• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

انعام کا اعلان!

ہمارے محلے دار حاجی چراغ دین کے پوتے کا عقیقہ تھا۔ حاجی صاحب چونکہ ہماری طرح ذرا پرانی وضع کے آدمی ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے کے لیے اپنے وسیع گھر کے صحن میں فرشی نشست کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ہمیں تو ظاہر ہے، یہ دیکھ کر خوشی ہی ہوئی، سنت طریقے سے بیٹھ کر کھانا کھانے میں جو راحت ملتی ہے، وہ کرسی میز پر کھانے میں کہاں ملتی ہے۔ ہم ابھی بیٹھ کر بسم اللہ کرنے والے ہی تھے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی تشریف لاتے دکھائی دیے۔ موصوف جب دعوتوں میں آتے ہیں تو سوٹ بوٹ کا خاص اہتمام کرکے آتے ہیں۔ حاجی صاحب کے گھر کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کے ساتھ کھانے کا فرشی انتظام دیکھ کر موصوف خاصے چیں بجبیں ہوگئے۔ انہیں اصل میں چست پتلون کے ساتھ فرش پر بیٹھنے میں بڑی دشواری ہوتی ہے، ویسے تو اپنے خاص جینٹل مین طبقے میں جب کوئی دعوت ہوتی ہے تو ’’اسٹینڈنگ‘‘ کھانا ہی زیادہ پسند کرتے ہیں، لیکن جہاں ہم جیسے ’’قدامت پسند‘‘ لوگ اکثریت میں ہوں، وہاں خواہی نخواہی انہیں کرسی میز کا تکلف بھی کرنا ہی پڑتا ہے، مگرفرشی نشست پر بیٹھ کر کھانا کھانے سے تو جیسے ان کی جان چلی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غبارے اور پھول

گزشتہ اتوار کے روز کی بات ہے۔ ہمیں ایک دوست کی عیادت کے لیے جانا تھا۔ سڑک پر جاکر کوئی سواری تلاش کی، لیکن کافی دیرتک اسٹاپ پر کھڑے رہے، مگر ہماری منزل کی طرف جانے والی کوئی گاڑی نہیں آئی۔ وہ منزل زیادہ دور نہیں تھی اور ہلکی اور نرم دھوپ میں چلنا بھی اچھا لگ رہا تھا، اس لیے ہم پیدل کی چہل قدمی کے انداز میں ہی روانہ ہوگئے۔ تھوڑا سا آگے جاکر ایک پارک آتا ہے، ہم اس کے پاس پہنچے تو پارک میں غیر معمولی چہل پہل تھی، ویسے تو اس پارک میں شام ڈھلے اکثر قوس قزح کے سارے رنگ دکھائی دیا کرتے ہیں لیکن آج یہاں لال رنگ زیادہ نظر آرہا تھا۔ لال رنگ کے غبارے، پتنگ اور بینر ہر طرف دکھائی دے رہے تھے اور غبارے اور گلاب بیچنے والوں کی چاندی ہوگئی تھی۔ پارک کی ایک جانب کچھ نوجوان کھیل رہے تھے جبکہ دوسری طرف نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ٹولیاں چلت پھرت میں مصروف تھیں۔

پارک کے مرکزی دروازے کے پاس ہمیں ایک ہجوم دکھائی دیا، ہمیں یہ خیال آیا کہ کہیں پارک میں کھیلتے ہوئے کسی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو، یہی سوچ کر ہم پارک کے اندر داخل ہوگئے، مگر وہاں جاکراندازہ ہوا کہ یہاں کوئی تقریب ہورہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’مذاق‘‘

