• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

بھیانک منصوبے

پاکستان دشمن ممالک کو ایک مرتبہ پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 23 فروری 2018ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اہم ترین اجلاس ہوا۔ اقوام متحدہ کے بین الحکومتی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے دہشت گردوں کی مدد کرنے والے ممالک کی فہرست (گرے لسٹ) میں پاکستان کو شامل نہیں کیا۔ دراصل امریکا پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونک کر اپنے مفادات کی تکمیل چاہتا ہے۔ امریکا اس کا بغل بچہ اسرائیل اور اس کا اس چہیتا بھارت پاکستان کو امریکی کیمپ سے نکلتے ہوئے برداشت نہیں کرپارہے ہیں۔ اس خطے میں ابھرتی ہوئی طاقت چین اور اس کے معاشی خوشحالی کے منصوبے سی پیک سے خوف زدہ ہے، جس کے لیے بدی کی مثلث نے اس مرتبہ دباؤ کے لیے ایف اے ٹی ایف کا انتخاب کیا تھا۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف اقوام متحدہ کا بین الحکومتی ادارہ ہے جو 1989ء میں قائم کیا گیا تھا۔

اس کا مقصد ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کو روکنا تھا۔ یہ ادارہ کئی ممالک کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کرچکا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل اس لیے کیا جارہا تھا کہ بھارت کا واویلا تھا کہ پاکستان لشکر طیبہ، جماعۃ الدعوۃ وغیرہ کا پشتیبان ہے، حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل تنظیموں کے خلاف اقدامات کرتا رہا ہے۔ دراصل بھارت نہیں چاہتا ہے کہ گوادر پورٹ منصوبہ کامیاب ہو، یہی وجہ ہے کہ 18فروری 2018کو بھارت اور ایران نے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کے بدلتے تیور

حصول آزادی کے بعد وطن عزیز کو جس اسٹیبلشمنٹ نے چلایا وہ برطانوی سامراج کے زمانے میں، انگریز کی پروردہ، خودداری، قومی غیرت و حمیت اور دینی اقدار سے عاری رجال کار پرمشتمل تھی جن کے دل و دماغ پر مغربی نظریات و ثقافت کا قبضہ تھا، اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کو دوسروں کا تابع مہمل بنانے کی کوششیں تن دہی سے شرو ع ہوگئیں۔ شروع کے دو چار سال ہی کے دوران اس کے منطقی نتائج سامنے آگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے زیادہ تر ممالک شین، امریکن بلاکوں میں منقسم ہوگئے تھے۔ حالات کی ستم ظریفی اور غلامانہ ذہنیت کی حامل وطن عزیز کی بیوروکریسی نے اس ملک کو مضبوط اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے بجائے امریکا کا تابع مہمل بنادیا۔

یوں یہ ملک فکری، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر استوار نہ ہوسکا۔ مغربی دنیا بشمول امریکا سے امداد کے نام سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، تعاون اور امداد کے نام پر یہ لوگ معاشرے میں، سرکاری اداروں میں اور سیاست میں اس طرح نفوذ حاصل کرلیتے ہیں کہ پالیسی بنانے والے اپنے ملکی و قومی مفاد کے بجائے ’’باہر‘‘ کے مطالبات و خواہشات کو زیادہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ گہرائی تک دخیل ہونے کے بعد کوئی قومی راز یا حکمت عملی کے محرکات ان طاقتوں سے خفی نہیں رہ سکتے۔ پچھلے 70 سال سے یہی کھیل جاری ہے۔ یہ صورتحال کی المیہ سے کم نہیں کہ پاکستان ہر طرح کا اتحادی بن جانے کے باوجود نہ تو ٹیکنالوجی میں ترقی کرسکا اور نہ کسی آزمائش کے موقع پر کسی مغربی طاقت سے کوئی موثر مدد حاصل کرسکا۔ سابق مشرقی پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کا معاملہ ہو، کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو، دریاؤں کے پانی روکنے اور لائن آف کنٹرول پر آئے دن جارحیت کے اشتعال انگیز واقعات ہوں پاکستان کے لیے زبانی حمایت کی بھی کوئی خبر نہیں آتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعاون دو طرفہ ہونا چاہیے

اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر نے وحدت کا مظاہرہ کیا اور آج تک کر رہے ہیں۔ اب جمہوری راستے سے ہم نے ملک میں اسلام لانا ہے، اب تمام دینی قوتیں یکجا ہوکر آگے بڑھیں گی تو ہاتھ پھر ریاست کے گریبان پر پڑے گا۔ ریاست بہت ہوشیار ہے، ریاستی ادارے بہت ہوشیار ہیں، ایسے حالات پیدا کر لیتے ہیں کہ اسلام کی بات کرنے والے اپنی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں تاکہ مجتمع ہو کروہ ریاست پر دباؤ نہ ڈال سکیں تو یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے، ہم بھی سوچیں اس بات پر کہ ہم آپس میں کیوں لڑرہے ہیں، کیوں تشدد کی طرف جاتے ہیں، اسلام تو ہمیں اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے، قرآن کریم ہماری تعلیمات کا منبع ہے جو ہمار ے اندر اترتا ہے اور ہمیں انسان بناتا ہے، وہ تو مجھے اعتدال کی امت کہتا ہے، وَکَذَالِکَ جَعَلنَاکْم اُمَّۃً وَّسَطًا تو پھر میرے قرآن سے وابستگی کو شدت پسندی سے کیوں تعبیر کیا جارہا ہے، ہم اعتدال والے ہیں۔ تجزیہ میں فرق ہوسکتا ہے، جب تک میں مذہب کی بات کروں گا، دین کی بات کروں گا، میری طرف نسبت ہوگی یہ بڑے شدت پسند ہیں، ملا لوگ بڑے سخت ہوتے ہیں، لیکن تجزیہ شاید صحیح نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں جو لبرلز ہیں وہ بالکل پانی اور مائع ہوچکے ہیں، ان کو ہم کہتے ہیں کہ آپ بہت ہی پگھل گئے ہیں ان کے سامنے، تم ذرا اپنے اندر سختی پیدا کرو ہم ذرا پنے اندر نرمی پیدا کریں، خیر خیریت سے ملک چلے گا ایک صف میں آجائیں گے سارے لوگ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کی خطرناک قومی سلامتی کی پالیسی

’’ٹرمپ کی سکیورٹی اسٹرٹیجی ایک خطرناک منصوبہ ہے جسے کسی طرح بھی قومی سکیورٹی اسٹرٹیجی نہیں کہا جا سکتا یہ محض ہرزہ سرائی ہے۔ ‘‘ راجر کوہن ٹرمپ کی یہ سکیورٹی حکمت عملی دراصل ان کے ’’امریکا پہلے‘‘ کے نعرے سے عبارت ہے ۔ یہ جنون ان کی شخصیت پرحاوی ہے جس کی عکاسی ان کی مندرجہ ذیل قومی پالیسی سے ہوتی ہے جس کے اہداف یہ ہیں: قومی اقداروطرز زندگی کا تحفظ، امریکی وقار کی ترویج، طاقت کے بل بوتے پر امن کا قیام دنیا بھر میں امریکی اثر ورسوخ کو وسعت دینا اور بھارت کو چین کا ہم پلہ بنانا مقصود ہے۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر ٹرمپ کی قومی سکیورٹی اسٹریٹیجی وضع کی گئی ہے جس کا خصوصی ہدف فلسطین، افغانستان، ایران، چین، شمالی کوریا اور پاکستان ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سرزمینِ فلسطین

یہ فلسطین انبیاء علیہم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔ چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا:’’اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔‘‘ یہیں اس ملک میں واقع ’’عسقلان‘‘ شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں ’’وادی النمل‘‘ (چیونٹیوں کی وادی) رکھ دیا گیا تھا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیہم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاق سے گری حرکتیں

