• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تعویز!

ہمارے دوست مسٹر کلین کئی دنوں سے غائب تھے۔ ہمیں ان کی ’’غیبوبت‘‘ کا احساس بھی تھا اور ہم ان کی خیر خبر معلوم کرنے کے لیے ان کی طرف جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ موصوف خود ہمارے مسکین خانے میں تشریف لائے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ مسٹر کلین جب بھی خود چل کر ہمارے پاس آتے ہیں تو ضرور کوئی نہایت اہم اور حساس ’’گھریلو مسئلہ‘‘ ہی لے کر آتے ہیں۔ ان کے چہرے پر طاری ضرورت سے زیادہ سنجیدگی بلکہ رنجیدگی بھی بتارہی تھی کہ موصوف کو کوئی بہت ہی ضروری کام درپیش ہوگیا ہے۔ ماضی کے تجربات سے روشنی لیتے ہوئے ہم نے یہی قیاس کیا کہ موصوف کو بیگم کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہوگا، اور چونکہ ان کی بیگم بقول ان کے تھوڑی سی ’’توہم پرست‘‘ واقع ہوئی ہیں، اس لیے وہ تعویز اور دم درود وغیرہ کے لیے کسی ملا کے پاس جانے کا حکم، معاف کیجیے گا مشورہ دیتی ہیں جس پر موصوف کو بہر حال عمل کرنا ہی ہوتا ہے، مگر آج مسٹر کلین نے جو کہانی سنائی وہ ذرا مختلف اور قدرے سنجیدہ تھی۔ انہوں نے پہلے تو ایک لمبا سانس لیا، کچھ دیر خلاء میں گھورتے رہے پھر کہنے لگے: ’’ملا جی! ایک سیرئس ایشو ہے جس پر آپ کی ہیلپ درکار ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’آپ حکم کریں، ہم سے جو بھی خدمت ہوسکے گی، دریغ نہیں کریں گے۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

غول بیابانی!

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل پھر سرگرم ہیں۔ وہ این جی اوز کی نمایندہ چند خواتین کی جھر مٹ میں حالیہ ’’گھریلو تشدد بل‘‘ کے حق میں ’’دستخطی مہم‘‘ چلارہے ہیں اور عوامی مقامات کے علاوہ گھروں اور گلیوں میں بھی جاجا کر لوگوں سے اس بل کے حق میں دستخط لینے میں مصروف ہیں۔ کل شام وہ اپنے اس ’’غول بیابانی‘‘ کے ہمراہ ہماری گلی سے گزر رہے تھے تو ہم نے ان کو مخاطب کرکے کہا: ’’لائیے! ہم بھی دستخط کیے دیتے ہیں۔‘‘ مسٹر کلین نے حیرت اور تجسس کی ملی جلی نظر سے ہماری طرف دیکھا اور بولے: ’’آپ بھی دستخط کریں گے؟آپ کو پتا ہے اس بل میں کیا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ہمیں اور تو نہیں پتا، لیکن میں آپ کے ساتھ ہمدردی میں اس پر دستخط کردیتے ہیں، اس بل سے کم ازکم آپ کو اگر’’ گھریلو تشدد‘‘ سے نجات مل جاتی ہے تو اس میں برا کیا ہے؟ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آپ ایک متاثرہ شخص کی حیثیت سے یہ مہم چلارہے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

گول میز کانفرنس!

ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ایک بار پھر ’’گول میز کانفرنس‘‘ میں آمنے سامنے تھے۔ اب آپ یہ نہ پوچھیے گا کہ پہلے کب ’’کسی گول میز کانفرنس‘‘ میں شریک ہوئے۔ اگر شریک ہوئے تھے تو اس کا کبھی تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ دراصل یہ ’’گول میز‘‘ ولیمے کی دعوت والی تھی اورآپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایسی ’’کانفرنس ‘‘میں کوئی اور شریک ہو نہ ہو۔ ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ضرور شریک ہوتے ہیں۔ ہمیں دعوت قبول کرنے کی میٹھی سنت پر عمل کرنا ہوتا ہے، جبکہ مسٹر کلین کو دانشوری بانٹنے کا موقع میسر آجاتا ہے۔ اس دن بھی ہم ایک مشترکہ کرم فرما کے صاحبزادے کے ولیمے میں شریک تھے۔ اس دن کا خاص موضوع کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کی کارروائیاں تھیں۔ ہمارے ساتھ میز پر کراچی کی اردو بولنے والی برادری کے چند پختہ عمر کے بزرگ بھی بیٹھے تھے، ان بزرگوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیانات پر سخت بر افروختگی کا اظہار کیا اور ان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف جس طرح کی ہرزہ سرائی کی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گلدستہ بردار!

پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ ہم ایک بیمار عزیز کی عیادت کے لیے مقامی ہسپتال گئے۔ ہم جس وقت پہنچے، وہاں معمول سے کچھ زیادہ رش اور ہل چل کی کیفیت نظر آئی۔ معلوم ہوا کہ سانحہ کوئٹہ کے کچھ زخمی یہاں لائے گئے ہیں اور ان کی عیادت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آرہے ہیں، سیاسی رہنما، سول سوسائٹی کے ارکان، این جی اوز کے نمایندے اور میڈیا کے کارندے زخمیوں کی عیادت کے نام پر تصویریں بنارہے ہیں، سیلفیاں لے رہے ہیں اور جعلی مسکراہٹوں اور گلدستوں کے ذریعے سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کے گہرے گھاؤ مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے عزیز کی عیادت کے بعد باہر آرہے تھے کہ ایک جاننے والے ملے جن کے قریبی رشتہ دار بھی زخمیوں میں شامل تھے۔ ہم نے ان سے اظہار ہمدردی کیا تو انہوں نے ہم سے تقاضا کیا کہ ان کے زخمی عزیز کے پاس جاکر انہیں بھی ذرا حوصلہ دلائیں۔ ہم زخمیوں کے وارڈ میں گئے تو وہاں زخمی کے سرہانے پر مذکورہ بالا گلدستہ بردار ’’خیر خواہوں‘‘ کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ بیشتر زخمی اس ہجوم سے اکتاہٹ اور پریشانی محسوس کر رہے ہیں، ہم نے اپنے اس متعلقہ فرد کے پاس جاکر ان کی عیادت کی، انہیں حوصلے کی تلقین کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ ہمیں ایسا لگاکہ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس دعا سے ہی ہوئی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سنی ان سنی!

14؍ اگست کے قریب آنے پر ملک بھر میں جشن آزادی کا جوش اپنے عروج پر ہے۔ ہر طرف سبزہلالی پرچموں کی بہار ہے۔ بچے، بوڑھے، جوان سب آزادی کے نشے میں سرشار بلکہ ’’شرابور‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔ پرسوںاڑھائی سالہ ’’ببلو‘‘ غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے سر ہلا ہلاکر گنگنا رہا تھا: ’’ اپنے پاکشتان کو بچانا ہے‘‘۔ اس کی اماں نے اس کی گیلی شلوار اتار کر اس کی ران پر چپت رسید کرتے ہوئے کہا:’’ پہلے اپنی شلوار کو تو بچالو۔‘‘ بہرحال یہ ایک جوش اور جنون ہے جس میں ہر کہ و مہ مبتلا ہے۔ کل ہم نے اپنے دوست مسٹر کلین کو دیکھا کہ شہر میں تیز بارش کے باوجود سرپر سبز ہلالی پرچم لپیٹے گلی میں نکلے ہوئے تھے اور کچھ نوجوانوں کو لے کر مکانات کی چھتوں پر جھنڈے لگارہے تھے۔ ہم اس وقت مدرسے سے واپس آرہے تھے، بارش اچانک تیز ہوگئی تو ہم نے کچھ دیر کے لیے ایک عمارت کے چھجے کے نیچے پناہ لی، دیگر لوگ بھی اس ’’پناہ گاہ‘‘ کی طرف آنے لگے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

مسئلہ کشمیر اور موم بتی مافیا!

