• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر نے وحدت کا مظاہرہ کیا اور آج تک کر رہے ہیں۔ اب جمہوری راستے سے ہم نے ملک میں اسلام لانا ہے، اب تمام دینی قوتیں یکجا ہوکر آگے بڑھیں گی تو ہاتھ پھر ریاست کے گریبان پر پڑے گا۔ ریاست بہت ہوشیار ہے، ریاستی ادارے بہت ہوشیار ہیں، ایسے حالات پیدا کر لیتے ہیں کہ اسلام کی بات کرنے والے اپنی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں تاکہ مجتمع ہو کروہ ریاست پر دباؤ نہ ڈال سکیں تو یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے، ہم بھی سوچیں اس بات پر کہ ہم آپس میں کیوں لڑرہے ہیں، کیوں تشدد کی طرف جاتے ہیں، اسلام تو ہمیں اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے، قرآن کریم ہماری تعلیمات کا منبع ہے جو ہمار ے اندر اترتا ہے اور ہمیں انسان بناتا ہے، وہ تو مجھے اعتدال کی امت کہتا ہے، وَکَذَالِکَ جَعَلنَاکْم اُمَّۃً وَّسَطًا تو پھر میرے قرآن سے وابستگی کو شدت پسندی سے کیوں تعبیر کیا جارہا ہے، ہم اعتدال والے ہیں۔ تجزیہ میں فرق ہوسکتا ہے، جب تک میں مذہب کی بات کروں گا، دین کی بات کروں گا، میری طرف نسبت ہوگی یہ بڑے شدت پسند ہیں، ملا لوگ بڑے سخت ہوتے ہیں، لیکن تجزیہ شاید صحیح نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں جو لبرلز ہیں وہ بالکل پانی اور مائع ہوچکے ہیں، ان کو ہم کہتے ہیں کہ آپ بہت ہی پگھل گئے ہیں ان کے سامنے، تم ذرا اپنے اندر سختی پیدا کرو ہم ذرا پنے اندر نرمی پیدا کریں، خیر خیریت سے ملک چلے گا ایک صف میں آجائیں گے سارے لوگ۔


َِآپ تو عالمی قوتوں کے مقابلے میں پانی بن جائیں اور خود پانی ہو کر میرے اعتدال کو شدت سے تعبیر کریں، پھر یہ انصاف کا تقاضا نہیں ہوگا تم بھی پانی مت بنو، مت جھکو اتنا آگے ٹرمپ جیسا آدمی آپ کی گردن پر سوار ہو جائے، اب عقلمند آدمی کو تو جوب دیا جا سکتا ہے، ٹرمپ کا کیا جواب دوگے۔

اس قسم کی دنیا سے ہمار اواسطہ ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ جس طرح دعوت حکمت کا تقاضاکرتا ہے ’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَۃِ وَالمَوعِظَۃِ الحَسَنَۃِ وَجَادِلھُم بِالَّتِی ھِیَ اَحسَنُ‘‘ حکمت کے ساتھ دعوت دیا کرو، خوبصورت لب ولہجہ کے ساتھ دعوت دیا کرو، شائستہ انداز کے ساتھ دعوت دیاکرو اور کبھی بحث و مباحثہ کا مسئلہ بھی پیش آجائے تو بھی احسن و شائستہ انداز گفتگوکے ساتھ۔

