• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دیرتک اسم محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے!

ہمارے دوست مسٹرکلین موڈی آدمی ہیں۔ اکثر اوقات ان پر ’’دانشوری‘‘ کی ’’کیفیت‘‘ طاری رہتی ہے، اس لیے ان کے سامنے عقل کی بات کرنی بھی مشکل ہوجاتی ہے، تاہم موصوف چونکہ ’’صوفی اسلام‘‘ کے مغربی تصور کے بڑے حامی بھی رہے ہیں، یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں جو ایک ’’صوفی تحریک‘‘ چلائی گئی تھی، جس کے صوفی اعظم اپنے چودھری شجاعت حسین گجرات والی سرکار تھے۔ ان دنوں تو مسٹرکلین پر ’’تصوف‘‘ کا بڑا غلبہ ہوگیا تھا۔ ایک دفعہ تو پورا قافلہ لے کر لاش شہباز قلندر کے عرس میں تشریف لے گئے تھے۔ اس بناء پر ہم کبھی مسٹر موصوف کی ’’رگ تصوف‘‘ کو چھیڑ کر ان سے کچھ کام لینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا 2012ء میں جب توہین رسالت پر مبنی ایک امریکی فلم کے خلاف احتجاج ہوا تھا، تو مسٹر کلین بھی نہ صرف یہ کہ احتجاجی مظاہرے میں گئے تھے، بلکہ امریکی سفارتخانے کے قریب لگے کنٹینر کو ہٹانے والوں میں آگے آگے دکھائی دیے تھے۔

ماضی کے اس ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس مرتبہ بھی مسٹر کلین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان سے درخواست کی کہ محلے کے نوجوانوں نے توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کا پروگرام بنایا ہے، اگر آپ اس میں شرکت کرکے خطاب بھی فرمائیں تو عین ثواب ہوگا، مگر مسٹر کلین پر اب کی بار دانشوری کی کیفیت طاری تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدی کا سب سے بڑالطیفہ

ہمارے دوست مسٹرکلین کو لطیفے سننے سنانے کو بڑا شوق رہا ہے۔ ان کے پاس ’’پارلیمانی‘‘ اور ’’غیر پارلیمانی‘‘ ہر قسم کے لطیفوں کا اسٹاک ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ خاص طور پر ملائوں کے بارے میں جتنے لطیفے انہیں اَزبر ہیں، شاید کسی کو نہ ہوں۔ جس طرح ہمارے بیشتر لطیفے اور کثیفے ’’سردار جی‘‘ کے سر تھوپے جاتے ہیں، اسی طرح مسٹر کلین نے بھی بہت سے لطیفوں میں ملا اور مولوی کو فٹ کیا ہوا ہوتا ہے۔ ویسے تو موصوف ’’انقلابی‘‘ دانشوروں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جس کے چہرے پر گویا ’’ہنسنا منع ہے‘‘ کی تختی لٹکی ہوتی ہے، جس کو دنیا کی ہر چیز الٹی دکھائی دیتی ہے، ہر وقت سیاپا جس کا شعار ہے، مگر اس کے باوجود مسٹرکلین کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنی مخصوص مجلسوں میں ہوتے ہیں توکبھی کبھی حس مزاح کا عمدہ مظاہرہ بھی کرتے ہیں اور بارہا محفل کو کشت زعفران میں تبدیل کردیتے ہیں۔ پھر جب ہم کبھی کسی اچھے موڈ میں ان کے ہتھے چڑھتے ہیں تو ان کا بحر ظرافت موجیں مار رہا ہوتا ہے۔ ہم ان کے مذاق کا بر ا نہیں مناتے، بلکہ ہمیں تو ان کے غصے پر بھی پیار آتا ہے۔ وہ جو شاعر نے کہا ہے نا ؎
ان کو آتا ہے پیار پر غصہ
ہمیں غصے پہ پیار آتا ہے
اگرچہ بعض ناقدین کے بقول مسٹرکلین جب کوئی لطیفہ سناتے ہیں تو خود بھی ایک لطیفہ لگتے ہیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ ناقدین کا قول ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایکسر سائز!

