• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایمپائر!

مثلاً مذہب کو اپنے معاشرے سے دیس نکالا دیا تو اس سے وابستگی کی علامت کے طور پر ’’کرسمس‘‘ منانا شروع کردیا، حالانکہ یہ بات بائیبل سے یا کسی بھی مستند عیسائی ماخذ سے ثابت نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی پیدائش 25؍ دسمبر کو ہوئی تھی۔ حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ان کی خواہشات نفس پر بھاری تھا اس لیے انہوں نے دین عیسوی سے اپنے تعلق کے ثبوت کے لیے بس اتنی بات کافی سمجھی کہ سال میں صرف ایک دن مخصوص کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یاد کیا جائے، اس موقع پر جو خرافات ہوتی ہیں ان کا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح مغرب میں ماں، باپ اور استاذ شاگرد وغیرہ کے رشتے بھی مادیت کے ہاتھوں غتر بود ہوگئے اور حقیقی الفت و محبت کا سواد ہی نہ رہا تو مغرب نے اپنے احساس جرم کو چھپانے کے لیے ایک دن ماں کے لیے، ایک دن باپ کے لیے، اور ایک دن استاذ کے لیے مخصوص کر دیے۔ سال میں صرف ایک ان اولاد ماں باپ کو ان کے خاص دن کے موقع پر ’’وش‘‘ کر دے تو اسے ماں باپ کی خوش نصیبی اور اولاد کی سعادت مندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور تو اور مغرب نے محبت کے لازال جذبے کو بھی ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کی غلاظتوں میں لتھڑا کر بد بودار کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملاکھڑا!

سردیوں کی نرم دھوپ آپ کی طرح ہمیں بھی اچھی لگتی ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر دھوپ میں کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت سے بھی کچھ مستفید ہوں اور خنک موسم میںجسم وجاں کو کچھ قدرتی حرارت پہنچاکرمالک کا شکر ادا کریں۔ پرسوں ہم ظہر کی نماز کے بعد مسجد کے سامنے ہی ایک دیوار کے ساتھ کھڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ طبیعت میں بشاشت سی محسوس ہورہی تھی اور ہم قصیدہ بردہ شریف کا ایک خوبصورت مصرعہ زیر لب پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے ہمارے دوست مسٹر کلین آتے دکھائی دیے۔ ( مسجد کی طرف سے نہیں، دوسری طرف سے)۔ ہمیں کیف و سرور کے عالم میں دیکھ کر ان کا چہرہ بھی کھل سا گیا اور موصوف ہمارے پاس آکھڑے ہوگئے اورسلام دعا کے بعد حسب عادت ایک تیر چلادیا کہ ’’اچھا ہے ملا جی! کچھ وٹامن ڈی جمع کرلیں دھوپ میں کھڑے ہوکر۔ ویسے بھی اب ملاوں کا ’’ملاکھڑا‘‘ ہونا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ!‘‘ ہمیں یاد آیا کہ گزشتہ ملاقات میں بھی جب ہم ماسٹر مبین کی عیادت کے لیے رکشے میں جارہے تھے، مسٹر کلین نے یہ بحث چھیڑی تھی مگر اس وقت ہماری طرف سے رکشے والے نے ’’ڈرم بجا کر‘‘ موصوف کی بولتی بند کردی تھی، ہمیں ایسا لگا کہ مسٹر کلین ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر ہماری پریشانی اور تشویش سے مزا لینا چاہتے ہیں اور ہمازی زبانی ٹرمپ کے قصیدے سننا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈرم!

پچھلے کئی روز سے ہمارے دوست مسٹر کلین دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ہمیں خدشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں ہمارے دوست بھی’’بھینسا‘‘ کی طرح ’’لاپتا‘‘ تو نہیں کر دیے گئے۔ کچھ دنوں سے ہم سن رہے تھے کہ کوئی پاکستان کی سول سوسائٹی کا کوئی’’بھینسا‘‘ لاپتا ہوگیا ہے اور واشنگٹن سے لے کر لندن تک اس کے لیے’’آہ و زاری‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کونسا ایسا اعلیٰ نسل کا بھینسا ہوگا جس کے لیے اتنی زیادہ پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہم نے یہ تو سنا تھا کہ لبرل کہلانے والی مخلوق کو کتا کہلانے والی مخلوق سے بہت شغف اور محبت ہوتی ہے اور یہاں تک ہوتی ہے کہ انہیں انسانوں کی اور خود اپنی نسل اور حسب نسب کی اتنی معلومات نہیں ہوتیں جتنی کتوں کی نسلوں کی معلومات ہوتی ہیں اور سنا ہے کہ بعض کتے ان کی نظروں میں جچنے کے بعد لاکھوں کروڑوں کے ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ یہ حضرات بھینسے بھی پالتے ہیں اوراس بڑے ڈیل ڈول والے بے زبان جانور کی بھی ان کے ہاں کوئی خاص اہمیت ہے، اس لیے ہمیں یہ سارا ماجرا جاننے کا تجسس تھا اور ہمارے دوست مسٹر کلین ہی اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر سکتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چل سوچل!

