• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

قربانی اور فلسفہ قربانی

محلے میں فوتگی ہوئی تھی، ہم تعزیت کے لیے مقررہ جگہ پہنچے تو وہاں شامیانے ،کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور بہت سے معززین جمع تھے۔ ہم نے مرحوم کے ورثاء سے تعزیت کی اور کچھ دیر بیٹھے۔ابھی ہم اجازت لے کر واپس جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شاندار لیموزین گاڑی تعزیت گاہ کے قریب آکر رکی۔ گاڑی سے ایک خشخشی ڈاڑھی والے شیروانی پوش ادھیڑ عمر شخص اترے، دوسری طرف سے دروازہ کھلا تو ہمارے دوست مسٹر کلین بھی ’’برآمد‘‘ ہوئے اور دونوں اصحاب اپنے لباس وغیرہ ٹھیک کرتے ہوئے خراماں خراماں چلتے ہوئے اندر آگئے۔ مجمع میں شریک لوگ ظاہر ہے مسٹر کلین کو تو اچھی طرح جانتے تھے، البتہ ان کے شیروانی والی پوش ہمراہی کو اجنبیت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ مسٹر کلین نے ان کا تعارف ’’پروفیسر جدید الدین‘‘ کے نام سے کرایا اور کہا کہ موصوف’’ معروف اسلامی اسکالر ‘‘ہیں، لندن سے ’’اسلامی علوم‘‘ میںپی ایچ ڈی کیے ہوئے ہیں اور ایک سرکاری جامعہ میں شعبۂ اسلامیات کے سربراہ ہیں۔
ظاہر ہے کہ اتنے بھاری بھرکم تعارف کے بعد مجمع پر موصوف کی شخصیت کا رعب تو پڑنا ہی تھا۔ رسمی اظہار تعزیت کے بعد پروفیسر صاحب کی ’’عالمانہ‘‘ گفتگو کا آغاز ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میاؤں میاؤں

گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل تبدیلی اور انقلاب کے داعی بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری سے زیادہ انقلابی تقریریں کرتے پائے جاتے ہیں۔ عمران خان کے بارے میں ان کے نظریے کی تبدیلی کی وجہ تو عرض کی تھی کہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر نوجون لڑکیوں اور لڑکوں کو نچانے کے ’’جرأت مندانہ اقدام‘‘ کے بعد مسٹر کلین جیسے دانش وروں کے پاس عمران خان کو ’’طالبان خان‘‘ سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی تھی۔ بقو ل کسے شاید یہی عمران خان کا بھی مقصد تھا کہ ڈرون حملوں کی مخالفت کی وجہ سے عالمی طاقتوں اور ملک کے لبرل حلقوں میں جو ان کا ’’امیج‘‘ متاثر ہوگیا تھا۔ اس کا زالہ کرنے کے لیے تبدیلی اور نیا پاکستان کے نعرے کے تحت پاکستان کی نوجوان نسل کو تحریکِ انصاف کے پر چم تلے ناچ گانے میں مشغول دکھایا جائے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ خان صاحب پر اسلام پسندی کا ’’الزام‘‘ کتنی بڑی ’’تہمت‘‘ ہے۔
ہمیں اصل تجسس اس بات کا تھا کہ آخر مسٹر کلین کو طاہر القادری میں ایسی کیا خاص بات نظر آئی کہ وہ علامہ صاحب کے بھی مرید بن گئے، حالانکہ علامہ صاحب ایک مذہبی جماعت کے سر براہ ہیں، ان کی ڈاڑھی بھی ہے جس کا سائز اگرچہ آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے، مگر تاحال ابھی بالکل غائب تو نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سب سے بڑا انقلاب!