ہمارا ’’مسکین خانہ‘‘ جس عمارت میں واقع ہے، اس کی بجلی کئی گھنٹوں سے بند تھی۔ محکمہ بجلی کے اہلکار اپنی مخصوص کرین والی گاڑی میں عمارت کی طرف آنے والے تاروں میں خرابی ڈھونڈ کر بجلی کی ترسیل بحال کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ ہم بھی بجلی کی جلد بحالی کی امید لیے گاڑی کے پاس کھڑے اس عمل کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ دیگر احباب بھی آس پاس کھڑے تھے۔ محکمۂ بجلی کے اہلکار کرین کے رسے میں جھولتے ہوئے تاروں کی مرمت کررہے تھے۔ اتنے میں ایک سفید رنگ کی کار ہمارے نزدیک آکر رکی اور پچھلی نشست میں بیٹھے صاحب نے شیشہ نیچے کرکے سر باہر نکالا۔ یہ ہمارے دوست مسٹر کلین تھے جو سوٹ بوٹ میں غالباً کسی این جی او کے اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ کرین کے پاس ہمیں کھڑے دیکھ کر موصوف کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی تھی۔ وہ ہمیں دوچار فقروں کی سوغات دے جانا چاہتے تھے۔ ہم ان سے سلام دعا اور حال احوال کی توقع کر رہے تھے، مگر موصوف نے اس کے بغیر ہی ہمیں ناوک طنز کے نشانے پر رکھ لیا۔ کہنے لگے: ’’ملا جی! پھانسی پر چڑھنے کی ایکسر سائز تو نہیں ہورہی؟ آج کل ملاؤں کی پھانسیوں کا موسم چل رہا ہے۔ ذراخیال کریں، ہم آپ کو تو کھونا نہیں چاہتے!!‘‘ یہ کہہ کر مسٹر کلین کھل کھلاکر ہنسنے لگے۔ ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے افراد نے بھی اس ’’کھلکھلاہٹ‘‘ میں ان کی ہم نوائی کی۔ ہمارے پاس کھڑے نوجوانوں میں سے کچھ نے مسٹر کلین کی اس خوش طبعی کو پھکڑپن باور کرکے ناگواری کے سے تاثرات کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے مسٹر کلین کی حس مزاح کی داد دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دستک!

ہم گزشتہ کئی روز سے مسٹر کلین سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ یہ ہماری اور مسٹر کلین کی دوستی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ہمیں مسٹرموصوف سے ملنے میں جھجھک سی محسوس ہورہی ہے۔ ورنہ ہمارے قارئین جانتے ہیں، ہمیں اپنے دوست سے کتنی محبت ہے۔ چند روز ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہو تو بے تابی سی ہوجاتی ہے۔ ہم کسی دل جلے شاعر کے اس شعر کے مصداق بن جاتے ہیں کہ؎

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
مگرایک ہی علاقے میں رہنے کی وجہ سے اکثر سر راہے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، تاہم کبھی کبھی موصوف کسی ’’ریسرچ‘‘ میں مصروف ہوتے ہیں یا کسی خاص مشن پر کہیں گئے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کی یاد ستانے لگتی ہے۔ پھرکوئی نہ کوئی تقریب بہر ملاقات بن ہی جاتی ہے۔ ہمارا اور مسٹر کلین کا برسوں کا ساتھ رہا ہے۔ ہماری زندگی کا گوشوارہ ان کے بغیر بنتا ہی نہیں بقول شاعر؎

مزید پڑھیے۔۔۔

کام سے پہلے انعام!