سردی کی نئی لہر آنے پر ہمارے دانت بجنے لگے تو ہم سرما کی گرما گرم سوغات مونگ پھلی لینے گلی میں نکلے، خشک میوہ جات اور مونگ پھلی بیچنے والا گلی کی نکڑ میں ٹھیلا سجائے کھڑا تھا اور آج اس کے پاس غیر معمولی رش لگا ہوا تھا۔ وہ ٹھیلے میں رکھی ریت کی بھٹی میں بھون کر مونگ پھلی کاغذ کے لفافوں میں ڈال ڈال کر بیچ رہا تھا اور لوگ ایسے لے رہے تھے جیسے مفت میں مونگ پھلی بٹ رہی ہو۔ ہم نے اپنی باری آنے کا انتظار کیا اور جب ٹھیلے والا ہماری طرف متوجہ ہوا تو ہم نے انہیں دو چھٹانگ مونگ پھلی تول کر دینے کا کہا، لیکن ہماری آواز میں ایک مانوس سی آواز آکر شامل ہوگئی کہ ’’ملاجی، چلغوزے لے لیں چلغوزے، آپ نے نہیں سنا کہ چھلکے والے زیادہ اچھے اور میٹھے ہوتے ہیں؟‘‘ ہم نے سامنے دیکھا تو ہمارے دیرینہ کرم فرما مسٹر کلین تھے جو ہمیں مفت میں اتنا’’مہنگا‘‘مشورہ دے رہے تھے۔ وہ خود ایک چھٹانگ مونگ پھلی لے چکے تھے اور ہمیں چلغوزے لینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ٹھیلے والے نے جلدی جلدی مونگ پھلی کا لفافہ ہمیں پکڑا دیا اور ہم ایک طرف کو ہوگئے، مسٹر کلین بھی ہمارے تعاقب میں تھے۔ ہم نے اس’’خیر خواہی‘‘ پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم تو آپ کی اصطلاح میں’رجسٹرڈ‘‘او’’ر یکنائزڈ‘‘مسکین ہیں، مونگ پھلی ہی خرید سکتے ہیں، ہاں آپ جیسے’’کھاتے پیتے‘‘ دانشور لوگ بقول آپ کے’’افورڈ‘‘ کر سکتے ہیں کہ اتنے مہنگے چلغوزے خرید کر خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ مسٹر کلین ہمارے اس سادے سے جواب پر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ ملاجی! آپ بہت معصوم اور بھولے ہیں، آپ کو شاید پتا ہی نہیں کہ سوشل میڈیا میں’’چلغوزے‘‘ کے کیسے چھلکے اتارے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شکست تمنا

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے، ہمارے دوست مسٹر کلین کی بیگم کے ساتھ ان بن چل رہی چل رہی تھی۔ ہمیں بھی محرم راز درون خانہ ہونے کے ناتے اس پر تشویش تھی اور ہم اپنے طور پر اصلاح احوال کی کوئی تدبیر سوچ رہے تھے۔ایک دن مسٹر کلین ہمیں راستے میں ملے تو کافی خوش اور مطمئن دکھائی دیے۔ ہم نے پوچھا : ’’کیا بیگم سے لڑائی ختم ہوئی؟‘‘ مسٹر کلین نے فاتحانہ انداز میںجواب دیا: ’’ہاں! وہ گھٹنے ٹیک کر میرے پاس آئی۔‘‘ ہمیں نے حیرت اور بے یقینی کی سی کیفیت میں پوچھا: ’ ’ ماشا ء اللہ ،یہ ہوئی نا بات! کیا کہا انہوں نے ؟‘‘ مسٹر کلین نے بتایا: ’’یہی کہ بیڈ کے نیچے سے نکل آئو کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم پھول بھی ہیں

