• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

طلبہ علم قوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ یہ ان کی امنگوں کی آماج گاہ ہیں۔ قوم ان پر کثیر رقوم خرچ کرتی اور انہیں اپنا مستقبل تصور کرتی ہے۔ انہیں کہیں بھی ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ انہیں قوم کا ہر فرد اپنی محبت دیتا اور انہیں ہر طرح کی رعایت کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔قائد اعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔ میرے دل میں نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کی بڑی قدرومنزلت ہے۔ آپ پر قوم اور والدین کی طرف سے بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ متحد ہوکر ملکی تعمیر و ترقی میں مصروف ہوجائیں۔‘‘


اس ناتے یہ ضروری ہے کہ ہر دور کے طالب علم کو قیمتی ہیرا تصور کر کے اس کی تراش خراش نہایت احتیاط اور اہتمام سے کی جانی چاہیے کہ ان کی قیمت ملکی خزانے میں بہت زیادہ ہے۔ طلبہ کو خواب غفلت سے جگانے، انہیں ان کے فرائض منصبی سے آگاہ کرنے اور انہیں درست راستے پر گامزن رکھنے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ ۱… ایک ایسا نکتہ جو اگر ہمیشہ طالب علم کے پیش نظر رہے تو اس کی کیفیات سلامت اور اس کی تعلیم و تربیت ہمیشہ مثالی انداز میں چلے۔ جی ہاں! سب سے اہم یہ ہے کہ طالب علم اپنی قدر پہچانے۔ ایک مرتبہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی قدس سرہ دارالعلوم کراچی تشریف لائے۔ یہ وہی مولانا محمد زکریا ہیں ،جن کی تصنیف شدہ کتب فضائلِ اعمال وفضائلِ صدقات کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مقبولیت عطا فرمائی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں سے کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں پڑھی نہ جاتی ہوں۔دارالعلوم میں تشریف آوری کے موقع پر ان سے درخواست کی گئی کہ طلبہ کرام کو کچھ بیان فرما دیں۔ آپ منبر پر تشریف لائے۔ بس ایک جملہ فرمایا اور تقریر ختم کر دی۔ وہ جملہ یہ تھا:’’طالب علمو!اپنی حقیقت پہچانو!اپنی قدر پہچانو!‘‘یہ سچ ہے کہ طالب علم اگر اپنی قدر پہچان لے تو وہ اپنے فرائض بھی جان لے گا۔ وہ خود کو منظم بھی کرے گا۔ اس کا دل احساس ذمہ داری سے لبریز ہو جائے گا۔ وہ اپنی منزل کی جانب سلامتی اور حسن و خوبی کے ساتھ رواں دواں رہے گا۔