یہ گذشتہ ہفتے کی بات ہے۔ ہمیں بازار سے کچھ سودا سلف لینا تھا۔ سورج ڈھلنے کا وقت تھا۔ موسم کی خوشگوار خنکی آہستہ آہستہ بڑھتی محسوس ہورہی تھی۔ ہم نے اس پُرکیف ماحول سے لطف اندوز ہونے کی خاطر ذرا لمبا راستہ اختیار کیا اور چلتے چلتے اس گلی میں جانکلے جہاں ہمارے دوست مسٹر کلین کا دربار لگتا ہے۔ ’’دربار‘‘ کا لفظ ہم نے اس لیے استعمال کیا، کیونکہ مسٹر کلین ایک معروف سوشل ورکر ہیں۔ ان کے پاس ان کے چاہنے والوں کے علاوہ ان کے کارکنوں یعنی این جی اوز کے نمایندوں کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج کل پی ٹی آئی کے ’’انقلابیوں‘‘ کی آمد و رفت بھی بڑھ گئی ہے۔

ہم مسٹر کلین کے گھر کے نزدیک پہنچے تو ایسا لگا کہ وہاں آج واقعی دربار سا لگا ہوا ہے۔ مسٹر کلین کے گھر کے باہر جشن کا سماں تھا۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع تھی۔ مسٹر کلین ان کے بیچ میں کرسی میں بیٹھے بڑے خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کچھ دیر پہلے یہاں مٹھائی بھی بٹی ہے۔ ہم اس ماحول میں مسٹر کلین کے پاس جانا نہیں چاہ رہے تھے۔ کنی کتراکر نکلنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ موصوف کی نگاہ کی زد میں آگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’غیر ریاستی عناصر‘‘

ہمارے دوست مسٹر کلین بادشاہ آدمی ہیں۔ کسی کی تعریف اور مدح سرائی کرنے پر آئیں تو اسے ثریا سے ملادیتے ہیں اور کسی کی مذمت اور مخالفت پر اتر آئی تو اسے پاتال میں پہنچاکر دم لیتے ہیں۔ ان کی اس’’ قلب ماہیت‘‘ میں، مہینوں اور ہفتوں کا فاصلہ نہیں ہوتا بلکہ کبھی صبح سے شام تک وہ یہ منزل طے کر چکے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی کسی مجلس میں گفتگو کے آغاز میں جس کی بلائیں لیتے دکھائی دیں۔ آخر میں اسے دو چار گالیوں کی سوغات بھی پیش کرکے ہی اٹھتے ہیں۔ ابھی دو چار روز قبل کی ہی بات ہے۔ موصوف ایک محفل میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے تھے۔ ہمیں حیرت بھی ہورہی تھی کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج اور جرنیلوں کے بارے میں ان کی اور ان کے قبیلے کی رائے کبھی مثبت نہیں رہی۔ انہیں پاک فوج کا ماٹو ’’ایمان، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ‘‘ بھی پسند نہیں ہے اور ان کا موقف ہے کہ فوج کا کام ملک کی جغرافیائی سر حدوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ ’’نظریاتی سر حدیں‘‘ ان کی نظر میں کوئی چیز ہی نہیں ہیں۔ اس بارے میں مسٹر موصوف کو نذیر ناجی اور ایازا میر کے کالموں کے سارے حوالے یاد ہیں۔ مسٹر کلین اینڈ کمپنی کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بھی سخت ’’تحفظات‘‘ ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار کہیں انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’ویل ڈن‘‘

