• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

’’دینی مدارس کی حریت و آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ مدارس کو درپیش مسائل و مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد تنظیمات مدارس کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ختم نبوت اور قادیانیت کے حوالے سے ہونے والی متنازعہ ترامیم کی حکومت کی جانب سے واپسی کو خوش آیند مگر اقدامات ناکافی ہیں۔ سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا جاتا ہے وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور جے ٹی آئی تشکیل دے کر ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دے۔ وزیر قانون کی فوری برطرفی کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ الفاظ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ،مجلس شوری اور مجلس عمومی کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے سے لیے گئے ہیں۔ یہ اجلاس 5؍ اکتوبر 2017ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہوا۔ اس اہم ترین اجلاس میں تمام اکابرین نے شرکت کی۔ قارئین! پس منظر و پیش منظر کے طور پر یاد رکھیں کہ ہم نے اسکول کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے اور مدارس میں بھی۔ مدارس سے بھی تعلق ہے اور یونیورسٹی سے بھی۔ دونوں جگہ میرے لیکچرز ہوتے ہیں۔ جتنی محبت اہلِ مدارس سے کرتا ہوں اس سے کہیں زیادہ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس سے کرتا ہوں۔ ہر دو طبقے سے میرا تعلق ہے۔ دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ پاکستان کے مدارس کا نظام اور نصاب دن بدن بہتر ہورہا ہے۔ مدارس ہر اعتبار سے ترقی کررہے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کی سوچ بدل رہی ہے۔ ان کا وژن وسیع ہورہا ہے۔ نظامِ تعلیم بہتر ہورہا ہے، جبکہ کالج یونیورسٹی کے نصاب، نظام اور انتظام و انصرام میں تنزلی آرہی ہے۔ پڑھائی کے رجحان میں کمی آرہی ہے۔ محنت میں کوتاہی آرہی ہے۔