۲… اس زمانے کے طالب علم کا ایک بڑا مسئلہ ذہنی انتشار کا ہے، اسی کے زیرِ اثر وہ اپنے اوقات کا بے تحاشا ضیاع کرتا چلا رہا ہے۔ اسمارٹ فون نے اسے کسی اور جہاں میں پہنچا دیا ہے۔ وہ اس دنیا میں پہنچ کر بظاہر بڑی آسودگی محسوس کرتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کے گھنٹوں کے استعمال کے باوجود ایک سطر برابر بھی اسے فائدہ نہیں ہوتا۔ اسی میں وہ اپنے دن رات ضایع کیے جا رہا ہے۔ جس چیز کا وہ عادی ہو چکا ہے، اس سے اسے کچھ حاصل نہ ہوگا، جبکہ جس چیز کے حصول کا وقت ہے، اس کا موقع بھی تیزی سے نکلا جا رہا ہے۔ جب تک غفلت کی پٹی اس کی آنکھوں سے اترے گی، بہت کچھ ضایع ہو چکا ہو گا ؎
ہے وہ عاقل جو کہ آغاز میں سوچے انجام
ورنہ ناداں بھی سمجھ جاتا ہے کھوتے کھوتے
ایک بزرگ کہتے ہیں:’’ ایک برف فروش سے مجھ کو بہت عبرت ہوئی۔ وہ کہتا جارہا تھا: اے لوگو! مجھ پر رحم کرو، میرے پاس ایسا سرمایہ ہے جو ہر لمحہ تھوڑا تھوڑا ختم ہوجاتا ہے۔‘‘ ہماری فرصت، ہمارا وقت اور ہمارا ہر مرحلہ تعلیم یوں برف کی مانند پگھلتا جا رہا ہے۔ مٹھی کی ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔ اسے پگھلنے اور پھسلنے کی بہت جلدی ہے۔ بہت جلد ایسا ہو گا کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہو گا۔
۳… اس زمانے میں صحت کی حفاظت کے لیے پورا پورا وقت نکالنا، اسے اپنے لازمی معمولات اور اخراجات میں شامل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ آپ فطری خوراک کی طرف آئیں، مضر چیزوں سے بچیں، ورزش کو نماز کی طرح فرض جانیں … اب اس کے بنا چارہ نہیں۔ صحت وتندرستی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے اور یہ انسان کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ ذہنی وجسمانی طور پر صحت مند انسان ہی معاشرے کی بھلائی کے لیے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بیمار، کاہل، موٹاپے کے شکار انسان سے کسی تعمیری فکر یا سرگرمی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے بڑے اپنی صحت کے بارے میں کافی حساس اور محتاط رہتے تھے۔ تہجد، لمبی دوڑ لگانا اور مشقت والے کام کرنا ان کے معمولات کا لازمی حصہ تھا، جبکہ آج کا انسان اپنی مصروفیات اور گوناگوں مشاغل کی وجہ سے صحت جیسے اہم مسئلے سے لاپروائی برت رہا ہے۔ پھر آلودہ فضا، ناقص خوراک اور ڈپیریشن نے بھی بہت اثر ڈالا ہے۔ صحت ایک ایسی دولت ہے جو صرف توجہ اور احتیاط چاہتی ہے۔بالخصوص ایک طالب علم کی کامیابی کا تو اس کے بغیر تصور نہیں۔ اگر وہ کھیل اور ورزشی معمولات میں نہیں لگے گا تو وہ تعلیم کا بوجھ سہارنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کا دل، دماغ، جسم سبھی تازہ رہ کر ہی بہتر کار کردگی دکھلا سکتے ہیں۔ طالب علم کو اگر بیماری کی وجہ سے چند دن بھی درس گاہ سے غیر حاضر رہنا پڑ جاتا ہے تو اسے سبق کے قضا ہونے جیسا ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ فجر کے بعد ورزش، متوازن غذا کا اہتمام جہاں تک ممکن ہو، عصر کے بعد بھی کھیل اس کے لیے حد درجہ ضروری ہے۔ آپ اسکول کالج کے طالب علم ہیں یا مدرسے کے، ہر دو صورت میں آپ کے لیے یہی اصول اور یہی رہنمائی ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ سے خصوصی گزارش یہ ہے کہ آپ اپنے جاری تعلیمی سال کا ایک تہائی حصہ گزار چکے ہیں۔ پہلی سہ ماہی ختم ہو رہی ہے۔ آپ کو خود متنبہ اور متوجہ کیجیے۔ کسی بھی غیر ضروری مصروفیت کا شکار ہیں تو اسے فوراً دست بردار ہو جائیے۔ وقت ہرگز ضایع نہ کیجیے۔ اپنی قدر پہچانیے کہ تمہیں لوگوں کے ایمانوں کی حفاظت کے لیے تیار کیا جا ر ہا ہے۔ اپنی صحت پر خاص توجہ دیجیے۔ ان شاء اللہ! آنے والا وقت آپ ہی کا ہے۔ اس ملک کا مستقبل آپ ہیں۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