• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

’’ٹرمپ کی سکیورٹی اسٹرٹیجی ایک خطرناک منصوبہ ہے جسے کسی طرح بھی قومی سکیورٹی اسٹرٹیجی نہیں کہا جا سکتا یہ محض ہرزہ سرائی ہے۔ ‘‘ راجر کوہن ٹرمپ کی یہ سکیورٹی حکمت عملی دراصل ان کے ’’امریکا پہلے‘‘ کے نعرے سے عبارت ہے ۔ یہ جنون ان کی شخصیت پرحاوی ہے جس کی عکاسی ان کی مندرجہ ذیل قومی پالیسی سے ہوتی ہے جس کے اہداف یہ ہیں: قومی اقداروطرز زندگی کا تحفظ، امریکی وقار کی ترویج، طاقت کے بل بوتے پر امن کا قیام دنیا بھر میں امریکی اثر ورسوخ کو وسعت دینا اور بھارت کو چین کا ہم پلہ بنانا مقصود ہے۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر ٹرمپ کی قومی سکیورٹی اسٹریٹیجی وضع کی گئی ہے جس کا خصوصی ہدف فلسطین، افغانستان، ایران، چین، شمالی کوریا اور پاکستان ہیں۔

 

فلسطین: بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ ٹرمپ 1917ء میں جاری ہونے والے بالفور اعلامیے کا صد سالہ جشن منا رہے ہیں، جس کا اعلان حکومت برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران یہودیوں کی سلطنت کی خاطر عثمانیہ کے علاقے فلسطین کو یہودی عوام کا وطن قرار دیا تھا۔ اس اعلامیے کے الفاظ یہ تھے: ’’شہنشاہ برطانیہ کی حکومت، فلسطین کو یہودیوں کا آبائی وطن قرار دینے کی حامی ہے ۔ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس ہدف کو حاصل کرے گی۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ جس طرح یہودیوں کے حقوق اور سیاسی مقام کا خیال رکھا جائے گا۔ اسی طرح فلسطین میں پہلے سے آباد غیر یہودی عوام کے مذہبی و معاشرتی حقوق کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔‘‘ ٹرمپ کی اس حکمت عملی کے سبب فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل دو ریاستوں کے قیام کے امکانات ختم ہو گئے ہیں جس کے اثرات خطرناک ہوں گے۔ پورے مشرق وسطیٰ کو نئے خطرات کا سامنا ہو گا۔ اسی طرح 2001ء میں شروع ہونیوالے پہلے کروسیڈکے تحت مسلم ممالک کی تباہی و بربادی کا سامان مہیاکیا ہے۔ اب دوسرا کروسیڈ شروع کیا جارہا ہے جس کا اولین ہدف فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ہیں

اور پوری دنیا میں طاقت کے بل بوتے پرامریکی اثرورسوخ کومسلط کرنا ہے۔ فلسطین میں قیام امن کے امکانات اب انتہائی معدوم ہیں کیونکہ عرب دنیا کی دلچسپی شام، عراق اور داعش کی جانب تبدیل ہوچکی ہے ۔ وہ عرب انقلاب کی تباہی و بربادی سے بچنے کے اقدامات میں مصروف ہیں۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی بجائے مکمل طور پر اسرائیل کی طرفداری کر رہا ہے جس کا مقصد پورے علاقے پر بالادستی حاصل کرنا ہے۔ افغانستان: امریکا کو 2010ء میں افغان جنگ میں شکست ہوئی تو انہوں نے رچرڈ آرمٹیج کو میرے پاس بھیجا تاکہ افغان طالبان کو بات چیت پر آمادہ کیا جا سکے، لیکن طالبان 1990ء کی طرح دھوکے میں آنیوالے نہیں تھے، انہوں نے شرط رکھی کہ بات چیت کا عمل شروع کرنے سے پہلے قابض فوجیں افغانستان سے مکمل طور پر نکل جائیں، لیکن بتدریج ہزیمت اٹھانے اوراپنی حیثیت کھونے کے باوجود امریکا افغانستان میں اپنی شکست کے داغ دھونے کے لیے سازشوں میں مصروف ہے جس سے درپردہ داعش کو تقویت مل رہی ہے جو پورے خطے کے ممالک کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ وہ پاکستان کو بھی دھمکا رہا ہے کہ افغانوں کی مزاحمت کو کچلنے کے اقدامات کرے تاکہ’’بھارت کو چین کے مدمقابل قوت بنایا جا سکے‘‘ اور انڈو ایشین منصوبے کی تکمیل کر کے افغانستان سے بنگلہ دیش تک بھارت کی بالادستی قائم کی جا سکے اور’’طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کیا جائے۔ ‘‘

