رہ سکتے۔ پچھلے 70 سال سے یہی کھیل جاری ہے۔ یہ صورتحال کی المیہ سے کم نہیں کہ پاکستان ہر طرح کا اتحادی بن جانے کے باوجود نہ تو ٹیکنالوجی میں ترقی کرسکا اور نہ کسی آزمائش کے موقع پر کسی مغربی طاقت سے کوئی موثر مدد حاصل کرسکا۔ سابق مشرقی پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کا معاملہ ہو، کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو، دریاؤں کے پانی روکنے اور لائن آف کنٹرول پر آئے دن جارحیت کے اشتعال انگیز واقعات ہوں پاکستان کے لیے زبانی حمایت کی بھی کوئی خبر نہیں آتی۔


جبکہ یہاں فرمان برداری اور محکومانہ ذہنیت کی حالت یہ ہے کہ سابق مطلق العنان حکمران پرویز مشرف نے افغانستان پر حملہ کرنے اور طالبان کی حکومت کو ملیا میٹ کرنے کے لیے ایک مختصر ٹیلیفون کال پر ہر طرح کے لاجسٹک وسائل امریکا کے سامنے ڈال دیئے۔

آج اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے پچھلے 70 سال کے دورانیہ میں امریکی سر پرستی کا جائزہ لیا جائے تو ملکی و قومی سطح پر کوئی ایسا کام یا کمال نظر نہیں آتا جو کسی امریکی تعاون کا ثمرہ ہو، بلکہ اس ’’سرپرستی‘‘ نے جہاں ملک کی ثقافت اور سیاست کو بگاڑا ہے اور ملکی عوام کے جذبات و احساسات کے علی الرغم یہاں آزادی اور بشری حقوق کے خوشنما نعروں اور لبرل ازم کی تحریک کے ذریے معاشرے میں لادینیت کے جراثیم کاشت کیے ہیں، وہاں میڈیا اور تعلیم میں نفوذ حاصل کر کے ’’امریکا‘‘ اس ملک کو فکری اور نظریاتی افراتفری کی راہ پر ڈالنے میں بھی خاصی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ یوں تو امریکی انتظامیہ، پالیسی ساز ادارے اور تھنک ٹینکس سب ایک ہی فکر ونظر کے دائرے میں سرگرم عمل ہیں اور ان سب کا قدر مشترک اسلام اور مسلمانوں سے عناد کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں ہے۔ پچھلے چند سالوں میں عراق، لیبیا، سوریا اور افغانستان کے خلاف جارحیت نے تباہی مچا کر ان ممالک کو کس قدر اجاڑا ہے، جبکہ سینہ زوری اور جارحیت کا عالم یہ ہے کہ حال میں ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا باضابطہ دار الحکومت قرار دینے اور وہاں اپنا سفارتخانہ کھولنے کے اعلان سے جہاں فلسطینیوں کے انسانی حقوق غصب کیے ہیں، وہاں اس سے عالمی سطح پر بھی مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ہر جگہ کا مسلمان اسے امریکی انتظامیہ کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں سے عناد قرار دیتا ہے۔ فریب خوردہ مسلمانوں کی بھول ہے کہ وہ امریکا سے خیر کی امید رکھتے ہوں۔ قرآن کریم میں 14 سو سال پہلے بتلایا گیا ہے کہ یہود اور نصاریٰ بھی مسلمانوں سے مسلمان رہتے ہوئے راضی نہیں ہوسکتے جب تک کہ ان کا دین و نظریہ نہ اپنایا جائے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 120 کا ترجمہ ہے: ’’ اور یہود و نصاری تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ ‘‘

بیت المقدس سے متعلق اس اعلان کے بعد سال نو 2018ء کے آغاز پر ٹرمپ کی ٹویٹ کا عالمی سطح پر چرچا ہے جس میں پاکستان کو دھمکایا گیا ہے۔ پھر ٹرمپ کے بعد دیگر ذمہ داران کی طرف سے بھی وہی زبان استعمال کی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ذمہ داران بھارتی سرکار کی زبان بول رہے ہیں، چنانچہ اس طرزِ عمل پر بھارتی ذرائع ابلاغ پر جشن کا سماں ہے۔

صورت حال خاصی گھمبیر ہے اور نہیں کہا جاسکتا کہ پردہ غیب میں کیا ہے، لیکن زیرنظر حالات میں حکومت اور قوم کو پوری بصیرت اور عاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس موقع پر قومی اتفاق و اتحاد ناگزیرضرورت ہے۔ کیا بعید ہے کہ اس موقع پر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں، ناعاقبت اندیشانہ طرزِ عمل اور بے سوچے سمجھے اندھے تعلقات کے انجام بد کا گہرائی سے جائزہ لے کر اپنا قبلہ درست کرسکیں۔ یہاں قدم قدم پر قریب ودور کے دشمنوں نے ’’ریمنڈ ڈیوس‘‘ اور ’’کلبھوشن یادو‘‘ جیسے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو معاشرے میں پھیلادیا ہے، جو اس ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کسی بھی حرکت سے دریغ نہیں کریں گے۔ جگہ جگہ، خاص طور پر بلوچستان میں خودکش دھماکوں اور بدامنی کے دیگر واقعات تسلسل کے ساتھ ہورہے ہیں۔ 70 سال نشیب و فراز سے جو سبق ملے ہیں ان کے تناظر میں ہمیں اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینی چاہیے۔ ملک کے حساس ادارے، ملکی نظم و نسق و سلامتی سے وابستہ رجال کار اور سیاست سے متعلق ارباب فہم و دانش کو قومی زندگی کے اہداف پر مشتمل ایک ایسے بیانیے پرمتفق ہوجانا چاہیے جس کو ملک کا ہر باشندہ اپنا نصب العین بنائے۔ سرکاری و ریاستی اداروں کی ہر طرح کی سرگرمی میں اس بیانیہ کی روح کارفرما ہو، اللہ نہ کرے کہ آنے والے حالات ملک و قوم کے لیے گھمبیر اور صبر آزما ہوں تاہم ان حالات میں ایک طرف اگر دینی و قومی حمیت اور خودداری ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ بصیرت، حالات کا درست اندازہ اور دشمن و بدخواہ کے شر سے بچنے کے لیے مدبّرانہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ ***