• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

امریکا اور یورپ میں میمیں یعنی گوریاں اپنے کتوں کو باقاعدگی سے نہلاتی ہیں، کھلاتی پلاتی اور ٹہل سیوا کرتی ہیں۔ یہ فقرہ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خدشے نے جنم لیا، لیکن میں نے اسے جھٹک دیا۔ خدشہ یہ تھا کہ میرے کچھ مہربانوں کے دل میں یہ فقرہ پڑھ کر ہوک سی اٹھے گی اور ان کے لبوں سے سرد آہ ٹپکے گی۔ ……!! وہی ہوا۔ دو حضرات نے اس کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم سے تو امریکی اور یورپی کتے ہی اچھے رہے جنہیں گوریاں نہلاتی اور لاڈ پیار سے رکھتی ہیں۔ میں ان کی حسرت ناتمام کا حال پڑھ کر مسکراتا رہا کہ غالب نے خوب کہا ہے۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ اس شعر کا یہ مصرعہ بھی غور طلب ہے کہ بہت نکلے میرے ارماں، لیکن پھر بھی کم نکلے۔ زندگی لامتناہی اور نہ ختم ہونے والے ارمانوں، خواہشات، تمنائوں اور خوابوں کا سلسلہ ہے۔

غریب سے لے کر امیر تک، حاکم سے لے کر محکوم تک اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک سبھی اپنی بہت سی خواہشوں اور ارمانوں کو سینے میں دبائے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ دراصل زندگی اک آس کانام ہے، سینے میں آرزو کے سلگنے کا نام ہے اور آرزو ہی جینے کا آسرا ہوتی ہے۔

جب آرزو، ارمان، امید اور آس ختم ہو جائے تو انسان زندہ رہنے کے باوجود زندہ نہیں ہوتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صوفیاء اور اولیاء کرام، اللہ کے دوست، اپنے باطن کو آرزئوں اور خواہشات سے پاک کرلیتے ہیں اور ان کے قلب خواہشات سے خالی ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ پاک کے دوستوں اور پیاروں کے قلب ہر قسم کی دنیاوی خواہشات اور ہوس و حرص سے پاک اور صاف ہو تے ہیں کیونکہ قرب الٰہی کے حصول کے لیے یہ پہلا قرینہ اور پہلی شرط ہے، لیکن میرا ادراک یہ کہتا ہے کہ ان کے باطن میں بھی خواشاہت دھڑکتی رہتی ہیں اور وہ خواہشات ہوتی ہیں قرب الٰہی کی، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور روحانی درجات کی بلند منازل طے کرنے کی، جبکہ دنیا داروں کے دلوں میں دنیاوی خواہشات، دنیاوی ہوس و حرص کم و بیش ڈیرے ڈالے رکھتی ہیں۔ مطلب یہ کہ زندگی آرزو، خواہش، تمنا اور کچھ حاصل کرنے کا نام ہے اور یہ سلسلہ زندگی کے آخری سانس تک جاری رہتا ہے حتیٰ کہ ہر انسان بے شمار، ناتمام خواہشات اور تشنہ آرزئوں کو سینیمیں دبائے موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ ایک روحانی بزرگ کہا کرتے تھے کہ دنیا داروں کی خواہشات موت کی مٹی میں مل کر مٹی بن جاتی ہیں، لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پیارے موت کے بعدبھی روحانی منازل طے کرتے رہتے ہیں۔

