• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نوجوانوں کی صحیح تربیت کی ضرورت ہے

ضربِ مؤمن: اب وہ گرجا نہیں رہا؟ مولانا طارق محمد عثمان: نہیں! اس جگہ کا نام گرجا ہے۔ وہاں پر بہت سارے ہال ہیں۔ گرجا والوں نے بہت سارے ہال کرائے پر دیے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان میں سے ایک ہال کرائے پر لیا ہوا ہے۔ ہمارے پاکستانی بھی آتے ہیں، صومالین بھی اور اس وقت سب سے زیادہ بچے چیچنیا کے پڑھ رہے ہیں۔ ضربِ مؤمن: دینیات کا کوئی خاص نصاب اپنا ترتیب کیا ہوا ہے؟ یا یہاں سے کوئی نصاب لے گئے ہیں؟ مولانا طارق محمد عثمان: میرے پاس کئی سو طلبہ قرآن پاک پڑھ چکے ہیں اور بیسیوں قرآن حفظ کرچکے ہیں۔ حفظ کے بعد نماز سکھائی جاتی ہے۔ نماز میں آسان نماز میں موجود تمام چیزیں اور صبح و شام کی مسنون دعائیں یاد کرائی جاتی ہیں۔ جب بچہ یہ سب پڑھ لیتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اردو شروع کروادیتے ہیں۔ پاکستانیوں کے علاقوں میں رہنے والے تمام لوگ گھر میں اردو میں بولتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بھی اردو تھوڑی بہت جانتے ہیں۔ چند مہینوں کی کوشش سے بچے لکھنا بھی شروع کردیتے ہیں۔ میں بچوں کو مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کی کتاب ’’تعلیم الاسلام‘‘ سے تعلیم دیتا ہوں۔ ضربِ مؤمن: ناروے میں دراساتِ دینیہ یا درسِ نظامی کی طرح کا کوئی نصاب موجود ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی تربیت ہے

ضربِ مؤمن: سب سے پہلے اپنا تعارف کروائیے۔
مولانا طارق محمد عثمان: میرا نام محمد طارق عثمان ہے۔ میری پیدائش سرگودھا کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ میرے والد کا نام مولانا عبداللطیف ہے۔ میرے والد عالم دین اور مبلغ تھے۔ انہوں نے 25 سال دعوت و تبلیغ میں کام کیا۔ میں نے اپنے محلے کے استاذ قاری اشفاق صاحب کے پاس حفظ کیا۔ حفظ کے ساتھ ساتھ مجھے قراء ت کا بڑا شوق تھا۔ سرگودھا میں جہاں کہیں بھی قراء ت کا مقابلہ ہوتا تھا تو میں ضرور جاتا تھا اور مجھے دیکھ کر دوسرے لڑکے کہتے تھے کہ اب یہ آگیا ہے تو اسی نے نمبر لے جانے ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں شبینہ ہوتا وہاں بھی مجھے ہی منتخب کیا جاتا تھا۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد میں گردان کی۔ وہاں پر 25 مدارس کے درمیان حفظ اور قراء ت کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر آیا۔ اس کے علاوہ سرگودھا میں جہاں کہیں بھی اذان اور قراء ت کے مقابلے ہوتے تھے، میں پہلی یا دوسری پوزیشن حاصل کرتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوش آمدید طلبہ عزیز!

ویرانوں میں پھر سے بہار آئی ہے۔ سوکھے دھانوں پر پھر سے پانی پڑا ۔خدا کے بندے خدا کی بستی میں پھر سے آباد ہونے لگے۔ مدارس دینیہ کی فضا رنگ و بو سے دمکنے اور مہکنے لگی۔ مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم تعلیمی سال کے آغاز پر فرمایا کرتے ہیں: ’’طلبہ کرام سے خالی مدرسہ ہمیں کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ ہم طلبہ کے بغیر اداس رہتے ہیں۔ طلبہ کی تشریف آوری ہمارے من کو خوشی سے نہال کر دیتی ہے۔‘‘ کچھ یہی جذبات ہر ادارے، ہر سربراہ اور ہر استاذ کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ! کہ دینی مدارس کی رونقیں پھر سے بحال ہو رہی ہیں۔ ہزار مشکلوں کے سنگ گراں عبور کرتے ہوئے کشاں کشاں بڑھے چلے آتے ہیں۔ طلبہ علم و عمل! تمہارا آنا مبارک۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہم تمہیں ــ’مرحبا‘ کہتے ہیں۔ تہ دل سے تمہیں خوش آمدید۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا ایٹمی نظام اور قربانیوں کی لازوال داستان

