• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تنکے کاسہارا

پچھلے چند دنوں سے اخبارات میں خبریں آرہی تھیں کہ افغانستان میں مستقل اور پائیدار امن کے لیے ایک بڑے منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو اہم کردار سونپنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ کراچی کا ایک اخبار جو کہ حکمت یار کے ایک جیالے کے زیر ادارات چھپتا ہے، اس نئی مہم جوئی کو ایسے انداز میں پیش کررہا ہے جیسے حکمت یار کے میدان میں آجانے سے افغانستان میں سب کچھ بدلنے والا ہے۔ ہمیں اس اخبار کی سرخیاں دیکھ کر وہ زمانہ یاد آگیا جب افغانستان میں طالبان کی تحریک سونامی کی طرح جنوب سے شمال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ حکمت یار، بر ہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، سیاف اور دیگر بڑے بڑے سورما اس سونامی کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہے جارہے تھے، تب مذکورہ اخبار نیا نیا نکلا تھا۔ اس نے کراچی میں بیٹھے بیٹھے اپنی افسانوی اور دیومالائی انداز کی سرخیوں کے ذریعے حکمت یار کو بچانے اور طالبان کو کابل سے واپس دھکیلنے کی بڑی کوشش کی، لیکن اسی دوران اس کے ممدوح فرار ہوکر ایران پہنچ گئے اور اس کا کھیل بھی ختم ہوگیا جس کے بعد اس نے پینترا بدل کر طالبان کی حمایت شروع کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تف!

محلے کے ایک صاحب کے بیٹے کا ولیمہ تھا۔ ہم خلاف معمول کسی وجہ سے ذرا تاخیر سے شادی ہال پہنچے، مگر یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ابھی مزید تاخیر کی گنجائش باقی تھی۔ ہال میں داخل ہونے کے بعد ہم نے شناسا چہروں کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو ایک کونے میں لگی میز کے پاس غیر معمولی سی رونق نظر آئی۔ کیوں نہ آتی! وہاں ہمارے دوست مسٹر کلین اپنے روایتی سوٹ بوٹ میں نہ صرف تشریف فرما تھے، بلکہ ان کی گل افشانیٔ گفتار کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے خود ہی دور سے ہاتھ کھڑا کیا اور ہمیں اپنے پاس پڑی کسی میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ ہمارے ساتھ طالب جان بھی تھے جو مسٹر کلین کو زیادہ اچھے نہیں لگتے، مگر آج موصوف اچھے موڈ میں تھے، اس لیے انہوں نے طالب جان کے لیے بھی ایک کرسی کھینچ کر انہیں بھی شریک محفل بنالیا۔

حالات حاضرہ پر مسٹر کلین کے ماہرانہ تجزیے و تبصرے چلتے رہے جس کے دوران انتظار کے طویل لمحات کٹنے رہے اور بالاخر کھانا کھلنے کی ’’کھڑک‘‘ سنائی دی اور مسٹر کلین بھی سلسلہ کلام چھوڑ کے سلسلۂ طعام کی طرف متوجہ ہوگئے،

مزید پڑھیے۔۔۔

کس کی جیت؟

دو چار روز پہلے کی بات ہے۔ ہم صبح کی سیر کے بعد گھر واپس آہے تھے۔ راستے میں اخبار کے اسٹال کے پاس پہنچے تو وہاں معمول سے کچھ زیادہ رش دکھائی دیا۔ تجسس کے مارے ہم بھی قریب ہوگئے تو دیکھا اخبارات کی سرخیوں میں لندن کے مئیر کے انتخاب میں ارب پتی یہودی زیک گولڈ اسمتھ کے مقابلے میں ایک مسلمان امیدوار صادق خان کی جیت کی خبر تھی اوروہاں موجود لوگ اس خبر پر خوش اور پر جوش دکھائی دے رہے تھے۔ ظاہر ہے ہمیں بھی اس پر خوشی ہوئی اور ہم شاداں و فرحاں وہاں سے نکل ہی رہے تھے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین پر نظر پڑی جو ہمارے عقب میں آوارد ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر فرمانے لگے: ’’ملاجی! آج بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں، جیسے لندن میں اسلامی نظام نافذ ہوگیا ہو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’جی ہاں! الحمدللہ! ایک ارب پتی یہودی کے مقابلے میں ایک غریب مسلمان بس ڈرائیور کے بیٹے کی فتح پر ہر مسلمان خوش ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر مخالفانہ پروپیگنڈے کے علیٰ الرغم یورپ کے مسلمان آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ پیشرفت اسی طرح جاری رہے تو کچھ بعید نہیں کہ ایک دن لندن میں اسلام بھی نافذ ہوجائے !‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

