• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کل کی بات ہے۔ ہم حسب معمول صبح کی تازہ ہوا سے مشام جاں آسودہ کرنے اور کچھ ورزش کے اضافی فوائد سمیٹنے کے لیے کھلی فضا میں نکلے ہوئے تھے۔ اس دن موسم کی خنکی کچھ بڑھی ہوئی محسوس ہورہی تھی اور کانوں کی لو سے ٹکراتی باد صبا اب کہ کچھ پہن کر نکلنے کا پیغام دے رہی تھی۔ ہمارے دائیں بائیں چلنے والے بادصبا کے شیدائیوں میں سے بیشتر نے یہ پیغام شاید پہلے ہی سن لیا تھا، اس لیے وہ جیکٹوں اورجرسیوں میں ملبوس ٹھنڈ سے بے پرواہ چلے جارہے تھے، جبکہ ہماری طرح کے کچھ لا ابالی لوگ منہ سے ’’سی سی‘‘ کرتے اور ہتھیلیاں رگڑتے تیز تیز چل کر جسم کو گرمائش پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارے پاس ہمارا ’’کثیر المقاصد‘‘ رومال شریف تھا جس کو ہم اس وقت مفلر کے طور پر استعمال کر سکتے تھے، لیکن ابھی ہم ذرا دسمبر کی شروعاتی ٹھنڈ کا مزہ لینا چاہتے تھے، اس لیے ابھی یہ ہمارے کندھے پر ہی تھا۔ آگے چلنے سے پہلے ہمارے اس کرشماتی رومال کے ’’کثیر المقاصد‘‘ استعمال کی بات ہوجائے۔ کسی ملا کے کندھے پر آپ کو صاف ستھرا رومال رکھا ہوا آپ کو نظر آئے تو آپ شاید یہ سمجھیں گے کہ یہ اس کے لباس کا حصہ ہے۔ آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔


بنیادی طور پر یہ مولوی کے لباس کا ہی حصہ ہے، مگر لباس کا یہ حصہ بہت سے مواقع پر ’’ایمرجنسی ضروریات‘‘ کے لیے بہترین ’’خدمات‘‘ فراہم کرتا ہے۔ ان خدمات کی تفصیل پر پی ایچ ڈی کا نہیں تو ایم فل کا مقالہ تو آرام سے لکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے تو اس کو اوڑھ لیجیے، یا گلو بند بنالیجیے، نماز پڑھنے کے لیے مصلیٰ نہیں مل رہا تو رومال بچھائیے اور اللہ اکبر کہیے، غسل اور وضو کے بعد تولیہ دستیاب نہیں ہے تو آپ کو صفا ستھرا رومال کس لیے ہے؟ کھانے کے لیے دستر خوان نہیں مل رہا تو رومال بچھایے اور بسم اللہ کیجیے۔ پگڑی باندھنے کا خیال آیا ہے تو رومال کی تہہ ڈال کر سلیقے سے باندھ لیجیے۔ سامان اٹھانے کے لیے تھیلا نہیں مل رہا تو رومال پر رکھ کر گرہ لگادیجیے۔ کہیں زمین پر بیٹھنا پڑ رہا ہے، تو رومال ڈالیے اور بے فکر ہوکر آلتی پالتی ماریے۔ یہ چند بڑے بڑے ’’ایمرجنسی ‘‘فوائد ہیں دیگر فوائد اس لیے نہیں بتارہے کہ کہیں لوگ ہم سے ہمارا یہ ’’فیشن‘‘ چھین ہی نہ لیں !