بین المذاہب مکالمہ کے تصور کی سب سے پہلے ہم نے حمایت کی، ہم بین المذاہب مکالمے کے حق میں ہیں، لیکن بین المذاہب مکالمہ پر امن ماحول چاہتا ہے۔ آپ نے میرے سر پر تلوار لٹکائی ہوئی ہے، آپ میری گردن کو بھی مار رہے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ مذاکرہ بھی کرو، مکالمہ بھی کرو، میرے سر کے اوپر جنگ کے بادل ہیں، بارود برس رہا ہے، ہماری عورتیں،ہمارے بچے مر رہے ہیں، پور ی دنیا میں ا س کا خون بہہ رہا ہے، آپ میرا خون بھی بہاتے رہیں، اور آپ مجھے مجبور بھی کریں کہ آؤ میرے ساتھ مباحثہ کرو، ہاں ہم مباحثے کے لیے تیار ہیں، آپ بھی تو جنگ بند کر دیں۔ اور میں ریاست کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں، امن وامان ہمارا داخلی مسئلہ ہے۔ وزیر داخلہ تشریف فرما ہیں۔ روز اول سے ہم یہ موقف دے رہے ہیں، جب2001ء میں عالمی اتحاد کا حصہ بننے کی بات کی جار ہی تھی، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پاکستان کو اس دلدل میں مت ڈالو، امن وامان داخلی مسئلہ ہے، ہم پاکستان کے اندر ان عناصر سے نمٹ سکتے ہیں، لیکن بین الاقوامی جنگ کا حصہ بننے کے بعد اس جنگ کو افغانستان کی حدود تک نہیں رکھ سکیں گے۔ پڑوس میں آگ لگ جائے تو اس کو ٹھنڈ اکرنے کے لیے پانی ڈالا جاتاہے، ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں برپا ہونے والی جنگ پر تیل چھڑکنا شروع کیا،جس کے شعلے پاکستان میں داخل ہو گئیاور آج ہم ا س سے نبرد آزما ہیں، اپنی پالیسیوں پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ہماری پالیسی واضح ہے، جو لوگ ہماری ریاست کو نہیں مانتے وہ تنہا ہیں، ان کو تنہا کرنا پڑے گا، آج کے اس اجتماع میں بھی وہ تنہا ہیں، لیکن ریاست کی سطح پر بھی کئی غلطیاں ہوئی ہیں، ا س کے ازالے کے لیے بھی ہم نے بولڈ فیصلے کرنا ہوں گے، پالیسی اسٹیٹمنٹ دینا ہوگی ہمیں، ہم اس طرح پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنا چاہتے ہیں، مملکتیں امن سے چلتی ہیں۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سلوا اﷲ العافیہ‘‘ اللہ سے عافیت طلب کرو۔’’ولا تتمنوا لقاء العدو‘‘ دشمن کے ساتھ آمنا سامناکرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ جنگ کی خواہش نہ کیاکرو۔’’واذا لقیتم فاثبتوا‘‘ ہاں اگر مقدر سے مڈبھیڑ ہوجائے، پھر بزدلی نہ دکھاؤ، ڈٹ جاؤ۔ تدریج کے ساتھ بتلایا گیا۔ پہلی چیز عافیت ہے، جنگ کی تمنا کبھی نہ کیا کرو اور اگر جنگ درپیش ہو جائے تو پھر ڈٹ جایا کرو۔ میں نے کئی مرتبہ علمائے کرام کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ جہاد ایک فریضہ شرعی ہے اور جہاد کرنے کا کتنا اجر و ثواب ہے اور ساری چیزیں اپنی جگہ،لیکن جہاد کا میدان بڑا وسیع ہے، صرف بندوق اور وہ بھی اپنی ریاست کے ساتھ، پھر اس کو جہاد کہنا، اس سے علمائے کرام اتفاق نہیں کرتے آپ کے ساتھ، اس حوالے سے کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ آپ کو جو وسائل ریاست مہیا کرتی ہے، آئین مہیا کرتا ہے اس میں جو آپ کے بس میں ہے، آپ وہ کرتے جائیں، اس سے آگے مت جائیں۔ آپ جلسے کریں، جلوس نکالیں، پارلیمنٹ میں جائیں، نظریہ پیش کریں، بحث کریں وہاں پر۔ اس اعتبارسے اصل چیز ہے امن۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام جو شرک کے خلاف لڑتے رہے، بتوں کوتوڑتے رہے، اس پاداش میں آگ میں پھینکے گئے، لیکن جب امامت کبریٰ ملی: واذابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن اللہ تعالیٰ امتحانات لیتے اور آپ اس میں کامیاب ہوتے۔ قال انی جاعلک للناس اماما اب انسانیت کے امام بن گئے، امر اجتماعی آپ کے ہاتھ میں آگیا، آپ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کا زاویہ دیکھیں، واذ قال ابراہیم رب اجل ھذا البلد آمنا کرہ ارض کے سب سے بڑے موحد، شرک کے خلاف سب سے بڑے مجاہد، لیکن جب امر اجتماعی کی ذمہ داری آئی تو فورًآپ نے کہا: رب اجل ھذا البلد آمنا وارزق اھلہ من الثمرات اب آپ امن کے بھی خواہش مند ہیں اور اقتصادی خوشحالی کے بھی، ریاستیں امن سے چلتی ہیں، ریاستیں اقتصادی خوشحالی سے چلتی ہیں، اپنے وسائل کو کب ہم استعمال کریں گے تاکہ ہم دنیا کی حاجتوں سے بے نیاز ہوں، ہم کرہ ارض پر اللہ کے نائب ہیں، تو جب اللہ ایک ہے تو اس کی نیابت کا تقاضا ہے کہ مومن ایک رہے، اگر اللہ بے نیاز ہے تو اس کی بے نیازی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں، ان کی مدد اور قرضوں سے بے نیاز ہو جائیں، ان تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ریاستوں کو خود انحصاری کے لیے منصوبے بنانے چاہئیں۔

5،6 سال پہلے کی بات ہے، غالباً میں بنوں میں تھا، رات کو سویا ہوا تھا، خواب میں حضرت آدم علیہ السلام سے فون پربات کررہا ہوں اور حضرت آدم مجھے فرماتے ہیں تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں امن چاہتا ہوں، اس کے بعد لائن کٹی نہیں، لیکن خاموشی کاایک وقفہ ہوگیا، میں سوچتا ہوں میں کچھ کہوں گا تو بے ادبی ہوگی، خاموش مسلسل رہوں تولائن کٹ جائے گی تو میں نے سلام عرض کیا، فرمایا: انتظار نہیں کرسکتے؟ انتظار تو کررہے ہیں ہم، ابا نے کہہ دیا انتظا ر کرو تو اس انتظار کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہے، اتفاق رائے سے بڑھنا ہے، ہماری روح امن مانگتی ہے، اس لیے ریاست نے جب امن کے قیام کے لیے فوج اور اداروں کو میدان میں اتارا، ہم نے سپورٹ کیا کیونکہ امن چاہتے ہیں، حکمت عملی میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن ریاست مقدم ہے، جب اس نے فیصلہ کیا ہم نے پیروی کی، لہٰذ اعلمائے کرام اس بات پر بھی غور کریں کہ ریاست کی اپنی شرعی حیثیت کیا ہے، ریاست کی حاکمیت، اس کی اطاعت کا تصور کیا ہے اور اس پر اپنے نوجوانوں کو تعلیم دی جائے تاکہ اس کی اہمیت کو سمجھیں ریاست کے وفا دار رہیں، ریاست کی اطاعت کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریاست کے ساتھ وفادار رہنے، پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین