• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دوپہر کا وقت تھا، ہم مدرسے سے سبق پڑھا کر واپس گھر آرہے تھے۔ آج معمول کے بر خلاف سڑکوں پر ٹریفک کم تھا اور لڑکے بالے سڑکوں کے کنارے پر اور گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ہم نے ذہن پر زور دیا کہ آج کیا دن ہے؟ دن تو پیر کا تھا جوکہ شہری زندگی کا مصروف ترین دن ہوتا ہے۔ پھر ہم نے تاریخ پر ذہن دوڑایا تو یاد آیا کہ آج 5 فروری ہے اور پاکستانی قوم آج کے دن چھٹی کرکے کرکٹ کھیل کر اور گھروں میں بھارتی فلمیں دیکھ کر ’’یومِ کشمیر‘‘ مناتی ہے۔ ہم دن منانے کی اس رسم کے ’’مالہ و ماعلیہ‘‘ پر غور کرتے ہوئے گلی میں پہنچے۔ وہاں تو جناب! گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ محلے کے نوجوانوں کی دوٹیموں کے درمیان ’’میچ‘‘جاری تھا اور تماشائی نوجوان اور بوڑھے اس اس انہماک کے ساتھ کھیل دیکھ رہے تھے جیسے ابھی اسی گلی میں مسئلہ کشمیر کا فیصلہ ہونے جارہا ہو۔ ہم وہاں سے گزرے تو نوجوانوں نے خواہی نخواہی کھیل روک کر ہمیں راستہ دیا اور ہم جلدی جلدی آگے کی طرف چلنے لگے۔ ہم بھی کرکٹ کے اس ’’میدان جنگ‘‘ سے باہر ہی نکلنے والے تھے کہ کسی نے عقب سے ہمیں آواز دی۔ ایک سیکنڈ کے سویں حصے میں ہمیں اندازہ ہوگیا کہ یہ ہمارے ہمدم دیرینہ مسٹر کلین ہی ہوسکتے ہیں جو محلے کی ہر ایسی سرگرمی میں ہمیشہ’’ خط اول‘‘ پر ہوتے ہیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو مسٹر کلین سر پر مخصوص ہیٹ سجائے تماشائیوں کے بیچ میں کھڑے تھے۔ ایسا لگا کہ وہ میچ دیکھ دیکھ کر اکتاگئے تھے اور انہیں دانشوری کا چورن بیچنے کے لیے کسی ’’شکار‘‘ کی تلاش تھی جو ہماری صورت میں انہیں مل گیا۔

چنانچہ وہ ہماری طرف بڑھے اور کہنے لگے: ’’ملاجی! کشمیر ڈے نہیں منارہے آپ؟؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ آپ جو منارہے ہیں یہ کافی ہے نا!‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’میرا مطلب ہے آپ کسی جلسے جلوس میں نہیں گئے؟ آج تو سارے ملا لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔‘‘ ہم نے عرض کیا ’’پہلی بات یہ ہے کہ ہم پڑھنے پڑھانے سے تعلق رکھنے والے ملا لوگ کوئی دن نہیں مناتے۔ کتنے ہی اہم اور تاریخی دن ہوتے ہیں جو آتے اور گزر جاتے ہیں، ہمیں پتا ہی نہیں چلتا۔ ایسا لگتا ہے کہ’’ کام کام اور کام‘‘ کا فلسفہ بانئ پاکستان نے ہمارے لیے ہی پیش کیا تھا، کہ بس کام ہی کرتے رہنا ہے، نہ کبھی چھٹی کرنی اور نہ کبھی کوئی دن منانا ہے۔ باقی اہل وطن نے تو جیسے ثقل سماعت کی بناء پر قائد کے فرمان کو ’’آرام آرام اور آرام ‘‘ سنا تھا۔ کبھی فلاں ڈے منانا ہے، کبھی کس کو یاد کرنا ہے اور کبھی کس کی نقالی کرنی ہے۔ علامہ اقبال کے لازوال شعر ؂