سازش

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل کچھ پریشان اور مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے دو تین دفعہ گلی میں ان سے آمنا سامنا ہوا، مگر موصوف نے خلاف عادت ہم سے اعراض ہی کیا اور اپنے ملفوظات سے مستفید ہونے کا موقع نہیں دیا۔ ہمیں خدشہ سا محسوس ہوا کہ کہیں پانامامہ لیکس میں ان کا بھی نام تو نہیں آیا جو وہ اتنے ’’ڈسٹرب‘‘ ہوگئے ہیں۔ کل مسٹر کلین ہمیں نیو کوئٹہ ٹی ہاوس میں اکیلے اور اداس بیٹھے دکھائی دیے تو ہم نے ان کے پاس جاکر حال احوال کیا اور اپنے مذکورہ خدشے کا اظہار کردیا تو موصوف کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور کہنے لگے: ’’ہماری اتنی اچھی قسمت کہاں کہ اتنے بڑے لوگوں کے ساتھ ہمارا بھی نام آجائے۔‘‘ پھر کہنے لگے کہ مجھے میاں نواز شریف کے ساتھ ہمدردی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاناما لیکس ان کے خلاف سازش ہے۔

ہمیں مسٹر کلین کی یہ دونوں باتیں سمجھ نہیں آئیں۔ میاں نواز شریف سے مسٹر کلین کی ہم دردی اس لیے سمجھ نہیں آئی کہ ہمیں معلوم ہے کہ مسٹر کلین کو میاں نواز شریف سے کبھی ہم دردی نہیں رہی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکس چور کون؟

ٹیکس چور سرمایہ دار اشرافیہ کی منطقیں دنیا بھر میں ایک جیسی ہیں۔ عوام کا خون چوسنے والا یہ طبقہ سیاسی اشرافیہ کے تعاون اور آشیرباد سے اپنی اس لوٹی ہوئی دولت کو جہاں محفوظ خیال کرتا ہے، رکھتا ہے اور اپنی اس ٹیکس چوری، سرمائے کو ملک سے باہر نکالنا، کاروبار کو کسی دوسرے سازگار ماحول والے ملک میں منتقل کرنا، ایسے اقدامات کا ذمے دار وہ حکومتوں، ملکی حالات، عدم تحفظ اور سرکاری کرپشن کو گردانتا ہے۔ اس کی یہ سوچ اس کے خریدے ہوئے میڈیا میں ایسے پیش کی جاتی ہے جیسے یہ تو اس ملک میں اپنا سرمایہ رکھنا چاہتا تھا، یہ تو اس ملک کا خیرخواہ تھا، لیکن حکمرانوں، بھتہ خوروں، سیاسی مخالفوں اور خراب امن و امان نے اس کا جینا دو بھر کر دیا، وہ کمانا اور کما کر خدمت کرنا چاہتا ہے، لیکن وہاں چلا گیا جہاں وہ سکون سے کاروبار کر سکے۔

ایک زمانہ تھا جب میڈیا ہاوسزز کا رواج نہ تھا۔ ایک کارکن صحافی یا لکھاری چند پیسے اکٹھا کرتا، ایک دو ساتھیوں کو ملاتا، مختصر سا عملہ جن میں زیادہ تر عملی صحافی اور کاتب شامل ہوتے، اور پھر اپنی تحریر، اپنے بے لاگ تجزیے اور جرآت مندانہ صحافت کی بنیاد پر اس کا اخبار عوام میں مقبول ہو جاتا۔ ہماری تاریخ ایسے عظیم دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں کی امین ہے جو خود اخبار نکالتے تھے اور ان کا کوئی مالک، سربراہ یا فنانسر نہیں تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مسٹر اور ملا ساتھ ساتھ!