پچھلے دنوں کی بات ہے، شام کا وقت تھا اور ہم محلے کی کریانے کی دکان میں بیٹھے دکاندار کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کچھ امور پر تبادلہ خیال میں مصروف تھے۔ ہمارے ساتھ طالب جان بھی موجود تھا۔ اس دوران بجلی چلی گئی اور دکان کے اندر حبس کا احساس ہونے لگا تو ہم نے وہاں سے نکلنے کا سوچا، مگر اس سے پہلے بجلی کی بار بار اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف دوکاندار کی تقریر شروع ہوچکی تھیں اور حکومت اور محکمہ بجلی کی شان میں ’’قصیدہ‘‘ جاری تھا جس کو بیچ میں چھوڑ کرجانا دکاندار موصوف کے جذبات کی ناقدری کے مترداف تھا جس کا ارتکاب ہم نہیں کرسکتے تھے ۔

چنانچہ چاروناچار ہم وہیں بیٹھے اور قصیدے کی تان کسی جگہ ٹوٹنے کے منتظر تھے۔،اسی اثناء میں ہمارے دوست مسٹر کلین بھی پسینے میں شرابور دوکان میں تشریف لائے،انہیں موم بتیاں درکار تھیں،ہمیں پہلے تو حیرت ہوئی کہ مسٹر کلین کو اپنی گلی چھوڑ کر موم بتی لینے کے لیے ہمارے محلے میں آنے کی کیا ضرورت درپیش ہوگئی،موصوف نے خود اس’’ دخل مقدر‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’ہماری طرف کریانہ کی دوتین دوکانیں ہیں۔ اتفاق سے آج کسی میں بھی موم بتیاں نہیں ملیں،اس لیے ادھر آنا پڑا۔‘‘ ہم نے مسٹر کلین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا: ’’آج کل بجلی کی لوڈ شیڈنگ جس بڑے پیمانے پر ہورہی ہے،اس کے پیش نظر دکانداروں کو موم بتیاں وغیرہ زیادہ مقدار میں رکھنی چاہییں تاکہ صارفین کو دشواری نہ ہو۔‘‘ مسٹر کلین نے اپنے محلے کے دکانداروں کو صلواتیں سنانی شروع کردیں اور کہا کہ ان لوگوں کو اصل میںبزنس کا ’’سینس‘‘ ہی نہیں ہے۔ ان کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ کس موسم میں کس علاقے میں کس چیز کی مانگ زیادہ ہوتی ہے اور کس چیز کی کم ۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایدھی صاحب

پچھلے ہفتے کا قصہ ہے۔ ہمارے کرما فرما ماسٹر مبین نے احباب کے لیے ’’عید ملن دعوت‘‘ کا اہتمام کیا۔ دعوت میں ایک جانب اگر کھانے میں میٹھے اور نمکین کا بہترین توازن رکھا گیا تھا، دو دوسری جانب ’’مسٹر‘‘ اور ’’ملا‘‘ کا ’’حسین امتزاج‘‘ قائم کرنے کی بھی اچھی کاوش کی گئی تھی، یعنی مدعو احباب میں جہاں مسٹر کلین وہ ہم نوا اپنے مخصوص لباس و انداز میں جلوہ نما تھے، وہیں ملا مسکین وطالب جان وغیرہ بھی فقیرانہ ’’شان و شوکت‘‘ کے ساتھ شامل حال تھے۔ حکیم فقیر حسین اور خود قبلہ ماسٹر مبین سمیت کئی احباب ایسے تھے جو درمیان درمیان کی درجہ بندی میں آتے ہیں، یعنی نہ وہ پورے ملا کہلاتے ہیں نہ ہی پورے مسٹر کی کٹیگری میں آتے ہیں۔ حکیم صاحب بتاتے ہیں کہ بہت دفعہ وہ قراقلی ٹوپی اور شلوار کرتے میں مطب میں بیٹھے ہوتے ہیں تو بعض لوگ انہیں حکیم کی بجائے ’’روحانی معالج‘‘ سمجھ کر تعویز مانگنے آجاتے ہیں اور بعض ’’سخی بادشاہ‘‘ سمجھ کر مدد طلب کرتے ہیں۔ ماسٹر مبین نے اپنے بارے میں بتایا کہ کئی بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے لیے یہ کہہ کر سیٹ چھوڑ دی کہ مولانا صاحب تشریف رکھیں!

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دورنگی!

لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص روزے نہیں رکھتا تھا، لیکن افطار ی میں بڑے ذوق شوق کے ساتھ شریک ہوتا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا: ’’بھئی! میں روزہ نہیں رکھتا، اب افطار بھی نہیں کروں گا تو پھر تو بالکل ہی کافر ہوجاؤں گا۔ ‘‘ ہمیں یہ لطیفہ عید کی تیاریوں کا سماں دیکھ کر یاد آیا۔ پرسوں ہم عصر سے پہلے کسی کام سے گلی میں نکلے تو ایک ہٹے کٹے اور لمبے تڑنگے صاحب کو دیکھا، منہ میں رکھا پان یا گٹکا چبا رہے ہیں اور دونوں ہاتھوں میں عید کی شاپنگ کا سامان اٹھائے جارہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا اور حیرت بھی ہوئی کہ جب رمضان کی کوئی قدر اورا ہمیت نہیں ہے تو پھر عید کس خوشی میں منائی جاتی ہے۔ اگر کوئی رمضان میں صیام و قیام کی رونقوں اور برکتوں سے محروم ہے تو اسے پھر عید پر اتنے سارے خرچے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ہم ابھی اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی گلی کی نکڑ سے آتے دکھائی دیے۔ ہم نے کہا: ’’چلیں اچھا ہوا، ایک دانشور مل گیا جو یہ عقدہ کھولنے میں ہماری مدد کرے گا۔‘‘ مسٹر کلین نے ہمیں دیکھ کر کہا: ’’کیوں ملا جی! کن سوچوں میں گم ہیں؟ گرمیوں میں روزے تنگ تو نہیں کر رہے؟ کوئی ’’اجتہاد‘‘ تو کریںکہ گرمیوں میں روزہ آدھے دن کا ہوجائے یا کم از کم دوپہر میں روح افزا کا ایک گلاس ہی ’’الاؤ‘‘ ہوجائے۔‘‘ ہم نے مسٹر کلین کے وار کا جواب صرف مسکراہٹ کے ساتھ دیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

مذھب فروش کون؟

حکیم فقیر حسین کی سالانہ دعوت افطار کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا ہے۔ ایک طرف حکیم صاحب کا خلوص اور دوسری جانب حکیمی نسخوں کے مطابق بنائے گئے افطاری لوازمات، جن میں ہر چیز نستعلیق قسم کی، چھان پھٹک کر اور حسابی طریقے سے بنی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ شربت بھی عام نہیں ہوتا بلکہ جگر کی گرمائش کی عمومی شکایت کو سامنے رکھتے ہوئے حکیم صاحب افطار میں مہمانوں کے لیے بھی ’’شربت بزوری‘‘ ہی تجویز فرماتے ہیں۔ حکیم صاحب کی محبت اور حکمت، یہ دونوں عناصر ملتے ہیں توافطارکا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، پھر حکیم صاحب دعوت افطار میں لوگ بھی ’’چنیدہ‘‘ ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے مجلس بھی اچھی جمتی ہے۔ اس دفعہ روزوں کے آغاز کو کافی دن گزرنے کے باوجود حکیم صاحب کی طرف سے کوئی بلاوا نہیں آیا تو ہمیں تشویش سی ہونے لگی کہ کہیں حکیم صاحب خدانخواستہ خود’’ مریض ‘‘ تو نہیں ہوگئے۔ ہم ابھی حکیم صاحب کی مزاج پرسی کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ ان کا فون آگیا اور ہماری بھی جان میں کچھ جان آگئی۔ حکیم صاحب نے اپنے روایتی محبت بھر ے لہجے دعوت دی اور بتایا کہ ’’ہوئی تاخیر تو کوئی باعث تاخیر بھی تھا‘‘۔ ہمیں چونکہ دعوت سے ہی سروکار تھا جس کی نوید مل چکی تھی، اس لیے فی الوقت ’’باعث تاخیر‘‘ کا پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

