• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نماز کے بعد کی منقول ہے: اللّٰھُمَّ لَامَانِعُ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَایَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
کہ یااللہ! آپ جو چیز کسی کو دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور جو چیز کسی سے روکنا چاہیں تو کوئی دے نہیں سکتا اور کوئی کتنا ہی بڑا صاحبِ منصب ہو منصب اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔ تو اللہ تعالیٰ دِکھاتے ہیں۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے قلم ہاتھ میں ہے، لکھنے کا شوق بھی ہے اور اس میں دل بھی لگتا ہے۔ دلچسپی بھی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی کے نتیجے میں ہزارہا صفحات لکھوادیے، لیکن اب حال یہ ہے کہ چند سطریں لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں تو ہمت نہیں ہوتی۔ تو اللہ تعالیٰ دکھارہے ہیں کہ تمہیں کوئی ناز نہ ہو کہ ہم نے یہ لکھ دیا اور ہم نے وہ لکھ دیا، ہم نے فلاں تصنیف کردی اور ہم نے فلاں تالیف کرلی، ہم نے فلاں کارنامہ انجام دے دیا۔ جو کچھ تھا ہماری عطا تھا اور جو کچھ ہے ہماری عطا ہے، جب چاہیں عطا کردیں، جب چاہیں چھین لیں۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے

جس کا ادراک ہر مسلمان کو کرنا چاہیے کہ اپنی کسی بھی صفت پر، اپنے کسی بھی علم پر، اپنی صحت پر، اپنے قوت پر، اپنی کسی بھی قابلیت پر کوئی ناز نہ ہو، بلکہ شکر ادا کریں۔ اگر کسی کام کی توفیق ہوگئی ہے تو اس کا کام یہ ہے کہ شکر ادا کریں کہ یااللہ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے یہ توفیق عطا فرمائی۔

اللّٰھُمَّ لَوْ لَا أَنْتَ مَااھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
اے اللہ! آپ کی توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ حاصل کرسکتے، نہ صدقہ کرسکتے، نہ نماز پڑھ سکتے، جو کچھ ہے آپ کی عطا ہے۔ آپ کی عطا و کرم کا صدقہ ہے اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، اس لیے بھائی! اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگنی چاہیے کہ اے اللہ! ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ جب آدمی صبح کو اُٹھے تو فجر نماز پڑھ لینے کے بعد مسنون دعا ہے:
اللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الْیَومِ وَخَیْرَمَابَعْدَ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَافِیْ ہٰذَا الْیَوْمِ وَشَرِّمَا بَعْدَ

یااللہ! اس دن میں جو خیر اور بھلائی ہے وہ میں آپ سے مانگتا ہوں اور اس دن میں جو شر اور برائی ہے اس سے میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس وقت میں آدمی اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ لے کہ یااللہ! آج کا دن شروع ہورہا ہے، اور اس میں نہ جانے کیا حالات اور واقعات پیش آئیں، اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے اپنی رحمت سے مجھے ایسے کاموں کی توفیق عطا فرمائے جو آپ کی رضا کے مطابق ہوں اور اے اللہ! ان کاموں کو آپ میرے لیے آسان فرمادیں۔

اللّٰھُمَّ اِنَّا قُلُوْبَنَا وَنَوَافِعَنَا وَجَوَارِحَنَا بِیَدِکَ لَمْ تُمَلِّکْنَا مِنْھَا شَیْئًا
اے اللہ! ہمارے دل، ہماری پیشانیاں، ہمارے اعضاء و جوارح سب آپ کے قبضہ و قدرت میں ہیں، ان میں سے کسی کا بھی آپ نے ہمیں مالک نہیں بنایا، مالک آپ ہیں۔

وَاِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ بِنَا کُنْ أَنْتَ وَلِیَّنَا وَاھْدِنَا اِلٰی سَوَآئِ السَّبِیْل
جب آپ نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ فرمایا تو آپ ہی ہمارے کارساز بن جائیے۔ اور ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دیجیے۔ ہمیں سیدھے راستے پر پہنچادیجیے اپنے فضل و کرم سے۔