a

ہمارے دوست مسٹر کلین کئی دنوں سے نظر نہیں آرہے تھے۔ ہمارا خیال تھا موصوف تھر میں قحط سے بچوں کی ہلاکت کی صورت حال کے باعث کسی امدادی مشن پر گئے ہوں گے، کیونکہ موصوف کی ساری زندگی بچوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے نعرے لگائے گزری ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ دو سال قبل جب تھر ہی میں موروں کی کسی بیماری کی وجہ سے ہلاکت کی خبریں آتی تھیں تو مسٹر کلین سے رہا نہیں گیا تھا۔ موصوف ایک این جی او کے نمایندوں کے ساتھ تھر کا دورہ کرکے آئے تھے۔ اب جبکہ تھر میں بچوں کے واقعات ہورہے ہیں اور تھر کی عورتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارا خیال تھا مسٹر کلین جیسے انسان دوست لوگوں کی تو راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہوںگی۔ ہم مسٹر کلین کی تھر سے واپسی کے منتظر تھے۔ ہمیں امید تھی کہ وہ واپس آکر ہمیں تھر کی حقیقی صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ پرسوں مسٹر کلین ہمیں گلی میں ملے تو ہم نے ان سے کئی روز سے غائب رہنے کا محبت آمیز گلہ کیا۔ موصوف اس وقت ترنگ میں دکھائی دیے، فوراً ایک شعر حاضر کردیا ؎

مزید پڑھیے۔۔۔

تماشائے اہل کرم!

شہر میں کافی عرصے بعد بارش ہوئی تو بجھے چہروں پر جیسے بہار آگئی۔ رات بھر بوندا باندی اور بارش کے بعد صبح دھوپ نکلی تو بڑا سہانا منظر تھا۔ ہم گلی میں نکل کر اس منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ صبح کا وقت تھا، بچے اسکول جارہے تھے، گلی میں تھوڑا سا پانی جمع تھا جس سے سب لوگ بچ بچاکر جارہے تھے۔ ہمیں یہ سب اچھا لگ رہا تھا، اس لیے ہم چلتے چلتے تھوڑا سا آگے نکل گئے۔ شہر کی ایک بڑی سڑک کے پاس پہنچ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی برساتی قسم کا لباس پہنے شہر گشت فرمارہے ہیں۔ ہم ان کے نزدیک پہنچے توکہنے لگے: ’’واہ! آج کیا ’’رومانٹک‘‘ موسم ہے، آج تو ملاجی بھی تسبیح و مصلیٰ چھوڑ کر قوس و قزح کے رنگ دیکھنے باہر آگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے آج تو قبرستان کے مردے بھی انگڑائیاں لے رہے ہوں گے۔‘‘ ہم نے کہنا تو چاہا کہ ہمیں بھی آج سرکار کے صدیوں کے یبوست زدہ اور خشونت آفرین چہرے پر پہلی دفعہ کچھ رونق نظر آرہی ہے، مگر اس خوف سے کہ کہیں یہ ’’رونق‘‘ غائب ہی نہ ہوجائے ہم نے کچھ کہنے سے گریز کیا اور مسٹر کلین سے حال احوال کرنے لگے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

افزائش بارود

یہ گزشتہ جمعے کی بات ہے۔ ہمیں جمعے کی شام کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمن پر حملے کی اطلاع مل چکی تھی۔ ہم صبح اخبارات حاصل کرنے اور احباب سے اس واقعے کی تفصیل معلوم کرنے کی غرض سے گھر سے باہر آئے۔ گلی میں ہمیں مدرسے کے کچھ طلبہ ملے جو اس واقعے کی تفصیل پڑھ کر اس پر آپس میں تبادلہ خیال اور اظہار تشویش کر رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ ہمارے پاس آگئے۔ ہم سے اس واقعے پر تبصرہ کرنے اور اس کے ذمہ داروں کے بارے میں اپنی رائے دینے کا کہا۔ ہم نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی جان کی حفاظت فرمائی اورملک ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔ ہم ابھی اس واقعے کے مضمرات کے بارے میں کچھ کہنے ہی والے تھے کہ گلی کی نکڑ سے ہمارے دوست مسٹر کلین نمودار ہوئے۔ ہمارے ارد گرد طلبہ کا چھوٹا سا حلقہ دیکھ کر موصوف کی رگ طنز پھڑک اٹھی۔ ہمارے قریب آتے یوئے گویا ہوئے: ’’ملاجی! ان چھوٹے ملائوں کے ذہن میں ذرا کم بارود بھرا کریں۔ یہ اب ملائوں پر بھی پھٹنے لگے ہیں!‘‘

ہم سمجھ گئے مسٹر کلین بھی مولانا فضل الر حمن پر حملے کے بارے میں تفصیلات پڑھ کر آئے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دخل در معقولات!

