• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہمارے دیرینہ کرم فرما حکیم فقیر حسین کی جانب سے احباب کے لیے ’’حکیمی دعوت‘‘ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا اور کام و دہن کو پھر سے حکیم صاحب کے خوانِ یغما سے مستفید ہونے کی طلب تھی۔ پرسوں رات حکیم صاحب کا فون آیا تو ان کا نمبر دیکھتے ہوئے دل بلیوں اچھلنے لگا اور ہم نے اُچھلتے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے فون کان سے لگایا۔ حکیم صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تمہید باندھ کر ہمارے صبر کا امتحان لینا چاہا، مگر ہم نے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ’’حاضر‘‘ ہونے کا وعدہ کرکے بات پکی کرلی۔ حکیم صاحب نے بتایا کہ موسم کی شدت کو جواب دینے کے لیے دوستوں کے لیے دیسی مرغ کی یخنی کا بندوبست کیا گیا ہے، یہ سن کر ہمارے منہ میں یخنی… معاف کیجیے گا پانی آگیا اور ہم نے ابھی حاضر ہونے کا کہا، مگر حکیم صاحب نے بتایا کہ دعوت کل شام کو ہے اور اس میں دیگر احباب کو بھی زحمت دی ہے۔ حکیم صاحب نے اس ضمن میں از راہ تفنن کہا کہ چونکہ ’’دو ملاؤں میں مرغی حرام‘‘ ہوجاتی ہے، اس لیے اس دعوت میں ایک ’’ملا‘‘ اور ایک ’’مسٹر‘‘ کو بلایا گیا ہے۔ ہم ان کا اشارہ سمجھ گئے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی دعوت میں تشریف لائیں گے۔


اگلی شام کو ہم وقت مقرر پر حکیم صاحب کے دولت کدے ( جس کا نام انہوں نے بر عکس’’فقیر خانہ‘‘ رکھا ہوا ہے) میں حاضر ہوئے۔ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کی کہ حکیم صاحب نے حسب روایت بڑی خوبصورت مجلس جمائی ہوئی ہے۔ نشستوں پر سفید براق چاندنیاں بچھاکر گاؤ تکیے لگارکھے ہیں اور دوست احباب بے تکلفی کے ماحول میں بیٹھے گپ شپ لگارہے ہیں۔ ہماری آمد پر سب شرکاء نے گپ شپ روک کر ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم بھی اپنے وجود کا سارا بوجھ ایک تکیے پر ڈال کر بیٹھ گئے۔ ہماری نگاہیں ہمدم دیرینہ مسٹر کلین کو ڈھونڈ رہی تھیں، مگر پتا چلا کہ وہ ابھی تشریف نہیں لائے۔ ہمیں تشویش سی ہونے لگی، کیونکہ ہم یہ بات پہلے کئی بار بتاچکے ہیں کہ موصوف دعوتوں میں وقت کی پابندی کا خیال رکھنے میں ہم سے بھی آگے ہیں۔ خیر! تو کچھ دیر میں موصوف گاڑی سے اتر کر آتے دکھائی دیے، لیکن آج ان کے چہرے پر دعوتوں سے پہلے کی بشاشت کی جگہ وہ روایتی خشونت ویبوست دکھائی دے رہی تھی جوکسی سنجیدہ پریشانی کے عالم میں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہمیں مزید تشویش ہوئی کہ کہیں خدانخواستہ کوئی حادثہ تو نہیں ہوا۔

