• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

بموں کی ماں

امریکا نے ایک مرتبہ پھر ظلم و ستم کی سیاہ تاریخ دوہرادی ہے۔ دنیا کے غریب اور مظلوم ملک افغانستان پر سب سے بڑے غیرایٹمی بم سے حملہ کردیا ہے۔ یہ بم گزشتہ کل شام 7 بج کر 32 منٹ پر صوبہ ننگرہار کے ضلع آچن میں گرایا۔ یہ بم طیارہ سی 130 کے ذریعے مارا ہے۔ اس کا وزن 21 ہزار 600 پائونڈ یعنی 11 ٹن ہے۔ یہ بم ایٹم بم کے بعد سب سے زیادہ تباہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اسے ’’مادر آف آل بمز‘‘ یعنی ’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں پہلی بار یہ بم گرایا گیا ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

قارئین! انسانی تاریخ میں ایٹم بم بھی امریکا نے ہی استعمال کیا۔ یاد کریں! چھ اگست 1945ء کی صبح 8بج کر 5منٹ پر امریکی جہاز ’’بی 29‘‘ نے ہیروشیما پر ’’لٹل بوائے‘‘ نامی پہلا ایٹم بم گرایا۔ اس نے صرف 30سیکنڈ میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو لقمہ اجل بنادیا۔ 80سے 85ہزار لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ اس کے تین دن بعد 9؍ اگست کو امریکا نے جاپان کے دوسرے شہر ’’ناگاساکی‘‘ پر ’’فیٹ مین‘‘ نامی ایٹم بم گرایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اُمت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کیلئے ہمیں مل کر جدو جہد کرنی ہوگی

ضربِ مؤمن: امت مسلمہ کے حوالے سے بات کی، لیکن افغانستان میں تو ایک طرف شہری علاقوں میں حکومت کی ریڈ قائم ہے تو دوسری طرف شہر کے اطراف میں طالبان کی حکومت ہے، تو یہ حالات کس طرف جارہے ہیں؟ اور امت کو اس حوالے سے کیا ذہن رکھنا چاہیے؟

حافظ حسین احمد: دیکھیں جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، تو انہوں نے اپنے حالات کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے اور ان کا ایک شورائی نظام ہے۔ جو بہت مؤثر اور کارآمد ہے۔ اس وقت بھی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکا، نیٹو اس میں رخنے ڈالنے کے باوجود بھی ناکام ہیں اور اب بھی اطراف میں جتنے علاقے ہیں، ان میں طالبان کی حکومت ہے، اشرف غنی کی حکومت نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکا کے ساتھ مل کر بھی اپنی حکمرانی کو قائم نہیںرکھ سکے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک نئی صورت حال جو سامنے آرہی ہے۔ یقینا اس میںپاکستان اور چائنہ کا اہم رول ہے۔ جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اُمت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کیلئے ہمیں مل کر جدو جہد کرنی ہوگی

ضربِ مؤمن: حافظ صاحب آپ موجودہ ملکی اورعالمی حالات کو کس طرف جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں؟ حافظ حسین احمد: سب سے پہلے ہم آپ کے مشکور ہیں۔ جہاں تک عالمی حالات کا تعلق ہے تو یقینا پورا عالم اسلام اس وقت ابتلاء اور آزمائش میں ہے اور اب بھی ہم سمجھتے ہیں اس کی بنیاد وہی افغانستان کا خطہ ہے، جس کے بارے میں علامہ اقبالؒنے کہا تھا افغانستان ایشیاء کا دل ہے اگر اس میں حالات درست رہے تو سارے ایشیاء کے حالات بھی درست ہوں گے اگر اس خطے میں فساد ہوگا تو پورے خطے میں فساد ہوگا۔ آج عالمی حالات کا جو تناظر ہے اگر آپ اس کو دیکھیں گے تو اس کی بنیاد ہمیں ایک بار پھر افغانستان ملے گا۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو اور امریکا نے جس انداز میں وہاں مداخلت کی اس کا مقصد عالم اسلام کے ذخائر اور وسائل پر قبضہ کرنا ہے مشرقی وسطیٰ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں بغیر کسی مزاحمت کے سارے وسائل ان کے ہاتھ لگے، لیکن افغانستان میں انہیں مزاحمت کا سامنا ہے اور اب وہ یہاں سے نکلنا نہیں چاہتے اور مختلف قسم کے بہانے کررہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو سبز باغات دکھائے تھے اس میں ان کو ناکامی کا سامنا ہے اور یہ کہ کس طرح وہ اپنی قوم کو مطمئن کریں اس کے لیے الیکشن کے موقع پر ایک ڈرامہ اسٹیج ہوتا ہے، چاہے وہ ایبٹ آباد کے حوالے سے ہو یا پھر ملا منصور کے حوالے سے ہو امریکی عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جامعہ الرشید

بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے زیراہتمام ’’بیت السلام اولمپیاڈ 2017ئ‘‘ کے عنوان سے مختلف تعلیمی اور تفریحی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقابلوں میں کل36 تعلیمی اداروں نے حصہ لیا۔ جامعۃ الرشید کے حفاظ کورسز کے 19اور معہد الرشید کے 8 طلبہ کو مختلف تعلیمی مقابلوں کے لیے منتخب کیا گیا۔ جامعہ بیت السلام تلہ گنگ اور جامعہ بیت السلام کراچی کے طلبہ نے 13، 13 پوزیشنز حاصل کیں۔ جامعۃ الرشید نے 10، انٹلیکٹ نے 7، مدرسۃ الانور نے 6، کراچی گرامر اسکول، انور ماڈل اسکول اور ریفلیکشن اسکول نے 6، 6 پوزیشنز اور جامعہ بنوریہ سائٹ نے 2 پوزیشنیں حاصل کیں۔ 19؍ فروری کو کلفٹن میں پام مارقی میں ان طلبہ کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے خصوصی شیلڈز کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں جامعۃ الرشید کے ان 18 نمایاں طلبہ کو مختلف انعامات سے نوازا گیا۔جن میں ایک رنر اپ ٹرافی، 8 شیلڈز اور 8 میڈلز شامل ہیں۔ تصاویر میں جامعۃ الرشید کے طلبہ کے میڈلز اور شیلڈز ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیخ الحدیث حضرت مولاناسلیم اللہ خان کی زندگی ایک نظر میں

رئیس المحدثین، صدر وفاق المدارس حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ 16؍ جنوری 2016 ء کراچی میں 91 برس کی عمر میں اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ حضرت رئیس المحدثینؒ نے اپنے پسماندگان میں تین صاحبزادیاں، ایک زوجہ، لاکھوں عقیدت مند اور شاگرد یتیم چھوڑ ے۔ آپؒ کی شخصیت سب کے ہاں قابل اعتماد اور محترم تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے منسلک تمام علما اور تمام مکاتب فکر کے لوگ آپؒ پر اعتماد کرتے تھے۔ ’’اتحادِ مدارس دینیہ‘‘ میں اہل تشیع، بریلوی، اہل حدیث بھی آپؒ کے علاوہ کسی اور کی صدارت پر اتفاق نہیں کرتے تھے۔ آپؒ کمالات اور خوبیوں کی ایک جامع ہستی تھے۔ آپؒ حدیث کے میدان میں ’’ابن حجر‘‘ کہلاتے تھے۔ فقاہت کے میدان میں شیخ الہندؒ سے کم نہیں تھے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