ہم نے اپنے دوست مسٹر کلین کو جامعۃ الرشید کے سالانہ پروگرام میں ساتھ چلنے کی دعوت دی تو موصوف نے اپنے پہلے سے خشونت زدہ چہرے پر مزید کراہت لاتے ہوئے ایک شعر ارشاد فرمادیا ؎
بہت سنی ہے میں نے آپ کی تقریر مولانا!
مگر اب تک نہیں بدلی مری تقدیر مولانا!
ہم نے عرض کیا کہ تقدیر صرف تقریریں سننے سے نہیں بلکہ ان پر عمل کرنے سے ہی بدلتی ہے مگر ہم آپ کو جس پروگرام میں لے جارہے ہیں، اس میں تقریریں زیادہ تر مسٹروں کی ہوں گی اور سننے والے زیادہ تر مولانا ہوں گے۔ ’’واقعی ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے جہاں کہیں ایک ملا ہوتا ہے وہ سب کی ناک میں دم کر کے رکھ دیتا ہے،اب جہاں زیادہ تر ملا ہوں وہاں مسٹروں کی کیسے چلے گی؟‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

’’را کا سبق‘‘

کہتے ہیں کہ ایک جنگل میں اونٹوں کو پکڑا جارہا تھا، اس دوران ایک لومڑی بھاگے جارہی تھی۔ کسی نے پوچھا: ’’تمہیں کیا پریشانی ہے؟ پکڑا تواونٹوں کو جارہا ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’اگر انہوں نے مجھے بھی ’’اونٹ کا بچہ‘‘ سمجھ کر دھر لیا تو کون بچائے گا مجھے؟‘‘ تقریباً یہی کچھ ہمارے دوست مسٹر کلین کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب بھی ملک میں غیرملکی این جی اوز یا ملک دشمن خفیہ ایجنسیوں کے خلاف کارراوئی شروع ہوتی ہے، موصوف پریشان ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مسٹر کلین ایک ترقی پسند اور روشن خیال ’’دانشور‘‘ ہیں، وہ اپنی مخصوص افتاد طبع اور نظریاتی وابستگی کی بناء پر غیر ملکی این جی اوز کے لیے ان کے مختلف پروجیکٹس پر کام ضرور کرتے ہیں جس سے بقول ان کے تھوڑی بہت ’’دال دلیہ‘‘ بھی ہوجاتی ہے، تاہم جاسوسی اور وہ بھی ملک دشمن قوتوں کے لیے، اس کا کم از کم ہمیں ان پر کوئی شک نہیں ہے، مگر اس کے باوجود نجانے کیوں وہ خائف سے رہتے ہیں۔ جب سے پاکستان نے را کا اعلیٰ افسر پکڑا ہے اور اس کی نشاندہی پر ملک کے مختلف حصوں میں پکڑ دھکڑ شروع ہے، مسٹر کلین کی توگویا نیند ہی حرام ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رنگ و بو!

گزشتہ ہفتے کی بات ہے۔ ہم عشاء کی نماز پڑھنے مسجد جاتے ہوئے سڑک پار کرنے کے لیے گاڑیوں کے رکنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ اچانک دیکھا تو ایک پک اپ گاڑی ہمارے پاس تھوڑے سے فاصلے پر آکر رک گئی اور اس سے کچھ افراد اترنے لگے۔ ان افراد کے چہروں اور کپڑوں پرلال زعفرانی سا رنگ لگا ہوا تھا۔ ایک دم کے لیے ہم ٹھٹک کر رہ گئے اور ہمیں ایسا لگا جیسے یہ لوگ کہیں کسی کا حادثے کا شکار ہوئے ہیں اور ان کے جسموں پر خون کے نشان لگے ہوئے ہیں۔ ہم ماجرا معلوم کرنے اور زخمیوں کی ممکنہ مدد کرنے کے ارادے سے لپک کر گاڑی کی طرف مڑے اور اترنے والے افراد کا قریب سے جائزہ لیا تویہ دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوئے کہ سارے ’’زخمی‘‘ افراد ہنسی مسکراہٹ سے باتیں کر رہے ہیں۔ اتنے میں گاڑی کے اندر سے ہمارے دوست مسٹر کلین بھی برآمد ہوگئے جو سر سے پیر تک’’ رنگین‘‘ نظر آرہے تھے اور چہرے پر بھی اچھی خاصی’’ کالک‘‘ مل آئے تھے۔ اگر وہ اپنے مخصوص انداز سے ہمیں ’’دانت نہ دکھاتے‘‘ تو شاید ہم انہیں پہچان بھی نہ پاتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صفائی مہم!

