• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نامہ بر !

ہمارے دوست مسٹرکلین کافی عرصے سے منظر عام سے غائب تھے۔ ہماری ان سے ملاقات چھوٹی عید سے کافی پہلے ہوئی تھی۔ اب بڑی عید بھی ہوگئی اور موصوف کی دید نہ ہوسکی۔ ہماری جب آخری ملاقات ہوئی تھی تو ہم نے انہیں بتایا تھا کہ ہمارا عمرے کے سفر پر جانے کا ارادہ ہے۔ مسٹر کلین چونکہ ’’کفایت شعار ی‘‘ پر زیادہ یقین رکھتے ہیں، خاص طور پر مذہبی مناسک و عبادات پر پیسے خرچ کرنے کی ’’فضول خرچی‘‘ انہیں زیادہ دکھائی بھی دیتی ہے بہ نسبت شادی بیاہ اور رسوم و رواج پر پیسے ضائع کرنے کے، کیونکہ وہ اسے ’’کلچر‘‘ کا حصہ مانتے ہیں، اس بناء پر ہمارے عمرہ پر جانے کے ارادے کو زیادہ استحسان کی نظر سے نہیں دیکھا اور اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لیے بس اس شعر پر اکتفا کرلیا کہ ؎
سدھارے شیخ کعبہ کو ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھے گھر خدا کا، ہم خدا کی شان دیکھیں گے

مزید پڑھیے۔۔۔

بے موسم کا نمازی

نمازیوں کی تین قسمیں بتائی جاتی ہیں: ٹھاٹھ کے، آٹھ کے اور تین سو ساٹھ کے۔ ٹھاٹھ کے نمازی تو وہ حقیقی نمازی ہیں جو بتو فیق الٰہی پنچ وقتہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ آٹھ کے وہ جو آٹھویں دن یعنی جمعے کی نماز میں شریک ہوکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور ’’تین سو ساٹھ‘‘ کے نمازی وہ ہوتے ہیں جو صرف عید کے دن عیدگاہ میں لوگوں کو اپنا دیدار کرواتے ہیں۔ بیچ میں ایک قسم ’’رمضانی نمازیوں‘‘ کی بھی ہے۔ یہ حضرات رمضان میں تو روزے کے ساتھ فریضہ نماز کی ادائی کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور رمضان کے بعد جب شیطان کو آزادی ملتی ہے تو یہ بھی خود کو ’’آزاد‘‘ محسوس کرتے ہیں۔

ہمارے دوست مسٹرکلین کے بارے میں ہم یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس قسم کے نمازی ہیں؟ ہوسکتا ہے وہ اپنی گلی میں واقع مسجد میں پانچوں نمازیں پڑھتے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے وہ نمازیں گھر پر ہی پڑھتے ہوں تاکہ کسی ’’ملا‘‘ کی امامت میں نماز پڑھنے کی ذہنی کلفت سے بچ سکیں۔ ہاں! البتہ عید کی نماز میں ہم نے ہمیشہ ان کو عیدگاہ میں دیکھا ہے، اس لیے ہم ان کے کم از کم ’’تین سو ساٹھ کے نمازی‘‘ ہونے کی گواہی دے سکتے ہیں۔ عید کے دن ہمیں ہمیشہ دوہری خوشی ملتی ہے ایک تو ظاہر ہے عید کی اور دوسری عید کی نماز میں مسٹر کلین کی دید کی۔ سادہ شلوار قمیص اور جالی ٹوپی پہنے مسٹرکلین بہت بھلے لگتے ہیں۔ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ہمیں عید کے دن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدھ مت کے ’’آثار جدیدہ‘‘