بہار ہو کہ خزاں
مجھے ہے حکم اذاں
لا الہ الا اللہ
کابھی شاید قوم نے یہی مطلب لیا ہے کہ یہ بھی مسجد کے ملا اور موذن کے لیے ہی ہے۔ بہار ہو کہ خزاں، سردی ہو کہ گرمی، دن ہو یا رات ہر وقت اذان، نماز، تعلیم و تعلم اور عامۃ المسلمین کی خدمت کے لیے دستیاب رہنا ہے۔ مولوی نہ کوئی دن مناتا ہے، نہ کبھی ہڑتال کرتا ہے، نہ کبھی تنخواہ اور مراعات کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے۔ ‘‘

مسٹر کلین نے کہا: ’’میں کشمیر ڈے کی بات کر رہا ہوں۔ کشمیر کا دن منانے پر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آپ تو جہاد کشمیرکے علم برداروں میں سے ہیں۔ آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہے اور بہت سے ملا لوگ بھی جلوس نکال رہے ہیں تو آپ کیوں پیچھے رہ گئے ہیں؟ ہم نے عرض کیا، گویا آپ کی نظر میں یہ طے ہوگیا ہے کہ ’’کشمیر ڈے‘‘ پر کشمیریوں کے لیے جلسے جلوس نکالنے کا کام بھی اب ’’ملا‘‘ کے ہی ذمے ہے، باقی ’’قوم‘‘ صرف گلی میں کرکٹ کھیل کر یاگھروں میں بھارتی فلمیں دیکھ کر کشمیریوں کے ساتھ ’’اظہار یکجہتی‘‘ کرے گی!ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ خالصتاً ایک علاقائی مسئلہ ہے اور اسے مذہب سے جوڑنا اور جہاد کا عنوان دینا غلط ہے اور دوسری جانب آپ فرماتے ہیں کہ کشمیریوں کے لیے جلوس بھی ملا ہی نکالے۔ ہم تو بس کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جو بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے کہا تھا: اذہب انت وربک فقاتلا، اناہھنا قاعدون۔ ’’جائیں آپ اور آپ کا ربّ لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ‘‘

ہم نے مزید عرض کیا:’’ دیکھیں! ہم دن منانے کی رسم کے اسی لیے مخالف ہیں کہ اس میں کسی بھی چیز کا مقصد فوت ہوجاتا ہے صرف علامت باقی رکھی جاتی ہے۔ اب آپ اسی کو دیکھیں، کشمیر ڈے منانے کے نام پر کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی قوم کی یکجہتی کو پہلے سال میں صرف ایک ایک دن کے ساتھ مخصوص کردیا گیا اور اب اس یکجہتی کو پوری قوم کی بجائے صرف مذہبی اور جہادی تنظیموں تک محدود کردیا گیا ہے۔ آگے خد انخواستہ یہ اظہار یکجہتی بھی محض علامتی حد تک رہ جائے گا۔۔۔‘‘ ہم مزید کچھ کہنا چاہ رہے تھے، مگر ہوا یہ کہ ہمارے عقب میں جاری کھیل کے کسی کھلاڑی نے شاید زوردارشارٹ کھیلا اور گیند سیدھی جاکر قریبی عمارت کی ایک کھڑکی میں لگی اور شیشہ توڑتے ہوئے اندر چلی گئی۔

کھڑکی سے بنیان میں ملبوس جٹ صاحب آنکھوں میں خون کے آثار لیے نمودار ہوئے اور ’’کشمیر ڈے‘‘ منانے والوں سے اپنے مخصوص انداز میں ’’خطاب‘‘ شروع کردیا۔ پھر کیا تھا مسٹر کلین اور ہم نوا کان لپیٹ کر وہاں سے رفو چکر ہوگئے!