دو تین دن پہلے کی بات ہے۔ ہم عصر کے بعد قریبی پارک میں ایک بنچ پر بیٹھے ’’عالم تمام‘‘ کو’’ حلقہ دام خیال‘‘ میں لانے کی غیرشعوری کوششوں میں مگن تھے جبکہ ہمارے اردگرد مدرسے کے بچے اپنے کھیل کھود اور جسمانی ورزشوں میں مصروف تھے۔ ہمارے خیالات کی پرواز مختلف سمتوں میں اڑانیں بھرنے کے بعد کہیں ’’ٹیک آف‘‘ کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارا پورا سر کسی کے ’’آہنی ہاتھوں‘‘ کی گرفت میں آچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس عمر میں ہمارے ساتھ اس طرح کی ’’بے تکلفی‘‘ کوئی بہت ہی دیرینہ ہمدم ودم ساز ہی کرسکتا ہے۔ ہمارا اندازہ درست نکلا اور جب ہم آہنی ہاتھوں سے نجات ملی تو دیکھا یہ ہمارے دوست مسٹر کلین ہی تھے جو ہمارے عقب میں آکھڑے ہوئے تھے۔ قریب میں کھڑے دیگر لوگ کچھ دیر کے لیے تو’’ مسٹر ‘‘کی ’’ملا ‘‘کے ساتھ اٹھکھیلی سے محظوظ ہوئے، مدرسے کے طلبہ نے بھی ایک لمحے کے لیے خشمگین نگاہوں سے مسٹر کلین کی طرف دیکھا لیکن پھر مسٹر کلین کو مسکراتے ہوئے ہمارے ساتھ بنچ پر بیٹھتے دیکھ کر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ مسٹر کلین نے چھوٹتے ہی کھیلتے کودتے طلبہ کی طرف اشارہ کرکے کہا، کیوں ملاجی! جہاد کی ٹریننگ دی جارہی ہے ان طالبان کو؟

مزید پڑھیے۔۔۔

وارث

ہمارے دوست مسٹر کلین کوہماری بہت فکر رہتی ہے۔ و ہ ہماری’’ مسکینی ‘‘ سے واقف ہیں اور انہیں ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ کسی طرح ہمارا’’ معیار زندگی‘‘ بلند ہوجائے اور ہم بھی ان کی طرح دودھوں نہائیں اور پوتوں پھلیں، حالانکہ ہم نے کبھی ان کے سامنے اپنی مسکنت کا خود سے اظہار کیا نہ کبھی ’’دودھوں نہانے‘‘کی خواہش ظاہر کی، مگر وہ وچونکہ ہمارے مخلص ہیں اور مشورے دینے میں ان کاکچھ خرچ بھی نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنے تجربات کی روشنی میں ہمیں مفت مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔ ایک دفعہ ہم اپنے ایک دوست مولوی صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، مسٹر کلین بھی کسی کام سے ہمارے پاس آئے اور باتوں باتوں میں وہی مشہور سوال دوہرایا کہ ’’مولوی لوگ کھاتے کہاں سے ہیں؟‘‘۔ اس سے قبل کہ ہم مسٹر کلین کو بتانے کے لیے تمہید باندھتے، مذکورہ مولوی صاحب نے جھٹ سے جواب دیا: ’’ ظاہر ہے منہ سے کھاتے ہیں، ناک سے تو کھانے سے رہے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

پرانامنجن!

ہمارے دوست مسٹر کلین بڑے امید پرست واقع ہوئے ہیں۔فکری انتشار اور ذہنی آوارگی کے اندھیرے چوراہے میں بیٹھے انہیں کہیں سے بھی کوئی ’’روشن خیالی‘‘ کی کرن نظر آتی ہے تو اس کی طرف لپک پڑتے ہیں۔اس دن ہم نے انہیں محلے کے ’’ٹی ہاوس‘‘ میں کھلی باچھوں کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ نچاتے ہوئے نوجوانوں سے محوگفتگو پایا تویہی اندازہ لگایا کہ موصوف نے کوئی سبز باغ دیکھ لیا ہوگا جو اب وہ یہاں آکر دوسروں کو دکھارہے ہوں گے۔ ہمارے پاس رکنے کا وقت نہیں تھا ،اس لیے ہم نے کنی کتراکر نکل جانے کی کوشش کی، لیکن مسٹر کلین کی دوربین نگاہوں نے ہمیں دھر لیا اور موصوف نے اس دن کی چائے کے بدلے میں آج ہمیں چائے پلانے کی پیشکش کردی جو ظاہر ہے کہ ہم نے فوراً سے پیشتر ہی قبول کرلی کیونکہ ایسے موقع زندگی میں کم ہی آتے ہیں جب مسٹر کلین اتنے اچھے موڈ میں ہوں کہ کسی کو چائے پلانے کی پیشکش بھی کریں!

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سیکولر نابغے!