ہمارے دوست مسٹر کلین پر آج کل ایک بار پھر ’’انقلابی جذبات‘‘ کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ ’’سوشلسٹ انقلاب ‘‘کے بڑے حامی اور داعی تھے۔ ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ کا نعرہ ہمیشہ ان کی زبان پر ہوتا تھا۔ سرمایہ داریت اور عالمی استعمار امریکا کو گالیاں دینا ان کا شعار تھا۔ سرخ ریچھ کے افغانستان میں آنجہانی ہوجانے کے بعد سے وہ نہ صرف یہ کہ ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ کا نعرہ بھول گئے ہیں، بلکہ’’ عالمی استعمار‘‘ کی پروردہ این جی اوز کی خدمت گزاری کو بھی اپنا وظیفۂ حیات بناچکے ہیں۔ حالیہ دنوں طاہر القادری اور عمران خان کے انقلابی دھرنوں کے ماحول نے مسٹر کلین کے اندر سوئے ہوئے ’’انقلابی‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کردیا۔ اب موصوف حسبِ عادت ہر جگہ اور ہر وقت انقلاب پر لیکچر دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ پرسوں ہم پرچون کی دکان پر سودا سلف لینے گئے تو دیکھا مسٹر کلین وہاں محلے کے دو بزرگوں کو گھیرے ’’درس انقلاب‘‘ دے رہے تھے۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ ایک بزرگ ایک پاؤ مونگ کی دال لینے آئے تو دکاندار نے انہیں بتایا کہ دال کی قیمت میں 2 روپے پاؤ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس پر وہ بزرگ دکاندار کے ساتھ بگڑ گئے اور اسے لعن طعن کرنے لگے۔ قریب میں کھڑے ایک اور بزرگ نے یہ منظر دیکھا تو وہ بھی اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے اس ’’توتو میں میں‘‘ میں شامل ہوگئے۔ دکاندار کی

مزید پڑھیے۔۔۔

طاؤس ورباب’’اوّل‘‘!

جس طرح اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی، اسی طرح ہمارے دوست مسٹر کلین کے سیاسی خیالات ونظریات کا بھی کوئی رخ سیدھا نہیں ہے۔ سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کے بارے میں ان کے خیالات جس قدر بدلتے ہیں، اتنے تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا ہوگا۔ ماضی میں ہم نے دیکھا، کبھی وہ بھٹو صاحب کے شیدائی بن جاتے اور ان کے سوشلسٹ انقلاب کے نعرے کے پرچارک ہوا کرتے اور کبھی ان پر ’’رجعت پسندی‘‘ کا الزام دھر کر ان سے برأت کا اظہار کرتے۔ موصوف آج کل ہر محفل میں عمران خان کی تعریفیں کرتے پائے جاتے ہیں حالانکہ ابھی ایک دو سال قبل ہی وہ امریکا کی مخالفت اور ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے پر عمران خان کو ’’طالبان خان‘‘ کے لقب سے پکاراکرتے تھے، انہی دنوں کوئٹہ ہوٹل پر عمران خان کے حامی نوجوانوں کی مجلس میں عمران خان کو ’’پاگل خان‘‘ کہنے پر ان کی اچھی خاصی ’’خدمت‘‘ بھی ہوئی تھی اور موصوف نے ہم سے باقاعدہ گلہ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکن انہیں موبائل اور سوشل میڈیا پر ننگی گالیاں بھی دیتے ہیں۔
مسٹر کلین نے یہ گلہ ہم سے اس لیے کیا تھا کہ شاید ان کے خیال میں ہم بھی امریکا کے خلاف عمران خان کے بیانات کی وجہ سے ان کی ’’جرأت ایمانی‘‘ سے متاثر ہوںگے۔ ہم نے اس وقت ان سے گزارش کی تھی کہ ہم کسی خوش فہمی

مزید پڑھیے۔۔۔

چشمۂ شیریں!

ہم نئے آنے والے طلبہ کے جائزے اورداخلے کی ذمہ داریوں کی ادائی کے سلسلے میں مدرسے میں مصروف کار تھے۔ ہمیں نئے طلبہ کے کوائف کا جائزہ لینے اور ان کا ابتدائی شفوی امتحان لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مدرسے میں ہر طرف چہل پہل اور رونق نظر آرہی تھی۔ہم نے ابھی کچھ ہی طلبہ کو نمٹایا تھا اورہمارے سامنے طلبہ کی ایک لمبی قطار تھی اور آس پاس بھی لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ اتنے میں ایک طالب علم نے آکر بتایا کہ باہر ایک صاحب آئے ہیں، آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ہمیں فکر سی لگ گئی کہ اس مصروفیت کے وقت میں کن صاحب کو کیا پریشانی لاحق ہوگئی جو ہم سے ملنے آگئے۔ خیر ہم نے طالب علم سے ان صاحب کو اندر بلانے کو کہا،کچھ ہی دیر میں دیکھا کہ ہمارے دوست مسٹر کلین تشریف لارہے ہیں۔ہمیں حیرت سی ہوئی کہ مسٹر موصوف کااس طرف گزر کیسے ہوا؟مسٹر کلین نے آتے ہی کہا، ملاجی ! بڑ ا میلہ لگایا ہوا ہے،حلوہ پکا ہے کیا؟ ہم نے عرض کیا،آئیے آئیے،حلوہ بھی کھلادیں گے آپ کو،سنائیے کیسے تشریف آوری ہوئی؟مسٹر کلین نے کہا،دراصل ہماری خالہ کا انتقال ہوگیا تھا پرسوں،آج ان کا سوئم ہے، قرآن خوانی کے لیے بچے چاہیے تھے۔ہم نے مسٹر کلین کی خالہ مر حومہ کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی،اس حادثہ فاجعہ پر ان سے تعزیت کی تاہم ان سے گزارش کی کہ ہمارے ہاں بچے تعلیم حاصل کرنے کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہور چوپو!

یہ عید کے بعد والے ہفتے کی بات ہے۔ ہمارے دوست مسٹر کلین ہمیں شاندار سوٹ بوٹ میں ملبوس فراٹے مارتی ہوئی گاڑی میں بیٹھے گلی سے گزرتے نظر آئے۔ ہمیں تجسس سا ہوا، لیکن یہی خیال کیا کہ شاید کسی عید ملن پارٹی میں تشریف لے جارہے ہوں گے۔ موصوف جب بہت ساری ’’پابندیوں‘‘ اور ’’مجبوریوں‘‘ کے باوجود رمضان میں افطار پارٹیوں کو اپنے جلووں سے جگمگاتے ہیں تو عید ملن پارٹیوں کے لیے تو شیطان بھی آزاد ہوچکا ہوتا ہے۔ موصوف جب مخلوط پارٹیوں میں جاتے ہیں تو سوٹ بوٹ کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں، اسی لیے انہیں جاتے دیکھ کر ہمیں گمان ہو ا کہ ضرور کسی ’’رنگین پارٹی‘‘ میں شرکت فرمانے جارہے ہوں گے۔ خیر دن گزر گیا، شام کو ہم نماز پڑھ کر مسجد سے واپس آ رہے تھے کہ مسٹر کلین ہمیں سڑک پر چہل قدمی کرتے ملے۔ ہم نے موصوف سے حال احوال کیا۔ انہیں قریبی ہوٹل میں چائے پلانے کی پیش کش کی جو انہوں نے از راہ کرم قبول فرمالی۔ چلتے چلتے ہم نے پوچھ ہی لیا: ’’اکیلے اکیلے کہاں عید کی دعوتیں اُڑائی جارہی ہیں؟‘‘ مسٹر کلین نے سینہ چوڑا کرکے کہا: ’’امریکی سفارت خانے میں پارٹی تھی، آپ چلتے ساتھ؟‘‘ ہم نے تھوڑی سے شرارت کی اور کہا: ’’کیا آنجہانی میجر جنرل کی ’’آخری رسومات‘‘ کی تقریب تھی؟ ہمیں پتا ہوتا تو ہم بھی تماشائے عبرت دیکھنے ضرور ساتھ چلتے۔‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’وہاں اگر آپ کو آنجہانی کی میت پر کچھ پڑھنے کو کہا جاتا تو کیا کرتے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ہم ضرور کچھ پڑھ بھی لیتے۔‘‘ مسٹر کلین نے کہا:

مزید پڑھیے۔۔۔

منطقی انجام

گزشتہ ’’کالم نما‘‘ کے آخر میں بتایا تھا حکیم فقیر کی دعوتِ افطار میں ماسٹر مبین کے ہاتھوں ’’منہ کا ذائقہ‘‘ خراب ہونے کے بعد ہمارے دوست مسٹر کلین ہمیں نماز کی حالت میں چھوڑ کر وہاں سے رفو چکر ہوگئے تھے۔ جلدی میں اپنے نئے جوتے چھوڑ کر ہمارے پرانے پھٹے جوتے پہن کر چلے گئے تھے۔ ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی‘‘ کے مصداق ہم نے بہت سوچا کہ ’’ بھاگتے دانش ور کے جوتے سہی‘‘، مگر پھر ہمیں خیال آیا بچارے مسٹر کلین کو اس ’’ وقوعے‘‘ پر گھر میں بھی اچھی خاصی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مسٹر کلین بڑے دانشور ہیں اور جو جتنا بڑا دانشور ہوتا ہے، اتنا ہی بھلکڑ بھی ہوتا ہے۔ مسٹر کلین کی بیگم کی ان سے جوشکایات ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے وہ اکثر بے خیالی میں ان کی چپلیں پہن کر گلی میں نکل جاتے ہیں۔ کہیںدعوتوں میں جاتے ہیں تو دوسروں کے جوتے پہن کر آجاتے ہیں۔
اپنی سہیلیوں کے سامنے شرمندگی انہیں اٹھانا پڑتی ہے (کیونکہ مسٹر کلین کبھی شرمندہ ہوتے ہی نہیں) اس ’’تاریخی پس منظر‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے سوچا، ہمیں فوری طور پر موصوف کے جوتے ان کے گھر پہنچاکر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ چنانچہ ہم نے مسٹر کلین کے جوتے پالش کرواکے ایک شفاف تھیلے میں ڈالے اور ان کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں کئی جاننے والوں نے حیرت اور انجان لوگوں نے شک کی نظر سے ہماری طرف دیکھا، کیونکہ آج کل جوتے چرانے کی ’’رسم‘‘ اتنی عام ہوچکی ہے ہر کفش بردار آدمی پر کوئی بھی گمان کیا جاسکتا ہے۔ خیر! تو ہم مسٹر کلین کے دولت خانے پہنچے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہذب درندے