آج ہم ایٹمی طاقت ہونے کی انیسویں سالگرہ منارہے ہیں۔ بلاشبہ یہ دن ہماری ملکی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس دن مسرت و شادمانی کا اظہار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا لازم ہے، جس نے پاکستان کو دنیائے اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کے اعزاز سے نوازا۔ یاد رہے ایسے مواقع پر زندہ قومیں اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کیا کرتیں۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کریں جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہم ایٹمی طاقت بنے اور جو آج یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ۔۔۔ سپی کی طرح سینچ کے رکھا تیرا وجود۔۔۔ خود ڈھل گئے مگر تجھے گوہر بنادیا۔۔۔

1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے جنوبی ایشیا میں ایٹمی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا، جسے متوازن بنانے کے لیے ایک پرعزم قیادت کی ضرورت تھی، جو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شکل میں پاکستان کو حاصل تھی،

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ بھی حصہ لیجیے

آج ہمیں جن چیلنجز کا سامناہے ان میں ایک اہم چیلنج ہماری نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا ذہنی انتشار ہے۔ عریانی، فحاشی، بدکلامی، اخلاق سوز حرکات، نفسانی خواہشات کی اندھا دہند تکمیل اورراتوں رات بے تحاشا دولت کے حصول کی خواہش، ہماری نوجوان نسل کے جذبوں اورتوانائیوں کا رخ بھیانک پستی کی طرف موڑنے کی ایک سازش اورسوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ان حالات میں وہ نوجوان قابل قدر ہیں جو ان رنگینیوں اوردلچسپیوں کے مقابلے میں اپنی جوانیوں کو اعلی وارفع مقاصد کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ وہ اپنے شب وروز، اپنی صلاحیتیں، لگن اورجذبے فقط علوم دینیہ کے حصول کے لیے کھپاتے ہیں۔ ایسے ہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جامعۃ الرشید کے مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم ہے۔ ان میں ایسے نوجوان بھی ہیں جو اعلی یونیورسٹیوں کے گریجویٹس ہونے کے ساتھ اعلی عہدوں پر فائز تھے

مزید پڑھیے۔۔۔

زکوٰۃ کی ادائیگی

عیدی کے نام سے زکوٰۃ دینا:

زکوٰۃ میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر اسے عیدی کہا جائے اور اسی نام سے مستحق رشتہ داروں کو دی جائے یا خوشخبری سنانے والے کو انعام کے نام سے دی جائے، اسی طرح باغ کا تازہ پھل ہدیہ کرنے والے کو قیمت کے نام سے نہیں بلکہ ویسے ہی اس کو خوش کر نے کے لیے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰہ اداء ہو جاتی ہے،بشرطیکہ جسے دی جا رہی ہے وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔

عشر و زکوٰۃ چوری ہوجانے کی صورت میں ادائیگی کا حکم:
کسی نے زکوٰۃ یا عشر اداء کرنے کی نیت سے رقم یا سامان الگ کر کے رکھ دیا اور اس کے سامنے مگر اس کے علم ورضا کے بغیر کسی نے اٹھا لیا تو اس صورت میں عشر و زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ دینا ضروری ہے، الا یہ کہ بعد میں لینے والے شخص کا علم ہو جائے اور صاحبِ مال اسے پہچانتا ہواور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو اور وہ مال اس کی ملکیت میں موجود بھی ہو اور اس کے لینے پر زکوٰۃ دہندہ راضی بھی ہو جائے تو پھر زکوٰۃ اداء ہو جائے گی، کیونکہ جب مال موجود ہے، اُٹھانے والا معلوم اور فقیر ہے اور مالک اس کے اُٹھانے پر راضی ہوگیا تو یہ اس کی طرف سے تملیکِ فقیر ہے، اس لیے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، مثلاً اٹھانے والا مسکین نہیں تو تملیک فقیر نہیں پائی گئی، اٹھانے والا فقیر تو ہے، مگر مالک اسے جانتا نہیں تو یہاں مجہول و نامعلوم کو تملیک ہورہی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ مال موجود نہیں، بلکہ فقیر نے اسے استعمال کرکے ختم کردیا تو اب اس میں تملیک کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان تمام صورتوں میں زکوٰب ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ و عشر کو الگ کرتے وقت نیت کافی ہے، دیتے وقت ضروری نہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

نقدی، مالِ تجارت میں زکوٰۃ کی تفصیل

زکوٰۃ میں کس مقام کی قیمت معتبر ہوگی ؟

سوال: ادائیگ�ئزکوٰۃ میں مال زکوٰۃ کی قیمت اس جگہ کی معتبر ہوگی جہاں زکوٰۃ اداء کرنے والا ہے یا اس مقام کی معتبر ہوگی جہاں مال موجود ہو؟ حولان حول (سال گذرنا) کہاں کا معتبر ہوگا؟ (عبدالحفیظ۔ سکھر)
جواب: جہاں مال موجود ہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی، حولان حول بھی وہیں کا معتبر ہوگا۔
زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی؟

سوال: مال زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی، جس وقت زکوٰۃ واجب ہوئی یا جس وقت زکوٰۃ اداء کی جارہی ہے؟ (ابراہیم۔ سوات)

جواب: سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اور عشر میں وقتِ وجوب کی قیمت کا اعتبار ہے یا وقتِ اداء کا؟ اس میں دونوں قول ہیں۔ احتیاط اس میں ہے کہ جو قیمت زیادہ ہو وہ لگائی جائے، عام طورپر وقت اداء کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، وہی لگانی چاہیے، البتہ جانوروں کی زکوٰۃ میں بالاجماع ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شرائط وجوبِ زکوٰۃ۔۔۔ چند غلط فہمیوں کا ازالہ

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ سوال:کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولے اور چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو تو اس پرزکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟(عمیر۔کراچی)

جواب:سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی میں سے ذرا سی مقداربھی نہ ہو۔اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ= 612.35گرام اس صورت میں ہے کہ صرف چاندی ہو، سونا، مالِ تجارت اور نقدی بالکل نہ ہو۔اگر سونے یا چاندی کے ساتھ کوئی دوسرا مال زکوٰۃ بھی ہے مثلاً مالِ تجارت ہے خواہ ایک روپے کی مالیت کا ہو یا نقدی ہے، خواہ چار آنے ہی ہو تو سب اموال زکوٰۃ کی قیمت لگائی جائے گی۔ اگر سب کی مالیت 612.35گرام چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سونا ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام،چاندی ساڑھے باون تولہ= 612.35 گرام کسی کی ملکیت میں ہویامالِ تجارت یا نقدی یا ان چاروں اشیاء یا ان میں سے بعض کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر کسی شخص کے پاس ہو تو وہ صاحبِ نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیت سے متعلق مساٗئل

نیت کا مطلب:
نیت بس اس حدتک کافی ہے کہ دل میں اسے معلوم ہو کہ فلاں روزہ مثلاً رمضان کا یا نذر کا رکھ رہا ہوں بلکہ روزہ کا تذکرہ کیے بغیر صرف سحری کھالے تو یہ بھی نیت کے قائم مقام ہے۔ (البحر الرائق: ۲/۲۵۹) البتہ اگر سحری کھاتے ہوئے نیت کرلی کہ صبح روزہ نہ رکھوں گا تو یہ کھانا روزہ کی نیت کے قائم مقام نہ ہوگا۔

نیت کا وقت:
نیت کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتاہے، اس سے پہلے یا عین غروب کے وقت کی نیت کا اعتبار نہیں۔ رمضان، نذرِ معین یا نفل روزہ ہو تو نصف النہار تک یہ وقت رہتا ہے، جبکہ ہر قسم کے کفارات اور نذرِ مطلق میں ہر روزہ کے لیے غروبِ آفتاب سے صبح صادق تک وقت رہتا ہے۔ صبحِ صادق کے بعد نیت کا اعتبار نہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سحرو افطار

سحری کھانا سنت ہے:
سحری کھانا سنت ہے اور سحری کے کھانے میں برکت ہے، اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوارے ہی کھالے یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھالے، کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔

سحری میں آنکھ نہ کھلی:
اگر رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلی، سب کے سب سوتے رہے تو بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا ضروری ہے، سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات ہے اور بڑا گناہ ہے۔

مشتبہ وقت میں سحری کھانا:
اگر اتنی دیر ہوگئی کہ صبح ہو جانے کا شبہہ پڑگیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا۔ پھر اگر معلوم ہوگیا کہ اس وقت صبح ہوگئی تھی تو اس روزہ کی قضاء رکھے اور اگر کچھ معلوم نہ ہو، شبہہ شبہہ ہی رہ جائے تو قضاء رکھنا واجب نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فضائل رمضان

روزہ دار کے مُنہ کی بو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ابن آدم کے ہر نیک عمل کا اجروثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’روزہ اس سے مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود (اپنے شایان شان) اس کا بدلہ دوں گا کہ روزہ دار میری ہی خاطر نفسانی خواہشات اور کھانے پینے کو قربان کرتا ہے۔روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں، ایک فرحت افطار کے وقت ملتی ہے اور دُوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہوگی اور روزہ دار کے مُنہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اورپسندیدہ ہے۔‘‘(صحاح ستہ)

 

مزید پڑھیے۔۔۔