’’میں نے حضرتؒ کوبہت قریب سے دیکھا۔ آپؒ کی طرح باہمت انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ حضرت صرف باہمت ہی نہیں، بلکہ حضرت کے اندر جرأت بھی اتنی تھی کہ بڑے سے بڑے حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کی حفاظت اور مدارس کی حریت کی بات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہماری میٹنگ جنرل پرویز مشرف سے ہورہی تھی۔ حضرت بالکل مشرف کے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، سامنے ٹیبل تھی۔ مشرف نے اپنے انداز میں مدارس کے حوالے سے بات کی توحضرتؒ نے مدارس کے حوالے سے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ پھر اس کے بعد ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ’’پرویز صاحب! پاکستان کے مفادات کو بھی ہم آپ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ ہم پاکستان اور وطن عزیز کی سلامتی، حفاظت اور استحکام پر آپ سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے یہ دینی مدارس وطنِ عزیز پاکستان کے محافظ ہیں۔ ان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے چوکیدار ہیں۔‘‘ اس نے جواب میں کہا کہ ’’میں آپ سے زیادہ پا کستان کے مفادات کو جانتا ہوں۔‘‘ حضرتؒ نے ان کے سامنے… اور میں اس کا عینی شاہدہوں… آپ نے اپنا مُکّا ٹیبل پر مار کر فرمایا کہ ’’جنرل صاحب! پاکستان کے مفادات ہم آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ آپؒ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایک سائبان بنایا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اگر ہم بیدار ہیں

جامعۃ الرشید ایسے رجال کار تیار کرنے کی ایک تحریک ہے جو وطن عزیز کی نظر یاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ فراست ایسی رکھتے ہوں کہ مستقبل کے چیلنجز سے آشنا ، ان کو قبول کرنے کا حوصلہ اور رکاوٹیں دور کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔ لیاقت ایسی ہو کہ تمام رائج الوقت جائز وسائل کا امتیازی استعمال کر سکتے ہوں۔ تقوی ایسا ہو کہ ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر کھلے دل سے قربان کرنے کا مزاج رکھتے ہوں۔ جب آپ فراست ، لیاقت اور تقویٰ سے آراستہ ہو کر میدان عمل میں اتریں گے تو شکست آپ سے چھپتی پھرے گی اور فتح آپ کا ماتھا چومنے کے لیے بے قرار رہے گی۔

فراست و تقوی کا تعلق اہل اللہ کی صحبت، ان کے احوال سے گہری واقفیت اورمعاصر فکری رہنمائوں سے مسلسل رابطہ رکھنے سے ہے، لہٰذا ادارے اور اکابر اساتذہ سے مسلسل وابستگی نہایت اہم ہے۔ رئیس الجامعہ کی مجالس میں وقتا فوقتا حاضری ، اکابر اساتذہ کے سامنے کارگزاری کا اظہار

مزید پڑھیے۔۔۔

فکر اکابر کا تسلسل

جامعۃلرشید کا وژن اور منہج اکابر ہی کی سوچ اور عمل سے کشید کر دہ ہے۔ ماضی میں اب تک کم ازکم 12 ایسی کوششیں ہوچکی ہیں کہ دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کیا جائے۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:

(1) بانی دار العلوم دیوبند حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒنے فضلائے کرام کو ترغیب دی کہ وہ جدید تعلیم بھی حاصل کریں۔

(2) 1903ء میں دار العلوم دیوبند نے یہ فیصلہ کیا کہ انٹر پاس طلبہ کو دارالعلوم میں بھاری وظیفہ دے کر دینی تعلیم دی جائے۔ جو طلبہ فراغت کے بعد انگریزی تعلیم حاصل کرنا چاہیں، انہیں بھی وظائف دیے جائیں۔ (تاریخِ دار العلوم دیوبند، ص 208)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنے قارئین سے کیا چاہتا ہے؟

’’چاہت ‘‘اس کائنات ِ رنگ و بوو عالَم خوبرو کا وہ اہم عنصر ہے، جسے جس جگہ سے دیس نکا لا دے دیا جائے! تو اس مقام کی خوشیاں غموں میں، آبادیاں بربادیوں میں، کامیابیاں ناکامیوں میں، رو نقیں ماتم کدوں میں، خوشگوا ریاں تلخیوں میں، نرما ہٹیں گرما ہٹوں میں، محبتیں نفرتوں میں، الفتیں عداوتوں میں، اجالے اندھیروں میں بدل جاتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب سے لفظ چاہت کے معنی و مفہوم کی کھیتی میں’’ مَن چلے وتَن جلے‘‘ کسانوںنے ’’ احکا ماتِ الٰہی وسنتِ مصطفائی‘‘ جیسے معطر و منور، دلکش ودیدہ زیب اور دائمی حُسن کے مالک بیج کو چھوڑ کر’’ خواہشاتِ نفسا نیہ واتباع شیطانیہ‘‘جیسے شنیع وقبیح، مذموم ومجذوم، دوامی کالک کے مالک بیج کی کا شتکا ری شروع کی ہے۔ تو اس وقت سے چاہت کے معنی و مفہوم نے ایسی نیک و بد صورتیں اختیار کی ہیں کہ معنی کا تعیّن بغیر ’’سیاق وسباق اور اَمام وخلف‘‘ کو دیکھے بغیر ممکن ہی نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدرٹرمپ کی پراسرارشخصیت

نئے منتخب امریکی صدرصاف گوئی، غیر لچکدار رویئے، دوٹوک اندازگفتگو کے حوالوں سے دلچسپ شخصیت کے حامل ہیں۔ مشکل انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے مستقبل کے منصوبے، سوچ کاپس منظر اور اپنی ذاتی شخصیت کے حوالے سے تمام باتیں لگی لپٹی بغیر عیاں کر دی ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے دوران چند اہم معاملات بھی اٹھائے جو امریکی عوام کے لیے خاصی تشویش کا باعث ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔ گر اسی طرح مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو 2050ء تک امریکی شہری نوکریوں سے محروم اور اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ یقینایہ امر خاصی تشویش کا باعث ہے، اس کے باوجود کچھ لوگ ٹرمپ کو نسل پرست کہتے ہیں جو درست نہیں۔ ہیلری کے مقابلے میں تین ملین کم ووٹ لینے کے باوجود انتخابی کالج نے انہیں صدر منتخب کیا ہے۔ معروف فلسفی رکارڈ رورٹی نے 1998ء میں کہا تھا کہ نظام کی ناکامی کی وجہ سے غیرمضافاتی ووٹرکسی مضبوط امیدوار کو منتخب کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ ایسا امیدوار جو انہیں یقین دلا سکے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ لڑکھڑاتی ہوئی بیوروکریسی، شاطر قانون دانوں، منافع پرست تاجروں اور جدت پسند پروفیسروں کو لگام ڈال سکے گا۔ وہ مضبوط امیدوار ٹرمپ ہے جو آچکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاقی فریضہ

گھر سے بے گھر ہونا کتنا تلخ، کتنا مشکل اور کتنا دشوار ہوتا ہے۔ شامی شہر ادلب کا خانماں خراب، 30 سالہ عبداللہ اس دکھ، درد اور کرب کو محسوس کرسکتا تھا۔ وہ بوابۃ الاسلام سے ایک غیر قانونی کشتی میں سوار ہوا۔ دنوں کے سفر کے بعد اٹلی کی سرزمین میں چوری چھپے داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ شاید سیکڑوں شامیوں میں سے وہ خوش قسمت جو بحر ابیض المتوسط کی بھوکی مچھلیوں کا شکار ہونے سے بچ گیا۔ اسے پتہ تھا کہ اگلے چند دنوں میں وہ اٹلی سے آگے نکل نہ گیا تو زندگی کے باقی دن کسی کال کوٹھری میں موت سے جنگ لڑتے گزریں گے۔ اس کی منزل سویڈن تھی، مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے اسے آگ کا دریا عبور کرنا تھا۔ قدرت نے اس سے گرینڈل کو ملادیا۔ گرینڈل نے عبداللہ کی کہانی سنی اور اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور پھر عبداللہ کو بتایا کہ اٹلی سے باہر نکلنے اور سویڈن میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے: ایک جعلی بارات ہی تمہیں گرفتار ہوئے بغیر سویڈن تک پہنچا سکتی ہے۔ تمہیں صرف یہ کرنا ہے کہ چند باراتی تلاش کرو، دو کیمرہ مین اور سب سے مشکل ایسی خاتون جو تمہاری جعلی بیوی بننے پر آمادہ ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