گزشتہ ہفتے کی بات ہے۔ ہم ایک عزیز کو رخصت کرنے کے لیے بس اڈے کی طرف جارہے تھے۔ ہم نے ان عزیز کے ساتھ ان کا کچھ سامان بھی ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، ہم گلی سے نکل کر شاہراہ پر آئے تو وہاں کچھ ہلچل سی نظر آئی۔ دیکھا تو کچھ سرپھرے سے نوجوا ن ہنگامہ آرائی کر رہے تھے اورٹریفک روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے ماجرا پوچھنے کے لیے سڑک کے کنارے جمے مجمع کی طرف دیکھا تو ہمارے دوست مسٹر کلین مجمع کے بیچوں بیچ کھڑے دکھائی دیے، وہ صبح کی واک کے لباس میں تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں وہ صرف تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے قبل کی ہم ان سے کچھ پوچھتے موصوف نے ہماری طرف یک چست سا جملہ اچھال دیا’’ ملاجی! کہاں چل دیے؟ اسلام آباد بند کرنے جارہے ہیں کیا؟‘‘ ہم نے عرض کیا، اسلام آباد تو آپ کو جانا چاہیے، وہاں آپ کی پسندیدہ ’’ناچ گانے پارٹی‘‘ کا شو ہونے جارہا ہے، پچھلے دنوں تو آپ بڑے خوش تھے کہ عمران خان کے ذریعے ملک میں ایک’’ ثقافتی انقلاب ‘‘لایا جارہا ہے۔ ہمارا کیا کام ہے وہاں ؟

مزید پڑھیے۔۔۔

شوق !

کل صبح کی بات ہے۔ہم فجر کے بعد معمول کی چہل قدمی سے واپس آرہے تھے۔ہم جہاں ’’چہل قدمی‘‘ کے لیے جاتے ہیں،وہاں قریب میں ایک کوئٹہ ہوٹل بھی واقع ہے جہاں صبح کے وقت آس پاس کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگ ناشتے کے لیے آتے ہیں۔اس وقت وہاں کافی گہماگہی کا ماحول ہوتا ہے۔کل جب ہم وہاں سے گزر رہے تھے ، ہوٹل کے باہر چند لوگوںکا مجمع سا لگا ہوا تھا،ہم تجسس کے مارے قریب ہوگئے تو دیکھا ہمارے دوست مسٹر کلین بھی مجمع میں موجود ہیں اور ان کے ہاتھ میں کیمرے والا اچھا سا موبائل سیٹ بھی ہے، ہوٹل میں کام کرنے والا معصوم سا بچہ مجمع کے بیچ میں کھڑا ہے اور لوگ اسے کسی بات کا کہہ رہے ہیں اور وہ مسلسل انکار کر رہا ہے۔ہم نے ماجرا پوچھا تو مسٹر کلین نے بتایا کہ میں اس بچے کی تصویر لے کرانٹر نیٹ پر دینا چاہتا ہوں مگر یہ تصویر لینے سے منع کررہا ہے۔ہمیں ساری کہانی سمجھ آگئی، راولپنڈی کے ’’چائے والے‘‘ کا قصہ ہمیں طالب جان نے رات ہی سنا یا تھا کہ کس طرح ایک چھپر ہوٹل میں کام کرنے والے عام سی شکل والے نوجوان کوراتوں رات’’ مشہوری‘‘ دلاکر ریٹنگ کا کھیل کھیلا گیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

زردہ صحافت

کچھ دنوں سے ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کا چرچا سن رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کی ’’سیاسی قیادت‘‘ کی جانب سے ’’فوجی قیادت‘‘ کو کھری کھری سنانے اور پاکستان کو تنہائی سے نکالنے کے لیے جہادی تنظیموں کا گلا گھونٹ دینے کا مشورہ دیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ہمیں چونکہ انگریزی سے کبھی کوئی زیادہ دل چسپی نہیں رہی اور مسٹر کلین کی صحبت کے باوجود انگریزوں کی طرح بولنے کا شوق پیدا نہیں ہوا،اس لیے ہمیں انگریزی اخبارات میں چھپنے والے مضامین اور رپورٹوں کا زیادہ پتا ہی نہیں چلتا ،البتہ ہمارے دوست مسٹر کلین ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ آج ایاز میر نے’’ دی نیوز‘‘ میں پاکستان میں شراب کی کمیابی اور ہیرا منڈی کلچر کی سرکاری سرپرستی نہ ہونے کا کیسا شاندار’’نوحہ ‘‘پڑھا ہے یا آئی اے رحمان نے ’’ڈان‘‘ میں توہین رسالت کے قانون سمیت پاکستان کے آئین و دستور کی کیا خوب خبر لی ہے۔’’ ایکسپریس ٹریبون‘‘ نے اپنے اداریے میں پاکستان میں قادیانیوں پر ’’ظلم وستم‘‘ کی کیسے دل گداز انداز میں دہائی دی ہے اور اردو صحافت میں نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے علم بردار بننے والے نوائے وقت گروپ کے انگریزی اخبار’’ دی نیشن ‘‘نے دینی مدارس اور علماء پر کن کن الفاظ میں تبری کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