پرسوں کی بات ہے، ہم عصر کے بعد حسب معمول گھر کا کچھ سودا سلف لینے بازار کی طرف گئے تھے، واپسی پر کچھ طلبہ ملے اورہمارے ہاتھ سے سامان اٹھاکر ساتھ چلنے لگے۔ ہم گلی میں پہنچے تو سامنے سے ہمارے دوست مسٹر کلین آتے دکھائی دیے۔ ہمارے ساتھ طلبہ کی جھرمٹ اور ان کے ہاتھوں میں کچھــ’’ متاع دنیا‘‘ دیکھ کر ان کی’’ حس ذکاوت‘‘ جاگ اٹھی اور موصوف نے سلام دعا سے پہلے ہی ہم پر ’’تیر اندازی’’ شروع کردی: ’’ ملاجی! لگتا ہے کچھ ریال شیال ملے ہیں، آج کل سعودی شیوخ بڑی تعداد میں آجارہے ہیں، ملا لوگوں کے مزے آگئے ہیں، کل ٹی وی پر دیکھ رہا تھا، مولوی حضرات سعودی عرب کے حق میں بڑے نعرے لگارہے تھے، آپ بھی لگتا ہے ابھی کسی مظاہرے سے آرہے ہیں اپنے ان نیم ملاؤں کے ساتھ!‘‘

ہم نے عرض کیا: ’’جی ہاں۱ ہمیں سعودی عرب کے شیوخ نے ریال دیے ہیں، آپ کو کوئی اعتراض ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’اعتراض تو نہیں ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ لوگ سعودی عرب کے اتنے پر جوش حامی کیوں ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’بات بالکل واضح ہے، سعودی عرب مرکز اسلام ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

عبد اللہ دیوانہ

’’بیگانے کی شادی میں عبد اللہ دیوانہ‘‘ یہ ضرب المثل آپ نے سنی ہوگی، ہم نے تو سنی بھی ہے اور دیکھی بھی۔ بیگانی شادیوں میں جو دیوانگی ہم نے دیکھی ہے، عبد اللہ بھی کیا دیوانہ ہوتا ہوگا۔ بہت پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ہم محلے کی ایک شادی میں گئے، وہاں ایک نوجوان دیوانہ وار ادھر ادھر بھاگتا پھرتا دکھائی دے رہا تھا، چہرہ اتنا سیاہ ہوچکا تھا کہ پہچانا نہیں جارہا تھا۔ کوئلوں کی دلالی سے منہ کالا ہونے کی بات تو سنی تھی، لیکن ظاہر ہے یہاں شادی کی تقریب میں کوئی کوئلوں کی دلالی کے لیے تو نہیں آیا ہوگا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ بچارے کی بار بی کیو بنانے کی ڈیوٹی لگی ہوگی اور ناتجربہ کاری کے باعث یہ المیہ ہوا ہوگا۔ خیر! جب کھانے کا وقت آیا تو وہی نوجوان کرسیاں لگانے اورکھانا سرو کرنے کے لیے ہال کے اندر آگیا اور ہمارے قریب پہنچا تو پتا چلا کہ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ ہمارے دوست مسٹر کلین ہیں، اس وقت ہماری ان سے نئی نئی دوستی ہوئی تھی، ہمیں ان کے بارے میں اتنا تو پتا تھا کہ شادی والے گھرانے سے ان کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے، اس لیے ہمیں تجسس سا ہوا کہ آخر کس کھاتے میں موصوف اتنی پھرتیاں دکھارہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دسمبر کا اثر!

دسمبر کا مہینہ شاعروں اور ادیبوں پر تو ہمیشہ سے بھاری گزرتا آیا ہے۔ دسمبر کی خنک اور اداس شامیں اور لمبی راتیں فراق کے مارے دل جلے شاعروں کے لیے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا اچھا خاصا سامان مہیا کرتی ہیں۔ شاعری کی صنف ’’المیہ‘‘ کا ایک بڑا حصہ دسمبر کی ہی پیداوار ہے۔ شعیب بن عزیز کا یہ لازوال شعر بھی شاید دسمبر کی ہی ’’آمد‘‘ ہے۔