ہم گزشتہ دنوں سڑک کے ایک حادثے میں سیدھے ہاتھ کی کلائی تڑوا بیٹھے۔ درد کیا ہوتا ہے، تکلیف کیا ہوتی ہے اور کسی عضو بدن کے مفلوج ہوجانے سے زندگی کتنی مشکل ہوجاتی ہے، اس کا ہمیں پہلی بار صحیح طور سے اندازہ ہوا۔ ہمیں وہ حدیث بھی پوری طرح سمجھ آگئی جس میں فرمایا گیا ہے: ’’امت مسلمہ کی مثال جسد واحد کی ہے، جس کے ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا بدن دکھتا ہے۔‘‘ ہم چونکہ ’’دائیں بازو‘‘ والے ہیں، اس لیے ہمارے لیے سیدھے ہاتھ کی کلائی میںدراڑ آنے کا مطلب لکھنے کی نعمت سے محرومی بھی تھی جو تکلیف کی شدت میں نفسیاتی اضافے کا باعث بن رہی تھی۔ ہم نے چونکہ زندگی میں کسی کو ’’ڈکٹیشن‘‘ نہیں دی (ورنہ مسکین کیسے کہلاتے!) اس لیے املا ء کرواکے کالم لکھوانے کی اپنے دوست انور ذہین کی تجویز پر بھی عمل نہ کرسکے۔ قارئین نے ہماری کمی کتنی محسوس کی ہوگی؟ اس بارے میں ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں تھی، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ؎
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
ہمیں یاد ہے، ایک مشہور و معروف کالم نگار ہوتے تھے، جناب ارشاد احمد حقانی۔ ان کا کالم تقریباً روز انہ ملک کے سب سے بڑے اخبار میں شائع ہوتا تھا، ان کے کالم پڑھ کر ایسا لگتا تھا جیسے ملک کی سیاست تو کیا موسم کا رخ بھی شاید موصوف کی دانش و بینش کو دیکھ کر تبدیل ہوتا ہوگا۔ ہم حقانی صاحب کی زندگی میں ہی کبھی کبھی یہ سوچ کر پریشان ہوا کرتے تھی کہ اگر خدانخواستہ! حقانی صاحب کو کچھ ہوگیا تو ملک کا کیا بنے گا؟ ہم نے یہ بھی تصور کیا تھا کہ جس دن حقانی صاحب رحلت فرمائیں گے، اس دن پورے ملک میں یوم سوگ منایا جائے گا، اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے،

مزید پڑھیے۔۔۔

کشمیر بنے گا پاکستان

فارسی کا ایک محاورہ ہے کہ ’’غم نہ داری بز بخر!‘‘ یعنی اگر آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہے اور آپ پریشانی پالنے کے خواہش مند ہیں تو بس ایک عدد بکرا خرید کر پال لیں۔ ہمیں یہ محاورہ اس دن محلے کے پرچون کی دوکان والے صاحب نے یاد دلایا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہے تو محلے میں پرچون کی دوکان کھول لیں۔ دنیا میں سب سے مشکل کام محلے کے اندر پرچون کی دوکان چلانا ہے۔ محلے میں سب لوگ آپ کے جاننے والے ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اس واقفیت سے فائدہ اٹھاکرچیزیں ادھار لیتے ہیں اور پھر پیسے واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے برسبیل تذکرہ محلے کے کئی ’’شرفائ‘‘ کے نام لیے جن میں ہمارے دوست مسٹر کلین کانام بھی تقریباً سر فہرست تھا۔ وہ ہم سے مشورہ کر رہے تھے کہ اس سلسلے کے سدباب کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ ہم نے پہلے تو اپنے حافظے کو تھوڑا سا جھنجھوڑا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ان سے ادھار لیا ہو؟ اور بھول گئے ہوں اور اس مشورے کا مقصد ہمیں یاد دہانی کروانا ہو۔

جب ہمیں یہ غالب گمان ہونے لگا کہ زمانۂ قریب میں ہم نے ان سے کوئی ادھار نہیں لیا، ہم نے ان کے مسئلے کے حل پر سوچنا شروع کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پیو ریسرچ

قارئین اس بات سے تو واقف ہی ہیں کہ ہمارے دوست مسٹر کلین تحقیق اور ریسرچ کے میدان کے شناور ہیں۔ وہ ہر بات دلیل سے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہم سے کہتے ہیں: ’’آپ ملا لوگ تو صرف دلائل اربعہ کوجانتے ہیں اور انہی سے استدلال کرتے ہیں، باقی ’’دلائل’’ سے آپ واقف ہی نہیں ہیں۔‘‘ پچھلے دنوں ایک تقریب کے دوران انہوں نے پھر یہ بحث چھیڑدی توہم نے ان سے دیگر دلائل کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کی درخواست کی۔ مسٹر کلین کہنے لگے: ’’اس وقت دنیا میں بہت سے ایسے تحقیقی ادارے، تھنک ٹینکس اور جائزہ کار تنظیمیں ہیں جن کی رپورٹوں کی بنیاد پر بین لاقوامی سطح کی پالیسیاں بنتی اور بڑے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔‘‘ مسٹر کلین نے اس سلسلے میں متعدد بین الاقوامی اداروں کے نام گنوائے جن میں ایک نام’’ پیو ریسرچ سینٹر‘‘ کا بھی تھا۔