استاذ شاگردوں کے جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔ آداب نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ظاہری عمارتوں اور زیب و آرائش میں کمی واقع ہورہی ہے، جبکہ مدارس پھل پھول رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے کالج یونیورسٹی اور مدارس کے امتحانی سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ان دونوں میں کیا فرق محسوس کیا؟ یہ جاننے سے پہلے یہ سمجھیں کہ اس وقت پوری دنیا میں تعلیم کے 921 مختلف نظام چل رہے ہیں۔ ان 921 نظاموں میں کوئی ایسا نظام نہیں جس پر آج تک کرپشن، لوٹ کھسوٹ، غلطی اور فریب کا الزام نہ ہو۔ حد تو یہ ہے آکسفورڈ اور کیمبرج تک کے تعلیمی نظاموں پر نقل اور نمبروں میں ردوبدل کے اسکینڈل سامنے آئے۔ چند سال قبل کسی نے پینٹاگون کے کمپیوٹر میں گڑ بڑ کرکے ہزاروں کارکنوں کے نمبر آگے پیچھے کردیے تھے۔ سیاٹل، لندن اور فرینکفرٹ تک میں ایسی ایسی خرابیوں اور فریب کاریوں کے اسکینڈل سامنے آتے رہے کہ انسان دنگ رہ جائے لیکن اس دنیا میں وفاق المدارس کے نام سے ایک ایسا ادارہ بھی موجود ہے جو دیانت داری اور نظم وضبط میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کوئی چھوٹا اعزاز نہیں لیکن اس کے باوجود دُنیا اس ادارے کے نظام کو تسلیم نہیں کرتی۔ پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ 56 ہزار ایک سو پرائمری اسکول ہیں۔ 28 ہزار 7 سو 16 مڈل اور 16 ہزار 59 ہائی اسکول ہیں جبکہ فیڈرل گورنمنٹ کے تحت 94 ہزار 7 سو 5 پرائمری، 53 ہزار 3 سو 90 مڈل اور 33 ہزار 6 سو 44 ہائی اسکول ہیں۔ ان اسکولوں میں اس وقت ایک کروڑ 74 لاکھ 15 ہزار 2 سو 40 پرائمری، 40 لاکھ 35 ہزار 40 مڈل اور 16 لاکھ 58 ہزار 2 سو 99 ہائی اسکول کے طالب علم پڑھتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس وقت 15 ہزار 9 سو 90 کالج چلارہی ہے جبکہ باقی ملک میں 607 ووکیشنل، 939جنرل اور 374 پروفیشنل کالج ہیں۔ ان کالجوں میں 9 لاکھ 95 ہزار 3 سو 49 طالب علم پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں 45 یونیورسٹیاں ہیں، ان یونیورسٹیوں میں 3 لاکھ 88ہزار 6سو 68طالب علم پڑھتے ہیں۔ ملک میں 130 پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں جن میں ایک لاکھ 16 ہزار 4 سو 10 طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے علاوہ ملک میں تعلیم بالغاں کے ایک ہزار 9 سو 15 سینٹر ہیں۔ یہ سینٹر 34 اضلاع میں کام کرتے ہیں، ان میں 51 ہزار 8 سو طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان تمام اداروں میں اس وقت 4 لاکھ 35 ہزار 7 سو 42 پرائمری، 2لاکھ 46 ہزار 5 سو 35 مڈل اور 2 لاکھ 87 ہزار 4 سو 94 ہائی اسکول کے اساتذہ کام کررہے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں میں 20 ہزار اساتذہ ہیں۔ پاکستان کی حکومت ان تمام اداروں اوراساتذہ پر سالانہ ایک کھرب 11 کروڑ 50 لاکھ اور15 ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔ ملک میں اس وقت اعلیٰ تعلیم کے 196 منصوبے چل رہے ہیں۔ جب آپ حکومت کے تعلیمی سلسلے کا مطالعہ کریں تو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ حکومت اتنے وسیع پیمانے پر اخراجات اور اتنے لمبے چوڑے انتظامات کے باوجود 70 برسوں میں صرف 35 فیصد شرح خواندگی حاصل کرسکی ہے جبکہ اس شرح خواندگی کا معیار بھی انتہائی پست ہے۔ دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ عصری تعلیمی اداروں نے عالمی سطح کے کتنے سائنسدان، مفکر، انجینئر پیدا کیے ہیں؟ کالج یونیورسٹیوں کے کون سے فضلاء کی کھیپ ہیں جو عالمی سطح پر خدماتِ جلیلہ سر انجام دے رہی ہے؟ اس وقت دنیا کے 21 ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام کا مطالعہ کررہے ہیں اور ان تمام اداروں کی ایک رائے ہے: ’’پاکستان کا تعلیمی نظام انتہائی پسماندہ اورغیر معیاری ہے۔ ‘‘ حد تو یہ ہے پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ پنجاب کا شمار ایشیا کی یونیورسٹیوں میں 68 ویں نمبر پر ہوتا ہے جبکہ ہماری یونیورسٹیوں کے اساتذہ تک یورپ اورامریکا کی یونیورسٹیوں کے امتحانات میں فیل ہوجاتے ہیں۔ دنیا کہتی ہے پاکستان کا تعلیمی نظام آج تک پاکستان کو تعلیم دے سکا اور نہ ہی تربیت۔ اس نظام کے پاس ڈگریوں کی شکل میں صرف کا غذ کے ٹکڑے ہیں۔ اس کے پاس قابلیت ہے اورنہ ہی تربیت۔ پاکستان کے سرکاری نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا نظام تعلیم بھی ہے۔ یہ مدارس کا نظام تعلیم ہے جس کے پاس نہ امریکی اوریورپی یونیورسٹیوں کے پڑھے اساتذہ ہیں اور نہ ہی بھاری بھرکم بجٹ، اس کے باوجود یہ ادارے نہ صرف پڑھے لکھے نوجوان پیدا کررہے ہیں بلکہ نئی نسل کی تربیت بھی کررہے ہیں۔ یہ ادارے نوجوانوں کے دلوں میں دین، ملک اور معاشرے کی محبت پیدا کرتے ہیں۔ یہ ان کی تربیت کرتے ہیں، یہ انہیں علم اورعمل دونوں قسم کی دولت سے سرفراز کرتے ہیں۔ آپ دنیاکے کسی خطے میں چلے جائیں پاکستانی دینی اداروں کے فاضل علماء ہر جگہ نمایاں نظر آئیں گے۔ اس وقت دینی اداروں کے پانچ بورڈز ہیں۔ ’’وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعۃ،

تنظیم المدارس اور رابطۃ المدارس۔‘‘ ان کے تحت 36 ہزار چھوٹے بڑے مدارس رجسٹرڈ ہیں، ان مدارس میں 30 سے 40 لاکھ طالب علم پڑھتے ہیں جبکہ پورے ملک میں خواتین کے 13 ہزار مدارس ہیں۔ گزشتہ سال مجھے وفاق المدارس کے امتحانی سسٹم کا جائزہ لینے کا موقع ملا، میں دیکھ کر حیران اور دنگ رہ گیا۔ حکومت کے کرنے کا فوری کام یہ ہے کہ وہ مذکورہ بالا مطالبات کے علاوہ 2010ء کے معاہدے پر بھی عمل کرے۔ اس معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ پانچوں وفاقوں کو خود مختار امتحانی اور تعلیمی بورڈ کا باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اسٹیٹس دیا جائے گا اور نوٹیفائی کیا جائے گا تاکہ انہیں اکیوویلینس سرٹیفکیٹ نہ لینا پڑے۔ اتحاد تنظیمات مدارس کی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ اس معاہدے کے مطابق قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بل پیش کرے اور وفاق المدارس کو خودمختار تعلیمی امتحانی بورڈ کا درجہ دیں، تاکہ مدارس کے طلبہ مختلف میدانوں میں جاسکیں۔