ایران: 1980ء سے لے کر آج تک امریکا، ایران کو خطے کے ممالک کے لیے زبردست خطرے کے طور پر بدنام کرتا رہا ہے لیکن اسکے برعکس طرح طرح کی تجارتی واقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران ایک مضبوط قوت بن کر ابھرا ہے جس سے امریکا کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر مجبور ہونا پڑا، لیکن صدر ٹرمپ اب اس معاہدے کو ’’اب تک طے پانے والا سب سے بدترین معاہدہ ‘‘ قرار دے رہے ہیں ۔ ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کو تیار نہیں بلکہ دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ ہے کہ’’دو دہائیوں سے جاری سخت گیر ایرانیوں سے معاملات طے کرنے کابہترین راستہ یہ ہے کہ اس معاہدے کو پھاڑکے پھینک دیا جائے۔ ‘‘ ٹرمپ معاہدے کو تو پھاڑ سکتے ہیں لیکن وہ ایرانی عوام کے عزم و استقلال اور قومی اعتماد کو شکست دے کر ’’طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کرنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘

چین: ٹرمپ نے چین کو ’’تزویراتی مد مقابل‘‘ کا نام دیا ہے۔ چین کے ساتھ ہاتھ ملانے اور علاقائی تعاون کے ذریعے قیام امن کی حکمت عملی پر ان کا ساتھ دینے کی بجائے امریکا بھارت کو چین کی ابھرتی ہوئی عسکری اوراقتصادی طاقت کے ہم پلہ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جبکہ بھارت کی اوقات یہ ہے کہ وہ اب تک پاکستان کوابھرنے سے روک نہیں سکا تو وہ چین کومحدود کرنے کی ذمہ داری کس طرح پوری کر سکے گا۔ کہا گیا ہے کہ ’’بھارت کی مدد کرنے کے لیے امریکا بھرپور طور پرتیار ہے۔‘‘ یقیناایک زوال پذیر سپر پاور سے اس سے زیادہ اور کچھ کرنے کی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔ شمالی کوریا: ایٹمی ہتھیاراستعمال کرنے کی محدود صلاحیت کے باوجود شمالی کوریا نے امریکا کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکا جو ہزاروں ایٹمی ہتھیاراور موثر طور پراستعمال کرنے اور فضائی قوت کی صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ شمالی کوریا پر کسی قسم کا دباو ڈالنے میں ناکام ہے ۔ بے بسی کے عالم میں چین سے امید لگائے بیٹھا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے سربراہان کوقائل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، لیکن شمالی کوریا اور افغانستان کے معاملات میں ناکامی نے اکلوتی سپر پاور امریکا کی طاقت کی قلعی کھول دی ہے۔

پاکستان علاقائی تصادم کے مرکزمیں واقع ہے۔ ہمیں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطرانتہائی احتیاط سے قدم اٹھانا ہے جس کے لیے منتخب پارلیمان کے تعاون اور عوام کی مدد کے ساتھ ساتھ ایران، افغانستان اور پاکستان کے مابین علاقائی اتحاد کا قیام ضروری ہے، جسے چین اور روس کی حمایت سے مزید تقویت ملے گی۔ پاکستانی قوم میں ایرانی قوم کی طرح جذبہ مزاحمت اور دباو کو مسترد کرنے کا حوصلہ موجود ہے جو ہمارے ہمسایہ کی عظیم تہذیبوں کی قدروں سے عبارت ہے۔ ان کے ساتھ ہماری سرحدیں ہی نہیں بلکہ سوچ و فکر بھی مشترک ہیں۔ مرحوم لیاقت علی خان کے بقول پاکستان ایشیا کا دل ہے۔ اب ہمیں اپنے قول و فعل سے اس عظیم ورثے کا حق دار ثابت کرنابرحق ہے۔

عالمی اسلامی کانفرنس (OIC) کاہنگامی اجلاس مسلم ریاستوں میں خاطر خواہ سنجیدگی پیدانہیں کرسکا۔ صرف چند سربراہان مملکت نے اس اجلاس میں شرکت کی جوعالم اسلام میں اتحاد کے فقدان کی آئینہ دار ہے۔ ایران اور ترکی کے علاوہ کسی بھی ملک نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ خصوصا عرب دنیا، عوامی انقلاب کی وجہ سے گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ خطے میں پھیلی اس مایوسی سے امریکا اور اسرائیل نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے عوام کے سول اور مذہبی حقوق کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال پورے عالم اسلام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سازش کے تحت امریکا اور اسرائیل عرب علاقوں کی قیمت پرعظیم تراسرائیل کے ایجنڈے کو وسعت دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں جس کے سبب مشرق وسطی کا نقشہ بدل جائے گا، لیکن امید ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جس بھاری اکثریت سے ٹرمپ کی پالیسی کیخلاف ووٹ دیا ہے وہ امریکا اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کو آگے بڑھنے سے روک دے گی۔