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں تاہم ہم پاکستانیوں کے لیے دسمبر کا مہینہ اس لحاظ سے بہت بھاری ہے کہ ہماری قومی تاریخ کا سب سے المناک سانحہ یعنی سقوط مشرقی پاکستان بھی اسی مہینے کے وسط میں پیش آیا تھا۔ ا س کے بعد سے جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے، ہمارے اجتماعی وجود میں ملک کے مشرقی بازو کے کٹ جانے کا زخم تازہ ہوجاتا ہے اور ہمارے بزرگوں کی اس نسل کو جس نے سقوط ڈھاکا ہوتے دیکھا تھا، ذلت و ادبار کے وہ لمحات پھر سے یاد آکر رنجیدہ کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ممنونیت

ہمارے صدر محترم جناب الحاج ممنون حسین صاحب کے بارے میں بہت سے لوگوں کو شکوہ تھا کہ وہ بولتے نہیں ہیں۔ یار لوگوں نے طرح طرح کے محاورے، لطیفے اور اشعار ’’ایجاد‘‘ کرنے شروع کر دیے تھے جن میں جناب صدر کی خاموش مزاجی کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مثلاً اس ’’قول زریں‘‘ کو ہی لے لیجیے کہ ’’مرد باہر کتنا ہی راحیل شریف کیوں نہ بنتا پھرتا ہو، گھر میں ممنون حسین ہی ہوتا ہے۔‘‘ کسی ستم ظریف نے کہا شام اور فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور امت مسلمہ کا ہر فرد ’’ممنون حسین‘‘ بنا دیکھ رہا ہے۔ کسی نے بغیر وزن اور قافیے کے’’ شعر ‘‘بنانے کی کوشش کی کہ’’ بہت خاموش ہوتا جارہا ہوں، صدر ممنون ہوتا جارہا ہوں۔ ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

شاید صدر مملکت کے سیکرٹری نے انہیں اس صورت حال سے آگاہ کیا ہوگا اور دہان مبارک سے کچھ علم و حکمت کے موتی بکھیرنے کا مشورہ دیا ہوگا اور انہیں بتایا ہوگا کہ حضرت! قوم آپ سے کچھ رہنمائی بھی چاہتی ہے۔ گوکہ پارلیمانی جمہوری نظام میں صدر وفاق کی وحدت کی علامت ہوتا ہے اوراس کی حیثیت محض اس ’’ہوا ‘‘کی طرح ہوتی ہے جو کسی کھیت یا باغ سے چڑیوں کو دھوکادے کر دور کھنے کے لیے بناکر نصب کیا جاتا ہے یایوں کہیے کہ پاکستان کے’’ صدر مملکت ‘‘اور نیویارک میں نصب امریکا کے مجسمہ ٔآزادی(مس لبرٹی) میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے جس کا ایک مقام تو ہے مگر کام کوئی نہیں۔ اس لیے اگر صدر مملکت جنبش لب کی زحمت نہ بھی کریں تو اصولی طور پر ان سے گلہ نہیں بنتا(اب تو بالکل نہیں ہوگا) مگر اس باتونی قوم کا کیا کیا جائے کہ خواہ مخواہ صدر مملکت کوبھی دعوت سخن دینے سے گریز نہیں کرتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لبرل !

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل بڑے خوش اور پرجوش نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ دو ڈھائی برسوں کے دوران وہ اکثر متفکر اور قدرے پریشان رہتے تھے۔ اصل میں وہ پاکستان کو ایک ’’پروگریسو‘‘ اور ’’لبرل‘‘ ملک بنانے کے پرچارک اور علم بردار رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مشن سیکولر اور لبرل شناخت والی سیاسی جماعتیں ہی پورا کرسکتی ہیں۔ گزشتہ دور میں جب پیپلزپارٹی، اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ کی اتحادی حکومت بنی تھی تو مسٹر کلین خوشی سے پھولے نہیں سمائے تھے۔ ایک مجلس میں ہم سے کہا تھا: ’’6 عشروں کے بعد اب پاکستان کا سیاسی منظرنامہ صحیح رخ پر آگیا ہے۔‘‘ اس دور میں مسٹر کلین نے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی خدمات بھی پیش کردی تھیں۔ متعدد بیرونی این جی اوز کے ساتھ مل کر ترقی پسند سرگرمیوں پر مبنی کئی ’’پروجیکٹس‘‘ پر کام بھی شروع کیا تھا، مگر بدقسمتی یہ رہی کہ مسٹر کلین کی پسند فرمودہ سیکولر اور پروگریسو جماعتوں کا یہ دور اقتدار ملک وقوم کے لیے کسی آسیب کے سایے کی مانند خوفناک ثابت ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