امریکا اور یورپ میں میمیں یعنی گوریاں اپنے کتوں کو باقاعدگی سے نہلاتی ہیں، کھلاتی پلاتی اور ٹہل سیوا کرتی ہیں۔ یہ فقرہ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خدشے نے جنم لیا، لیکن میں نے اسے جھٹک دیا۔ خدشہ یہ تھا کہ میرے کچھ مہربانوں کے دل میں یہ فقرہ پڑھ کر ہوک سی اٹھے گی اور ان کے لبوں سے سرد آہ ٹپکے گی۔ ……!! وہی ہوا۔ دو حضرات نے اس کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم سے تو امریکی اور یورپی کتے ہی اچھے رہے جنہیں گوریاں نہلاتی اور لاڈ پیار سے رکھتی ہیں۔ میں ان کی حسرت ناتمام کا حال پڑھ کر مسکراتا رہا کہ غالب نے خوب کہا ہے۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ اس شعر کا یہ مصرعہ بھی غور طلب ہے کہ بہت نکلے میرے ارماں، لیکن پھر بھی کم نکلے۔ زندگی لامتناہی اور نہ ختم ہونے والے ارمانوں، خواہشات، تمنائوں اور خوابوں کا سلسلہ ہے۔

غریب سے لے کر امیر تک، حاکم سے لے کر محکوم تک اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک سبھی اپنی بہت سی خواہشوں اور ارمانوں کو سینے میں دبائے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ دراصل زندگی اک آس کانام ہے، سینے میں آرزو کے سلگنے کا نام ہے اور آرزو ہی جینے کا آسرا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بیماریوں سے ملنے والا سبق

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نماز کے بعد کی منقول ہے: اللّٰھُمَّ لَامَانِعُ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَایَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
کہ یااللہ! آپ جو چیز کسی کو دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور جو چیز کسی سے روکنا چاہیں تو کوئی دے نہیں سکتا اور کوئی کتنا ہی بڑا صاحبِ منصب ہو منصب اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔ تو اللہ تعالیٰ دِکھاتے ہیں۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے قلم ہاتھ میں ہے، لکھنے کا شوق بھی ہے اور اس میں دل بھی لگتا ہے۔ دلچسپی بھی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی کے نتیجے میں ہزارہا صفحات لکھوادیے، لیکن اب حال یہ ہے کہ چند سطریں لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں تو ہمت نہیں ہوتی۔ تو اللہ تعالیٰ دکھارہے ہیں کہ تمہیں کوئی ناز نہ ہو کہ ہم نے یہ لکھ دیا اور ہم نے وہ لکھ دیا، ہم نے فلاں تصنیف کردی اور ہم نے فلاں تالیف کرلی، ہم نے فلاں کارنامہ انجام دے دیا۔ جو کچھ تھا ہماری عطا تھا اور جو کچھ ہے ہماری عطا ہے، جب چاہیں عطا کردیں، جب چاہیں چھین لیں۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کی نئی پالیسی ناکام ہوگی

امریکی وزیر خارجہ کا بھارت جاتے ہوئے پاکستان میں چند گھنٹوں کا ٹھہرائو سفارتی بداخلاقی کے مترادف ہے۔ جاتے ہوئے انہوں نے ایک تحریر نوٹ پاکستانی حکام کے حوالے کیا جس کی وضاحت امریکی سفارت کار ایلس ولز نے کی ہے کہ ’’امریکا پاکستان سے مہینوں میں نہیں، بلکہ چند ہفتوں کے اندر اندر عملی اقدامات چاہتا ہے کہ وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ اس طرح وہ اپنے ملک کو غیرمستحکم ہونے سے محفوظ رکھ سکے گا۔‘‘ پاکستان نے بیک جنبش قلم اس مطالبے کو مسترد کردیا، کیونکہ طالبان پاکستان کی بات نہیں سنتے۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھارت کو امریکی دفاعی شراکت دار کی حیثیت سے قبول کرنا بھی بعید از قیاس ہے، لہٰذا امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک طرح کا تنائو قائم ہے جس کا سارا کریڈٹ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے نظریے کو جاتا ہے جس کے تحت وہ طاقت کے بل بوتے پر اور ہر قیمت پر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اے نونہالانِ چمن!