گزشتہ دنوں اردو اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے ملک کو ’’لبرل‘‘ بنانے کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ اس بات پر ’’اطمینان‘‘ کا اظہار کیا گیا ہے کہ میاں نوا ز شریف اب ملک کے مذہبی طبقے کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔ ہمیں خیال آیا کہ ہمارے دوست مسٹر کلین تو یہ خبر پڑھ کر نہال ہی ہوگئے ہوں گے، آج ان کا موڈ بہت اچھا ہوگا، اس لیے ہم نے سوچا ذرا ان سے مل آتے ہیں۔ مسٹر کلین جب اچھے موڈ میں ہوں تو سخاوت کے ’’دریا‘‘ بھی بہایا کرتے ہیں۔ پھر اس دریا کو کوزے میں بند کرکے ’’روح افزا‘‘ ملاکر اس میں شیرینی بھی ڈال دیتے ہیں جو ان کی شیرین سخنی کے ساتھ مل کر دو آتشہ ہوجاتی ہے! ساتھ میں مسٹر کلین کی ’’متشاعرانہ حس‘‘ بھی جاگ جاتی ہے اورکبھی کبھی کبھار اچھے اشعار بھی سنایا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نے پانی میں روح افزا ملاتے ہوئے شعر پڑھا؎
غم دنیا میں غم عشق بھی شامل کر لو
مزا آئے گا، شرابیں جو شرابوں میں ملیں
مسٹر کلین نے یہ شعر پڑھ کر داد طلب نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا تو ہم نے اس میں شعر میں تھوڑی سی ترمیم کی اجازت طلب کی جو انہوں نے خوشی سے دے بھی دی۔ ہم نے عرض کیا ؎

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا میڈیا…؟

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ممتاز قادری کو پھانسی ہوئی تھی۔ ہمیں صبح ہی معلوم ہوگیا تھا کہ ہماری حکومت نے جو کہ آئین و قانون پر عمل درآمد کروانے میں بہت زیادہ فعال ہے اور بالخصوص عدالتی فیصلوں کے احترام اور نفاذ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی (اور ہمارے موجودہ حکمرانوں کی تو یہ شاندار تاریخ بھی رہی ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ’’احترام‘‘ میں اس کی عمارت کے اندر گھس جانے سے بھی دریغ کرتے) ممتاز قادری کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر انتہائی رازداری کے ساتھ عمل درآمد کر لیا ہے، تو ہمارا خیال تھا کہ قانون پر عمل درآمد کی ایک اور مثال قائم کرنے پر ملک بھر میں حکومت کی ’’جے‘‘ ہوگئی ہوگی اور حکمران بھی فخر اور سکون محسوس کر رہے ہوں گے۔

ہم دوپہر میں مدرسے سے سبق پڑھاکر گھر روانہ ہوگئے۔ گلی میں پہنچے تو وہاں ہمارے دوست مسٹر کلین کو قدرے متفکر اور متجسس حالت میں کھڑے کسی سے باتیں کرتے دیکھا تو ہمیں حیرت سی ہوئی کہ آج تو ملک میں قانون کی حکمرانی کا علم بلند ہوجانے پر مسٹر کلین کولڈو بانٹنے چاہییں،

مزید پڑھیے۔۔۔

’’تحفظات‘‘

ہمارے دوست مسٹر کلین بڑے ’’نظریاتی‘‘ آدمی ہیں۔ ان کے بقول انہوںنے ہمیشہ اپنے نظریات کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ مسٹر کلین اپنا یہ دعویٰ اگرچہ بڑے بڑے اجتماعات میں بھی دوہراتے رہتے ہیں، مگر اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ان سے ثبوت مانگتا بھی نہیں ہے۔ اب آپ کے ذہن میں سوال آئے گا کہ کوئی اور مانگے یا نہ مانگے، آپ نے تو کم ازکم مانگا ہوگا، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ نے مسٹر کلین کو ویسے ہی معاف رکھا ہو۔ آپ کا سوال بالکل درست ہے، مگر دراصل ہمیں ثبوت مانگنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، کیونکہ ہمیں تو معلوم ہے کہ مسٹر کلین جو کہہ رہے ہیں، درست کہہ رہے ہیں۔ چلیں آپ کو زیادہ پہیلی نہیں بھجواتے، بتائے ہی دیتے ہیں، دراصل مسٹر کلین جب یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ انہوںنے اپنے نظریات کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، تو اس سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ انہوںنے اپنے نظریات کی خاطر کبھی جیل کاٹی ہوگی، گھربار لٹایا ہوگا، تشدد سہا ہوگا یا کچھ کھویا ہوگا۔ وہ ’’کچھ کھونے اور پانے‘‘ کے نہیں، بلکہ ہمیشہ ’’کچھ کھانے اور پینے‘‘ کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ نظریات کے لیے قربانیاں دینے سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کے بعض نظریات خود انہیں بہت مہنگے پڑتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