تو بھائی! کسی چیز پر ناز نہیں، کسی چیز پر بھی نہیں۔ آدمی کو ناز کرنے کا موقع نہیں، جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اگر کسی کو بیان کرنے کی توفیق ہورہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کو درس دینے کی توفیق ہورہی ہے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کوئی علم حاصل کررہا ہے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کو لکھنے کی توفیق ہورہی ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اپنا کسی چیز میں کوئی کمال نہ سمجھے، جو کچھ کمال ہے اللہ تعالیٰ کا ہے۔

اور یہ خیال رکھے کہ جب چاہے اللہ تعالیٰ چھین لے، انسان دیکھتا رہ جائے۔ یہ بہت بڑا سبق ہے جو بیماریوں سے ملتا ہے۔ بیماری بھی حقیقت میں ایک نعمت ہے، ہم لوگ کمزور ہیں اس واسطے بیماری ہمیں بری لگتی ہے، کمزور ہیں اس واسطے ہم اس کا تحمل نہیں کرپاتے کمزور ہونے کی وجہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں کہ شفاء عطا فرمادے اور بیماری کبھی مانگنی بھی نہیں چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں سے پناہ مانگی ہے، ہمیں بھی پناہ مانگنی چاہیے، لیکن جب آجائے تو پھر وہ کئی حیثیتوں سے نعمت ہے۔ ایک اس حیثیت سے نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنایا ہے، درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور اس حیثیت سے نعمت ہے کہ انسان کو اپنی حقیقت یاد دلادیتی ہے، بڑا اَکڑتا پھرتا ہے اور اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتا ہے، لیکن بیماری میں آکر بالکل بے بس ہوجاتا ہے، بے بس و مجبور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی حقیقت دکھادیتے ہیں، اس لحاظ سے نعمت ہے، لیکن ایسی نعمت ہے کہ وہ مانگنی نہیں چاہیے، اس سے پناہ ہی مانگنی چاہیے، کیونکہ انسان تحمل نہیں کرپاتا۔ البتہ جب آجائے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے اور جب تک ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے اور شفاء کے لیے دعا مانگتا رہے اور شفاء کے اسباب علاج معالجہ اختیار کرے، لیکن اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہ ہو، اس کی تقدیر کا شکوہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی قضاء اور فیصلے پر راضی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو بھی نعمت بنادیتے ہیں اور اپنے فضل و کرم سے دور بھی فرمادیتے ہیں اور شفاء بھی فرمادیتے ہیں۔

یہ چند سبق ہیں جو بیماری سے ملے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس سے زیادہ بولنا ذرا مشکل معلوم ہورہا ہے، اتنا ہی سبق مل جائے اس مجلس میں تو وہ بھی کافی ہے۔ آدمی کو اپنی کسی صفت پر کوئی ناز نہ ہو۔ ہر وقت اس بات کا استحضار رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے،کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ چاہیں تو چھین سکتا ہے، جب تک اس نے یہ نعمت عطا فرما رکھی ہے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کی کثرت کرنی چاہیے، نہ کہ اُس کے اوپر اِترانا یا اس کے اوپر کوئی ناز کرنا۔ دوسرا یہ کہ بیماری کو بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھ کر اس کو برداشت کرنا چاہیے جب تک موجود ہو۔ برداشت کرے اور ساتھ میں شفاء مانگتا رہے، لیکن یہ سمجھے کہ جب تک ہے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، اس کے اوپر کوئی شکوہ نہ ہو اور شفاء مانگتا رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے بیماری نہ مانگے، تکلیف نہ مانگے۔ تکلیف کا ازالہ مانگے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے۔ ہمیں یہ دو سبق مل جائیں تو یہ بھی ان شاء اللہ! اس کا ثمرہ ہے۔ آج اللہ کے نام پر اس پر بس کرتے ہیں۔ اللہ نے توفیق دی تو تھوڑا تھوڑا کرکے اگلے اتوار کو اللہ تعالیٰ اور زیادہ بہتر کردیں اور زیادہ توفیق عطا فرمادیں۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم