• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پھر ادھرنہیں آنا!

ہمارے دوست مسٹرکلین کئی دنوں سے نظر نہیں آرہے تھے۔ ہمیں فکر لاحق ہوگئی کہیں ان کے دشمنوں کی طبیعت ناساز نہ ہوئی ہو، اس لیے ہم نے سوچا،ان کا حال احوال معلوم کرلیتے ہیں۔ ویسے ایک دفعہ جب ہم نے اسی طرح مزاج پرسی کی تھی۔ آپ کے دشمنوں کی طبیعت تو خراب نہیں؟ مسٹر موصوف نے کہا تھا: ’’جب آپ صحیح سالم میرے سامنے بیٹھے ہیں تو اور کون سے دُشمن کی طبیعت خراب ہوگی۔‘‘ خیر! تو ہم ان کے در دولت پر حاضر ہوئے۔ یہ جان کر ہماری جان میں جان آئی کہ موصوف ماشاء اللہ تندرست اور حسبِ مزاج تحقیق و مطالعہ کی سرگرمی میں مصروف ہیں۔ ہم نے ان کے مطالعے میں مخل ہونے پر معذرت چاہی۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ آج کل کس’’ سبجیکٹ‘‘ پر ’’ریسرچ‘‘ فرمارہے ہیں۔
موصوف نے کان پر دھری پنسل سے اپنے سامنے پڑی انگریزی کی کتاب کی ایک عبارت پر نشان لگائی، پھر کتاب بند کرکے ہمیں شرفِ کلام بخشا اور فرمانے لگے: ’’مجھے ایک آئیڈیا سوجھا ہے۔ تاریخ میں جتنے بڑے واقعات پیش آئے ہیں، ان کے وقوع کے دوران کہا جانے والا کوئی ایک ایسا جملہ، قول، یا شعر ایسا ہوتا ہے جو بعد کے ادوار کے لوگوں کے لیے ان واقعات کے پورے پس منظر و پیش منظر کی بہت حد تک وضاحت کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شکنجہ

آپ نے ایسے بہت سے دانشور دیکھے، سنے اور بھگتے ہوںگے جو ٹی وی چینلوں پر دانش بانٹ یا اخبارات کے صفحات پر خرد کے موتی بکھیر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں خوش قسمتی سے ایک ایسا عظیم دانشور میسر ہے جو نائی کی دکان، قصائی کے تھڑے اور چھپر ہوٹل کی چارپائی پر بیٹھے اَن پڑھ مزدوروں، محنت کشوں اور دیہاڑی دار افراد کو بھی بین الاقوامی سیاست کے ’’اسرار ورموز‘‘ سکھاتا ہے۔ ان کے لیے فکر ونظر کے نئے نئے دریچے وا کرتا ہے۔ جی ہاں! آپ درست سمجھے۔ یہ ہمارے دوست مسٹر کلین ہیں جو عالمی سیاست خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور ملکی صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں اور ہر صبح اپنا’’ نتیجۂ فکر‘‘ لے کر گھر سے باہر آتے اور کہیں نہ کہیں کچہری لگاکر بیٹھ جاتے ہیں۔
موصوف شاعر تو نہیں ہیں۔ اگرچہ ایک زمانے میں جب ملک میں ’’ترقی پسند شاعری‘‘ کا غلغلہ ہوتا تھا۔ موصوف نے اردو شاعری کو اپنے کلام سے مالامال کرنے کے لیے بڑے جتن بھی کیے تھے۔ ایک عدد شعری مجموعہ مرتب کرکے اس پر ماسکو سے ’’دادِشاعری‘‘ حاصل کرنے کی کوشش بھی فرمائی تھی، مگر یہ دال گل نہ سکی۔ اس زمانے کے بڑے بڑے جغادری قسم کے شعرا نے شاید حسد کی بنا پر موصوف کے کلام کو’’ شاعری‘‘ ماننے سے انکار کردیا تھا جس پر وہ بڑے دل گرفتہ ہوئے اور شاعری کی دنیا ہی چھوڑ دی، مگر ان کا شاعرانہ مزاج نہیں گیا۔ اب جس طرح شاعر کو جب ’’آمد‘‘ ہوتی ہے تو اسے اس وقت تک

مزید پڑھیے۔۔۔

18 سے کم عمر افراد کے لیے

ہمارے دوست مسٹر کلین کو سماجی مسائل سے خصوصی دلچسپی ہے۔ اسی دلچسپی کے باعث موصوف این جی اوز کے لیے ’’ریسرچ ورک‘‘ کرتے رہے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی نوعیت کے سماجی معاملات پر تو موصوف ’’اجتہادی شان‘‘ رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ’’اجتہاد‘‘ کرتے ہوئے انہیں کوئی اُلجھن ہوجاتی ہے تو ہمیں بھی یاد فرمایا کرتے ہیں۔ گزشتہ روز موصوف ہمارے مسکین خانے تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں حسب معمول کاغذات اور اخبارات کا ایک پلندا سا تھا۔ گرمی کے باعث پسینے میں شرابور تھے۔ تشریف رکھنے کے ساتھ ہی فرمانے لگے: ’’ملاجی! مجھے ایک چیز کی سمجھ نہیں آئی۔ شادی کے لیے 18 سال کی عمر کی قید کا قانون پیش کیا گیا ہے تو آپ ملا لوگوں نے اس پر بھی آسمان سر پر اٹھالیا ہے۔ اگر ملک میں ایسا قانون بنتا ہے تو اس سے اسلام کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟‘‘
ہم نے زمینی پنکھے کا رُخ مسٹر موصوف کی طرف کردیا تاکہ وہ کچھ ’’ٹھنڈے‘‘ ہوجائیں۔ گزارش کی: ’’آپ کے اس سوال کا جواب بعد میں دیا جائے گا۔ پہلے آپ یہ وضاحت فرمائیے پاکستان میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کا قانون لانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ ایجنڈا کس کا ہے؟ کیا پاکستان میں کہیں بھی عوامی سطح پر کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے کہ شادی کے لیے عمر مقرر کی جائے؟ کیا کسی سیاسی جماعت کے انتخابی منشور میں یہ بات شامل تھی کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد سب سے پہلے 18 سال سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی لگائی جائے گی؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر یہ قانون کہاں سے آیا ہے؟ اس کا محرک کون ہے؟‘‘ مسٹر کلین اس بات پر تھوڑے سے بر افروختہ ہوگئے۔ کہا:

مزید پڑھیے۔۔۔

رواداری

یہ چند روز قبل کی بات ہے۔ شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں ملک میں مذہبی ہم آہنگی سے متعلق ایک کنونشن ہورہا تھا۔ ہم بھی اپنے مہرباں دوست ’’خامہ بدست‘‘ کے ہمراہ منتظمین کی خصوصی دعوت پر ’’تماشائے اہل کرم‘‘ دیکھنے کے لیے حاضر ہوئے۔ ہم پہنچے تو پروگرام کی کارروائی اپنے جوبن پر تھی۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت تھی کہ ’’علماء ومشایخ کنونشن‘‘ کے بینر کے نیچے علماء کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور اقلیتی مذاہب کے نمایندے بھی صف اوّل میں بیٹھے تھے۔ امن، محبت، رواداری اور قومی ہم آہنگی کی باتیں ہورہی تھیں ۔ جہاں اقلیتی رہنما اپنی شکایات، مسائل اور اپنے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات دوٹوک الفاظ میں بیان کررہے تھے، وہیں اکثریت سے تعلق رکھنے والے علماء کی جانب سے اقلیتوں کی جائز شکایات کے ازالے کی ضرورت کا بھی کھل کر اعتراف کیا جارہا تھا۔
ہمیں یہ منظر بہت اچھا لگا اور ہم سوچنے لگے: کاش! ہمارے دوست مسٹر کلین بھی اس مجلس میں موجود ہوتے تو انہیں مذہبی رواداری کے اس شاندار مظاہرے پر کتنی خوشی ہوتی۔ہم نے اسی سرشاری کے عالم میں شرکاء کنونشن کا ایک جائزہ لینا شروع کیا تو یہ دیکھ کر ہماری خوشی کی انتہاء نہ رہی کہ مسٹر کلین بھی نہ صرف دوسری قطار میں موجود تھے بلکہ نہایت انہماک سے مقررین کی گفتگو سن رہے تھے۔ ہمیں اطمینان سا ہوگیا کہ چلیں کم ازکم آج کے اس کنونشن میں شرکت کے بعد تو مسٹر موصوف کی

مزید پڑھیے۔۔۔

سیکولرازم کا جنازہ

ہمارے کرم فرما حکیم فقیر حسین دہلوی کی بیٹھک میں مجلس جمی ہوئی تھی۔ حکیم صاحب کے ایک عزیز دہلی سے تشریف لائے تھے۔ حکیم صاحب نے ان کے اعزاز میں ایک مختصر سی استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں محلے کے کچھ معززین کو دعوت دی گئی تھی۔ ہم تو خیر حکیم صاحب کی دوستی کے کھاتے میں شریک محفل بنے، جبکہ ہمارے دوست مسٹر کلین باقاعدہ ’’معززین‘‘ میں شامل تھے۔ ظاہر ہے محفل میں مر کزِ نگاہ تو ہندوستان سے آئے ہوئے مہمان تھے جو دہلی کے روایتی نستعلیق لب ولہجے میں تول تول کر الفاظ ادا کرتے اور مدعا سے زیادہ ادب آداب کے اظہار کا اہتمام فرمارہے تھے۔ شرکاء محفل مہمان گرامی سے ہندوستان کے حالات بالخصوص مسلمانوں کی مشکلات و مسائل سے متعلق سوالات کرتے تو موصوف ایک لمحے کے لیے رُک کر شرکا کا جائزہ لیتے، جیسے انہیں مجلس میں کسی جاسوس کی موجودگی کا شبہ ہو۔ پھر گول مول انداز میں بعض سلگتے ہوئے سوالات پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کرتے۔ مہمان گرامی کا یہ انداز رکھ کر یہ شعر ہمارے ذہن کے پردے پر جھلملانے لگا ؎ ادھر ہیں لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں واں ایک خامشی تری سب کے جواب میں ہم نے کسی سے سن رکھا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اسی طرح عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