اچھا تو ہم یہ بتارہے تھے کہ ایک ٹھنڈی صبح میں بغیر اضافی کپڑوں کے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ہمارے آس پاس سے گزرنے والے لوگوں میں سے بیشتر نے سردی کے مقابلے کے لیے ’’جنگی لباس‘‘ پہنے ہوئے تھے، اس لیے ان میں سے جو جننے والے تھے وہ بھی پہچانے نہیں جارہے تھے۔ ہم نے دیکھا ہمارے آگے ایک صاحب جارہے ہیں جنہوں نے لمبا سے پوستینی کوٹ پہنا ہوا ہے۔ سر پر بھی روسی طرز کا ٹوپ لگا ہوا ہے اورلیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کیے جارہے ہیں۔ یہ ہیئت کذائی دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ ہمارے دوست مسٹر کلین ہوں گے۔ ہم نے اپنی رفتار تھوڑی تیز کی اور دائیں طرف سے موصوف کو جالیا۔ دیکھا تو ہمارا اندازہ درست نکلا۔ یہ مسٹر کلین ہی تھے جو پاکستان میں بیٹھے روس کے لباس کا مزہ لے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ روس کسی زمانے میں ان کا ’’قبلہ وکعبہ‘‘ ہوا کرتا تھا، اب اگر ’’تحویل قبلہ‘‘ کے بعد وہ واشنگٹن کی طرف رخ کرکے سوچاکرتے ہیں توکیا ہوا؟ ’’قبلہ اول‘‘ کو بھی تو یاد رکھنا ہی ہوتا ہے۔ خیر! ہم نے مسٹر کلین سے سلام دعا کی اور انہوں نے ہماری ٹھنڈ سے بے احتیاطی پرمحبت بھری ڈانٹ پلائی اور چلتے چلتے مختصر سا لیکچر دیا کہ موسمی اثرات سے بچنے کے لیے کیا کیا احتیاطی تدابیر کی جانی چاہییں۔ ہم نے سر ہلا ہلاکر ان کی تائید کی اور کہا کہ آیندہ ہم بھی کچھ پہن کر نکلیں گے۔

پھر موصوف کی حس مزاح جاگ اٹھی اور کہنے لگے: ’’ویسے آج کل تو آپ ملالوگوں کو ٹھنڈ نہیں لگتی ہوگی، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر دھرنے ورنے دے کر جیبیں گرم کرواچکے ہیں اور جب جیب گرم ہوتی ہے تو موسم کی ٹھنڈ تو اثر نہیں کرتی۔‘‘ ہم نے جواب میں عرض کیا کہ ظاہرہے آپ جو کچھ ارشاد فرمارہے ہیں، اپنے زندگی بھر کے ’’ذاتی تجربات‘‘ کی بنیاد پر کہہ رہے ہوں گے، اس پر ہم کیا تبصرہ کرسکتے ہیں، مگرہم نے تو یہ سن رکھا ہے کہ من کو گرم رکھنے کے لیے لہو گرم رکھنا ضروری ہوتا ہے اور لہو گرم رکھنے کے لیے کچھ جھپٹنا پلٹنا لازم ہے، سو ہم وہی کچھ کر رہے ہیں تاہم ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں آپ لوگوں کی جیبیں گرم رکھنے والے اب حساب کتاب شروع نہ کردیں آپ سے۔ مسٹر کلین نے استفہامیہ انداز میں ہماری طرف دیکھا اور کہا: ’’وہ کیوں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’وہ اس لیے کہ تازہ اخباری رپورٹوں کے مطابق راول پنڈی دھرنے کے بعد پاکستان میں توہین رسالت کے قانون سمیت اسلامی دفعات کو ختم کرنے کے لیے سرگرم قوتیں اس وقت سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں

کہ ہم نے ان قوانین کے خاتمے کے لیے زمین ہموار کرنے کی خاطر جو اربوں روپے کے پروجیکٹ چلائے تھے، وہ سب ہوا میں چلے گئے ہیں اورختم نبوت کے قوانین میں معمولی ردوبدل پر پاکستانی قوم نے جس طرح کا ردعمل دیا ہے، اس کے بعد اب توہن رسالت کے قانون، قرارداد مقاصد اور دیگر آئینی شقوں کو چھیڑنے کا کم از کم آیندہ 25 سال تک امکان باقی نہیں رہا ہے۔ اس لیے شنید ہے کہ بعض قوتوں نے ان این جی از سے حساب مانگنا شروع کردیا ہے جو مغربی حکومتوں سے خطیر وظیفہ لے کر یہاں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔‘‘ مسٹر کلین ہماری اس بات پر پہلے تو کچھ پریشان ہوئے، پھر یک دم سنبھل کر کہنے لگے: ’’ملا جی!وہ لوگ اگر 25 سال تک کے لیے مایوس ہوئے ہیں نا تو 25 سال بعد کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری شروع کردیں گے۔ آپ ہماری فکر نہ کریں، ہمارا دال دلیہ چلتا رہے گا، آپ بھی اپنا لہو گرم رکھنے کے لیے جھپٹنے پلٹنے کا سلسلہ جاری رکھیں، ہماری جیبیں بھی آپ کی برکت سے گرم رہا کریں گی!‘‘

یہ کہتے ہوئے مسٹر کلین لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کرتے ہوئے ہم سے آگے نکل گئے اورہم ان کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکنے کے باعث پیچھے مڑے اور گھر کی طرف چل دیے۔