ہمارے کرم فرما حکیم فقیر حسین یار باش آدمی ہیں۔دوست احباب کو جمع کرنے اور زمانے کی مصروفیات، دکھوں اور پریشانیوں کے علیٰ الرغم بے تکلفی کی محفلیں جمانے کے لیے انہیں مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ اسی شوق کے زیر اثر موصوف ہر سال رمضان میں کسی ایک دن دوستوں کے لیے دعوت افطار کا بندوبست بھی ضرورکرتے ہیں۔ان کی دعوت میں اور کوئی جائے یا نہ جائے ،ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ضرور جاتے ہیں۔ہم اس لیے جاتے ہیں کہ ہم نے پڑھ رکھا ہے کہ دعوت قبول کرنا سنت ہے۔اب ہم اتنی میٹھی سنتوں پر بھی عمل نہ کریں توکڑی سنتوں پر کیسے عمل کرسکیں گے؟جہاں تک ہمارے دوست مسٹر کلین کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک تو ایسی دعوتوں میں جانا گویا ’’واجب‘‘ ہے۔ایک تو اس لیے کہ بقول ان کے ’’گناہ گار مسلمان‘‘ ہیں، اگر افطار پارٹیوں میں بھی نہیں جائیں گے تو لوگ کیسے یقین کریں گے کہ وہ بھی رمضان کا’’ احترام‘‘ کرتے ہیں۔موصوف اتنے بھی سیکولر اور لبرل نہیں ہیں کہ ’’مذہبی روایات‘‘ پر بالکل بھی عمل نہ کریں۔وہ اکثر دلاور فگار کے یہ اشعار گنگناتے پائے جاتے ہیں کہ؎
اگرچہ پورا مسلماںتو نہیں لیکن
میں اپنے دین سے رشتہ تو جوڑ سکتا ہوں
نماز و روزہ و حج و زکوۃ نہ سہی

مزید پڑھیے۔۔۔

درد کی ٹیسیں

ہمارے دوست مسٹر کلین ہمیں کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے تھے۔ گلی میں ان کی اور ان کے بچوں کی چلت پھرت کچھ زیادہ نظر آرہی تھی۔ ہمیں اس پر تشویش تو تھی تاہم مسٹر کلین سے پوچھنے کی فرصت نہیں ملی اور خود انہوں نے بھی کچھ بتایا نہیں۔ پرسوں ہم بچے کو ٹیکا لگوانے قریبی نجی ہسپتال گئے تو دیکھا مسٹر کلین کا پورا خاندان ہسپتال کی راہداریوں میں موجود تھا۔ کسی کے ہاتھ میں دواؤں کا تھیلا تھا تو کوئی کھانے کے برتن اٹھائے ہوئے تھا۔ ہمیں پہلے تو خود مسٹر کلین کی خیریت کی فکر ہوئی، پھر یاد آیا کہ انہیں تو آج صبح ہی گلی سے صحیح سالم گزرتے دیکھا تھا۔ خیر! تو ہم نے مسٹر کلین کے ایک بھتیجے کو ایک طرف کھینچ کر ان سے ماجرا معلوم کیا۔ انہوں نے بتایا: ’’مسٹر کلین کے بڑے صاحبزادے کو اپنڈیکس کا پرابلم ہوگیا ہے، ابھی کچھ دیر پہلے اس کا آپریشن ہوا ہے، سارے گھر والے اس وجہ سے پریشان ہیں۔‘‘ ہم نے مسٹر کلین کا پوچھا تو انہوں نے بتایا: ’’بیٹے کو آپریشن تھیٹرمیں لے جانے کے بعد انکل کی طبیعت بھی اچانک خراب ہوگئی تھی، انہیں بھی اب اسپیشل وارڈ میں ٹریٹمنٹ دی جارہی ہے۔‘‘ ہم ہسپتال انتظامیہ سے خصوصی اجازت لے کر اسپیشل وارڈ میں گئے اور مسٹر کلین سے ملاقات کی جن کی طبیعت اب کافی بہتر تھی۔ مسٹر کلین نے ہماری اس اچانک آمد کا بُرا نہیں منایا، بلکہ پہلی دفعہ انہوں نے ہم سے خصوصی دعا کے لیے بھی کہا۔ ہم نے نقد میں ہی ہاتھ اٹھاکر ان کی اور ان کے صاحبزادے کی ہر قسم کی ظاہری و باطنی بیماریوں سے صحت یابی کی دعا کی۔ موصوف آمین کہتے رہے۔
پھر انہوں نے ہمیں ساتھ میں پڑے بنچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے تو موصوف نے بیٹے کی بیماری، اس پر ہونے والے اخراجات