توجیہ

ہمارے کرم فرما ’’ماسٹر مبین‘‘ نے اس سال حج کی سعادت حاصل کی۔ کرین کے حادثے اور سانحہ منیٰ میں محفوظ رہ کر واپس تشریف لائے تو حکیم فقیر حسین نے ان کے اعزاز میں اپنے ’’فقیر خانے‘‘ میں دعوت کا اہتمام کیا اورحسب معمول چند قریبی احباب کو مدعو کیا۔ حکیم صاحب کی خواہش ہوتی ہے کہ احباب دعوت کے مقرر ہ وقت سے ذرا پہلے جمع ہوجائیں تاکہ آپس میں کچھ حال احوال اور حالات حاضرہ پر سیر حاصل گپ شپ بھی ہوجائے۔ ہم کسی وجہ سے ذرا تاخیر سے پہنچے تو دیکھا مجمع کا رنگ جما ہوا تھا۔ توقع کے عین مطابق ہمارے دوست مسٹرکلین ہی ’’میر محفل‘‘ بنے ہوئے تھے۔وہ اپنے مخصوص انداز میںہاتھ نچانچا اور کندھے اچکا اچکا کر حاضرین کو کوئی اہم ’’نکتہ‘‘ سمجھارہے تھے۔ مجمع ان کے ملفوظات اور ’’حرکات و سکنات‘‘ سے محظوظ ہورہا تھا۔ ہم پہنچے تو مجمع نے ایک خاص تجسس کی نگاہ سے ہماری طرف دیکھا۔ ہمیں ایسا لگا جیسے ہمارا ہی کوئی موضوع چل رہا ہے۔ ہم نے سب سے سلام دعا کے بعد تاخیر سے آنے اور گفتگو میں خلل ڈالنے پر دوستوں سے معذرت کی اور مسٹر کلین سے گزارش کی کہ آپ اپنی بات جاری رکھیں۔ اس سے قبل کہ مسٹر کلین سلسلۂ کلام دوبارہ جوڑ لیتے۔ ماسٹر مبین نے ہمیں مخاطب کرکے کہا: ’’اچھا ہوا آپ آگئے! مسٹر کلین ابھی علماء کی ’’کلاس‘‘ لے رہے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے حاجیوں کے لطیفے سناکر مجھے حج کی ’’مبارکباد‘‘ دی۔ میں نے تو خیر ان کو کیا جواب دینا تھا تاہم علماء سے متعلق ان کے اعتراضات سنجیدہ نوعیت کے ہیں، آپ ان کی سنیں اور ان کو جواب دیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

شجر سایہ دار

استاذ العلمائ، بقیۃ السلف، شیخ الحدیث حضرت مولاناڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب بھی خلد آشیانی ہوگئے۔ انا للّٰہ وا نا الیہ راجعون۔ ویسے تو اس جہان ہست وبود میں جوبھی آتا ہے، جانے کے لیے ہی آتا ہے، ہر ذی روح بلکہ ہر مخلوق کے لیے فنا مقدر ہے۔ یہاں ہر روز کروڑوں انسان پیدا ہوتے اور کروڑوں تہ خاک چلے جاتے ہیں۔ کسی کے آنے جانے سے میخانۂ عالم کے ہنگامے کم وبیش نہیں ہوتے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وجودگلشن ہستی کے لیے رنگ ونور کا استعارہ ہوتا ہے اور جن کے جانے پر جام و پیمانہ مدتوں رویا کرتے ہیں۔ اس دور میں بھی اکا دکاایسے لوگ موجود ہیں جن کی ذات ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لیے ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی ہے جس کی چھاؤں میں غم وآلام زندگی کی کڑی دھوپ کے ستائے لوگ پناہ ڈھونڈتے اور راحت پاتے ہیں۔ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں تھا جن کی ذات سے محبتوں اور عقیدتوں کا ایک جہاں وابستہ تھا۔ خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا کے دینی حلقوں، علمائ، طلبہ اوردعوت و عزیمت کے قافلے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے آپ کی ہستی ایک چشمۂ شیریں کی طرح تھی جس سے سب کو بقدر حظ و نصیب سیرابی ملتی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قرارداد