بہرحال مجھے کیا پتہ۔ میں نے توسنی سنائی بات لکھ دی ہے کہ بعض سنی سنائی باتیں لکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ رہا خواہشات، تمنائوں اور آرزئوں کا احوال تو اس کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک آرزو اور تمنا تھی سرسید، اقبال اورقائد اعظم کی، ایک خواہش تھی مولانا عبدالستار ایدھی کی اور ایک خواہش تھی پاکستان کے صنعتکاروں اور بنکاروں کی اور اسی طرح بہت سے صنعت کاروں، تاجروں، سیاستدانوںاور مالکان وغیرہ وغیرہ کی۔ ان خواہشات میں فرق واضح ہے۔ کچھ خواہشات اور خواب تاریخ کا حصہ بن کر ابد تک روشنی کا مینار بن جاتے ہیں اور کچھ خواب محض ایک یاد کا روپ دھار کر برف کی مانند پگھل جاتے ہیں، جبکہ بہت سی خواہشات حرص و ہوس بن کر مٹی میں مل جاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ جو خواہشات اور خواب خلق خدا کی خدمت کے لیے وقف ہو اور اس میں اپنی ذات، اپنی ہوس کا عمل دخل نہ ہو وہ تاریخ بن جاتا ہے اور قومی زندگی کا روشن مینار بن کر آیندہ نسلوں کی راہیں منور کرتا رہتا ہے اور جو خواہش، خواب اور تمنا اپنی ذات پرستی، دنیاوی ہوس اور لالچ کا شاخسانہ ہو وہ زندگی بھر انسان کوبے چین اور بے قرار رکھتی ہے اور پھر مٹی میں مل کر فنا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس خلق خدا کی خدمت اور قوم و ملک کی خدمت کے خواب، بے لوث خواہشات اور تمنائیں انسان کے لیے قلبی سکون و راحت کا سامان بنتی ہیں اور یہ ہوتا ہے دراصل انعام الٰہی۔ یعنی یہ سکون اور قلبی اطمینان اللہ پاک کی طرف سے اجر ہوتا ہے اس کی مخلوق کی بے لوث خدمت کا کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے ماں کی نسبت ستر گنا زیادہ پیار ہے اس لیے اللہ پاک اپنی مخلوق کی خدمت کرنے والوں کوپسند کرتے ہیں انہیں دنیا میں بھی نوازتے ہیں اور آخرت میں بھی نوازیں گے، لیکن جس شخص کی دولت، مرتبے اور وسائل سے مخلوق خدا کو فائدہ نہ پہنچے اور یہ سب کچھ صرف اس شخص کی ہوس و حرص کا سامان تسکین ہو وہ اس مقام و انعام سے محروم رہتا ہے۔ فنا ہوس و حرص کو ہے اور بقاء خدمت کو۔ خدمت چھوٹی ہو یا بڑی اسے انسان کے خلوص کے حساب سے اجراور مرتبہ ملتا ہے اصلی سچے اور مخلص خادم نمود و نمائش سے بچنے کی کوششیں کرتے ہیں اور اجر کی تمنا مخلوق خدا سے نہیں، بلکہ صرف اپنے رب سے رکھتے ہیں۔ یاد رکھیے! اللہ پاک سب سے عظیم منصف ہیں یعنی انصاف کرنے والے ہیں اس لیے جو کام صرف اور صرف اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کے لیے کیا جائے، اس میں دنیاوی پہلو کی جھلک موجود نہ ہو وہ اللہ پاک کے ہاں بلند درجہ اور مرتبہ پاتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ کو ئی کام صرف اپنے رب کی رضا کے لیے کریں اور اس کے اجر سے محروم رہیں اسی طرح جو کام دنیاوی مفادات، نمود و نمائش یا معاشرتی عزت و احترام کے لیے کیا جائے اس کا اجر اسی صورت میں اس دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ بھلا! رب سے بہتر نیتوں کا حال کون جانتا ہے!!

معاف کیجیے گا بات دور، بلکہ بہت دور نکل گئی۔ ذکر ہو رہا تھا کتوں کا اور قلم آرزئوں، خواہشات، حرص و ہوس اور خوابوں کی وادیوں میں بھٹکنے لگا۔ یہاں تک لکھ چکا ہوں تو مجھے کچھ صوفی شعرا اور صاحبان باطن و نظر یاد آ رہے ہیں جنہوں نے کتے کے ہمہ وقت کھلے منہ اور باہر لٹکتی زبان کو شہوت سے تشبیہ دی ہے۔ یہاں شہوت سے مراد شراب و کباب اور جنسی شہوت، دولت کی شہوت، مرتبے و شہرت اور ہر قسم کی دنیاوی ہوس کی شہوت، کھانے کی شہوت وغیرہ وغیرہ مراد ہے۔ صوفیاء ان شہوتوں کو کتے کے کھلے منہ اور لٹکتی زبان سے تشبیہ دے کر کہتے ہیں کہ ایسی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں، ان کی آگ ہمیشہ جلتی ہی رہتی ہے اور ہر دن تیز تر یا دوآتشہ ہوتی رہتی ہے۔ ہاں ان میں ایک فرق قابل ذکر ہے۔ کتا جانور ہے حرام حلال کی تمیز نہیں رکھتا، ہر کھانے والی چیز پر جھپٹتا ہے، لیکن کتا کبھی بھی مردہ کتے کا گوشت نہیں کھاتا۔ انسان اس حوالے سے کتے کے مقام سے بھی نیچے گر جاتا ہے جب وہ انسان کا گوشت کھاتا ہے، مردے کی توہین کرتا ہے، یتیم اور بیوہ کا مال کھاتا ہیوغیرہ وغیرہ۔ ہوسکتا ہے غیبت بھی اسی کیٹگری کا حصہ ہو کیونکہ غیبت بھی مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ مطلب یہ کہ انسان بے شک اشرف المخلوقات ہے، اعلیٰ ترین مخلوق ہے اور بلاشبہ انسان زمین کا حکمران اور خلیفہ ہے اور چاند، ستاروں اور آسمانوں پر کمندیں ڈال رہا ہے، کیونکہ اللہ پاک نے کائنات کو انسان کے لیے مسخر کردیا ہے، لیکن محض خصلتوں کے حوالے سے کتا بعض انسانوں سے بازی لے جاتا ہے اگرچہ انسان اور حیوان کا کوئی موازنہ و مقابلہ نہیں ہوسکتا، لیکن بات ہورہی تھی خصلتوں، عادات اور کردار کی۔ یہ موازنہ بھی اسی حوالے سے ہے جس کا اطلاق انسانوں کی ایسی قسم پر ہوتا ہے جو اپنی حرکات اور اعمال کے سبب جانوروں کی سطح پر اتر آتی ہے یا اس سے بھی نیچے گرجاتی ہے۔