چیں بجبین!

ہمارے کرم فرما ماسٹر مبین کے نجی اسکول کی سالانہ تقریب تھی۔ ماسٹر صاحب نے از راہ الفت ہمیں بھی شرکت اور خطاب کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ آپ نے دور حاضر میں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج اور نونہالان قوم کی اخلاقی تربیت کی ضرورت پر کچھ روشنی ڈالنی ہے۔ ماسٹر صاحب نے بتایا کہ آپ کے دوست مسٹر کلین بھی مدعو ہیں اور وہ بھی تعلیم و تربیت سے متعلق اپنے ماہرانہ خیالات کا اظہار کریں گے۔ اگلے روز جب ہم اسکول پہنچے تو تقریب کا منظر دیکھ کر دل خوش ہوا۔ اسکول کے تمام بچے، اساتذہ و عملہ سب اسلامی لباس میں ملبوس تھے اور چھوٹے چھوٹے بچے نہایت خوبصورت آواز میں تلاوت، نعتیں اور نظمیں پڑھ رہے تھے۔ ہمارے دوست مسٹر کلین ہم سے پہلے آکر اسٹیج پر تشریف فرما ہوچکے تھے تاہم اسکول کا یہ منظر دیکھ کرخاصے ’’چیں بجبیں‘‘دکھائی دے رہے تھے۔

خیر جب تقریب کی کارروائی آگے بڑھی اور کچھ اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے دیر آید درست آید کے مصداق تمام اسکولوں میں قرآن کریم ناظرہ، ترجمہ اور احکام کی تعلیم کے ساتھ پڑھانے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

’’ہارٹ اٹیک!‘‘

پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ شام کا وقت تھا اور محلے میں بجلی نہیں تھی۔ ہم گلی میں ہواخوری کے لیے نکلے۔ بڑوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد اسی نیت سے پہلے سے گلی میں موجود تھی۔ بچے مختلف کھیل کھیل کر ہلّہ گلہ کر رہے تھے، جبکہ بڑے بھی ٹولیوں میں بٹے اپنی اپنی دلچسپی کی سرگرمیوں میں مشغول تھے۔ ہم بھی کسی ہم دم دیرینہ کی تلاش میں چلتے چلتے اگلی گلی کی طرف نکل گئے اور بے اختیار ی کی کیفیت میں ہی اپنے دوست مسٹر کلین کے گھر کے نزدیک پہنچ گئے۔ گویاوہی بات ہوگئی کہ ؎
دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
دیکھا تو وہاں بھی بجلی نہیں تھی اور باہر بچوں اور بڑوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ ہم نے مجمع میں نظریں گھما ئیں اور یہ جان کر نہال ہوگئے کہ مسٹر کلین بھی اپنی روایتی آن بان کے ساتھ دوچار نوجوانوں کی ٹولی کے بیچ میں کھڑے حسب معمول کسی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے ہیں۔ ہم قریب پہنچے تو مسٹر کلین نے قدرے جوشیلے انداز میں ہمارا استقبال کیا اور ایسا لگا جیسے آج وہ ’’فل موڈ‘‘ میں ہیں اور غیر متوقع طور پر’ ’ شکار‘‘ کے ہاتھ آجانے پر پر جوش ہیں۔ سلام دعا کے بعد ابھی حال احوال ہی ہورہا تھا کہ قریب میں ایک زور دار دھماکا ہوگیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