مزید پڑھیے۔۔۔

آوازنہیں آرہی!

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد لاکھوں قبائلی مسلمانوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات نے کچھ ایسا بے چین کردیا کہ ہم سے رہا نہ گیا اور ہم اپنے دو دوستوں انور ذہین اور جمال الدین کے ہمراہ جنوب سے شمال کی جانب عازم سفر ہوگئے۔ ہم متاثرین کے لیے کوئی امدادی سامان لے کر جانے کی پوزیشن میں تو نہیں تھے تاہم متاثرہ بھائیوں کے درمیان جاکر ان کے دُکھ درد میں شریک ہونے کا جذبہ ہی ہمارا وہ سامان سفر تھا جس کے بل بوتے پر ہم نے ایک لمبے راستے کا نتخاب کیا۔
اگلے روز ہم قبائلی علاقوں سے آئے متاثرین کے ایک بڑے کیمپ میں موجود تھے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے خیموں میں پورے پورے خاندان بسے ہوئے تھے اور ہر خیمے کے اندر دُکھ، درد، پریشانی، غم اور مشکلات کی ایک الگ کہانی تھی۔ کہیں بڑے بوڑھے خاندان کے لیے راشن اور ضروریات زندگی کے حصول کے لیے سرگردان تھے تو کہیں پھول جیسے بچے چلچلاتی دھوپ اور سخت گرمی کے موسم میںننگے سر اور ننگے پیر اِدھر اُدھر چلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے معصوم چہروں پر خوف و دہشت، بے یقینی اور اپنے گھر بار، اسکول، کھلونوں اور جانوروں سے دور ہونے کے دکھ کا احساس صاف طور پر پڑھا جاسکتا تھا۔
ہم نے کندھے پر راشن کا تھوڑا سا سامان اٹھائے ہوئے ایک قبائلی کو روک کر اسے اس کی مشکلات کا پوچھا تو اس نے سامان نیچے رکھتے ہوئے پہلے تو ایک لمبا سانس لیا اور پھر گویا ہوا: ’’بھائی! ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ یہاں اس کیمپ میں ہمیں اپنے بچوں کے لیے تھوڑا سا راشن مل جاتا ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

بجنگ آمد!

گزشتہ ہفتے سندھ و بلوچستان کے ساحلی علاقے طوفانی لہروں کی زد میں رہے۔ میڈیا نے اپنی عادت سے مجبور ہوکر طوفان کے خطرے کو کچھ اس انداز میں پیش کیا ،جیسے یہاں سب کچھ بہہ جانے کا امکان ہے، اس لیے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ خاصے سراسیمہ رہے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے۔ شہر میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ بچوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گلی میں نکلی ہوئی اس بوندا باندی سے ’’مستفید‘‘ ہورہی تھی اور ہم یہ سارا منظر دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے۔ اتنے میں دیکھا، ہمارے دوست مسٹر کلین سر پر اخبار کا شیڈ سا بنائے آرہے ہیں، مگر ان کے چہرے پر تازگی کی بجائے خوف و دہشت کے سے آثارردکھائی دے رہے ہیں۔ موصوف گرد و پیش سے بے نیاز ہمارے پاس سے گزرنے لگے تو ہم نے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کے حسبِ حال ایک شعر پڑھا؎
کاغذ کی ناؤ سر پہ سجا کے چلی حیات
نکلی برون شہر تو بارش نے آلیا!
مسٹر کلین نے چونکنے کے انداز میں ہماری طرف دیکھا۔ چہرے پر طاری خوف کی کیفیت چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگے

مزید پڑھیے۔۔۔