موصوف اندر تشریف لائے اور دروازے سے ہی تقریر شروع کردی کہ راستہ بند تھا اور کچھ لوگ وہاں بیت المقدس کے نام پر مظاہرہ کر رہے تھے، اس لیے آنے میں تاخیر ہوئی۔ موصوف بڑے غصے میں لگ رہے تھے، مگر پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ غصہ راستہ بند کیے جانے پر تھا یا القدس کے لیے مظاہرہ کرنے پر۔ ہمارا شک دوسری شق پر تھا اور بعد میں ثابت ہوا کہ یہ شک درست تھا۔ حکیم صاحب نے مسٹر کلین کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پانی پلایا اور ہلکے پھلکے انداز میںادھر ادھر کی باتیں کرکے انہیں مجلس کی خوش گوارریوں کا حصہ بنانے کی کوشش کی، لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ راستے کی کچھ دیر کی تکلیف نے موصوف کی’’ رگ دانشوری‘‘ کو بری طرح’’ پھڑکا‘‘ دیا تھا اور وہ آج اسی موضوع پر میلہ لوٹ کر جانے کے موڈ میں تھے۔ چنانچہ کچھ دیر بعد گھوم پھر کر وہ دوبارہ اسی موضوع کی طرف آئے اور کہنے لگے کہ اسی ’’جذباتیت‘‘ اور ’’شدت پسندی‘‘ نے مسلمانوں کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے۔ ان ملا لوگوں کی سمجھ نہیں آتے کہ یہاں سڑکوں پر نکل کر گلے پھاڑنے اور مردہ باد مردہ باد کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ اگر آپ میں طاقت ہے تو اسرائیل جاکر لڑیں اور اگر نہیں ہے تو پھر آرام سے بیٹھ جائیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ راستے بند کرکے اپنے ہی لوگوں کا جینا حرام کر رہے ہیں۔ مسٹر کلین نے یہ کہتے ہوئے ہماری طرف دیکھا جیسے وہ ہمیں جواب دینے کا کہہ رہے ہوں۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے کہ کسی بھی معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے اورکسی کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز کیا جانا چاہیے، لیکن ہمیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے جب لوگ لڑنے مرنے کی بات کرتے ہیں یا ہتھیار اٹھالیتے ہیں تو ہمارا دانشور ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ہے کہ آج کادور ہتھیار وں سے لڑنے کا نہیں ہے، بلکہ پر امن احتجاج کا ہے، اس لیے ہر مسئلے کے لیے مسلمانوں کویہی جمہوری راستہ اپنانا چاہیے، لیکن جب مسلمان اپنے جذبات کے اظہار کے لیے مظاہرے کرتے ہیں ہیں تو وہی دانشور سیخ پا ہوکر کہتا ہے کہ مظاہروں سے کیا ہوتا ہے، جاکر لڑتے کیوں نہیں ہو؟؟؟

مسٹر کلین نے خشونت بھرے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا: ’’بھائی! بات یہ ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل ’’جہادیوں‘‘ کی وجہ سے خراب ہوئے۔ کشمیر یوں کی تحریک کو جہاد کا عنوان دیا گیا اور فلسطین میں حماس نے انتفاضہ کے نام سے تشدد شروع کردیا تو ان مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کی امید ختم ہوگئی، حالانکہ فلسطین کی تحریک ایک قومی تحریک تھی جس کی قیادت کمیونسٹ لوگ کر رہے تھے۔‘‘

ہم نے عرض کیا: ’’کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز اسی کی دہائی کے اواخر میں جبکہ فلسطین میں انتفاضہ نوے کی دہائی کے اواخر میں شروع ہوا۔ اس سے قبل 30 سال تک پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہی ہوتے رہے، اسی طرح فلسطین کے یاسر عرفات تقریباً 40 سال تک امریکا اور اسرائیل سے ’’حالت مذاکرات‘‘ میں رہنے کے بعد بالاخر راہی عدم ہوگئے، مگر اس پر امن جدوجہد اور مذاکرات کے نتیجے میں بہت سے ناجائز صہیونی مطالبات تسلیم کرنے کے باوجود ایک انچ کی زمین بھی حاصل نہ کرسکے۔ سب کو پتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں مسلح تحریکیں ہر امن جدوجہد اور مذاکرات کی فریب کاری سے ہر طرح سے مایوسی کے بعد ہی شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں سے اگر تاحال کامیابی نہیں ملی تو کم از کم یہ احساس تو قائم ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں نے اپنی زمین پر قبضہ تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ تاحال اس قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘

ہماری گزارش یہاں تک پہنچی تھی کہ حکیم صاحب نے گرماگرم یخنی کے ڈونگے اور کٹورے سامنے لاکر رکھ دیے اور مسٹر کلین اور دیگر تمام حاضرین ہماری بور کردینے والی باتوں کو ایک طرف رکھ کر بھاپ اڑاتی یخنی کے مزے لینے میں مصروف ہوگئے۔