• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہمارے دوست مسٹر کلین ملک و قوم کے مستقبل کے لیے ہمیشہ متفکر رہتے ہیں۔ ہم ان کے لیے متفکر کی ’’فکر مند‘‘ کا لفظ بھی استعمال کر سکتے تھے، تاہم جو بات’’ متفکر‘‘ میں ہوتی ہے وہ ’’فکر مند‘‘ میں نہیں ہوتی۔ عربی صرف و نحو اور لغت سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ باب’’ تفعل‘‘ میں تکلف کا معنی پایا جاتا ہے۔ یعنی کسی چیز میں بتکلّف خود کو مبتلا کردینا۔ اسی سے’’ تجدد‘‘ بھی ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ ’’جدیدیدیت ‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں فرق نہیں کرتے اور کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم جدیدیت کے خلاف ہیں حالانکہ جدیدیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی مخالفت کی جائے۔ جدت زندگی کے آگے بڑھنے کا نام ہے اور ہم ہر وقت آگے کی طرف ہی جارہے ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ وقت سے بھی آگے نکلنے کی ناکام کوشش کرتے پائے جاتے ہیں اور جدیدیت کی سوچ کو ضرورت سے زیادہ خود پر طاری کردیتے ہیں، یہی رویہ’’ تجدد‘‘ کہلاتا ہے۔


تجدد یقیناًبہت بری بلا ہے، مگر یہاں ہم اس بلا کی بات نہیں کر رہے، اس وقت ہمارا موضوع ہمارے دوست مسٹر کلین کا’’ متفکر ‘‘ ہونا ہے۔ بہت دفعہ موصوف خوامخواہ کسی سیاسی یا بین الاقوامی مسئلے کوخود پر سوار کر لیتے ہیں اور خود بھی متفکر رہتے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ ہمارے دیرینہ کرم فرما ماسٹر مبین نے اپنے اسکول میں نمایاں کار کردگی پیش دکھانے والے طلبہ اور ان کے والدین کے اعزاز میں ایک مختصر سی دعوت رکھی اور ہمیں بھی چند دیگر احباب کے ساتھ جن میں مسٹر کلین بھی شامل تھے، مدعو کیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایک خوشی کا موقع تھا اور ایسے مواقع پر بندے کو بتکلّف بھی چہرے پر مسکراہٹ دکھانا پڑتی ہے، مگر مسٹر کلین اس مجلس میں بھی شروع سے آخر تک خاصے متفکر اور اپنی عادت کے بر خلاف کافی دیر سے خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسٹر کلین سے کچھ بین ا لاقوامی حالات اور سیاسی معاملات پر(ان کی زبان میں) ’’اپڈیٹ ‘‘ لینا چاہ رہے تھے، مگر موصوف تھے کہ( اپنی ہی زبان میں) ہمیں’’ لفٹ‘‘ ہی نہیں کروارہے تھے۔ اس دوران کسی نے ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ ’’کیا وقت ہورہا ہے؟‘‘ تو ماسٹر صاحب نے جو شاید ہماری ہی طرح مسٹر کلین کو ’’اسٹارٹ‘‘ کروانا چاہتے تھے، برجستہ کہا کہ ’’میرے پاس گھڑی تو نہیں ہے البتہ یہ سامنے ہمارے دوست مسٹر کلین کے رخ انور پر دیکھیں تو اس وقت ٹھیک بارہ بج رہے ہیں۔۔۔ !‘‘

مسٹر کلین اس پر تھوڑا سا گڑبڑائے اور یکدم اپنے ان خیالات کو جن میں وہ ڈوبے ہوئے لگ رہے تھے، جھٹکتے ہوئے کہا: ’’کوئی نہیں، میں ذرا ایک اہم ایشو پر سوچ رہا تھا اور آپ لوگوں سے بھی اسے ’’شئیر‘‘ کرنا چاہ رہا تھا۔‘‘ ہمیں اندازہ ہوا کہ موصوف ابھی’’ لیکچر ‘‘ کی تیاری میں مصروف تھے۔ یعنی ان کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ ماسٹر صاحب نے انہیں بلا تکلف اپنا ’’مافی الضمیر‘‘ بیان کرنے کا کہا تو مسٹر کلین نے کہ میں ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ دہشت گردی کی مالیاتی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کردیا ہے، اگلے چند ماہ میں وہ ہمیں بلیک لسٹ میں بھی ڈال سکتے ہیں، اس کے بعدکیا ہوگا؟ اگر پاکستان کی امداد بند ہوگئی تو ہماری اکانومی کا کیا بنے گا۔ (باقی صفحہ5پر)