یہ نام سن کر ہمارے ساتھ موجودطالب جان کی رگ ظرافت پھڑکی۔ اس نے مسٹر کلین سے کہا: ’’ہم قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی کے’’ پیو‘‘ کی ’’ریسرچ‘‘ کو نہیں مانتے!‘‘ اس ’’طالبانی‘‘ جملے بازی پر مسٹر کلین حسب معمول تپ تو گئے تاہم پھر اپنے دانشوارانہ لب و لہجے کو بحال کر نے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’آج کی دنیا دلیل و منطق کی دنیا ہے…

مزید پڑھیے۔۔۔

بڑا دماغ

ولایات متحدہ امریکا میں چینی سفیر ’’ہولسن تنگ‘‘ نے اپنی ازدواجی زندگی کی گولڈن جوبلی منائی، جب اس سے کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز پوچھا گیا تو اس نے دو مشورے دیے: (1) بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر سے محبت کا اظہار تو مناسب حد تک کرے، لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش زیادہ کرے۔ (2)شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کو بھرپور محبت دے، لیکن اس کو سمجھنے کی ہر گز کوشش نہ کرے۔

صاحبو! ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ دوسرا اصول کتنا کامیاب ہے، یہ ہمیں نہیں معلوم تاہم مسٹر کلین جیسے لبرل دانشور سے اگر کسی کا دوستی کا ارادہ ہو، تو اس کے لیے یہ اصول بہت کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ ہماری اور مسٹر کلین کی برسوں پر محیط دوستی کا راز بھی یہی ہے کہ ہم نے مسٹر موصوف سے ان کی بہت سی خصوصیات کے باعث محبت ہمیشہ کی، مگر ان کو سمجھنے کی کوشش ایک حد تک کرنے کے بعد ہاتھ کھڑے کردیے، کیونکہ بقول ان کے ان جیسے عالی دماغ، روشن خیال اور صاحب نظر شخص کو سمجھنا شاید ہم جیسے ’’سرنگی بصیرت‘‘ والے تنگ نظر ملّا کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

مکافات عمل!

حکیم فقیر حسین کی بیٹھک میں دوستوں کی مجلس گرم تھی۔ ہم شاید پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ حکیم صاحب نام کے تو ’’فقیر‘‘ ہیں، مگر کام غنی لوگوں والے کرتے ہیں۔ بہانے بہانے سے کھانے کی دعوت رکھنا اور دوست احباب کو جمع کرکے دل پشوری کا سامان کرنا ان کا خاص ذوق ہے۔ شہر میں حالات کی خرابی سے جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی حوالے سے پریشان ہوتا ہے۔ فقیر کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ اس سے لوگ دعوتوں میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ ان کی ’’مجلسی زندگی‘‘ بری طرح متاثر ہوجاتی ہے۔ حالیہ دنوں حالات میں قدرے بہتری آنے پر فقیر صاحب نے خاص خاص دوستوں کی دعوت رکھی۔ دعوت کی تاریخ تو ظاہر ہے پہلے رکھی گئی تھی، مگر سوئِ اتفاق سے عین اسی روز متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپا پڑگیا اور حالات کچھ گڑبڑ سے ہوگئے۔ حکیم صاحب دعوت ملتوی کرنا چاہتے تھے، مگر دعوت میں چونکہ زیادہ تر محلے کے ہی دوست مدعو تھے، اس لیے ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ ’’نیک کام‘‘ موخر نہ کیا جائے، چنانچہ متحدہ کی جانب سے اس دن احتجاج کی کال کے باوجود اکثر دوست دعوت میں تشریف لائے۔

کھانے سے قبل حسب روایت حالات حاضرہ پر گفتگو کی مجلس جمی، تاہم آج روایت کے برخلاف صرف ایک موضوع نے پوری مجلس کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ آپ درست سمجھے وہ موضوع نائن زیرو پر چھاپا ہی تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نشے کی گولی!

ہمارے دوست مسٹر کلین کچھ دنوں سے بجھے بجھے سے دکھائی دے رہے تھے۔ کئی دفعہ راہ چلتے آمنا سامنا ہوا، مگر حضرت نے بقول خود ’’لفٹ ہی نہیں کرائی‘‘۔ ماضی میں جب ایسی کیفیت ہوتی تو ہم یہ اندازہ لگالیتے تھے کہ موصوف کے ’’گھر کے حالات‘‘ کچھ اچھے نہیں ہوں گے۔ مسٹر کلین چونکہ ’’حقوق نسواں‘‘ کے علم بردار ہیں، اس لیے اپنے قبیلے کے سامنے بیگم کی شکایت نہیں کرسکتے۔ بناء بریں گھر میں جب بھی ان پر کوئی ’’ظلم‘‘ ہوتا ہے، موصوف صرف ہمیں ہی اس کا بتاتے ہیں، کیونکہ ’’حقوق مرداں‘‘ کی بات صرف ہم ہی کیا کرتے ہیں۔ اس مرتبہ مسٹر موصوف نے ہمیں بھی اپنی پریشانی سے آگاہ نہیں کیا تو ہمیں خدشہ ہوگیا کہ کہیں کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوا ہو۔ خیر! ہم خود اپنے دوست کی خبرگیری کا سوچ ہی رہے تھے کہ قسمت سے وہ ہمیں گلی میں کچھ نوجوانوں کے ساتھ گفت وشنید کرتے ہوئے ملے۔ ہم نے دیکھا، موصوف کسی بہت اہم مسئلے پر اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ نچاتے ہوئے اظہار خیال کررہے ہیں۔ ان کے اردگرد کھڑے نوجوان ہمہ تن گوش ان کے بھاشن سن رہے ہیں۔ ہمیں تجسس ہوا کہ آخر کیا ایسا سنجیدہ مسئلہ آن کھڑا ہوگیا ہے جو مسٹر کلین اتنے متفکر دکھائی دے رہے ہیں۔

ہم مجمع کے قریب پہنچے تو محسوس کیا کہ مسٹر کلین و ہمنوا نے ہماری آمد کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا، بلکہ تھوڑی سی ناگواری بھی ظاہر کی جیسے ہم ’’دخل درمعقولات‘‘ کے مرتکب ہورہے ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انسیڈنٹ!

ہمیں جب کسی خبر کی تفصیلات مطلوب ہوتی ہیں تو اس کے لیے ہم سب سے پہلے اپنے دوست مسٹرکلین کی طرف رجوع کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے پورے علاقے میں سب سے زیادہ باخبر شخصیت وہی ہیں۔ ہم شاید پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ پہلے زمانے میں وہ اخبارات کرائے پر لے کر پڑھا کرتے تھے۔ طریقہ اس کا یہ ہوتا تھا کہ موصوف صبح صبح اخبار کے اسٹال پر پہنچ جاتے، اخبار والے کی اسٹول پر تشریف فرما ہوجاتے اور چار آنے فی اخبار کے حساب سے چار پانچ اخبار باری باری لے کر پڑھ لیتے۔ ساتھ میں خبروں اور سرخیوں پر ان کے رواں تبصرے بھی جاری رہتے جن سے مفت کے اخبار پڑھنے کے شوقین حضرات’’ مستفید ‘‘ہوتے۔ خیر! اب زمانے کے ساتھ موصوف بھی’’ اپ ٹو ڈیٹ‘‘ ہوگئے ہیں اور نیٹ پر سارے اخبارات پڑھ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے خبروں پر تبصرے اور تجزیے پیش کرنے کی عادت کے باعث کبھی کبھار اخبار کے اسٹال پر بھی تشریف لاتے ہیں اور جب وہ تشریف لاتے ہیں تو ان کو جاننے والے اخباری مفت خورے اخبارپڑھے بغیر ہی وہاں سے نکل جاتے ہیں!

تو ہم یہ بتا رہے تھے کہ ہمارے لیے خبروں کی تصدیق کا سب سے باخبر ذریعہ مسٹر کلین ہی ہیں۔ آپ کوان کے پاس دنیا کے کسی بھی حصے میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کی پوری تفصیل دستیاب ہوگی۔ دہشت گردی و انتہاپسندی، چونکہ ان کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، اس لیے اس پر تو ان کے پاس اتنا مواد ہے کہ وہ چاہیں تو کئی کتابیں لکھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاپا

ہمارے اور ہمارے دوست مسٹرکلین کے درمیان کئی باتیں مشترک ہیں۔ ضروری نہیں کہ ’’وجہ اشتراک‘‘ بھی ایک ہی ہو۔ مثلاً محلے میں کوئی دعوت وغیرہ ہو تو اور اس میں کوئی آئے یا نہ آئے، ہم دونوں اکثر موجود ہوتے ہیں۔ اب ہم تو ظاہر ہے، دعوت قبول کرنے کی میٹھی سنت پر عمل کرتے ہیں، جبکہ مسٹرکلین اس لیے کوئی دعوت ’’مس‘‘ نہیں کرتے کہ انہیں ایسے مواقع پر اپنا دانشوری کا منجن بیچنے کا پورا پورا وقت اور موقع میسر آجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ’’وقت کی پابندی‘‘ بھی ہم میں مشترک ہے۔ ہم تو اس لیے ایسا کرتے ہیں تاکہ جلدی فارغ ہوکر صبح سبق پڑھانے کی کچھ تیاری بھی کرسکیں، جبکہ مسٹرکلین اس لیے جلدی آتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منجن بیچ سکیں۔ شادی کی تقریبات میں موصوف جب تشریف لاتے ہیں تو سلسلۂ کلام کا آغاز وقت کی پابندی نہ کرنے کی قومی عادت کے خلاف ’’نوحہ خوانی‘‘ سے شروع کرتے ہیں۔ مغربی معاشرے کی مدح سرائی کرنے کے بعد پھر اپنے پسندیدہ موضوع یعنی ملاؤں کی مخالفت پر آجاتے ہیں، یہ موضوع اکثر وہ مجمع لگنے اور ہمارے آنے کے بعد ہی چھیڑتے ہیں۔ شادی کی تقریب میں عموماً سب لوگ ہنستے مسکراتے اور ہلکی پھلکی گپ شپ کرنا پسند کرتے ہیں، مگر مسٹرکلین، چونکہ ’’ترقی پسند‘‘ (بلکہ کچھ زیادہ ہی ترقی پسند) دانشور واقع ہوئے ہیں، اس لیے خوشی کے مواقع پر بھی ’’سیاپا‘‘ کرنا ان کا خاص وتیرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس عادت سے واقف اکثر لوگ ایسے مواقع پر ان سے دور بیٹھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ہم چونکہ ان کے ساتھ دیرینہ دوستی کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اس لیے جہاں بھی ہوںکھچے کھچے ان ہی کے پاس آجاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شاہ پرست!

محلے کے ایک بزرگ کا انتقال ہوگیا تھا اور لوگ تعزیت کے لیے مرحوم کے گھر کے سامنے جمع تھے۔ ہم پہنچے تو وہاں موجود کچھ احباب نے ہم سے تقاضا کیا کہ مر حوم کے صاحب زادوں اور رشتہ داروں کی تسلی کے لیے کچھ کلمات بولیں۔ ہم نے تعزیت کے مسنون الفاظ ادا کیے اور تھوڑی سی گفتگو کرتے ہوئے حاضرین سے عرض کیا: ’’موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس سے کسی کو بھی رستگاری نہیں ہے، اس لیے ہم سب کو موت کی تیاری کرنی چاہیے اور اپنے اعمال کی درستی کی فکر کرنی چاہیے۔‘‘

یہ فقرے کہتے ہوئے اچانک ہمارا ذہن اپنے دوست مسٹر کلین کے ملفوظات کی طرف چلاگیا۔ وہ اکثر ہم سے کہتے رہتے ہیں کہ ’’آپ ملا لوگ لوگوں کو موت سے ڈرا ڈرا کر ہی مار دیتے ہیں، مرنا تو سب کو ہے، لیکن جینے کے جو لمحے میسر آئیں، ہمیں انہیں تو کم از کم ’’انجوائے‘‘ کرنا چاہیے۔ ہم حوالہ دیے بغیر مسٹر موصوف کے اس ’’اشکال‘‘ پر بھی کچھ گزراشات پیش کرنا چاہتے تھے، مگر اچانک ہماری نظر شامیانے کے اندر ایک کونے پر دھری کرسی پر پڑی جس پر خود مسٹر کلین بنفس نفیس تشریف فرماتھے۔ ہماری موجودگی سے تغافل فرماتے ہوئے قدرے بیزاری کے لہجے میں کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے آواز کی والیم تھوڑی اونچی کرتے ہوئے مزید کچھ گزارشات پیش کیں اور موت اور اس کے بعد کے مراحل کا اس سنجیدگی کے ساتھ ذکر کیا، جیساکہ ہمیں کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے گفتگو کے آخر میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے انتقال کا بھی ذکر کیا۔ عرض کیا: ’’امیر ہو یا غریب ، بادشاہ ہو یا فقیر سب کو موت کے راستے پر چلنا ہے۔‘‘ اس موقع پرہمیں عربی کا ایک شعر بھی یاد آگیا جو ہم نے حاضرین کی نذر کردیا؎

مزید پڑھیے۔۔۔