طلبہ علم قوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ یہ ان کی امنگوں کی آماج گاہ ہیں۔ قوم ان پر کثیر رقوم خرچ کرتی اور انہیں اپنا مستقبل تصور کرتی ہے۔ انہیں کہیں بھی ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ انہیں قوم کا ہر فرد اپنی محبت دیتا اور انہیں ہر طرح کی رعایت کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔قائد اعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔ میرے دل میں نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کی بڑی قدرومنزلت ہے۔ آپ پر قوم اور والدین کی طرف سے بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ متحد ہوکر ملکی تعمیر و ترقی میں مصروف ہوجائیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

وفاق المدارس کے مطالبات مانے جائیں!

’’دینی مدارس کی حریت و آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ مدارس کو درپیش مسائل و مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد تنظیمات مدارس کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ختم نبوت اور قادیانیت کے حوالے سے ہونے والی متنازعہ ترامیم کی حکومت کی جانب سے واپسی کو خوش آیند مگر اقدامات ناکافی ہیں۔ سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا جاتا ہے وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور جے ٹی آئی تشکیل دے کر ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دے۔ وزیر قانون کی فوری برطرفی کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ الفاظ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ،مجلس شوری اور مجلس عمومی کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے سے لیے گئے ہیں۔ یہ اجلاس 5؍ اکتوبر 2017ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہوا۔ اس اہم ترین اجلاس میں تمام اکابرین نے شرکت کی۔ قارئین! پس منظر و پیش منظر کے طور پر یاد رکھیں کہ ہم نے اسکول کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے اور مدارس میں بھی۔ مدارس سے بھی تعلق ہے اور یونیورسٹی سے بھی۔ دونوں جگہ میرے لیکچرز ہوتے ہیں۔ جتنی محبت اہلِ مدارس سے کرتا ہوں اس سے کہیں زیادہ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس سے کرتا ہوں۔ ہر دو طبقے سے میرا تعلق ہے۔ دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ پاکستان کے مدارس کا نظام اور نصاب دن بدن بہتر ہورہا ہے۔ مدارس ہر اعتبار سے ترقی کررہے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کی سوچ بدل رہی ہے۔ ان کا وژن وسیع ہورہا ہے۔ نظامِ تعلیم بہتر ہورہا ہے، جبکہ کالج یونیورسٹی کے نصاب، نظام اور انتظام و انصرام میں تنزلی آرہی ہے۔ پڑھائی کے رجحان میں کمی آرہی ہے۔ محنت میں کوتاہی آرہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روہنگیا کون ہیں؟

ترکی کی خاتون اول ’’امینہ اردوان‘‘ کے آنسوئوں نے کروڑوں لوگوں کو رُلادیا۔ وہ پچھلے دنوں روہنگیا مسلمانوں کی خبر گیری کے لیے بنگلہ دیش پہنچی تھیں جہاں ساڑھے 6 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین ہیں۔ امینہ اردوان نے روہنگیا مہاجرین کے ایک کیمپ میں مظلوم عورتوں کی سسکیاں سنیں تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ انہوں نے مجبور روہنگیا عورتوں کو گلے سے لگایا، انہیں دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ ترکی انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ امینہ اردوان کے دورئہ بنگلہ دیش کے بعد ترکی نے بنگلہ دیش کی حکومت سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے اپنا بارڈر کھول دے، ان کے قیام و طعام کا تمام خرچ ترکی برداشت کرے گا۔

پاکستان میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے واقعات پر خاص تشویش پائی جاتی ہے اور کئی شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