ہمارے دوست مسٹر کلین چھٹی کے دنوں میں بہت خوش رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ عام دنوں میں بہت کام کرتے ہیں اور چھٹیوں میں سستانے اور تفریح کا موقع ملنے پر خوش ہوجاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی ’’پروجیکٹ‘‘ نہ ہو تو بالعموم ’’چھٹی‘‘ پر ہی ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود جب سرکار کی طرف سے کسی خاص مناسبت سے چھٹی کا اعلان ہوتا ہے، تو موصوف کی گویا چاندی ہوجاتی ہے۔ دراصل چھٹی کے دن انہیں ’’دانشوری‘‘ فرمانے کا موقع مل جاتا ہے۔ محلے کے لڑکے بالے یا تو کرکٹ کھیلنے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں یا پھر چائے کے ہوٹل میں کسی نہ کسی بہانے مجمع لگالیتے ہیں۔ انکل مسٹر کلین ان کے درمیان بیٹھ کر نہ صرف خود کو نوجوان محسوس کرکے خوش ہوجاتے ہیں، بلکہ انہیں ملکی و بین الاقوامی سیاست و حالات حاضرہ کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کیا کرتے ہیں۔ انسانی حقوق، حقوق نسواں، اقلیتوں کے حقوق، روشن خیالی واعتدال پسندی، برداشت، رواداری وغیرہ ان کے خاص موضوعات ہوتے ہیں جن پر وہ مجمع لگاکر اپنے مخصوص انداز میں روشنی ڈالتے ہیں مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شوخ یا گستاخ نوجوان مسٹر کلین کی زبانی برداشت، اعتدال پسندی وغیرہ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر انہی موضوعات سے متعلق کوئی چبھتا ہوا سوال کرجاتا ہے تو مسٹر کلین کی اپنی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے اور وہ آپے سے باہر ہوکر ’’قصیدہ خوانی‘‘ پر اتر آتے ہیں، بلکہ کبھی دولتی… معاف کیجیے گا لاتیں مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے!

مزید پڑھیے۔۔۔

’’نقاہت‘‘

ہمارے دوست مسٹر کلین بہت حساس طبیعت کے مالک واقع ہوئے ہیں۔ ہیں بھی دھان پان کے سے، اوپر سے مزاج کے بھی ’’تاناشاہ‘‘ ہیں۔ تاناشاہ کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ہندوستان کے ایک نواب تھے، بہت نازک اور نفیس طبیعت کے تھے۔ شومیٔ قسمت سے ایک معرکے میں دشمن راجا کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ وہ پابجولاں دشمن راجا کے دربار میں سرجھکائے کھڑے تھے جہاں ان کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ تاناشاہ کو جان سے مار دینے پر سب کا اتفاق ہوگیا البتہ مشورہ اس پر جاری تھا کہ اس کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ تاناشاہ کو اب جان کی امان لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور اس نے درباریوں کو مخاطب کرکے کہا: ’’میری جان لینے کے لیے آپ لوگوں کو کچھ زیادہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بس کسی بھنگن کو گندگی کے ٹوکرے کے ساتھ میرے سامنے سے گزار دیں، میں خود ہی مرجاؤںگا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، ایک بدصورت وبدہیئت بھنگن گندگی کا ٹوکرا لے کر تاناشاہ کے پاس سے گزری اور تاناشاہ نے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کا مزاج بالکل برعکس ہوتا ہے۔ یعنی انہیں نفاست، خوبصورتی اور خوشبو سے نفرت ہوتی ہے اور گندگی سے تسکین ملتی ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