گزشتہ دنوں ایک تھنک ٹینک کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس کا عنوان تھا ’’پاکستان کا نظام کیسا ہو؟‘‘ سیمینار کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک جانب ’’معروف دانشوروں‘‘ کی ایک جماعت سوٹ بوٹ میں ملبوس جلوہ نما تھی تو دوسری طرف مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے چند علماء بھی بلائے گئے تھے۔ شاید ہمارے دوست مسٹر کلین کی نوازش تھی، ہمیں بھی اس مجلس میں مدعو کیا گیا۔ صدر مجلس نے جوکہ ایک معروف سرکاری جامعہ کے چانسلر ہیں، افتتاحی کلمات میں کہا: ’’پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، لیکن بد قسمتی سے یہاں اسلام نہیں آسکا۔‘‘ اس کی انہوں نے بہت وجوہ بیان کیں اور اشاروں کنایوں میں اس کی ذمہ داری مولویوں پر عاید کرکے ہاتھ جھاڑ دیے۔ ان کے بعد دیگر مسٹر حضرات نے زیادہ کھلے لفظوں میں صدر مجلس کی تقریر پر حاشیہ آرائی کی۔ ان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ علماء کی بے اتفاقی اور فر قہ واریت اس ملک کا اصل مسئلہ ہے۔

جب علماء کی گفتگو کی باری آئی تو انہوں نے بیک زبان اس تاثر کو رد کردیا کہ علماء کی کسی قسم کی فر قہ واریت ملک میں اسلام کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں قرارداد مقاصد، 22 نکات، 1973ء کے آئین پر تمام مکاتب فکر کے علماء کے اتفاق کو بطور مثال پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ بات سمجھ میں آئی نہیں!

گزشتہ کچھ دنوں سے ہمارے دوست مسٹر کلین صبح صبح کوئٹہ ہوٹل میں ناشتہ کرتے پائے جارہے تھے۔ ہم نے کئی دفعہ مدرسے جاتے ہوئے موصوف کو وہاں آملیٹ پراٹھے سے ’’انصاف‘‘ کرتے ہوئے دیکھا۔ ہم سمجھے شاید یہ ’’تحریک انصاف‘‘ کا اثر ہے۔ آج کل مسٹر کلین کے ارد گرد اکثر تحریک انصاف کے ’’انقلابی‘‘ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ موجودہ نظام کے خلاف مسٹر موصوف کی نان اسٹاپ تقریریں سنتے اور آخر میں شکرانے کے طور پر ان کا چائے پراٹھے کا بل ادا کرکے جاتے ہیں۔ مسٹر کلین جیسے جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ دانشور کو اور کیا چاہیے۔
خیر! ہم کئی دن تک دور سے ایک نظر تماشائے اہم کرم دیکھ کر گزرتے رہے۔ مسٹر کلین نے بھی کبھی نظر التفات کے قابل نہیں سمجھا۔ اکثر ہمیں دیکھ لینے کے باوجود تغافل سے آنکھیں پھیرتے رہے اور انقلابی نوجوانوں کے جھرمٹ میں مست رہنے کا تاثر دیتے۔ ہم نے بھی انہیں چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس دن ہم جب وہاں سے گزرے تو دیکھا مسٹر کلین کے سامنے تازہ اخبار رکھا ہواہے۔ ان کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں، بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمیں تجسس سا ہوا کہ آج اخبار میں کیا؟ ایسی خوشخبری آئی ہے کہ مسٹر کلین کے سدا کے یبوست زدہ چہرے پر بھی بہار دکھائی دے رہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